امریکا کی پابندی کی طرف سے نافذ کردہ یہ وہ فیصلہ ہے جس کے تحت اس ملک کے شہریوں کو اپنے ممالک میں مستقل رہائش حاصل کرنا، امریکی حکومت کی مفت سہولیات پر انحصار کرنا یا وہیں نہیں رہنا پڑے گا۔
یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے لگائی جائے گی اور اس کے تحت ایسے افراد کو امریکا میں داخلے سے روکا جا سکے گا جو مستقبل میں حکومتی امداد پر انحصار کرنے کے امکانات رکھتے ہیں۔ اس پابندی سے نافذ کردہ ایسے افراد کو جو اب اپنی جگہوں سے کینیڈا، آسٹریلیا یا یورپی ممالک کے بجائے امریکہ آنے کی طرف توجہ اور ترغیب دی گئی تھی، ان کو اب واپس جانے پر مجبور ہونگے۔
امریکی حکومت نے اس پابندی کا اعلان ایسے ممالک سے آنے والے شہریوں کی جانب سے متعلق ایسے لوگوں کو روکنے کے لیے کیا ہے جنہیں یقینی طور پر حکومتی امداد کا بوجھ نہیں لگنا پڑتا۔
یہ پابندی اس وقت سے لگائی گئی ہے جب دیگر ممالک سے آنے والے زیادہ تر لوگ اپنے خرچہ خود اٹھانے کے بجائے امریکی حکومت کی مفت سہولیات پر بوجھ بن جاتے تھے۔
امریکن وزیر خارجہ انڈس پائیک نے ایک ہفتے قبل اس پابندی کا اعلان کیا تھا جب انہوں نے بتایا کہ کئی ممالک میں انحصار کرنے والے لوگ اپنی زندگی کی ضروریات کو ہمارے لئے سونپ رہے تھے اور اس لیے ہمیں انہیں روکنا پڑتا ہے۔
جس سے یہ پابندی عائد کی گئی ہے وہ یہی ہے کہ امریکی شہریوں کو بھی یہ نہیں کرنا پڑے گا کہ اس ملک میں مستقل رہائش حاصل کریں اور حکومتی امداد پر انحصار کریں یا وہیں نہیں رہنا پڑے گا۔
اس پابندی سے شہریوں کو مستقل رہائش کی ضرورت ہوگی اس کے علاوہ امریکی حکومت اپنی مفت سہولیات پر بھی استعمال کرنے والوں کو روکنا چاہتی ہے۔ میں سوچتا ہون्गا کہ یہ پابندی شہریوں کی آزادی اور خودمختاری کے خلاف ہے جس سے ان کو اپنی زندگی کے لیے بھی ایک نئی کوشش کرنا پڑے گی۔
امریکی شہریوں کے لیے بھی یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے لگائی جائے گی؟ اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہوگی؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ پابندی صرف ایسے لوگوں کو نہیں ملے گی جس پر حکومت نے مفت سہولیات پر بوجھ دیا ہو، بلکہ اسے عام طور پر دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ پابندی امریکی شہریوں کو بھی اپنی زندگی کی ضروریات سونپنے میں مہربان کریگی?
امریکہ کی یہ پابندی بہت ہی دکھنے کی لگ رہی ہے، لوگوں کو اس سے محفوظ رہنا پڑے گا اور وہ ایسے ممالک کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جن میں مستقل رہائش کے لیے بہت سی سہولیات دستیاب ہیں۔
امریکا بھی ایسا ہی کیا کر رہا ہے جیسے یوکرین اور سوریہ، مگر یہ اس کی جانب سے نہیں ہے بلکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان میں بھی امریکی حکومت کی مفت سہولیات پر انحصار کرنا پڑتا رہا ہے اور وہ لوگ جو ان میں مقیم ہیں انھیں یہ جاننے دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کی ضروریات خود اٹھانے کی کوشش کرنا چاہئے۔
مگر جب آپ کے پاس یقینی طور پر اپنے خرچہ اٹھانے کی صلاحیت ہو تو وہ لوگ جو آپ کی مدد دیکر رہے ہیں انھیں کچھ بھی نہیں چاہئیں۔
yaar ab toh amrikaa kee pabandi se humein khabar hai . yeh pabandi 21 january 2026 se lagegi aur usse pahle ke logon ko amrica mein rahna aur govt ki mufat sealari karne ka mauka nahi milega . main sochta hoon yeh kya hai, hume apni jagahein se kenyada ya ausrala ya eurpiaaa ke baad amrikaa aane ki koshish karni padegi .
maine suna hai ki america ke vyasakar vidhyalayon mein logon ko mufat mili thi aur vah bhi kya kar raha the? ab ye pabandi un logo ko rokne ka prayaas kar rahi hai jo aage govt ki amad ki shakti hai . main khud se sochta hoon yeh sab kaisa kram ho sakta hai aur humare liye yeh kitna mushkil hogi?
