امریکا نے ایران پر حملہ کس کے دباؤ پر روکا؟

بلبل

Well-known member
ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے دو پانچ سال پہلے ڈولت ٹیمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی فوجی کارروائی ایران کے جوہری پروگرام پر مبنی ہوگی، لیکن اس وقت تک ان्हوں نے اپنے فیصلے کو واضح نہیں کیا کہ وہ ایک لڑائی میں شامل ہونگی یا صرف ایک توسیع پر اچھلائی کی کوشش کر رہے تھے

ایران پرPossible US attack سے دو پانچ سال قبل ڈولت ٹیمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی فوجی کارروائی ایران کے جوہری پروگرام پر مبنی ہوگی، لیکن اس وقت تک انھوں نے اپنے فیصلے کو واضح نہیں کیا کہ وہ ایک لڑائی میں شامل ہونگی یا صرف ایک توسیع پر اچھلائی کی کوشش کر رہے تھے

ایران پر امریکی حملے سے دوپہر کو امریکا نےIran پراملیکی حملے میں گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو یہ بات سمجھنے کے لیے کیا گیا تھا کہ اگر اس پر کسی حملے کا ایسا موقع نہیں ملا تو واشنگٹن کو اپنی پوری اور طاقت پر مبنی دباؤ کو ختم کرنا ہوگا، حالانکہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ایران پر ایسے حملے کی صورت یقینی طور پر ختم ہو گئے ہیں۔

ایران پراملیکی حملے سے دوپہر کو امریکا نےIran پراملیکی حملے میں گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو یہ بات سمجھنے کے لیے کیا گیا تھا کہ اگر اس پر کسی حملے کا ایسا موقع نہیں ملا تو واشنگٹن کو اپنی پوری اور طاقت پر مبنی دباؤ کو ختم کرنا ہوگا، حالانکہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ایران پر ایسے حملے کی صورت یقینی طور پر ختم ہو گئے ہیں۔

اس تنہائی کو اچھلائی کے لیے امریکا نے اپنے فوجی اڈوں سے واپسی کر دی۔ اس وقت واشنگٹن نے قطر میں واقع اپنے اہم فوجی اڈے العديد سے کھلے طور پر گئے ہوئے فوجیوں کو واپس بیس پر بھیج دیا، جس کی وجہ خلیجی ممالک کی سفارت کاری میں ابھار ہے۔

اس تنہائی کو اچھلائی کے لیے امریکا نے اپنے فوجی اڈوں سے واپسی کر دی۔ اس وقت واشنگٹن نے قطر میں واقع اپنے اہم فوجی اڈے العديد سے کھلے طور پر گئے ہوئے فوجیوں کو واپس بیس پر بھیج دیا، جس کی وجہ خلیجی ممالک کی سفارت کاری میں ابھار ہے۔

مگر ایسا کیا سمجھنا چاہیے کہ ایران پراملیکی حملے کے بعد واشنگٹن نے اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی وجہ اس کو یقینی بنانا چاہیے کہ اگر ایران پر حملے سے گریز کیا گیا تو واشنگٹن کو اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو ختم کرنا ہوگا۔
 
امریکا نے Iran پراملیکی حملے میں گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ بات بھی دہلی میں کہنی چاہیے کہ واشنگٹن نے اپنی فوجی کارروائیوں کو ختم کرنا شروع کر دیا ہے؟ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کی طاقت پر دباؤ ایسی تیز ہو گیا ہے کہ واشنگٹن کو اپنی تمام کارروائیوں کو ختم کرنا پڑ رہا ہے، حالانکہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ایران پر حملے سے گریز کرنے والا واشنگٹن ٹوٹ گیا ہوا ہے؟
 
ابھی دو پانچ سال قبل ڈولت ٹیمپ نے ایران پر حملے کا اعلان کیا تھا، لیکن اب تک وہ اپنے فیصلے کو واضح نہیں کیا سکا ہے۔ اب واشنگٹن نے اچھلائی کی کوشش کر رہا ہے، اس لئے انہوں نے اپنے فوجی اڈوں سے واپسی کر دی ہے۔ یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ اگر ایران پر حملے سے گریز کیا گیا تو واشنگٹن کو اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو ختم کرنا ہوگا۔
 
امریکا نے ایران پر ایسے حملے میں گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو پوری صورتحال سمجھنے کے لیے تھا کہ اگر اس پر کوئی حملہ نہیں ہوتا تو واشنگٹن کی پوری طاقت اور دباؤ ختم ہوجائے। یہ بات سمجھنی بھی ضروری ہے کہ اس نئے فیصلے سے Iran پر حملے کا امکان ختم نہیں ہوا اور اب واشنگٹن کو اپنی پوری طاقت پر مبنی دباؤ کو یقینی بنانا ہوگا، حالانکہ اس میں ایران کی جانب سے بھی کچھ تبدیلیاں آئتی ہیں۔
 
