تائیوان کی بلند ترین عمارت تائی پے 101 کو امریکی کوہ پیما الیکس ہونالڈ نے بغیر کسی رسی کے سر کر لیا۔ اس غیر معمولی کارنامے پر ہزاروں شائقین نے اپنے بھارے اور خوفناک جذبے سے حامل تھے۔ انہوں نے 91 منٹ کی مہم میں خود کو ان کے سامنے لے کر ان کے حوصلہ افزائی اور تحفظ کی تقریبات کی۔
تائی پے 101، جس کی بلندی 508 میٹر ہے، دنیا کا سب سے بلند عمارت رہی اور ابھی بھی تائیوان کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس چڑھائی کے لیے یہ عمارت کی انتظامیہ اور شہر کی حکومت نے ایک دوسرے سے مکمل تعاون اور اجازت فراہم کر دی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت کو بھی یاد کرتی ہے جب انہوں نے ایسا سوچا تھا کہ وہ بغیر اجازت کے چڑھ سکتے ہیں، لیکن بعد میں انہوں نے اپنے احترام اور احسان کی وجہ سے اس طرح نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تائیوان کے سیاست دانوں نے اس موقع پر ہونالڈ کو اپنی تحسین سے بھرپور شکریہ ادا کی اور انہیں یہ اعزاز منہجے دھول دے کر دیا تھا۔
صدر لائی چنگ تے نے اس مہم سے پوسٹ کرکے کہا، ”اس مہم کے ذریعے دنیا نے نہ صرف تائی پے 101 کو دیکھا بلکہ تائیوان کی مہمان نوازی اور جذبہ کی قدرتی خوبصورتی کو بھی محسوس کیا۔”
मیری نظروں میں اس کھیل میں پچھلے کھلاڑیوں سے بات نہیں ہونے دی جائے، انہوں نے ابھی تک یہ سوچا تھا کہ امریکی اور چائنیز کوہ پیما الیکس سے کیا فائدہ ہو گا؟ اور تائیوان کی حکومت نے اسے بلا ریس کے سر کرنے پر کیسے مجبور کیا؟ یہ سب ایک حقداری جھوٹ ہے۔
یہ کام ہونالڈ نے کر لیا تو یہ کام ہر شخص کے لئے ممکن ہوتا۔ اور اب اس پر ان کے احترام سے بھرپور شکریہ ادا کر رہے ہیں؟ یہ کوئی خاص کارامتی نہیں تھی، تو کیوں لگتایا کہ اس پر ان کے احترام سے بھرپور شکریہ ادا کرنا ضروری ہے؟
تائیوان کی تائی پے 101 کی عمارت کو امریکی کوہ پیما الیکس نے بغیر کسی رسی کے سر کر لیا تو یہ غیر معمولی ہے، لیکن اس جگہ میں ایسا کیا جا سکتا ہے؟ تائیوان کی حکومت نے بھی اس مہم کو اچھی طرح منصوبہ بندی کیا ہو گا، لیکن یہ بات یقین نہیں کی جا سکتی کہ پہلے کی تیسری وکٹ پر انھوں نے سست ہرکتوں میں توسیع کی ہوگی۔
تائی وین 101 پر امریکی الیکس ہونالڈ کا یہ کارنامہ ایک ریکارڈ بن گیا، انہوں نے تائی پے کی بلندی پر چڑھ کر دنیا کی نظر لے لی اور لاکھوں لوگوں کو اس کے ساتھ جوڑ دیا۔ میرا خیال ہے کہ ان کے عمل میں ایک خاصی محنت اور ذمہ داری لگی، کھڑے رہنے کی صلاحیت اور حوصلہ افزائی کرنے کی صلاحیت ان کا نہیں تو فائدہ پہنچایا بلکہ تائی وین 101 کے لیے ایک ریکارڈ بنایا۔
یہ واقعتا ایک عجیب موقف ہے! امریکی کوہ پیما الیکس نے بغیر کسی رسی کے سر کر دیا تو یہ بھی ابھی اچھے ساتھوں کی سڑک پر پڑھا جانا ہو گا! وہ لاکھوں لوگ اس مہم میں شامل تھے، لیکن یہ بھی سب کچھ کوہ پیما الیکس کی علاحدگی پر اور ان کے اپنے سیاسی مخالفین سے دوری پر ہی چل رہا ہو گا!
