امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن نے عرب سمندر میں ایک ایرانی ڈرون کو مار کر دیا جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
ایک امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، یو ایس ایس ابراہم لنکن نے اپنی پہچان کو باطله قرار دیتے ہوئے، ایرانی ڈرون کو مار کر دیا جس کی وجہ سے ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایک ایسے واقعے میں جس نے اس صورتحال کو مزید بدل دیا، Iraniannews کے مطابق پاسداران انقلاب کی دو گن بوٹس نے امریکی پرچم بردار کیمیکل ٹینکر ایم/وی اسٹینا امپیریٹو کے قریب تیزرفتاری سے تین چکروں لگائیں اور ریڈیو کے ذریعے جہاز پر چڑھائی اور قبضے کی دھمکی دی۔
اس دوران ایک ایرانی ڈرن بھی امریکی پرچم بردار ٹینکر کے اوپر پرواز کرتا دیکھا گیا جو اس صورتحال کو مزید شادد کر دیا۔ اس واقعے میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولن لیوٹ نے کہا کہ مذاکرات تاحال شیڈول کے مطابق ہیں تاہم صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
دوسری جانب ایران نے اچانک مذاکرات کے مقام، شرکاء اور ایجنڈے سے متعلق نئی شرائط رکھ دی ہیں جس میں استنبول کے بجائے عمان میں مذاکرات ہونے کی تجویز کی گئی ہے اور بات چیت کا دائرہ صرف جوہری پروگرام تک محدود رکھ دیا جائے گی۔
اس صورتحال کو سمجھنا ہر وقت مشکل ہوتا ہے، لاکھوں لوگ اپنے آپ کا خیال یہی رکھتے ہیں کہ میرے ملک اور میری قوم کی ایسی نئی صورتحال آئے گی جو پہلی صورتحال سے بہتر ہوگی۔ اس وقت یہ بات کھیل کے شعبے میں نہیں، بلکہ دنیا کی سلامتی کے شعبے میں آئی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے ملک اور قوم کو ہی نہیں، پوری دنیا کو دیکھتے ہیں۔ اس لئے یہ بھی معقول ہے کہ ہر صورتحال میں ایک ہی حل نہیں ہوگا، چاہے وہ پہلی صورتحال ہو یا اس کی آگہائی صورتحال۔ ابھی کچھ منٹ قبل میڈیا نے کہا تھا کہ امریکی اور ایرانی افواج کی دوپہر کی ٹیکسٹ ہوئی، لیکن ابھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاسداران انقلاب نے ایک چھوٹے چھوٹے کیمیکل ٹینکر کو تین چکر لگائے اور اس پر قبضے کی دھمکی دی۔
ایسا لگتا ہے کہ اس صورتحال کو نتیجے پہنچانے میں ایک بہت زیادہ ٹھوس کی ضرورت ہے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن کو ایک Iranian ڈرون کو مار کر دیتے ہوئے اس صورتحال کو مزید بدل دیا کہیں، اب بھی کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ اس پرچم بردار کیمیکل ٹینکر کو پاسداران انقلاب نے تیزرفتاری سے ہتک کیا تو اس صورتحال کو مزید شادد کیا گیا، اب وہ دو چکروں لگائیں اور ریڈیو کے ذریعے جہاز پر چڑھائی اور قبضے کی دھمکی دی ہے۔
اس صورتحال میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ مذاکرات تاحال شاذ و غرض تو ہوئے گی لیکن صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔ اور دوسری جانب ایران نے ایسے معاملات میں اپنی طرف سے شرائط رکھ دی ہیں جو اس صورتحال کو مزید بدل سکتی ہیں، اب عمان میں مذاکرات ہونے کی تجویز کی گئی ہے اور بات چیت کا دائرہ صرف جوہری پروگرام تک محدود رکھ دیا گیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہIraniannews پر بھی کچھ کرنے والے ہیں نہیں؟ دو گن بوٹس ایک چکی میں بیٹھ جائیں تو ایک دوسرے کو چلایا دیتے ہیں! پھر کچھ لوگ اس پر فوری کارروائی کرنے لگتے ہیں تو کچھ لینڈنگ میں اچھا نہ ہو سکتا چاہے وہ ایرانی ڈرن یا امریکی ڈرن ہو!
