نیپال کا ایک ایئرلائنس کی فوجوں میں بھڑक پڑا، مسافر اور عملے بچ گئے
بھدروپور میں ’بدھا ایئر‘ کا ایک ٹربوپراپ ہفتے کو لینڈنگ کے دوران رن وے سے آگے نکل گیا، تاہم اس حادثے میں کسی جانی نقصان کے شکار نہیں ہوئے، یہ پرواز دارالحکومت کھٹمنڈو سے بھدرپور پہنچی تھی۔
علاوہ ملازمت میں جانے والے چار ارکان بھی ان کے ساتھ ہی بچ گئے۔
ایسا کہا جارہا ہے کہ اس حادثے کی وجوہات اب تک معلوم نہیں ہوئی، لیکن حکام نے بتایا کہ مکمل جانچ کرکے تفصیلات سامنے آئیں گی۔
اس حادثے سے نیپال کی فضائی حفاظت کے نظام پر سوالات میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ ملک کے ماضی میں بھی کئی فضائی حادثات پیش آ چکے ہیں۔
جولائی 2024 میں سوریا ایئرلائنز کا ایک بمbaraڈیئر سی آر جے 200 ایل آر طیارہ کھٹمنڈو سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد حادثے کا شکار ہو گیا تھا، جس میں 19 میں سے 18 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
اس سے قبل جنوری 2023 میں یتی ایئرلائنز کا اے ٹی آر 72 طیارہ پوکھرا میں لینڈنگ کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں تمام 72 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس حادثے کی وجہ کو پتہ لگنا ایسی بات ہے جو مجھے دلچسپ دیتی ہے، کیا یہ سڑک کی خرابی نہیں تھی؟ اور نہیں تو نیپال کا پرفشنر ایئر ٹرین (PTT) ایمڈی ہوا لائن بھی مچھلی پتھروں میں آ چکی تھی، اور اب تک اس پر کوئی حل نہیں نکلا گیا… کیا یہ کسی کو جانتا ہو گا؟
نепالیوں کو ایسے حادثات سے دوڑنا پڑتا ہے اور ان کی زندگی میں کتنی بھی حد تک یقین نہیں رکھنا چاہیے۔ اس بار بھی ایسا ہوا، جب ایک ایرلائنس کا پرواز کے دوران بھڑکا پڑا تو سارے مسافر اور عملے کھاتے چھتے گئے۔ یہ حادثہ لینڈنگ کے وقت ہوا جب ٹربوپراپ ایک ران وے سے آگے نکل گیا۔
اس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ نیپال کی ایئرلائنوں کی فصلیں کیسے منظم کی جاتی ہیں، کہیں نا کہ ان میں ساتھ بھی کھاتے چیت گئے ہیں؟
اس حادثے کی وضاحت تک پہنچنے کے بعد بھی یہ سوال اٹھتا رہے گا کہ نیپال کی ایئرلائنوں کو ان کی صلاحیتوں پر کیا دیکھتے ہیں؟
ایسا تو انٹرنیٹ پر چل رہا ہے کہ نیپال کی ایئر لائنسز میں بھی کوئی وارنٹ نہیں ہے، حالانکہ اس حادثے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو وارنٹ نہیں لینا چاہئے تاکہ ایسا بھی نہ ہو
بھاگنے کی ایسی سڑکیں ہیں جو آپ کے منہ سے نکلتے ہیں تو ایرلائنس کی بھی وہیں بھاگنا پڑتی ہے . نیپال میں ایئر لائن کی ایسے حالات کا نظر انداز نہیں ہوسکتا جتنا کہ ہمارے وطن سے بھی یوں ہوتے دیکھا گیا ہے۔ اور اب یہ حادثہ ہوا تو اس کی جگہ پورے ملک میں سوالات کی ایک چیٹ نہیں ہوسکتیں بلکیو ایسے حالات کو پھیلانے والا معاملہ ہی نکل اٹھتا ہے .
یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے جو آپ کو اچانک ذہن میں آنے لگتا ہے! نیپال کی فضائی صنعت بہت سارے لوگوں کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے، اس لئے یہ حادثہ جس نے تین کھٹمنڈو سے آنے والی پرواز اور ملازمت میں جانے والے چار ارکان کو بچایا تو ایک ایسی حقیقت کی بھرپور نمائش ہے!
بھارتیہ ماحول کی صحت بہت کمزور ہے , وہاں کے ماحولیاتی اداروں کے ساتھ نیپال کی ایئرلائنسوں نے معاملات کو اتنا اچھا نہیں سمجھا تھا. اس حادثے سے نیپال کی ایئر ہائی وے ایڈمنسٹریشن کے سامنے بہت سارے सवाल پڑے ہیں, اور اس کا جائزہ لینا ضروری ہے.