جب تک تائیوان کی حکومت نے اس مہم میں ان کے تعاون سے تو یہ سب کچھ اچھا تھا، لیکن اب تو یہ بھی پتا لگ رہا ہے کہ وہ کس چیز کی پابندیوں کے نتیجے میں ہو رہے ہیں!
اس کے بعد یہ سوچنا مشکل ہو گا کہ تائیوان کی حکومت اور کوہ پیما الیکس کے درمیان کیا تعامل ہوتا رہا، یہ بھی ایک سیاسی مضمون ہے!
ہونالڈ کا یہ کارنامہ لالچ نہیں بلکہ سہولت کا اشارہ ہے، پہلے اس جگہ پر نہیں چلا تھا اور اب بھی ایسا کرنا مشکل ہو گیا ہوں گے اس کا شکریہ دیتے ہوئے لالچ سے بے پریشانی محسوس کیا جائے گا
امریکہ سے آ رہے لوگ کوئی نازک بات کہے تو یہاں تھا ایک خوفناک کارنامہ! ہونالڈ کو کوئی رسی نہیں لینے کی اجازت دے کر تائیوان کی بلند ترین عمارت پر چڑھنا، یہ حیرت انگیز ہے! میری نظر اس کا یہ کارنامہ ان لوگوں کو بھی اچھی طرح یاد رکھتا ہے جو کہ لاکھوں فٹ کے علاوہ ایسا ہی کرسکتے ہیں، جب آپ اپنی جائیداد پر حرمت کرتے ہیں، اور ان کی محبت سے اس سے باہر بھی نکل سکتے ہیں!
تائی پے 101 کو چڑھانے والے ہونالڈ کو آپنی کارکردگی سے میں انتہاً سرाहواں سے آئی ہے ۔ انہوں نے ایک غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہے جو تائیوان کی طرف سے محفوظ رہنما بننے کا ایک عجوبھ کرنے والا سہرہ ہے
[] اس نے اپنی زندگی میں ایسا کوئی بھی مقام جس پر انہوں نے اپنا ہاتھ رکھا ہو وہ تائی پے 101 کے لئے ہو گا
[] میں اس مہم کو دیکھ کر توازن سے بھرپور جذبے سے آئی ہوں اور انہیں اس کے لئے ایک بڑا بڑا شکریہ دیا جائے گا
میری Opinion تھائی پے 101 کو چڑھانے والوں کا یہ کارنامہ میں نے کچھ گہرائی دیکھی، ان لوگوں کی جسمانی اور مانیسی پائیداری نے ایک بار پھیر تھائیوان کی صلاحیتوں کو ظاہر کر دیا ہے، لیکن یہ تو بھی بات ہے کہ انہوں نے اس مہم کو سر سے کیا تھا؟ لگتا ہے انہیں یہ سچا احترام اور احسان تھا جو وہ اس وقت چکایا تھا جب وہ سوچتے سنہرے دھواں میں چڑھنے کے لئے ایسا ہی سوچ رہے تھے! یہ سیکھنا محتاج ہے کہ نہ صرف جسم کو بلکہ ذہن بھی کوئی حد تک محدود نہیں رہ سکتا!
