امریکی کانگریس کی ایک رکن الہان عمر کو میناپولس میں ٹاون ہال میٹنگ کے دوران بدبودار مائع چیز سے نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد ان پر کوئی نقص نہیں ہوئی اور یہ واقعات عوام کے سامنے رکھ دیے گئے تھے۔
پہلے سے ہی الہان عمر کو صدر ٹرمپ کی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہتا ہے اور ان کے ماضی میں بھی ان کے حوالے سے کئی مواقع باور ہوئے ہیں۔ اس مائع مواد پر حملے سے قبل الہان عمر نے امریکی وزیر داخلہ کی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ استعفیٰ دیں یا مواخذے کا سامنا کریں۔
حملے میں صومالیہ سے الہان عمر کے والدین کو بھی شامل ہیں جبکہ امریکی وزیر داخلہ کی تنقید کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ اس وقت بھی پڑھی جا رہی ہے جب نئی وزیر داخلہ کرسٹی نوئم کو منی سوٹا میں آئس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہی ہے۔
اس وقت تک یہ بات قاطع طور پر نہیں چلی سکی ہے کہ اس حملے میں کس شخص کو منصوبہ بند تھا، اور وہ کیا تھا جس سے انہیں نشانہ بنایا گیا تھا۔
اللہ تعالیٰ! یہ ایک لمحے میں بھی پچتائش ہے کہ عوام کو وہ بات نہیں دیکھنی چاہیے کہ کسی شخص کو نشانہ بنایا گیا ہو یا نہیں اور اس کے پیچھے کی پہلی بات یہ کہ کیا اس سے ان پر نقص ہوا ہو جس پر عوام کو دیکھنا پڑ رہا ہے؟ میناپولس میں بھی ایک ٹاون ہال میٹنگ ہوئی جہاں الہان عمر پر حملہ کر دیا گیا اور ان کی ساتھیوں کو بھی شاندار ہوا دی گئی! وہی حالات جس سے امریکہ کے وزیر داخلہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو وہی حالات جو نئی وزیر داخلہ کو منی سوٹ میں آئس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہی ہے! یہ تو ایک واضح بات ہے کہ عوام کو جس کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب کچھ دیکھنا چاہیں گے!
میرا خیال ہے کہ یہ حملہ توڑوں کی بدولت ہوا ہے جس کے بعد ہی نتیجہ نکلتا ہے۔ اس واقعے میں میرا خیال ہے کہ الہان عمر کو ان کی معاشرتی اور سیاسی سے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس وقت تک جب ٹاون ہال میٹنگ کے دوران ان پر حملے ہوئے تو اس کے بعد ہی صدر ٹرمپ نے ان پر تنقید کی اور ان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا لیکن وہ استعفیٰ نہیں دیا۔ اس طرح سے جس کے بعد وہ معاشرتی طور پر تنقیدوں کا سامنا کر رہے ہیں، اور اب ان پر ہم لوگوں میں بھی تنقید کی جا رہی ہے۔
یہ سارے واقعات ایسے لگتے ہیں جیسے اس شخص کو منصوبہ بندی کیا گیا ہو کہ وہ معاشرتی طور پر تنقیدوں کا سامنا کرے اور پھر عوام کی طرف سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔
اللہ کی مدد سے اس ماحول میں چل رہے ہم لوگ سوچنا چاہتے ہیں اور ان کے suyالات سے بھی سوچنے لگتے ہیں کیوں کہ یہ ایک طاقتور ماحول ہے جو ہر کوئی دیکھ رہا ہے اور اس سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو گا۔
اس سے قبل بھی الہان عمر کے ساتھ یہ جھگڑا چلا رہا ہے اور یہ بھی بات قابل توجہ نہیں ہوگی کہ ان کی حوالے اس سے قبل کیے گئے، اور یہ کہ ان کو اس حملے میں شامل کیا گیا ہے وہ بھی بات ہے کیوں کہ یہ ایک سیاسی ماحول ہے جہاں سب لوگ اپنے مفادات کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور یہ سب کچھ ایک دوسرے کی جانب سے آ رہا ہ۪۔
اس نئے حملے پر غور کر رہا ہوں... لگتا ہے کہ جب تک اس ملک میں ایسے معاملات کو عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے، تو لوگوں کی دلچسپی ان کی جانچ پڑتال میں ہی رہتی ہے... میرے خیال میں اس پر غور کرتے ہیں، تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ایسا ایک معاملہ ہے جس کا جواب نہیں مل سکتا...
