امریکہ آج 'محفوظ' اور 'فخر بھری قوم' ہے صدر ٹرمپ کا اعلان

جگنو

Well-known member
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کی سرگرمی میں ایک خطاب جاری کیا، جس میں انہوں نے امریکہ کو "محفوظ" اور "فخر بھری قوم" قرار دیا۔ اس خطاب میں وہ نے اپنی حکومت مین وینزویلا کو دھمکی دی کہ جو کچھ مدورو کے ساتھ ہوا وہ کسی کے بھی ساتھ ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وینزویلا کی تمام سیاسی اور عسکری شخصیات کو سمجھنی چاہیے کہ مادورو کے ساتھ جو ہوا وہ ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح انہوں نے وینزویلا کے لوگوں کو دہشت گردی اور لشکر جہاد کی پہچان میں سمجھنے کی بات کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وینزویلا کے لوگ دوبارہ آزاد ہو گئے ہیں اور اب ان کے لیے نئی شروعات کرنے کی آگاہی ہو چکی ہے۔

ٹرمپ کے خطاب سے پہلے، اس کی حکومت میں دوسری جانب سے ایک دھمکی بھی جاری تھی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے وزیر دفاع پیٹ ہگستھ کو ڈائس میں رکھ دیا، جو ان کی تقریر کا آغاز کرنے کے لیے تیار تھیں۔

ہگستھ نے اپنی تقریر شروع کی اور یہ کہا کہ آج ہفتے کی صبح ہونے والے حملے کو "ایک بڑے مشترکہ فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھاپے، بے عیب طریقے سے انجام دیا گیا" قرار دیا جا رہا ہے۔

ہگستھ نے مزید کہا کہ صدر نکولس مدورو کو "اس کے پاس موقع تھا، بالکل اسی طرح جیسے ایران کو موقع ملا تھا"۔ یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ امریکہ اور وینزویلا کے درمیان تعلقات ایک منفی مرحلے پر رہتے جارہے ہیں۔
 
یہ تو ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کو وینزویلا کے ساتھ اپنی جیت ہی چاہیے اور دوسری جانب بھی انہیں اس طرح کے خطاب کرنے پر مجبور کرنا چاہیے جو وینزویلا کے لوگوں کی ایک حد تک سمجھی جاسکتی ہو، لیکن یہ بات بھی واضع ہے کہ یہ نچنے پر گئی سرگرمی کا کوئی فائدہ نہیں اور صرف ایسے لوگوں کے لئے خطرناک ہوگا جو اس طرح کی دھمکیوں سے متاثر ہو کر اپنی زندگیوں میں تباہی پھیلائیں گے
 
اس خطاب سے پہلے بھی، وینزویلا کو اس کے اہل قوم پر دھمکیاں دی گئی ہیں؟ کیوں یہ تازہ تازہ ہی نتیجے والے حملے پر انھیں دھمکی دینا ہوتا ہے؟ اور ایسے میں وینزویلا کے لوگوں کو بھی پہچاننا کہ ان کی فوج وارنٹڈ رکنوں کے ساتھی ہو سکتی ہے؟ یہ ایسا محسوس کرایا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے اپنی دھمکیوں کو بڑھا دیا ہے اور وینزویلا کو پکڑ لیا ہے۔
 
اس خطاب سے پہلے کی دھمکی بھی اس طرح ہو چکی ہے جو کہ وینزویلا کے لیے اور اس کے لوگوں کے لیے بھی ایسا محسوس کر رہا ہے جیسے ان کی زندگی بدلتے ہوئے بے چین ہو رہی ہے… اس خطاب سے پہلے یہ بات کبھی نہیں رہی جیسا کہ وینزویلا کی حکومت میں بھرپور اتحاد اور ایک ہی انداز میں کام کرنا… اب اس خطاب سے پہلے یہ بات ہو چکی ہے کہ وینزویلا اور امریکا کی تعلقات ایک منفی طرف پر رہتے جارہے ہیں… اس سے پہلے میں ہم یہ بات کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک نئی دہشت گردی اور لشکر جہاد کی پہچان سے وینزویلا کے لوگ پریشان ہو گئے ہیں… اب اس بات پر یقین ہو گیا ہے کہ وینزویلا کے لوگ دھکے اور شاندار بھرپور حملوں سے محروم نہیں رہتے…
 
