امریکی اخبارات کو وینزویلا پر چھاپے کا علم تھا لیکن خاموش رہے: رپورٹ میں دعویٰ

گیمر

Well-known member
ایک امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو ڈیوڈ ٹرمپ کے تحفظ کے لیے خبر جاری کرنے میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی تھی، جب کہ انہوں نے وینزویلا پر امریکی آپریشن کی پیشگاہی کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے چیف پیٹ ہیگسیث نے کہا کہ امریکہ اور اس کے ساتھیوں کی ایک ایسے منظر کو دیکھنے کو ملی جو انہیں پہلے بھی نہیں دیکھا گیا تھا، جہاں امریکی فوج اپنی بے مثال لڑائی کوششوں سے لڑ رہی تھی اور ایک ساتھی کو دوسرے سے باہمی ملاپ حاصل کر رہا تھا۔

تاہم، انہوں نے ایسے پہلو پر زور نہیں دیا جس کا تعلق امریکی نیوز اداروں نے اپنے حوالے سے اپنی رپورٹ عارضی طور پر روک کر لے تھے، جو پینٹاگون کے تعاون میں بہت ہی خطرناک اور ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن پوسٹ کے ترجمان نے جمعے کی رات صحافیوں اور اہلکاروں سے رابطہ نہ کرنا تھا، جبکہ نیو یارک ٹائمز کے ترجمان کو بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں دیا گیا تھا۔

امریکی نیوز ویب سائٹ سیمافور کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے ماضی میں ایسے ساتھیوں کے ساتھ طویل عرصے سے اختلافات رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود بڑے امریکی نیوز اداروں نے وینزویلا آپریشن کو خفیہ نوعیت کا احترام کیا تاکہ وائٹ ہاؤس کی ہدایات کا احترام کیا جاسکے۔

تاہم، وینزویلا نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ صدر ٹرمپ کا اصل مقصد وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
 
یہ سائٹوں کی ناکامائی کو دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ وہ یہاں تک جب تک صدر ٹرمپ کی تحریری رکاوٹ نہیں کر رہی تھی، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو وینزویلا آپریشن کے بارے میں خبروں پر روک کر دیتا تھا۔ اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ ان نے وائٹ ہاؤس کی رکاوٹیں لینے کی بھावनہر موڑ دی تھی۔
 
یہ تو ایک بڑا حیرت کن حوالہ، پینٹاگون کے چیف پیٹ ہیگسیث نے اس منظر کی ریکارڈ کروائے ہوئے لیکن واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز کو اپنی رپورٹ رو کر دیا! وہ ان دونوں کو یہ بات بھی نہیں دیکھنے کا موقع دیا جس سے وہ اپنی رپورٹ میں بہت معزز ہونے کا موقع پاتے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے وینزویلا آپریشن کو خفیہ نوعیت کا احترام کیا تاکہ وائٹ ہاؤس کی ہدایات پر عمل کر سکتے۔ یہ تو ایک بڑا معاملہ ہے اور پینٹاگون نے اپنی جانب سے کیا ہوا واضح طور پر دکھایا ہے کہ یہ کیسے ہوا?
 
یہ رپورٹ بہت حیرانی کا باعث بن گئی ہے 🤯 کہ واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز کو دیکھنے کو ملیا تھا کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر وینزویلا آپریشن کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں دی، جبکہ اس وقت امریکی فوج ہزاروں منزل تک وینزویلا کی سرحدیں چوڑھا دے کر لڑائی میں مصروف تھی 🌟
 
اس نئی رپورٹ سے میں حیران ہو گیا ہے! یہ بات کچھ عجیب لگی ہے کہ وائٹ ہاؤس اور بڑے امریکی نیوز اداروں نے اپنی رپورٹ کو روک کر دیا تاکہ صدر ٹرمپ کی ساتھیوں کے ساتھ ملاپ ہو سکتا ہے؟ یہ تو جھنک دکھانے والا لگتا ہے! 🤔
 
ایسے نہیں، یہ رپورٹ بالکل چوری کی گئی ہے। کیا انہوں نے پھر سے وینزویلا پر حملے کی تلاش کرنی ہی پچاس کر دیا ہے؟ پینٹاگون کے چیف پیٹ ہیگسیث کے لکھنے میں بھی کوئی حقیقت نہیں، وہ صرف ان کے نتیجے پر توجہ مبذول کر رہے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹوں نے صدر ٹرمپ کی اہلیت کو یقینی بنانے کے لیے ایسا ہی کھیل رکھا ہو گا جیسا وہ سب پر قائم تھے۔ اس رپورٹ میں بھی انہوں نے کوئی تحقیق نہیں کی، صرف ایسا لکھ کر دیا ہے جو انہیں چاہتے تھے۔ 😒
 
امریکہ کی پہلی نئی تحریک سے متعلق یہ رپورٹ ٹھوس ہوئی، میں اس پر توجہ دیجیسا ہو گا کہ وہاں کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے کس طرح پینٹاگون کو دھاندی میں لے گئے، اور وائٹ ہاؤس نے اس سے پہلے بھی انہیں شام یا افغانستان جیسے مقامات پر ملاپ کیا تھا۔

لیکن دوسری طرف، یہ رپورٹ میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے اپنی فوری ساتھیوں کی کارروائی کو بہت ہی خطرناک سمجھا ہے، لेकिन وہ اس پر کیا چالाकی کرتے ہیں؟

میں اس پر توجہ دیجیسا ہو گا کہ یہ رپورٹ کتنے حد تک صدیقی ہے، اور وینزویلا نے امریکہ کی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دینے کا حقد کیا ہے، لیکن اس کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
 
یہ بہت مایوس کن بات ہے کہ نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو ایسے حالات میں خبر جاری کرنے سے روک دیا گیا جب ایک امریکی آپریشن جاری تھا لیکن انہیں اپنی خبروں کے حوالے سے ایسی تاخیر کی گئی ہوئی جو جان بوجھ کر تباہ کن ہے. یہ دیکھنا مشکل ہے کہ وائٹ ہاؤس اور اس کے ترجمان کو اپنی خبروں سے رابطہ نہ کرنے کی ایسی سہولت فراہم کی گئی ہے جس سے وائٹ ہاؤس کی رائے کا احترام کیا جا سکے. یہ بھی چیلنجنگ ہے کہ نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ساتھیوں کی ایسے حالات میں خبر جاری کرنی چاہیں جو خطرناک اور ناممکن ہیں.
 
واپس
Top