اغواء برائے تاوان جیسے واقعات کو روکنا ہوگا، پولیس شاہنواز گل جان کو بحفاظت بازیاب کرائے، آل پارٹیز پنجگور - Daily Qudrat

ڈیزائنر

Well-known member
پنجگور کی آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی نے اس وقت اجلاس کیا جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ آخری بار 18 جنوری کو شہر میں ہونے والی ریلی سے متعلق صلاحیت کے حوالے سے پہلے ایسے خطرات کو روکنا ہو گا جس سے شاہنواز گل جان رند کی کھینچ لی گئی تھی اور ان کے خوف و ہراس میں اب بھی عوام نہیں کمرا رہیں گی۔

آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کی ایک جانب سے اس اجلاس میں آج تک پنجگور شہر، گودر اور دیگر اضلاع ہونے والے واقعات کو روکنے کا یہ ایک اہم اور ضروری قدم سمجھا گیا ہے۔

اجلاس میں شاہنواز گل جان رند کی کھینچنے کی بات کی گئی، اس کے بعد آخری بار 18 جنوری کو شہر میں ہونے والی ریلی سے متعلق صلاحیت کے حوالے سے بات کی گئی۔

اس اجلاس میں اس صورتحال پر زور دیا گیا جب یہ واضح تھا کہ آخری بار 18 جنوری کو شہر میں ریلی ہونے والی صورتحال کی وجہ سے شاہنواز گل جان رند کے خوف و ہراس میں عوام نہیں کمرا رہیں گی اور اس صورتحال کو روکنا ضروری ہو گا، یہ بات بھی ظاہر تھی کہ پنجگور کی آخری بار ریلی میں شاہنواز گل جان رند کے خوف و ہراس کو کم نہیں کرنا چاہئے۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ آخری بار 18 جنوری کو شہر میں ریلی کی صورتحال پہلے سے بھی گہری تھی، اس صورتحال کو روکنے کے لیے آئین وچارو اور دیگر رہنماؤں نے ایک متفقہ فیصلہ کیا تھا جس سے شہر میں 18 جنوری کی صورتحال کو روکنا ضروری ہو گا، اس طرح یہ بات بھی ظاہر تھی کہ پنجگور شہر میں آخری بار ریلی ہونے والی صورتحال کو روکنا اور شاہنواز گل جان رند کی جگہ پر کچھ ضروری کارروائیوں کی ضرورت ہے۔

آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی نے اس اجلاس میں یہ بات بھی کہی تھی کہ آخری بار شاہنواز گل جان رند کو پھانسی دی گئی، ان کی جگہ پر کچھ ضروری کارروائیوں کی ضرورت ہے اور اس صورتحال کو روکنے کے لیے ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے گا جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ شاہنواز گل جان رند کی جگہ پر کچھ اور کھینچ سکتے ہیں، اس طرح یہ بات بھی ظاہر تھی کہ پنجگور شہر میں آخری بار شاہنواز گل جان رند کو پھانسی دی گئی اور ان کی جگہ پر کچھ ضروری کارروائیوں کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ آخری بار 18 جنوری کو شہر میں ریلی ہونے والی صورتحال پہلے سے بھی گہری تھی، اس وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آخری بار شہر میں 18 جنوری کی ریلی نہیں ہو سکتی، اس صورتحال کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم उठانے کی ضرورت ہے۔

آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی نے اس اجلاس میں یہ بات بھی کہی تھی کہ آخری بار 18 جنوری کو شہر میں ریلی ہونے والی صورتحال کی وجہ سے پنجگور اور گوادر کی جنسات، تعلیم اور دیگر ثقافتی معیشت پر گہری تھی، اس صورتحال کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم उठانے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں یہ بات بھی کہی گئی تھی کہ آخری بار شاہنواز گل جان رند کو پھانسی دی گئی، ان کی جگہ پر کچھ ضروری کارروائیوں کی ضرورت ہے اور اس صورتحال کو روکنے کے لیے ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے گا جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ شاہنواز گل جان رند کی جگہ پر کچھ اور کھینچ سکتے ہیں، اس طرح یہ بات بھی ظاہر تھی کہ پنجگور شہر میں آخری بار شاہنواز گل جان رند کو پھانسی دی گئی اور ان کی جگہ پر کچھ ضروری کارروائیوں کی ضرورت ہے۔
 
18 جنوری کے واقعات کو روکنے کا یہ اجلاس مجھے یقین دلاتا ہے اور میں اس پر زور دیتا ہوں گا, پانچگور شہر میں عوام کی سڑکوں پر لات و لٹ کس قدر جڑی ہوئی ہے، اور یہ بات یقین دلاتی ہے کہ اس واقعات کو روکنا ضروری ہے.
 