تائی وان تائپے 101 کو چڑھانے والوں کا یہ کارنامہ بہت خوفناک اور عظیم ہے ، وہ لوگ جو اس میں شامل تھے وہ ایک دوسرے کی مدد سے پہلے کے لئے بہت کوشिश کرچکے تھے اور اب وہ صرف ان کے تحفظ کا احاطہ کر رہے ہیں ، اس بات کو نہیں چھوڑنا چاہیے کہ ان لوگوں نے اپنے جذبے اور حوصلہ افزائی سے ایسا مظاہرہ کرنا ہمارے لیے ایک بھارپور موقع فراہم کیا ہے ، اس لئے جب تائی وان تائپے 101 کو آگے لے جاتے ہیں تو اس کی بلندی میں بھی کسی اور چڑھا نہیں دیکھا جاسکتا
تائیوان کی ہونالڈ کی چڑھائی نے دیکھا کہ انہیں کیسے پہلے کچھ لاتھ تھی، اب وہ دنیا بھر میں مشہور ہو گئے ہیں؟ آج کی دنیا مچھلی نہیں ہے، ہر گھر ایک چڑھائی والا ہوا دے رہا ہے۔ تائیوان کی اہم علامت تائی پے 101 کو امریکی کوہ پیما الیکس نے بغیر کسی رسی کے سر کر لیا، اس سے دنیا بھر میں ایک خطرناک واضح بات سامنے آئی ہے۔
تائیوان کی تائی پے 101 عمارت پر ایک نئی ترقی، یہ بھی سب سے عجیب نہیں ہے، ایسی باتوں کو دیکھ کر ہر کا منہ ھلکا ہو جاتا ہے...
یقیناً وہاں کی حکومت اور ان عمارت کی انتظامیہ نے ایک ساتھ کام کرنے کی پوری کوشش کی، اس وقت کو یاد رکھنا بھی نہیں گزریga...
لیکن 91 منٹ کی مہم میں کون ہوا تھا جو ایسا سا جذبے اور حوصلہ افزائی دیتا تھا؟ کیا یہی نہیں تھا جو ان لوگوں کو لاتھا جس نے اس کارنامے پر ہونالڈ کو سر کرنے کی ترغیب دی؟
انہوں نے ایک ریکارڈ بنایا اور دنیا کو دکھایا، یہاں تک کہ اس پر تائیوان کی پوسٹ کرکے بھی شریک ہوا!
یہو وہ جگہ ہر فخر کو کھل کر لاتी ہے! ان لوگوں پر مجھے یقین ہے جو اس مہم میں حصہ لیا اور اپنے محنت اور جذبے سے اس کو سر کرنا ہوا ہے، وہ دوسروں کے لیے ایک اہل_example بنتے ہیں!
جب بھی آپ کے پاس ایسا مواقع ملا جاتے ہیں جہاں آپ کو اپنی نازک سیحدوں پر چڑھنا پڑتا ہے تو آپ کی انہائی صلاحیت اور جذبات کا علم رکھیں! اس لڑکی کے ساتھ جو تائیوان کی عمارت پر چڑھا، وہ نہ صرف اپنے ہمیشہ کی سوچوں میں بدل گیا لیکن دوسروں کو بھی ایسی زندگی کا سکھایا جو خود سے زیادہ قوت مند اور طاقتور ہے!
بilkul, اس کارنامے نے ہر کوئی متاثر کیا ہے، مگر یہ بات کوئی بھی نظر انداز نہ کر سکتا ہے کہ وہ اپنے احترام کی وجہ سے پہلے سے اس پر عمل کرنا چاہتے تھے، مگر انہوں نے کامیابی کے لیے قائل ہونے میں اور اپنے احترام کو بڑھانے میں بھی بہت سا وقت لگا ہے، مگر اس نے دنیا کی توجہ بھی ہٹا دی ہے، یہ ایک عظیم کارنامہ ہے، لیکن کیا وہ اس پر عمل کرنے سے پہلے آپ کو یہ پوچھنا چاہتا ہو کہ وہ اس پر عمل کرنے کے لیے کیسے تیار ہوئے؟