امریکی کانگریس کے اس حادثے نے مجہے ایک بڑی سوال پیدا کیا ہے: کیا یہ حالات ان لوگوں کو متاثر کرتے ہیں جو بالکل اپنی اپنی زندگی میں مصروف رہتے ہیں؟ اور جسے اس حادثے سے متعلق معلومات ملیں تو وہ لوگ بھی تینچ کر کے نہیں آئے ۔ مجہے ایک بات بتاتی ہے کہ جب کبھر انصاف کا راستہ دیکھنا ہوتا ہے تو پھر ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس مائع مواد پر حملے نے لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے اور مجھے بھی یہ سوچنا پڑا کہ اس سے قبل ہی الہان عمر کی زندگی بہت توخلی تھی… ان پر معراجسے لاپٹنے والی تنقیدوں نے ان کو ایسی پہچان دی ہوئی تھی جیسے وہ دوسروں کا نشانہ بن گئے ہیں اور اب یہ حملے کی طرح وہ بھی ایک خاص جگہ پر پھنس کر کچلے جا رہے ہیں… مجھے یہ بھی تھوڑا سا حیرت کا کہ ان کے والدین کو بھی اس حملے میں شامل ہونے کی جگہ مل گئی ہے…
میری ایسी لگ رہی ہے کہ لوگ اتنی بھرپور criticisms پر چل پڑتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں … میناپولس میں کیا ہوا اچھا نہیں تھا؟ کبھی اسے نظرنا ہی چاہئیے … میری ایسا لگ رہا ہے کہ لوگ انہیں تو تنقید کی ڈوری میں پھنس گئے ہیں اور اب وہ اپنے آپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنانے لگتے ہیں …
اس ماجے پر فیکس کیجئے تو یہ پتا چلا ہے کہ الہان عمر کو بھرے برتن کے حملے سے کیا نقص ہوگا؟ اس نے کچھ محنت بھی کی تھی اور اب ان پر یہ دباؤ آ رہا ہے? ایسے میں ان کے پاس کیا چلنا ہوگا؟
بہت گم شام میں ہوا یہ حملہ تو پریشان کن ہے، مگر اس پر زور دینے کے بجائے مجھے یہ سوچنے سے بڑا دغبہ لگتا ہے کہ اگر انہیں تو آگے چلنا ہو گا تو کیسے ہو گا؟ اس کے بعد ان کے پچھلے کچھ کاموں پر نazar رکھنا بھی چاہیے، خاص طور پر ان کی سیاسی جڑیں اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں۔ مجھے یہ خوفناک لگتا ہے کہ اگر ان کو اس طرح ٹچ نہیں ہوا تو اس سے وہ بھی مزید خطرناک بن سکتے ہیں۔
ہمارے ملک کی معیشت میں امریکہ کی پالیسیوں کا ہamar ہوا کیا جا رہا ہے اور اب وہیں ان کی ایسی پالیسیوں پر زبردست حملے ہوتے رہتے ہیں جس سے ہمیں ہر وقت خطرہ ہوتا ہے۔ آج تک وہ شخص ہو گئے ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کی تنقید پر چارچ سٹال اور اس کے بعد بھی ان پر حملے ہوئے، اب وہ کسی یہاں تک پہنچ گئے ہوں جبکہ انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ تو ایک دھمکی کے طور پر بھی کام کر رہا ہے۔
ابھی تو وہ لوگ پہلے ہی الہان عمر کو معشوق بناتے رہتے ہیں، اور اب اس پر حملے کرتے ہیں تو ایک طرف آنچ جاتے ہیں اور دوسری طرف انہیں بھی معذور بنایا جاتا ہے... یہ وہ سے بھی اچھا نہیں ہوگا کہ لوگ ایسے ہی رہنے کی کوشش کریں جن سے لڑائی کی جاسکے...
میری رائے یہ ہے کہ جب آپ اپنی تینقید یا ماضی کی بات کرنے پر نچوں تو وہ لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہیں جو آپ سے تنقید کرتے ہیں... اور اب یہ حقیقی معشوق بن گئے ہیں جس پر وہ حملے کر رہتے ہیں...
