امریکی ایوانِ نمائندگان نے اپنے تاریخ میں سب سے بڑا 901 ارب ڈالر کا دفاعی بل منظور کر لیا ہے، جس پر ان کی ووٹنگ میں 312 افراد نے یہ حق رکھا کہ بل منظور ہوگا، جبکہ دوسری तरफ 112 شخصیات نے مخالفت کی ۔
یہ دفاعی بل اب بھی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اس بل کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں فوجیوں کو تنخواہ میں اضافہ، رہائش میں بہتری اور یوکرین کے لیے آئندہ دو سال تک 800 ملین ڈالر کی فوجی امداد شامل ہے۔
اس defenders بل میں اسرائیل کے دفاعی پروگرامز، خاص طور پر آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلِنگ کے لیے مکمل فنڈنگ بھی شامل ہے۔
اس defenders بل کی وضاحت میں ایک اہم بات یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور تنوع کے منصوبوں کے فنڈز میں 1.6 ارب ڈالر کی کٹوتی کر دی گئی ہے۔ اس بل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط سے یہ بل قانون بن جائے گا۔
اس defenders بل پر امریکی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی میڈیا میں بحث جاری ہے، اور امید کی جارہی ہے کہ اسے جلد ہی سینیٹ سے بھی منظوری مل جائے گی۔
یہ دفاعی بل اب بھی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اس بل کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں فوجیوں کو تنخواہ میں اضافہ، رہائش میں بہتری اور یوکرین کے لیے آئندہ دو سال تک 800 ملین ڈالر کی فوجی امداد شامل ہے۔
اس defenders بل میں اسرائیل کے دفاعی پروگرامز، خاص طور پر آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلِنگ کے لیے مکمل فنڈنگ بھی شامل ہے۔
اس defenders بل کی وضاحت میں ایک اہم بات یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور تنوع کے منصوبوں کے فنڈز میں 1.6 ارب ڈالر کی کٹوتی کر دی گئی ہے۔ اس بل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط سے یہ بل قانون بن جائے گا۔
اس defenders بل پر امریکی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی میڈیا میں بحث جاری ہے، اور امید کی جارہی ہے کہ اسے جلد ہی سینیٹ سے بھی منظوری مل جائے گی۔