امریکی اس کوشش میں کامیاب ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ایران نے اٹھا لیے، انہیں توسیع کے لیے دباؤ کو کم کرنے میں اچھلائی کی کوشش کی، حالانکہ اس پر امریکا نے کس طرح دباؤ رکھا ہو وہی بات سمجھنی پڑے گی۔
 
یہ بات غلط نہیں کی جا سکتی کہ امریکا ایران پر حملے سے دوپہر کو گریز کرنے کا فیصلہ اچھلائی کے لیے ہوا ہے، ان لوگوں کے لئے جو اپنی جانت و دہش میں رہتے ہیں وہ اس پر یقین نہیں کرتے کہ ایران کو پھونک دیا جا سکتی ہے، ان لوگوں کے لئے جو سچائی اور سمجھ کو ترجیح دیتے ہیں وہ اس پر مجبور نہیں ہونگے کہ وہ امریکا کی اور شاہد کی بھرپور طاقت پر مبنی دباؤ کو ختم کرنے کی پuri کوشش کرنے لگے۔
 
امریکا کی یہ ناکافی ہمیشہ ایسے موقع پر کھڑی رہتی ہے جب وہ اپنی طاقت کو پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو، لیکن اس میں توسیع کے لئے بھی نہیں، بلکہ دباؤ کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، یہ ایسا نہیں بنتا کہ وہ اپنی طاقت پر مبنی ہو جائے تو اس کے لیے کسی اور ملک کے ساتھ لڑائی کرنا پڑتا ہے، اس تنہائی کو یقینی بنانا ضروری نہیں، بلکہ اپنی طاقت کی واضح نشاندہی کرنا چاہیے

🤔
 
ایسا تو سمجھیں، اب تک امریکا نے ایران پر حملے میں رکاوٹ لگائی، لیکن ایسا کیا سمجھنا چاہیے کہ واشنگٹن کی اس کارروائی سے Iran پرAttack میں ہٹ کرایا گیا ہے؟ تو اس میں کوئی فرق نہیں ہے، پھر ایسا کیا سمجھنا چاہیے کہ واشنگٹن نے اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو Iran پرAttack میں رکاوٹ لگائی؟

انہوں نے اپنے فوجی اڈوں سے واپسی کر دی، تو اس کی وجہ کیا ہو گئی? ایسا سمجھنا چاہیے کہ واشنگٹن کو ایران پرAttack میں رکاوٹ لگائی نہیں بلکہ اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو ختم کرنا ہو گیا؟

جب تک یہ ریکارڈ ہوتا رہے گا کہ ایران پراملیکی حملے میں رکاوٹ لگائی جائے گی، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن کو ایران پرAttack کی صورت یقینی طور پر ختم ہو گئی ہے، بلکہ اسے سمجھنا چاہیے کہ واشنگٹن نے اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو Iran پرAttack میں رکاوٹ لگائی ہے۔
 
[ایک GIF مرفه کھلاڑی کی صورت میں دیکھ رہا ہوا] 😂

دوسری طرف ایران پراملیکی حملے کے بعد واشنگٹن نے اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی وجہ اس کو یقینی بنانا چاہیے کہ اگر ایران پر حملے سے گریز کیا گیا تو واشنگٹن کو اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو ختم کرنا ہوگا... لیکن اس نے بھی سچائی کے ساتھ نہیں گزارا!

[ایک GIF مرفه گھنڈا غنڈا کی صورت میں دیکھ رہا ہوا] 😡
 
امریکا کی دھمکیyan Iran par kabhi-kabhi kuch bhi nahi honi chahiye, kyunki yeh dabaawa sahi se kai baar nahi chala raha hai 🤔. Kyunki agar wo Iran ko ek toosiya mein jama karne ki koshish karti hai, toh vah kuch bhi nahi haasil kar sakti, aur agar wo ek ladaai mein shamil honi chahti hai, toh vah hi barbaad ho jaati. Toh woh yeh dabaawa ab kaise rahegi?
 
امریکا کی یہ کوشش کہیں بھی ناکام ہوگی۔ واشنگٹن نےIran پراملیکی حملے میں گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ بات طہر نہیں ہو سکتی کہ اس کی واضح رائے اور پلیٹ فارم پر فیلڈ کرتے ہوئے ساتھیوں کو مل کر بھیج دیا گیا ہے.
 