اس میں ایک بات کی ضرورت ہے کہ لوگ اپنی تینقید کو اپنے جسم سے نکال دیں اور ان پر حملے نہ کریں... یہ صرف دوسرے لوگوں پر چٹکا لگانے کی بات ہے...
یہ تو حقیقت بڑی ہی بدقسمتی ہے! الہان عمر کو ایک بار پھر دوسروں کی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ بات ان کے لیے واضع ہو چکی ہے کہ انہیں ایسے لوگوں سے بھی نافذ کیا جائے گا جو ان کے خلاف مظالم لگاتے ہیں۔ میری سوچ ہے کہ اس میں صرف ایک بات چیتی ہے، یعنی معاشرے میں ایسے لوگوں کو بھی شامل کیا جائے جو ان کے خلاف مظالم لگاتے ہیں اور انہیں ان کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات کی مہلت نہ دی جائے۔ اس طرح معاشرے میں بھی بدbudاری ہوتی رہتی ہے اور لوگ ایسے ہی حملے کرنے لگتے ہیں۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ جب تک یہ بات نہ چلی تو یہ سارے واقعات بے meaning ہیں۔ ایسے میڈیا پر پڑھا جانا اور اس پر یہ واضح نہیں کہ حقیقی سوال کیا جاتا ہے؟ ہمیں صرف بات تھی چاہے وہ الہان عمر سے لے کر آمریکی وزیر داخلہ تک، کیا اس میڈیا نے یہ سوچا تھا کہ عوام کو یہ پڑھنا ہوگا کہ اب ہمیں میناپولس میں ایک ٹاون ہال میٹنگ کے دوران کوئی حملہ ہوا؟
میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر کوئی اس سارے واقعات پر کھوج کر دیکھتا ہو تو اس پر واضح بات چلتا ہے کہ کوئی فلیپ نہیں کیا گیا تھا، یہ صرف ایک مائع مواد پر حملے کا واقعہ تھا۔
اللہ یہ حال کس قدر غمزی ہے! یہ بھی دیکھنا پڑ رہا ہے کہ عوام کی سہولت اورsecurity کے بارے میں لوگ اس بات پر غور نہیں کر رہے. جب تک انہیں بھی یہ واقعات اپنی صحت کو ضمانہ دینے کی چاہن لگی رہے گی تو یہ حال بھی نہیں بدلے گا. وہ لوگ جو ایسے مائع مواد سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کی سرزنش کرتے ہیں تو یہ لوگ بچتے ہیں۔
مگر مجھے یہ سوچنا پڑا کہ اگر ان میں اپنی رائے داری نہیں رکھی جائی، تو وہ اس حال کو بھی بدل سکتے ہیں. مجھے یہ بھی سوچنا پڑا کہ عوام کو اور بھی اچھی طرح یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اس حال سے باہر بھی ہم کیسے نکلتے ہیں، جس سے یہ حال آئے تھے.
میری نظروں نے ایسا دیکھا ہے کہ اس مائع مواد پر حملے سے پہلے بھی الہان عمر کو توہین کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اور جب وہ امریکی وزیر داخلہ سے استعفیٰ کے لیے مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی مدد نہیں کرتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ سارے واقعات واضح ہیں اور کوئی جملہ بھی نہیں کیاجاسکتا کہ اس حملے میں کیا کچھ تھا، لیکن میرے خیال ہیں کہ یہ شہری تعلیم اور صحافیوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں سے ناکام کر رہا ہے۔
اس مائع مواد پر حملے کی بات کرنے والوں کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ ایک بڑا ناقص طریقہ ہے، جس سے کوئی اور بھی نشانہ بنایا جا سکتی ہے۔ الہان عمر کو انفرادی طور پر تنقید کا نشانہ بناتےSametime جس کے نتیجے میں وہ نشانہ بنتے ہیں تو یہ ناقص ہے۔ اس سے پہلے بھی الہان عمر کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہتا ہے اور اب ان کی بیوی اور بیٹے بھی وہیں شامل ہیں۔ اس کا جواب یہ ہونا چاہیے کہ لوگ اپنی مصلحتوں پر توجہ دیں اور کسی نہ کسی کو نشانہ بنانا نہیں چاہیے۔