امریکی صدر جو چاہیں پینٹاگون وہ کرنے کے لیے تیار ہوگا، پیٹ ہیگسیتھ

سیارہ

Well-known member
امریکا ایران کی جانب سے جو برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ کیسے پائے گئے؟

ایک بیان میں پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے صدر ٹرمپ جو چاہیں گے پینٹاگون وہ کرنے کو تیار ہوگا۔

امریکا تمام آپشنز استعمال کرنے کیلئے تیار ہے، ایران کے پاس معاہدہ کرنے کا موقع تھا، لیکن اس نے اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ جاری رکھا، جو امریکا کے لیے قابل قبول نہیں۔

ایک अमریکی بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیا گیا ہے، جس پر صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک امریکی بحری بیڑہ پوری طاقت کے ساتھ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، جسے امریکا کی سنجیدگی کا پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی دھمکیوں کا سخت جواب دیا ہے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ Iranian فورسز کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری جواب دیا جائے گا۔

ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے سخت مؤقف صورتحال کو مزید حساس بنا سکتا ہے، جبکہ تاحلن کسی عملی کارروائی کے بارے میں حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
 
عصر کھاتے ہوئے بھی توقع کا کام نہیں، اور ایسے تو ایران پر دباؤ نہیں کیوں کر رہی؟ اگر امریکا انٹرنیشنل پیٹاگون کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ایران کے ساتھ ایک معاہدہ تھا، لیکن وہ اپنی جوہری صلاحیتوں پر جاری رہ گیا، اب وہی کیسے چاہتے ہیں؟ اور ایران کی جانب سے بھی ایسا نہیں، ایرانی فوج کا جواب بالکل دیگر ہوگا۔
 
ایسا لگتا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں جانب سے انٹرنیٹ پر ایسی بات کی جھغڑا کر رہے ہیں جو اس وقت کی صورتحال کو مزید تیز کر رہی ہے۔ پیٹ ہگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں وہ انہیں بہت قیمتی سمجھتے ہیں، لیکن ایران کے پاس معاہدہ کرنے کا موقع تھا، اور اب اس نے اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ جاری رکھا ہے جو امریکا کو آسانی سے نہیں مٹانے والی ہے۔

امریکا کی جانب سے ایران کو خبردار کرتے ہوئے ایک بحری بیڑہ تعینات کر دیا گیا ہے، جس پر صدر ٹرمپ نے Iran کو اس بات پر زور دیا ہے کہ انہیں یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایران کو ایک اور جنگ کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانبIran نے امریکی دھمکیوں پر سخت جواب دیا ہے، Iranian وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ Iran کی قوت میں کوئی کمی نہیں ہے اور وہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری جواب دی گا۔

اس وقت اس خطے میں کشیدگی کا ماحول ہے، عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے سخت مؤقف بننے کا یہ ماحول اس صورتحال کو مزید حساس بنا رہا ہے۔
 
امریکا ایران کی جانب سے برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کیسے پاتے ہیں، یہ عجیب بات نہیں ہے؟ अमریکا کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ اپنے معاہدوں پر چلتا رہتا ہے، لیکن ایران کا یہ فیصلہ کس کی مدد سے آیا؟

اس سلسلے میں امریکا کا ایک بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ میں بھیجا جانا ہے، جس پر صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے، یہ بھی تو واضح ہے کہ امریکا ایران سے بڑھ کر رہا ہے، لیکن کیوں؟

دوسری جانب ایران نے بھی ایسی ہی دھمکی دی ہے، Iranian وزیر خارجہ AbbasIraqchi نے کہا ہے کہ Iranian forces ki angliyaan trigger par hai aur kisi bhi jarhavit ki surat mein furi jawab di jaega.

اس خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے سخت مؤقف صورتحال کو مزید حساس بنا sakta hai, jabki tahalun kisi practical carvai ke baare mein hademi aayana nahi hua.