اس صورتحال کو حل کرنے میں ایسے واقعات کی ضرورت ہے جنہوں نے کشیدگی کو کم کیا ہو اور دونوں جانب سے جھٹلے کردار پر زور دیا ہو ... امریکی طاقت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی کارروائیوں کے نتیجے میں کس طرح اہمیت ہوتی ہے اور اس کو بھی یقین رکھنا چاہیے کہ یہ سلیمان کی بندرگاہ میں اپنی آواز سامنے اٹھا سکتی ہے ... ایران کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اس کی مذاکراتی تaktیکوں میں ایسا کوئی thayyab nahi hai...
امریکہ کو ایسا لگتا ہے کہ وہ پوری دنیا میں اپنی طاقت کو دکھانے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ یہ تیزرفتاری سے ہر جگہ توٹ پڑ رہی ہے۔ Iraniannews کے مطابق پاسداران انقلاب کی دو گن بوٹس نے امریکی پرچم بردار ٹینکر کو تین چکروں لگا کر۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایرانی ڈرن نے اس واقعے میں ایک اور دستاویز دئی جس سے امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے.
منے نہیں سمجھا کے بہت تیز گزر رہا ہوں، ایسے میں اسٹینا امپیریٹو کی وہ چکروں لگائیں تو آسان ہی نہیں ہوتے کے دیکھتے ہی ان کا تیزرفتاری سے گزرنا، اور ایسے میں اب اس صورتحال کو مزید بدلنے کے لئے جو پوری دuniya کا دیکھ رہا ہے تو اچانک پاسداران انقلاب کی دو گن بوٹس نے امریکی ٹینکر پر قبضے کی دھمکی دی، یہاں تک کہ ایرانی ڈرن کا پرواز کرتے ہوئے تو اچانک اس صورتحال کو شادد کر دیا...
امریکہ اور ایران میں ایسے موقع پر پہچان کا معاملہ، منفی اثرات کو یقینی بناتا ہے جو اس صورتحال کو مزید تیز کر رہی ہے۔ امریکی ڈرن نے دھمکیوں کے ساتھ ہی ان کا تجویز کیا، حالانکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ وہ اپنی پہچان کو چھوڑ دیں گے۔
ایران کے پاس جو معاملات رکھنا ہوئی ہیں، ان میں توسیع یا مذاکرات کی طرف بڑھنا اور دوسرے ممالک سے ملنے کا موقع حاصل کرنا شامل ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان معاملات میں اسے یقینی بنانا چاہیے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایسے کارروائیوں کو لائے جائے جو نافذ ہونے والی معاملات کے مطابق نہیں ہوں۔
اس صورتحال میں ایک اور بات قابل توجہ ہے جس پر تبادلہ خیالات کی ضرورت ہے، وہ بھی ان معاملات کا حصہ ہے جن میں ایران کو اپنے فوجی کارروائیوں سے ہٹنا ہوگا اور امریکی جانب سے اس کی ترجیح دینی ہوگی۔
ایسے واقعات سے لگتا ہے ہمیں واپس جانے کی طرف بھیج رہے ہیں! امریکی فوجیوں نے بے پناہ کر کچلے مگر اس سے مزید جھڑپیں پیدا ہوئی ہیں۔ وہ دو گن بوٹس نے ایک ٹینکر پر قبضہ کر لیا تو دوسرے کا یہ عمل دیکھتے ہوئے انہوں نے بھی اپنی طرف مائل سٹرانگٹی کو شروع دی۔ اچانک اس صورتحال کو ایک مذاکراتی ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ کیا یہ تو ایسا ہو گا کہ وہ دونوں ساتھ ایک دھماکیش کرتے ہیں؟
ایسا نہیں ہو سکتا کہ امریکہ ان Iranian news ایٹم پاور پر بات کرنے کی تلاش کرتے ہیں تو اس صورت میں ایسے واقعات کے باوجود جب وہ Iranian boats کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھوں نے ایک امریکی پرچم والے ٹینکر کو چھتھا کر دیا اور اس میں ڈرون پرواز کر رہا تھا۔ یہ بہت غلط ہے۔
ایسا تو کوئی نئی چیز نہیں ہوا ہے، اس وقت سے بھی ایسے واقعات ہوتے چلتے رہتے ہیں جس سے دنیا کی situation badal deti hai . Iranian ڈرون کو مار کر دیا تو ایک بات तویا ہے، امریکی پرتھار اور ایرانی فوج کے درمیان کی situation to bahut galat hai. Iran ko kuch bhi nahi kehna chahiye, sab kuch to kisi aur ne kaam karta hai .