ایسے ماحول میں تو تھیمپ نے بھی ایک سچا خطاب کیا ہوگا ، لیکن وینزویلا کی صورت حال اس طرح سے حل ہوسکتا ہی نہیں۔ اور ان کی دھمکیوں پر وینزویلائی عوام میں بھرپور غضب کے بڑھتے ہوئے دھونڈ پڑ رہا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ وینزویلا میں لوگوں کو اپنی آزادی اور خوشی پر توجہ دی جائی چاہیے نہ کی دہشت گردی اور لشکر جہاد کی پہچان میں سمجھنا۔
 
🤔 یہ بات تھوڑا سا کھٹال ہوئی ہے کہ اس خطاب میں امریکہ کی حکومت مین وینزویلا پر دھمکی دی جائے گی اور انہیں دہشت گردی اور لشکر جہاد کی پہچان میں سمجھا جائے گا۔ اس طرح کے بیان سے وینزویلا کے لوگوں کو ڈرتا ہے اور انہیں اپنے حقوق سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وہ جملہ جو صدر ٹرمپ نے دھمکی دی اور انہوں نے مادورو کے ساتھ ہونے والی گئی کو اپنی حکومت کی طرف بھی توجہ سے متمرد کرنا ہے، یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ امریکہ اور وینزویلا کے درمیان تعلقات ایک منفی مرحلے پر رہتے جارہے ہیں۔

اس بات سے بھی پوری طرح انکار کرنا چاہیے کہ وینزویلا کے لوگ دوسری جانب سے بھی ایک دھمکی جاری تھی۔ اس صورتحال میں یہ بات ضرور پٹھوں پر لگی ہو گئی ہے کہ وینزویلا کو اپنے معاشی اور سیاسی مسائل سے نکلنا چاہیے اور وہ اپنی آزادی اور خودمختاری کو دوبارہ حاصل کر سکے گا۔
 
یہ وبا تو ہوا، امریکہ نے وینزویلا کو ایسا پیغام دیا ہے کہ اب یہ تو بھگoda ہو گئے ہیں! Maduro ko dhadkan nahi hai, woh toh saath me maduro ke saath hi kaam kar sakte hain. yeh to badi baat nahi, vishva ko lagaaye hue aapko ye batana zaroori nahi. Maduro ko free hokar kya fayda? ab vah logon ko dhistgardi aur lshker jehad ki pechani me samjhenge? toh maduro ko kya pata hai, woh toh koi nahi.
 
اکھوچکی، اس خطاب سے پہلے تو ایسا لگتا تھا کہ وینزویلا کی بات یہی رہے گی... لیکن اب یہ لوگ بھی اپنی ہی دھمکیوں کا جواب دینے لگے ہیں… سچ میں، یہ ایک آدھا جانب چل رہی ہے.. وینزویلا کو آزاد ہونے پر شکر گزارنا اور امریکہ کی دھمکیوں کا جواب دینے میں بھی... 🤔
 
یہ لگتا ہے ان لوگوں کو اور بھی محسوس کراں گا جو وینزویلا کی سست حکومت کی طرف مگرے دیتے ہیں اس نئے خطاب سے پہلے یہ تو انہوں نے ایک اور چھپانٹ دی تھی کہیں کیا وینزویلا کی حکومت بے اقدار ہے، اب انہوں نے بھی یہی بات کہی۔

اس خطاب کا مقصد کیا ہوگا کہ وینزویلا کی حکومت اس بات کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہو اور امریکہ ان کے ساتھ دھمکی لگیں رکھ رہا ہو، یہ بھی واضع ہو گیا ہے کہ اس خطاب کا مقصد وینزویلا کو دھمکی دینا نہیں بلکہ انہیں سمجھنا تھا کہ کیا وہ اپنی حکومت میں کسی کی بھی دھمکی لگا سکتا ہے۔
 