عجیب عجیب ہے نیپال کے ایئرلائنسز کو بھی یوں ہی ہوتا جارہا ہے، یقینا انکی پرفارمنس کا کوئی ایسا منظر نہیں جو پہلے سے پہلے ہوا ہو یا کچھ نا تھوداسٹی کے ساتھ لینڈنگ کرنا اور رن وے پر پھنسنا، یہ بھی ایک ڈرامہ کی طرح لگتا ہے، تاکہ ہمارے سامنے ایک ایسا مظاہرہ ہوا جس میں ملازمت جانے والے چار ارکان بھی شامل ہوں، یہ پوری صورتحال کافی غمزاد ہے کیونکہ اب تک اس حادثے کی وہی توجہ دی جائی گی جو اس سے قبل اور اس سے قبل بھی ہوا ہو، اور یہ بات بھی نہیں کہ نیپال میں فضائی حادثات پہلے سے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں اب تک کئی جان کی بازی ہوئی ہو، اور یہ بھی بات اس کا ذمہ دار ہے جو ہوا جارہا ہے، ہمارے ہی اتنے وڈے ملک میں بھی ایسا کرنا چاہیے؟
یہ تو واضح ہے کہ نیپال کی ایر لائنسنگ سسٹم کو پورا خطرہ نہیں سمجھا جاتا تھا … یہ تو ایک بار پھر کسی کے جانے کے بعد بھی ملک میں سافٹ لینڈنگ کے شوق کو دیکھنا ہو رہا ہے … ماضی کے حادثات کی یاد دلائی جاتی ہیں تو ابھی وہی صورت حال سامنے آئی… کسی وقت یہ خطرہ ختم ہونے والا نہیں ہوگا؟
وہاں نیپال کا ایئرلائنس ہوا چل رہا ہے جس میں ملازمت کی جانے والے لوگ بچ گئے ۔ یہ بھی بہت خطرناک ہے کہ ایک ایسا حادثہ ہوا جس میں کوئی شخص نہ پھنسی اور نہ چلے گئے کیوں؟ ان سے پوچھنا ضروری ہے کہ کیا یہ ایک نہایت غلطی تھی؟
یہ حادثہ سے نیپال کی ایئر لائنسنگ کی نظامیت پر ایسا सवालRaised ہیں جو پوری دنیا میں دیکھنا پڑ رہا ہے، اب بھی کیسے کیا گya ہے؟ نیپال کے ماضی میں ہونے والے حادثات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ایک بار دوسرا نہیں ہوتا، لیکن اسی طرح کی حادثات ہو رہی ہیں، پھر بھی ان پر غور و فکر نہیں کی۔
ایسا محسوس کرنا ہی کچھ کھانے کے بعد اور دیکھنے کے بعد ہوتا ہے، نیپال کو ایک صاف و سنجیدہ ماحول کی ضرورت ہو جاتی ہے تاکہ وہ اپنے فضائی نظام پر اچھی جانب بڑھ سکے۔
یہ حادثات بہت دیر سے شروع ہوئے تھے اور یہ سب کچھ نیپال کی ایئرلائنس کو لگ رہا ہے، مگر اس کے بعد بھی ان کے پاس چیئس بیلٹ سے کمزوریوں کے نہیں ہونے کی شansi ہے
اس حادثات سے نیپال کی ایئر لائنз کو ایک مندہ پھنسا ہے اور اس کی جانچ کرتے وقت کیا ملتا ہے؟ یہ واضح ہی نہیں ہے کہ نیپال کی ایئر لائنز کو کس طرح ترقی دی گئی ہے یا ان کی جانچ کی گئی ہے۔
ایسا نہیں سمجھ سکتا کہ نیپال کی اےئر لائنسز کا یہ حادثہ اپنی پہلی باری نہیں ہو رہا! اب تک یہاں پر کتنے فضائی حادثات پیش آ چکے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ نیپال کی اےئر لائنسز کے ریکارڈ میں کچھ نا صحت مند چیزوں کا رجحان ہے...
ایسا سمجھنے کو بھی مشکل ہے کہ اہلکاروں کی جانب سے لائنسز دیئے گئے ہیں؟ یا وہ خود بھی اس حادثے میں شاملوں پر چلا گیا? یہ تو کچھ ہے نا!
