واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں کارروائی کرکے اس کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس سے امریکا کی 19 ویں صدی خارجہ پالیسی مونرو ڈاکٹرائن کا حوالہ دیا اور اپنے آپ سے منسوب کرتے ہوئے ڈونرو ڈاکٹرائن بھی کہہ دیا۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے مادورو کے خلاف کارروئی کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ مونرو ڈاکٹرائن ایک بڑا معاہدہ ہے لیکن ہم نے اس کو نئی شکل دی اور حقیقی معنوں بہت آگے نکل گئے ہیں۔
ٹرمپ نے مونرو ڈاکٹرائن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اس کو ڈونرو ڈاکٹرائن کہا جائے گا اور کہا کہ ویسٹرن ہمسفیئر پر امریکا بالادستی پر دوبار کبھی سوال نہیں اٹھایا جائے گا۔
امریکی صدر نے مونرو ڈاکٹرائن کی اصطلاح میں ترمیم کرتے ہوئے اپنے نام کے ابتدائی الفاظ شامل کرکے اس کو ڈونرو ڈاکٹرائن قرار دیا ہے۔
واشنگٹن کی اس بات پر میں واضح طور پر متفق ہوں کہ ایسے معاملات میں بھی اپنی پالیسی کو نئی شکل دیا جانا چاہیے نہیں کہ کچھ نام لگایا جانا اور اس پر اشارہ کیا جائے۔ ٹرمپ کی انہوں نے مونرو ڈاکٹرائن کو ڈونرو ڈاکٹرائن قرار دیا تو یہ صرف ایک چھپائی ہوئی بات ہے۔ اس کے علاوہ واشنگٹن نے ملک کی کامیابی پر فخر منانے کی بجائے، اس معاملے میں اپنی پالیسی کو ہی بڑھایا ہے۔
یہ تو واضح ہے کہ امریکا نے پھر سے اپنی واقفیت کا مظاہرہ کیا ہے... مونرو ڈاکٹرائن کو ڈونرو ڈاکٹرائن بنانے سے تو کچھ اور نئی واقفیت کی بات کر رہے ہیں مگر ان کا مقصد واضح ہے، ابھی تک اسے منہ زرد کرنے والے ہوتے ہیں تو اب نہیں... یہ صرف اور صرف امریکا کی تنخواہ پکڑنا چاہتا ہے... نئی دنیا کا ہموار رہنما ہونا بھی ان کی فحش تھی...
اس نئی پالیسی کی بات سے میرا خیال ہے کہ وینزویلا میں امریکا کے اس کارروائی کو دیکھتے ہوئے ، امریکہ نے اپنی بہت سی پالیسیوں کو تبدیل کر دیا ہے اور یہ بات سچ ہے کہ وہ اس معاملے کی طرف ایک نئی پالیسی پیش کر رہا ہے جو انہیں اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے "ڈونرو ڈاکٹرائن" کہتے ہیں۔
واشنگٹن سے آتے ہوئے یہ اعلان کچھ محسوس کرائیں گے... امریکا نے اس پالیسی کو کبھی بھی اپنی جان کی زندگی نہیں چکی، اب تو اس پر ٹrimپ کیا اور اسے اپنے نام سے منسوب کر دیا ہے... میں انکار دکھائی گئے ہوں کہ وہی پالیسی جسے ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے نام سے منسوب کر دیا ہے وہ ایسی بھی ہوسکتی ہے جو اسے ہٹانے والی پالیسی بن جائے...
یہ دیکھتے ہیں امریکی صدر نے وینزویلا میں کارروائی کرکے مونرو ڈاکٹرائن کا ذکر کیا اور اس کو اپنی کامیابی قرار دیا، یہ تو اس کی سڑ़कے کا نتیجہ ہو رہا ہے۔ لेकिन میں سوچتا ہوں کہ اس کارروائی کی پہلی منظور میں اس کو ایک معاوضہ کے طور پر دیکھا جاسکتا، اس سے وینزویلا میں امریکی زرمندہ نہیں ہو گئے تھے۔ آج کل یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ مونرو ڈاکٹرائن ایک قدیم معاہدہ ہے لیکن اس پر اب امریکی صدر نے اپنی جسمانی نشاندہی کی ہے۔
اس نئی پالیسی سے امریکا نے اپنی Power کی بات کھیل رہی ہے ... لگتا ہے وہ اس نئی پالیسی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا ہے... لیکن یہ سچھا نہیں ہے؟ مونرو ڈاکٹرائن ایک تاریخی معاہدہ تھا، اب اس کی اسی اصطلاح پر ترمیم کر کے وہ اپنی Power کے بارے میں بات کرتا ہے... کیا وہ اس سے پوری دنیا کو دھمکی دینا چاہتے ہیں?
امریکا کی پالیسیوں میں تبدیلی کی بات سے بھی بات نہیں آئی تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کتنا دلچسپی رکھتا ہے؟ میرے لئے مونرو ڈاکٹرائن کی اصطلاح میں ترمیم کرنا بہت جگہ دار بات نہیں، بلکہ یہ تو کچھ دوسری پالیسیوں کو بدلنا ہی ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے امریکا کے صدر نے وینزویلا میں اپنی کامیابی کو دھلے پکڑ کر رکھ دیا ہے اور اب اس نے سیکھ لیا ہے کہ کس طرح لوگ دھوکے پر چلنے لگتے ہیں... مونرو ڈاکٹرائن کو ڈونرو ڈاکٹرائن کے نام سے بدلا کر اس نے اپنی کامیابی کی کویت پکڑ لی ہے اور اب اس نے سیکھا ہے کہ کس طرح ایسا لوگ اپنی حقیقت کی پھرتی میں رہنے کے بدلے اپنی بولی بھی بدلی دیتا ہے... لگتا ہے اس نے سیکھا ہے کہ حقیقت کو کبھی نہ جانتے ہوئے لوگوں کی پھرتی میں رہنے کے بدلے اپنی بولی کو بدلنا...
