امریکا کا بھارت کیساتھ تجارتی معاہدے پر اتفاق ٹیرف میں کمی کا اعلان

کبوتر

Well-known member
امریکا نے بھارت کے ساتھ ایک اہم تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹیرف میں کمی کا اعلان ہوا ہے جس سے روشیا کی تیل کی خریداری کو روکنے اور امریکا اور وینیزویلا سے تیل خریداری میں اضافے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے پر اتفاق سے فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، اس معاہدے کی وجہ سے بھارتی مصنوعات کو ٹیرف میں کمی کیا گیا ہے، جو اب 18 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ بھارت نے امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر مصنوعات کی خریداری میں 500 ارب ڈالر سے زیادہ قیمتوں پر زور دیا ہے، جو بھارت کے لیے ایک اہم کارنٹ نافذ کرے گا۔
 
امریکا نے بھارت کے ساتھ ایک اہم معاہدے پر اتفاق کیا ہے؟ تو یہ بہت عجیب نہیں ہے، اس میں کوئی بات نہیں ہو سکتی جو بھارت اور امریکا دونوں کے لیے نقطہ نظر سے نہیں منصفan ہوسکتی، بعدازاں ٹیرف میں کمی اور روشیا کی تیل کی خریداری کو روکنا بھی بہت اچھا ہے، کیا یہ نہیں؟
امریکا کی طرف سے ایسے معاہدے پر گزرنا بھی ایک اعلان کر رہا ہے کہ وہ بھارت سے اچھی، مقبول مصنوعات خریدنے والے ہیں جو اس لیے سب سے بڑے کارنٹ پر باضابطہ طور پر پہنچیں گے یہ بھی ایک گہرا مہمہ جاتا اعلان ہے، اور جس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ بھارت کو اپنی کارنٹ بنانے میں بھی سہولت مل سکتی ہے।
 
ایسا تو کیا نئی معیار ہوگی کی جس سے ٹیرف میں کمی ہوجائے؟ مگر وینیزویلا اور روشیا کو یہ کیسے بنایا گیا? بھارت نے 500 ارب ڈالر کی قیمتوں پر زور دیا تو پھر انہوں نے کیا فراموش کر دیا؟
 
یہ بات بہت مہمات مند ہے کیوں کہ بھارتی مصنوعات اب ٹیرف میں 18 فیصد پہنچ رہی ہیں؟ اس طرح سے یہ نہیں آئے گا کہ لوگ صرف امریکی مصنوعات خریدتے رہیں؟ لالچ کی باتوں کو جھٹکے میں ڈالیں...
 
یہ واضع ہے کہ अमریکا نے ایسے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جو بھارت اور روسیہ کے درمیان تیل کی خریداری میں ایک نئی دھارہ کش پڑھاتی ہے۔ اب یہ سچائیاں سامنے آ رہی ہیں کہ ٹیرف میں کمی کا یہ اعلان کیا جا رہا ہے اور ایسیCondition سے بھارت کے لیے فائدہ ہوگا۔

اب امریکا کے صدر نے کہا ہے کہ بھارت اور अमریکا کے درمیان معاہدے پر اتفاق سے ٹیرف میں کمی کیا گیا ہے جو اب 18 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

یہ بات بھی واضع ہے کہ امریکا کی یہ ایک بڑی نیک-news ہے کیونکہ اس سے بھارت کے لیے ٹیرف میں کمی اور روسیہ کو تیل خریداری سے روکنے کی پوری صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔
 
امریکا اور بھارت کے درمیان یہ تجارتی معاہدہ تو بڑی بات ہے، لیکن اس کی سچائی یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور روشیا کو مایوس کرنا ابھی تک نہیں ہوا ہے…اس معاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیرف میں کمی کا سب سے بڑا فائدہ کس کی فلاح ہوگا؟ یہ بات پھر کوئی نہ کوئی لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ اس معاہدے سے ان کے لیے بھی فائدہ ہوگا…لیکن ایک حقیقت یہ ہے کہ تجارتی معاہدوں کی نتیجے میں کس طرح لوگوں کے درمیان توازن برقرار رہتا ہے…اس معاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کیا کہا تھا، اور اس کا انکار کس کے لیے ہوگا؟
 
واپس
Top