امریکا اور ایران کی اس ملاقات پر دیکھنا ہی نازک ہوگا، یہ دیکھنا کہ دونوں جانب سے Kitne tareekon se apni dhang se apna darsana karte hain.
 
امریکا کی اس پائے جانے والی برتری کو دیکھتے ہوئے ہمہ جہتی تعلقات بھر بھر تیز ہو رہے ہیں، لेकن یہ بات سب پرdubit honi chahiye کہ یہ پائے جانے کی کوئی جرات نہیں تھی Iran ke liye. amrika ki dhoond hoti hai, koi aik shart nahi tha. Iran apne joorajeevi sahalat mein badhaya hua hai aur America ko isse match nahi kar sakti.
 
ایسے باتوں پر مینو کو ہمیشہ سوچا آتا ہے کہ کیا اس سے ایک بری طرح کی منصوبہ بندی ہوئی ہے، جیسا کہ امریکا نے ایران کو ایسا دکھایا اور وہ ایسی بھی موڈ میں آ گیا ہے جس سے کچھ لوگ اس کو ایک مہمہ گری میں بدل دیں گے، لیکن یہ بات تو نہیں کہتا کہ اگر ایران اپنی جوہری صلاحیت کو چھوڑ دیتا تو کیا بھی ہوتا اور امریکا کی دھمکیوں پر اس کی رکاوٹ ہوتی، اب وہ ان دھمکیوں سے لڑنا چاہتا ہے اور اس میں ہمیں کیا ہاتھ ہیں؟
 
ایسا تو اچھا ہے ایران کو یہ سزا دی جائے، وہ دوسروں کے ساتھ مہلک سلوک کر رہا تھا اور اب ان کا ایمتیح حقدار نتیجہ ہو رہا ہے!
ایسی بھی کہانیوں میں بھی پینٹاگون کی بات ہوتی ہے، لیکن اس سے نکلنے والی کسی برائی کو انہوں نے خود محسوس کیا اور اپنی جگہی میں قدم رکھا!
ایک بے وقف امریکی بحری بیڑے کی جانب سے ایران کے پاس ایسی ہدایت ہو رہی ہے جیسے وہ تین سال تک رہ کر آپ کو خوفزدہ کرتا ہو!
ایسا تو ان کا یہ عمل پورے دنیا میں لگاتار سیکھنے کی شروعات کرتا ہے!
 
امریکا اور ایران کے درمیان اس بات کو چھپایا نہیں جاسکتا کہ دونوں جانب سے شدید تناؤ اور استحکام ہے، ابھی تک یہ بات واضح نہیں تھی کہ کون اس معرکے کو شروع کرنے پر تیار ہے؟ پینٹاگون کا کہنا کہ صدر ٹرمپ کچھ کراں گے تو یہ بہت مشق ہے، ایران نے اپنی جانب سے بھی اس بات کو طے کیا ہے کہ وہ کوئی تنگ اٹھانا نہیں چاہتا۔ حال ہی میں امریکی بحری بیڑے کو مشرق وسطیٰ میں بھیجا گیا، ابھی یہ کہتے ہیں کہ وہ صدر ٹرمپ کی بات پر کچھ کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس بات کو اور بھی سچ کہنا ہے کہ دونوں جانب سے ایسا نہیں ہوا جس سے جنگ ہوجائے۔
 