یہ وہ دور تھا جب امریکا نے دنیا کی معیشتوں پر بھی قبضہ کیا تھا، اب یہ بہت کم تھا، اور اس سے پہلے ہی اس نے وینزویلا کو انٹرنیٹ پر فائر ڈال دیا تھا... مگر وہ تھوڑا جہت تھا، اب وہ کچھ اور بھی ہوا ہوئی ہے، لگتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے انڈیا پر بھی مظالم چلا دئیں گے...
اس نئی پالیسی سے متعلق ان پر ایسے सवाल ہیں جو ٹرمپ کی صدرپریشانیوں کے دوران اٹھائے جا سکتی تھے اور اب اس کا جواب مل رہا ہے... ڈونلڈ ٹرمپ کو پتہ چلا گیا ہوگا کہ اس نے کچھ دیر تک اپنے آپ سے بے گمان بیٹھایا تھا...
انہوں نے وینزویلا میں مداخلت کرکے ایسی پالیسی کو بیدار کیا ہے جو دنیا کی تاریخ میں اس سے زیادہ منفی باتوں کا Cause بن چکی ہے... ڈونرو ڈاکٹرائن اس نئی پالیسی کا نام دے رہے ہیں جو دنیا کی تاریخ میں دوسری بڑی معاشی تباہیوں میں سے ایک بن سکتی ہے...
یہ بھی دیکھنا پورے امریکا پر کنٹرول رکھتا ہے نہیں? وینزویلا میں یہ کارروائی اُس کی حکومت کے ساتھ ہوئی تھی لیکن اب تو ایسے حالات کی توسیع کرنے والا کسی کو بھی چاہتے ہو تو اس میں امریکا کی بھی کردار نظر آتا ہے؟ اور اس نئی پالیسی کے بارے میں جو اب بھی لگاتار تبادلہ کی جا رہی ہے وہ کس طرح اس علاقے پر اثر انداز ہو گیا ہے؟
[ایسے ہی کیا کرتے ہیں؟ امریکا کے صدر نے وینزویلا کی کارروائی پر فخر سے بات کی اور اپنی پالیسی کو اپنے آپ سے منسوب کیا... اور اب اس کا نام ڈونرو ڈاکٹرائن ہو گیا ہے!
[اس بات پر غور کریے] Mona Doina 19 ویں صدی میں بھی اس طرح کی پالیسیاں ریکارڈ ہوتی تھیں... اور اب اسے ڈونرو ڈاکٹرائن کہتے ہیں!
[وہ بات جو کوئی نہیں پوچھ رہا] ٹرمپ سے پوچھنا ہے کہ اس کا مقصد وینزویلا پر قبضہ کرنا تھا یا کیا?
اس نئی پالیسی پر توجہ دینے والوں کی فطرت کچھ نئی نہیں ہے۔ جب آپ کو اپنی وطن سے محروم ہوتے ہیں تو اس سے باہر کی توجہ کا رخ کرنا ہمیں ذہن میں ضرور آتا ہے۔
واشنگٹن سے واپس آئیں تو تھوڑا سور آ رہا ہے کہ امریکا کی انٹرنیٹ پر ایسا کیا کیا گیا ہے؟ وینزویلا میں کارروائی کرکے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آپ کو ساتھ لایا ہے اور اب اسے ایسا کہتے ہیں جو وہی ہے، مگر یہ بات تو یقین نہیں ہو سکتی کہ وہ اس پر توجہ نہیں پھیلایا ہوگا۔
مونرو ڈاکٹرائن ایسا معاہدہ نہیں ہے جس کی بات وہ کر رہا ہے، وہ اس کا ایک حصہ بنانے کا چیلنج لے رہا ہے اور اب وہ اسے ڈونرو ڈاکٹرائن قرار دیتے ہیں جو بہت عجیب ہے، کیا وہ اپنی تاریخ کو تبدیل کر رہا ہے؟
یہ دیکھنا اچھا ہو گا، وینزویلا کے ساتھ امریکا کی کارروائی کرکے اب اس نے اپنی پالیسی کو بڑھایا ہے اور اب اس نے اپنے آپ سے منسوب کرتے ہوئے مونرو ڈاکٹرائن بھی کیا ہے، لگتا ہے وہ اب اس معاہدے کو ایسا کرنا چाहतا ہے جیسے وہ اس کی پالیسیوں سے محبت کرے، لیکن یہ بات بھی دیکھنی پڑے گی کہ وینزویلا اور امریکا کے درمیان کتنے علاقی کے گھر والے ہیں
یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ امریکا نے بھی ابھی ابھی کئی معاہدوں میں ہاتھ پکڑ کر وینزویلا سے بات کیا ہے، یہ تو صدر ٹرمپ کی جانب سے ہر کوئی جانے والا ہو گیا ہے۔
امریکا نے وینزویلا پر مملکت کے حالات میں اپنی مداخلت کی، یہ تو کہتے ہیں کہ مونرو ڈاکٹرائن ایک بڑا معاہدہ ہے لیکن اس سے پہلے بھی امریکا نے وینزویلا کو اپنی مرضی میں چالا لایا تھا، اب تو کیا یہ معاہدہ ہی اچھا ہو گا؟