اس خطاب سے پہلے کیا تھا؟ وینزویلا کی situation بہت خراب ہو گئی ہے اور اب یہ بھی لگ رہا ہے کہ کیسے یہ situation مزید بدھر جائے گی؟

اس خطاب میں President Trump نے وینزویلا کو "محفوظ" اور "فخر بھری قوم" قرار دیا ہے، لیکن اس کا Meaning نہیں چلے گا کی یہ کس چیز سے حاصل ہوا ہے؟ وہ کیا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ایسی بات کہی ہے جو کوئی بھی دیکھ سکتا ہے اور اس سے وینزویلا کی situation مزید خراب ہو جائے گی؟
 
ٹرمپ کی یہ بات بہت غلط ہے کہ وینزویلا کے لوگوں کو دہشت گردی اور لشکر جہاد کی پہچان دی جا رہی ہے! وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ وینزویلا ایک آزاد ملک ہے جو اپنی سرکار کی مدد سے خود کو ترقی کا راستہ دیکھ رہا ہے۔ ٹرمپ کو یہ بتانا چاہیے کہ مدورو نے وینزویلا پر اپنے قبضے کے لیے بڑی جوش مچائی اور انہیں اب یہ ملک آزاد ہی رہا ہے!
 
اس خطاب سے پہلے تھام کیا جا سکتا تھا? یہ تو دھمکیوں کی ایک لڑائی ہی نہیں تھی، بلکہ وینزویلا کی معاشی اور سیاسی بحالی کے بارے میں بات کرنا ہوگا تھا۔

امریکہ کے اس خطاب سے یقیناً کچھ عالمی شعبے پر اثر پڑے گا، لیکن یہ کہیں تک کہہ دیجے جا سکتے ہیں کہ وینزویلا کی حکومت اپنی حالات کی سستنے کو کیسے روک سکتی ہے اور معاشی بحالی کس طرح حاصل کر سکتی ہے?

اس خطاب کا منفرد بات یہ ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے بھی ایک طاقت کے دھمکیوں پر مبنی ہے، جس نے تازہ وقت میں تین دیہات کو بھی گرا لیا تھا۔ یہ بات تو واضع ہو چکی ہے کہ اس خطاب سے یقیناً ایک طاقت کے دھمکیوں کی لڑائی ہی نہیں ہونگے بلکہ معاشی بحالی اور سیاسی حل کے بارے میں بات کرنا ہوگا۔
 
یہ تو بہت عجیب ہے کہ انٹرنیشنل منسپیشالٹی کی ایک ملاقات میں مدورو کو امریکا کے ساتھ دھمکی دینے کی وجہ سے اسے یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہونے والی مدد کو اپنے ساتھ لینا چاہتے ہیں? یہ تو ایک اچھی طرح آخرالہ بھر کر بات ہوگی...
 
ایسا نہیوں ہوسکتا 🤯، وینزویلا کے لوگ دھمکیوں سے اچھلے کروڈیٹ کر رہے ہیں۔ اس کی حکومت مین ایک بڑے خطاب جاری کر رہی ہے، لہٰذا تو انہوں نے اپنی جانب سے ایک دھمکی اور کرتارہی ہے۔

لگتا ہے کہ وینزویلا کی حکومت مین مچول روڈریگز کو صدر ٹرمپ نے تو چھوڑ دیا ہے، لہٰذا اس لیے انہوں نے ایسا خطاب جاری کیا ہے جو وینزویلا کی حکومت کو دھمکی دینے اور معاشی دباؤ میں ڈالنا چاہتا ہو۔

یہ بات بھی نہیوں ہوسکتا کہ وینزویلا کے لوگ اس خطاب سے محفوظ ہو جائیں گے، کیونکہ ان کی حکومت مین ایسی دھمکیاں اتار رہی ہیں جو وینزویلا کے لیے بہت-dangerناک ہیں۔
 
واپس
Top