🚨 ایسے میں اور پینٹاگون کی بات سے میرا خیال ہے کہ امریکا ایران کے لیے بھرپور خوفناک لکیر بن چکا ہے، وہ اس بات پر یقین کر رہا ہے کہ ایران کو ایسا نہیں کہنا چاہئے جو کہ اس کی جانب سے بھرپور خوفناک لکیر بن سکتا ہے، امریکا کے پاس اپنی اگلی دھمکیوں پر بھی تانبا کا گھریلو ہاتھ ہے اور اس کے پاس ابھی بھی پینٹاگون ہے جو وہ استعمال کر سکتا ہے جس سے ایران کو اس کی جانب سے کئی بار لکیر بنایا گیا ہے، اس لیے یہ بات بھی نہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے واقعات میں کسی سے کچھ نتیجہ نہا سکتا ہے، یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں کوئی نتیجہ ملنے کا امکان ہے اور اس لیے دونوں جانب بھی اس صورتحال سے اپنی پوری تाकت استعمال کرنا پڑے گا، یہ ایک ایسا خطہ ہے جس میں کوئی بھی حد تک استعمال کرتا ہے اور اس لیے دونوں جانب سے یہ بات نہیں کہ کہیں سے پھینکتا ہے، امریکا اور ایران دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف لچک کھلائی جا رہی ہے اور اس لیے یہ بات بھی نہیں کہ وہ اچھے نتیجے پر پہنچ سکتا ہے۔
 
امریکا اور ایران کی جانب سے کس طرح برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ بات، یہاں تک کہ پینٹاگون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی بات آئی تو اس نے بھی ایران پر معاف کر دیا… اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایران نے اپنی سلامتی اور خودمختاری کے لیے مکمل طور پر تیار ہو گئا ہے… 😬

امریکا تمام آپشنز استعمال کرنے کیلئے تیار ہے، لیکن ایران کو ملک اور قوم کی سلامتی کو خطرے میں پھونکنا پڑ گیا ہے… اس کے بعد ایران نے اپنی جانب سے بھی سخت جواب دیا ہے، Iranian فورسز کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری جواب دیا جائے گا… اس کے ساتھ ساتھ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں کو سخت جواب دیا ہے اور کہا تھا کہ ان کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے مکمل طور پر تیار ہے…

یہ سب واضح ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دنیا کی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے سخت مؤقف صورتحال کو مزید حساس بنا سکتا ہے… اس سے پتھر پکڑنے کی صورت میں کسی بھی طرف سے گناہ کہنا مشکل ہو جائے گا…
 
ایسا لگتا ہے ایران کی جانب سے ایسا کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے لیے مکمل طور پر تیار ہو چکے ہیں، یہ تو صدر ٹرمپ کے لئے ایک بڑا موقع ہے۔

ایک طرف سے امریکا نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں کو بڑھا دیا ہے، جس کا مقصد ایران کو ایسا محسوس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اس صورتحال کو تسلیخ دیکھنا پڑے۔

دوسری جانب سے Iran کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے استدعا کی جا رہی ہے، اس صورتحال کو حل کرنے میں وہ امریکا سے متعارف نہیں ہو سکتے۔

امریکی بحری بیڑے کی تعینات ایران کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، لیکن وہ اسے اپنا نقطۂ نظر بنانے اور صدر ٹرمپ کو ایسا محسوس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اس صورتحال کو حل کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

مگر یہ بات بالکل سافٹ ہے کہ خطے میں کشیدگی بھی مزید Badal rahi hai... 😐
 
ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کی جانب سے بڑی تیزی سے اپنی اقدار کی نمائش کر رہے ہیں، پہلے ایران نے اپنے جوہری معاہدے کو ختم کرانے کی آواز بلند کی اور اب امریکا بھی اس پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، یہ تو ایک خطرناک سیلاب ہی نہیں ہوگا؟
 
🚨 ایران اور امریکا کی ایسے توازن کیسے پیدا ہو سکتا ہے جس پر دونوں جانب سے یقین ہو؟ ان کے معاملات میں پینٹاگون اور اس کی طاقت کو ایک لازمی عنصر بنایا جا رہا ہے، لیکن کیا اس کو ایسا دیکھا جاسکتا ہے؟Iranian forum پر یہDiscuss karo uss topic par... (https://iran-forum.com/threads/114445/Iran-and-America-How-can-we-find-equilibrium)
 
واپس
Top