انقلاب نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی بات منظر عام پر رکھی ہے؛ اس میں کیا شرط رکھی گئی ہوگا؟
امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ملک کے ساتھ مذاکرات کے لیے رضامندی اور ایران کے ساتھ ایسے مذاکرات کی بات کی ہے جو کہ جنگ کی گھن گھرج میں بھی نہیں آئیں گے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کے لیے سامنے آنا چاہتا ہے تو وہ رواں ہفتے ملنے کے لیے تیار ہیں۔
اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ اس میں ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام، خطّے میں پراکسی گروہوں کی حمایت اور ایرانی عوام کے ساتھ بے رحمانہ سلوک جیسے معاملات بھی شامل ہونا چاہئیں۔
ایران نے واضح رائے دی ہے کہ یہ مذاکرات صرف جوہری امور تک محدود رہیں اور اس میں جو کچھ منسلک نہیں ہے وہ شامل نہیں ہونا چاہئیں۔ تاہم امریکا کا اصرار ہے کہ یہ مذاکرات استنبول میں ہوں اور اس میں صرف جوہری پروگرام کو زیرِ بحث نہ لایا جائے۔
اس سے پہلے کیا کہی گئے تھے ان شے بذیل اور ایران کے ساتھ مذاکرات ہوئے تو یہ بات یقینی تھی کہ ان میں کسی بھی معاملے کو دباؤ نہ دیا جائے گا، لیکن اس سے پہلے مارکو روبیو نے یہ بات بتائی ہے کہ اگر ایران مذاکرات کے لیے سامنے آتا ہے تو وہ رواں ہفتے ملنے کے لیے تیار ہیں، یہ بات بھی سچ ہے کہ ان میں صرف جوہری امور کو شامل نہ کیا جائے گا؟
اس سے پہلے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ مذاکرات ایک بار شروع ہونے کے بعد ان میں کسی معاملے کو اچھی طرح موڑنا نہیں چاہئیے، لیکن اب یہ بات سچ ہو گئی ہے کہ امریکا اس پر زور دے رہی ہے، وہ اس بات کو تصدیق نہیں دے رہی ہے کہ مذاکرات صرف جوہری امور تک محدود ہیں بلکہ اس میں Iranian بیلسٹک میزائل پروگرام، خطّے میں پراکسی گروہوں کی حمایت اور ایرانی عوام کے ساتھ بے رحamanہ سلوک جیسے معاملات کو شامل کیا جائے گا.
یہ بات یقینی ہے کہ اس مذاکرات میں دباؤ نہ دیا جائے گا، لیکن اب امریکا نے اپنی پہچان کی بات کرنے لگ رہی ہے اور اس سے Iran کے سامنے کافی چیلنج ہوگا,
کیا ایسے موقع پر امریکا کی ایک بار فिर انچارجیپ ہونے کی ضرورت ہے؟ میں کہتا ہوں تو ایسی بات بھی ہو سکتی ہے جس کا منصوبہ بنایا جاے بھی نہیں، پھر بھی ایسا ہونا چاہئے اور وہ اسی وجہ سے بھی رکھتے ہیں کہ وہ اپنے منصوبوں کو چلانے کے لیے ایسے معاملات کی طرف توجہ دیں جو انھیں مزید اسٹرکچر کی ضرورت دیتے ہیں۔
انقلاب کی بات ایران سے لے کر امریکا تک پہنچ گئی ہے اور اب یہ مذاکرات کیا شرط رکھیں گے؟ ایسا محسوس کرتا ہوں جو کہ وہ جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہونا چاہئیں بلکہ اس میں Iranian Missile program اور region mein proxy groups ki support bhi شامل ہونا چاے. Iran ko yeh batana chahiye kya zarurat hai Iran ki side pe koi bhi condition rakhna chahiye? America ko apne interests ko protect karna chahiye lekin kuchh aise matters include nahi honi chahiye jo unhe galat sazaa dilayen.