🚨 اگر پنجگور میں ریلی ہونے والی صورتحال کو روکنا نہیں ہوتا تو کچھ ایسا نہیں ہو گا۔ آئین وچارو اور رہنماؤں کی ضرورت تھی، لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے۔ میں صرف اس بات پر بات چیت کرتا ہوں گا کہ اگر شاہنواز گل جان رند کی جگہ پر کوئی کسی پر بھی چارہ نہیں لگایا تو حالات میں ایسا نہیں ہوتا۔
 
मفید نہیں کیجیے اور لاکھ لاکھ بار کہا جائے تو پنجگور شہر میں 18 جنوری کی ریلی کے واقعات پر زور دیا گیا تھا، یہ بات بھی ظاہر تھی کہ آخری بار شاہنواز گل جان رند کو پھانسی دی گئی تھی اور ان کی جگہ پر کچھ ضروری کارروائیوں کی ضرورت ہے، مگر پہلے سے یہ بات سب کو پتہ تھی کہ 18 جنوری کی ریلی کی صورتحال پنجگور شہر اور گوادر پر گہری چھا گئی تھی، اس وقت جب بھی اس صورتحال کے متعلق بات کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس صورتحال کو روکنا ضروری ہے۔
 
18 جنوری کو پنجگور میں ریلی نہیں ہونی چاہئیے؟ یہ بات تو ظاہر تھی کہ پہلے سے ہی اس صورتحال پر زور دیا گیا تھا، لیکن ابھی ان اجلاسوں میں اس بات پر بھی زور دیا جارہا ہے، جو کہ ایسا کیا جانا چاہئے کہ عوام کو یہ سوچنے کی जरوریت نہیں رہے کہ وہ شاہنواز گل جان رند کی جگہ پر کھینچ سکتے ہیں، اس صورتحال کو روکنے کے لیے ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے گا جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ شاہنواز گل جان رند کی جگہ پر کچھ اور کھینچ سکتے ہیں، اور پھر یہ بات تو نہیں رہی گئی کہ 18 جنوری کو شاہنواز گل جان رند کو پھانسی دی گئی? اس صورتحال کو روکنے کے لیے کیا ہو سکتا ہے؟
 
🤔 پنجگور شہر میں آخری بار ایسا واقعہ ہوا تھا جب یہ واضح تھا کہ عوام نہیں کمرا رہیں گی؟ اس صورتحال کو روکنا ضروری ہو گا اور ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے گا جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ شاہنواز گل جان رند کی جگہ پر کچھ اور کھینچ سکتے ہیں।

ہمیشہ یہ بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہمLayout ہوتا ہے، اس طرح ہمیں کسی صورتحال سے نجات پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ آئین وچارو اور دیگر رہنماؤں کی ایک متفقہ فیصلہ کی ضرورت ہے، تاکہ پنجگور شہر کے عوام کو ایسا محسوس نہ ہونے دے گا کہ ان کی زندگی کو متاثر کرنے والی صورتحال ایسی ہو سکتی ہے۔

اس لیے، وہ لوگ جنہوں نے شاہنواز گل جان رند کو پھانسی دی تھی ان کی جگہ پر کچھ ضروری کارروائیوں کی ضرورت ہے اور اس صورتحال کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم उठانے کی ضرورت ہے۔

اس وقت، یہ بات واضح ہو چکی ہیں کہ پنجگور شہر میں آخری بار ایسا واقعہ ہونا نہیں چاہئیے، اس لیے ایک اہمLayout ہوتا ہے، تاکہ عوام کو کسی صورتحال سے نجات مل سکے۔
 
18 جنوری کی ریلی پر انحصار کرنا بھی چیلنجنگ ہو گیا ہے، پھر بھی یہ بات غلط نہیں کہ ان واقعات سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی اپنی جگہ پر آئین وچار کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال کو روکنے کی کوشش کر رہی ہو، لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ لوگ اپنے اپنے خیالات کو سمجھائیں اور ایسے لوگوں سے کام کیا جائے جو اس صورتحال کی مخالف توجہ دیوں۔ ہمارا یہ معیار ہونا چاہئے کہ میں اپنے دوسروں کو سمجھاؤں اور انki safalta ko apne pasandidaan ki koshish karoon
 
🤕 18 جنوری کی ریلی سے متعلق صورتحال ایک بڑا خطرہ ہے، ابھی تک شاہنواز گل جان رند کے خوف و ہراس میں عوام نہیں کمرا رہیں گی، اس صورتحال کو روکنا ضروری ہو گا اور ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے گا جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ شاہنواز گل جان رند کی جگہ پر کچھ اور کھینچ سکتے ہیں، پھر بھی ریلی ہونے والی صورتحال میں کوئی حل نہیں پایا ہو گا
 
عوام کو یہ بات بھی پتہ چلنا چاہیے کہ آخری بار شاہنواز گل جان رند کو پھانسی دی گئی، اور اس صورتحال کو روکنے کے لیے ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے گا جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ شاہنواز گل جان رند کی جگہ پر کچھ اور کھینچ سکتے ہیں۔

ان کے خوف و ہراس میں عوام نہیں کمرا رہیں گی، اس صورتحال کو روکنا ضروری ہو گا۔

مگر یہ بات بھی تو چاہئے کہ عوام کو ان کی جان کی فکر کرنا پڑے اور وہ لوگ سمجھے کہ انہیں اس صورتحال سے نکلنا ہو گا۔
 
ਮੈਂ ایسا महसوس कर رہی ہoon ki پنجگور شہر میں آخری بار 18 جنوری کو ریلی نہیں ہوسکتی. یہ بات بھی صاف ہے کہ شاہنواز گل جان رند کی جگہ پر کچھ ضروری کارروائیوں کی जरورت ہے، مگر یہ بات بھی پورے اور واضح ہے کہ پنجگور شہر میں آخری بار اس صورتحال کو روکنا ضروری ہو گا.
 
واپس
Top