ایسے باتوں کو سمجھنا ضروری ہے کہ امریکہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی طاقت اور دباؤ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ایران پر حملے سے گریز کرنا بھی ایک منصوبہ ہے۔ اگر امریکہ نے اپنی طاقت کو ختم کیا تو وہ اپنے فوجی اڈوں کو واپس بیس پر لانے کی پوری کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ بھی ایک بات ہے کہ انہوں نے اپنی طاقت کو ختم کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو مازول کر رہا ہے، اس لیے یہ بات بالکل سچ ہے کہ امریکہ نے اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور اگر ایران پر حملے سے گریز کرنا ہوتا تو انہیں اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو مازول کرنا ہوگا۔
 
امریکا نے اپنے فوجی اڈوں پر ایک نئی رہنمائی کھڑی کی ہے، جس سے اس کی طاقت کو ختم کرنا ہوگا؟ یہ سوچنا مشکل ہے کہ واشنگٹن کیا سوچ رہا ہے... لکھوں کو یہی بات پتہ چل گئی ہے کہ ایران پراملیکی حملے سے دوپہر کو ان کی دباؤ کی صورت میں ختم ہونے والا ہوگی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران پر ایسے حملے کی صورت یقینی طور پر ختم ہو گئے ہیں...

امریکا کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اپنی طاقت کو کیسے استعمال کریں؟ دوسری جانب ایران کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے شکار پر ہمت رکھ سکے... اس تنہائی میں ہمیں ایسے مواقع کی تلاش کرنی چاہئے جس سے ہم اپنے اور دوسروں کے لئے ایک بھلے لئے اچھلائی کو مل سکے...
 
Wow 🤯 Iran ki baat to sabhi ko samajh mein aayi hai, lekin ab unki gatividhiyon par baur saamne dabaana bhi mushkil ho gaya hai. Amrica ne apni hansi uthai aur apne fawjiyon ko Qatar se wapas bheja, to iska matlab kya? Iran ki baat sab kuch thoda rahmatdari se samajhne chahiye 😐
 
امریکا کی یہ ناکام کوشش ایسا نہیں دکھائی دی جو کہ واشنگٹن کے لئےIran پر حملے کی صورت میں اچھلائی ہوگی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے مواقع پر واشنگٹن کو اپنی طاقت اور دباؤ کو ختم کرنا ہوگا جس پر وہ ناکام رہیں۔

اس تنہائی میں ابھار خلیجی ممالک کی سفارت کاری کا ایک اچھا उदाहरण ہے، لیکن یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ ایران پراملیکی حملے کی صورت میں واشنگٹن کو اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو ختم کرنا ہوگا نہیں، بلکہ اسےIran پر حقیقی توسیع کے منصوبوں پر توجہ دینا چاہیے جو صلح اور امن کے راستے میں بھرپور اچھلائی لاتی ہیں
 
امریکا کی جس مہم پر غور کرتا ہوں تو یہ کہونگے کہ وہ صرف دباؤ سے بھری ہوئی ہی نہیں تھی بلکہ ان کی ذمہ داری کا بھی ایسا وقت آ گیا جس پر وہ اپنی تمام طاقت اور دباؤ کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔
 
امریکا کی یہ فیکٹر اچھی بھی ہے، اس سے واشنگٹن کے لئے ایک نئی صلاحیت مل گئی ہے، وہ اب اپنی طاقت کو اور دباؤ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تاہم اس میں کوئی خطرہ بھی نہیں ہے کہ ایران پر حملے سے ان کی طاقت ختم ہوجائے گی۔
 
اس وقت تک یہ بات صحت مند نہیں کہ اگر ایران پر امریکی حملے سے گریز کیے گئے تو واشنگٹن کو اپنی پوری طاقت اور دباؤ کو ختم کرنا ہوگا یا اس میں کسی حد تک ٹھیس نہیڈی؟ مگر یہ بات واضح ہے کہ واشنگٹن نے اپنی طاقت پر مبنی دباؤ کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس میں بھی ایسا وقت آئے گا جب اس پر ان کی طاقت اور دباؤ کی تیزگی اسے نقصان پہنچائے گے
 
بھائی یہ بات بہت اچھی ہے کہ امریکا نے ایران پر حملے میں گریز کر لیا ہے۔ واشنگٹن کو اپنی طاقت اور دباؤ کو ختم کرنا چاہیے، لیکن اس سے کچھ ملک کی ترس نہیں ہوئی، بھائی تینوں ملکوں کو دیکھنے کو پہلے دیکھنا چاے تاکہ واشنگٹن کی طاقت اور دباؤ میں کمی کرو۔
 
امریکہ کی بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو پوری نائٹ میں گم ہو جاتے ہیں اور صبح کے وقت چھٹکے آتے ہیں، یہ تو ایسا ہی کہتے ہیں۔ واشنگٹن نے ایران پراملیکی حملے سے دوپہر کو گریز کرنا چھوڑ دیا اور اب اس کی پوری طاقت اور دباؤ کو کس طرح ختم کیا گیا ہے، یہ تو اب بھی سمجھنا مुश्कل ہے۔
 
واپس
Top