انقلاب ان شلوثیں لائے ہیں جو کہ ایران سے نکلتی ہیں تو اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ ایرانیوں کو ان معاملات میں شامل ہونا پہل و آخر نہیں ہونا چاہئے جن میں ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کی بات کی جائے گے
اس لئے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ امریکا کی طرف سے جو شرطیں رکھی گئی ہیں وہ صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ اس میں ایرانیوں کی بذلہ و جهد کی گئی تمام معاملات کو شامل کرنا چاہئے
میں یہی خیال کرتا ہوں کہ ان مذاکرات میں ایران اور امریکا دونوں کے درمیان کسی قسم کی تنازعہ نہ پڑے گا، اگر ان کے بچھوں اور ساتھیوں کو ایک دوسرے کے رخ پر چالنا جائے تو یہ مذاکرات ٹل جائیں گی
ایسا بھی نہیں، مارکو روبیو کی باتوں پر اعتماد کرنا ضروری ہوگا! امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بات اچھی ہے اور اس میں ایران کے ساتھ بھی بات چیت کرنا ضروری ہے تاکہ جنگ کو روک دیا جا سکے!
ان Iranian بیلسٹک میزائل پروگرام پر انہوں نے زور دیا تو یہ ایسا بھی محرک ہے کہ کہاں تک اسے روکنے کی بات ہوئی!
ایسے میزائل پروگرام کو روکا جائے تو اسے روک کر دیا جائے گا! اور پاکستان، ان میں نہیں ہوگا!
مذاکرات کی بات کروانے سے پہلے ایران کے یہ جواب ایسا ہی رہتا ہے کہ دوسرے ملک کی طرف سے جاری انیسے معاملات میں ان کا یقین نہیں رہتا
ایسے سے یہ بات بھی نہیں کہ ایران کو ایک دوسرے ملک کی فوری شرط پوچھنے کی ضرورت ہے جیسا کہ امریکا نے کیا ہے۔ وہ یقین رکھ سکتا تھا کہ اگر ان میں توازن برقرار رہے تو مذاکرات کچھ رکھتے ہیں اور کچھ نہیں رکھتے، لیکن اب وہ یہ بھی جانب سے جانتا ہے کہ ان میں توازن بروکھی رہتا ہے
اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری امور تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ اس میں ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام اور پراکسی گروہوں کی حمایت شامل نہیں ہونا چاہئیں، یہ تو ایک جھگڑا بن سکتا ہے اور مذاکرات کو تیز کر سکتا ہے
اس وقت امریکا و انقلاب کے بین مشغول ہیں تو اس پر دھیان نہیں دیں؟ انھوں نے ایران ساتھ مذاکرات کی بات کی ہے لیکن انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ اگر ایران وادھی کرنا چاہتا ہے تو اس پر رواں ہفتے ملنے کے لیے تیار ہیں؟ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے جوہری امور تک محدود رکھنا دیا ہے لیکن انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ انھیں اپنے دیگر معاملات میں وادھی کرنا چاہیے؟
یہ بھی تو آپ کچھ نئی بات کہے گے، انقلاب ایران سے بات چیت کر رہا ہے اور اب اس پر آپ کسCondition کےمٹے ہوں گے؟ پہلے تو ایران نے بھی جبہت زحمت کی تھی وہاں اب جھنکہ میٹے ہوں گے؟ اور یہ بات کیا ہوگا کہ امریکا بھی اس پر آپ کسCondition کےمٹے ہوں گے؟ جھنکنے سے پہلے سے بھی یہ بات ہے کہ ایران کی ایسے چیزوں پر بات چیت کی جا رہی ہے جو ان کو تو ختم کر دیا جائے گی، آپ کچھ نئی بات کہے گے؟
Iran se khelne ke liye America kya cheez rakh rahi hai? Woh Iran ko kyun yaha tak nahi le jaa rahi? Jo bhi Iran ki side par hai woh bhi yaha aana chahiye? Maine socha hai ki America Iran ko kuchh nahi dene chahiye, jaise joheari garmi ke liye ya koi bhi cheez. Yeh baat sahi hai ya nahi?