ایسے تو اس صورتحال میں کوئی نئی بات نہیں ہو رہی ہے کہ امریکی اور ایرانی افواج میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اس نے سب کو تیز کر دیا ہے، اب تو پتہ چل گئا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ہونے کی جگہ ہر ایک اپنی اِجازت نہیں کر رہا۔
ایسے ماحول میں جب بھی کوئی جانچ پڑتال کرتا ہے تو وہی جانچ پڑتال کیا جاتا ہے اور نتیجہ کبھرے ہوئے ہوتے ہیں! حالانکہ ایم/وی اسٹینا کو اپنے امریکی پرچم بردار کو دھمکی دینے سے پہلے تو کیا سوچتے تھے؟
ابھی تک یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ مذاکرات ہونے والے مقام ہر ایک کی راہ میں لگتے تھے، لیکن اب اس نئی شرائط سے پتہ چلتا ہے کہ ایران بھی اپنے دائرے کو محدود کرنا چاہتا ہے! یہ تو ایک اور ایسا معاملہ ہے جس میں سب کی جانب سے محبت اور محبت کا جوہر لگاتا تھا، اب یہ تیز کر دیا گیا ہے!
امریکی اس پہلے کا سچا معاملہ نہیں کہ اہل انسداد جہاد میں بھی ہیں ، یو ایس ایس ابراہم لنکن کو ہر چیز سے واقف کرنا چاہئے، اس نے ایک ایرانی ڈرون کو مار کر دیا تو کیا اہل انسداد جہاد اس کے لیے موثر نہیں تھے؟
امریکیوں پر غور کریں کہ وہ کیسے ایک امریکی ڈرن کو مار کر دیا، اور پھر ہوش بھی نہیں آئا۔
ایسے باتوں کو سیکھنا چاہئے اور اس کے لیے ہی لڑائی کا منظر پیش کیا گیا ہے، بھلے ہی کسی کے بعد کیسے جائز نہیں ہوگا؟
یہ صورتحال تیز ہو رہی ہے... امریکی اس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ واضع نہیں ہے کہ یہ کس طرح سے ٹھیک ہوگا... Iranians کے پاس اچانک مزید کوئی چیلنج ہے جبکہ امریکی ایسی صورتحال سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں... یہ دیکھنا میسر نہیں ہوگا کہ یہ سب کچھ کس کے لیے ہوئے؟
یہ واقعہ تو خوفناک ہوگا۔ پہلی بار یو ایس ایس ابراہم لنکن کے اس عمل سے لڑائی بھڑک جاتی ہے تاکہ امریکی اور ایرانی افواج میں ایسی کشیدگی کھڑی ہو کی وہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کا خوف محسوس کریں۔ پہلے بھی سنا ہوتا رہا ہے کہ یہ دو ملک انیسویں صدی میں ایسی صورتحال میں پھنس گئے ہیں لیکن اب یہ تو آگ لگی ہو گی۔