امریکی حکومت کی یہ پابندی تو بالکل بھی جائز ہے! مگر تو اس کے بعد کو کیا کرنے دوں? اور وہ یہ بات کس لیں اور وہ اس پر کیسے چالakiں؟ مگر یہ پابندی تو 21 جنوری سے لگائی گئی ہے، تو اب پہلے سے پوچھنا ہی نہیں!
اس پابندی کی جانب سے ہونے والا یہ فیصلہ کہا نہیں، اس طرح لوگ جو ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں وہ اپنے خرچہ اٹھانے کے لیے مجبور نہیں ہوتے وہاں بھی اپنی زندگی کو اس طرح سے منحصر بناتے ہیں جو انہیں امریکی حکومت کی مفت سہولیات پر انحصار کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے
میں سوچتا ہوں کہ اس طرح یہ پابندی اور ایسے لوگوں کو روکنے کی کوشش نہیں بھلائی اور سائنس کو ترغیب نہیں دیتی، لیکن میں مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اس پابندی کے نتیجے میں کیا نتیجہ ہو گا
امریکا کی یہ پابندی تو ایک جانب سے لگاتار انحصار کرنے والوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہی نہیں ہوئی بلکہ وہ لوگ جو ایسا کرنا چاہتے ہیں ان کی مدد سے ان کو رکھنے کا بھی ایک نئا راستہ ہو گیا ہے۔ اب اگر یہ پابندی اس وقت لگائی جاتی تو وہ لوگ جو آج اپنی پڑھाई کے لیے امریکا آنے والے ہیں ان کو اچھا نتیجہ ملنا چاہیے تاکہ وہ ایسے مضمون کی پڑھائی کریں جن میں حکومت کی مفت سہولیات کے بارے میں بھی کوئی واضح بات نہ ہو
مفید information diya gaya hai ki 21 january ko amrika ke shaharon ko apne desh mein rahna, amreekai sarkar ki free facilities par adhar karna ya vahan nahi rahna padega
amriki sarkar ne yeh pabandi isliye di hai kyunki kaafi logon ko amrika aane ke liye pata hi nahi tha ki unhe apni zindagi ki zarurat ko apne haathon mein le jaana hoga aur government ki mafat par adhar karna pasand nahi karega
yeh pabandi 21 january se lagayi jayegi aur uske neeche log jo future me government support par reliance rakhenge unhe amrika me entry sambhalne se rok diya jayega
is pabandi ka matlab yah hai ki jo log ab apni desh se kanada, australia ya european countries ke bajaye amrika aate the, vah ab wapas jane par majboor honge
amriki sarkar ne yeh pabandi is tarhai kyun di hai, kyunki unke shaharon ko government support par reliance rakhne wale logon ko rokna chaahiye jo asli taur pe government ki mafat par adhar nahi karte
میری نظر سے یہ پابندی بھی ایک ہی قیود کی فہرست کا حصہ ہوگی جس میں امریکہ کے ماسٹرز اور شکار بھی شامل ہوں گے… وہ لوگ جو اپنے ملکوں سے نکل کر یہاں آتے ہیں، ان کی کوئی معلومات جس کے علاوہ نہیں ہوگی اس لئے وہاں کے حکومت سے بھی کوئی جواز نہیں رکھ سکے گا… اور یہ سب ایک دوسرے کی ساتھ مل کر امریکیوں کو ایسا محفوظ بنانے کے لیے ہوا ہے جو ان پر مکمل ناکارavity کا حقدار ہیں…
امریکی حکومت نے اپنی پابندی کا اعلان کر دیا ہے کہ شہریوں کو اگر مستقبل میں حکومتی امداد پر انحصار کرنے کے امکانات رکھتے ہیں تو انہیں اپنی جگہوں سے کینیڈا، آسٹریلیا یا یورپی ممالک کے بجائے واپس جانا پڑے گا
ایسے لوگوں کو جو اب امریکہ آنے لگے تھے جنہیں یقینی طور پر حکومتی امداد کا بوجھ نہیں لگنا پڑتا، انہیں ایسا کرنا پڑے گا۔
یہ پابندی آمریکی شہروں سے نکلنے والوں کو اور اپنے خرچہ خود اٹھانے والوں کو بھی ایسا کرنا پڈے گا۔
یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آمریکی حکومت نے دیگر ممالک سے آنے والے لوگوں کو بھی ایسا کرنا پڈا ہے جو اپنے خرچہ خود اٹھانے کی بجائے امریکہ کی مفت سہولیات پر بوجھ بن جاتے تھے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ لوگ اپنی زندگی کی ضروریات کو سونپ رہے تھے اور اس لیے انہیں روکنا پڑتا ہے، اب وہ بھی ایسا کرنا پڈے گا۔