واضع طور پر کہا جائے کہ نیپال کی اےئر لائنسز کو سترہویں صدی میں انسٹی ٹیوٹ آف ایوننگ اینڈ ایوی ایشن کے پچیس ہزار یورپی پروفیسرز نے انٹرنیٹ پر ایک ساتھ تھے تو کیا ہوتا؟ اس حادثے کی وجوہات کو اب تک معلوم نہیں ہوئی، لیکن یہ بتایا گیا کہ مکمل جانچ کرکے تفصیلات سامنے آئیں گی... اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی بھی نیپال کی اےئر لائنسز کو بھی یہی جانچ کرکے اٹھانے کے لیے فرصت ملتی ہے!
ان تمام حادثات سے پتہ چلتا ہے کہ نیپال کی فضائی حفاظت کی نظام کو بہت زیادہ تبدیلی کی ضرورت ہے... اور یہی بات سب پر ملتی ہے!
اس حادثے کے بعد نے کیا پچتا؟ اس حادثے سے نیپال کی فضائی حفاظت کو بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ وہ ایک اگلی بار اس طرح کی صورت میں اٹھنا چاہتا ہے...
اس حادثے سے نیپال کی ایئرلائنسز کو ٹھیک کرنے کا کام ہوا ہے، لیکن یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ ملک کے ماضی میں یہ حادثات کیا رہے تھے? کیونکہ نیپال کی ایئرلائنسز کو بھی سوریا اور یتی جیسے حادثوں پر ملازمت کرنے والے چار ارکان بچ گئے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ یہ اسی طرح کی کامیابی حاصل کریں گے?
بھارتی مینسفرز کو دیکھتے ہیں کہ نیپال کی ایئرلائنز میں بھی کچھ ناNormal پڑ رہا ہے ، یو کھٹمنڈو سے بھدرپور لینڈنگ کے دوران ہوا ٹرمنٹل اور ملازمت میں جانے والے لوگ نچ گئے ہیں، حالانکہ دوسرے ممالک کی ایئرلائنز کی طرح یہ بھی جانی نقصان کا شکار نہیں ہوا۔
بھرپور! یہ نیپال کی ایئرلائنس میں بھی ایسا ہی حادثہ ہو گیا جو ماضی میں ہوا تھا۔ چار ارکان بچ گئے؟ یہ کہاں سے آتا ہے؟ وہ لینڈنگ ہی نہ کرنے کے بعد رانے میں آگیا، اور چار افراد کھون پکڑ گئے۔ یہ نیپال کی ایئرلائنس کو کیسے ملتا ہے؟
میں اس حادثے سے پچتائی مہسوس کر رہا ہوں، لہٰذا میں اس پر واضح طور پر بات نہیں چالہ گیا ہوں۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ نیپال کی ایئرلائنس کو کیسے معاف کرنے پڑھا جائے گا؟ ان لوگوں کو اور اس حادثے کی جांچ کرکے بھی یہی سسٹم پر کیسے اعتماد کیا جاے گا؟
اس حادثے سے نیپال کے ماضی کی یہ پچھلی سیر ایک بار فिर سامنے آئی ہے، اور اب ہم ان پر کیسے اعتماد کرتے ہیں؟ یہ بھی سوال ہے کہ نیپالی لوگ اس حادثے سے کیسے نکل گئے؟ اور اب تک اس حادثے کی جांچ کیسے کرنے پڑھا جائے گا? یہ بھی سوال ہے جو اب کبھی نہیں کھلتا۔
ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ نیپال کی ایرلائنزز پر کنٹرول کرنا بہت آسان ہو رہا ہے؟ پہلی بار جب سوریا ایئرلائنز کا بمbaraڈیئر سی آر جے 200 ایل آر ٹایئر اٹھ کر چلا تو اس میں 19 افراد ہلاک ہو گئے، اب ایسا حادثہ ہوا تو بھدروپور کے ’بدھا ایئر‘ میں بھی کوئی جانی نुकसान نہیں ہوا، اور یہاں کی قومی اہلیت پریشانیوں سے لادتی ہوئی نہیں؟ ان حادثات کا ذہن رکھ کر کئی بار کہا جاتا ہے کہ نیپال کی ایرلائنزز پر ایک نئی پالیسی پر فائز ہونا چاہیے، لیکن یہ سارا کام تو کھٹمنڈو میں ہی سہما ہوتا ہے۔
مگر یہ تو نازک لاف بھی ہے! نیپال کی ایئرلائنسز میں کیا انسداد جانی نقصان کا کوئی منصوبہ ہو سکتا ہے؟ ایسے حادثات ہونے پر بھی یہی سوال اٹھتا رہتا ہے کہ اس کا کیوں نہیں حل کیا جاسکتا? اور اب تک ملازمت میں جانے والے چار ارکان بھی جان گئے، یہ تو ایک لمحہ ہے!