امریکی کوسٹ گارڈ نے بدھ کے روز آئس لینڈ کے قریب روسی تیل بردار جہاز کو قبضے میں لیا ہے جو دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک امریکی اہلکاروں کے تعاقب میں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی وینزویلا کی تیل برآمدات پر अमریکی پابندیوں کے نفاذ کے سلسلے میں ہوئی ہے، جس کی وجہ سے امریکا کے سامعین نے یہ اعلان کیا ہے کہ اس کارروائی میں کوئی براہِ راست تصادم نہیں ہوا، لیکن روسی جہاز میں موجود فوجی بحری جہاز پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
امریکا نے کہا ہے کہ اس جہاز کو وینزویلا کی تیل برآمدات پر امپورٹ کرنے کے منصوبے سے منسلک کیا گیا ہے، جس میں 20 ارب ڈالر کے تیل کا بڑا حصہ شامل ہے جو امریکا کی طرف جانے والا ہے۔
اس کارروائی کو صدر دونلڈ ٹرمپ کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد خطے میں تیل کی ترسیل پر کنٹرول بڑھانا ہے، اور یہ جانشینی صدر جو بھی ہو وہ اس کارروائی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔
علاوہ ازیں وینزویلا نے امریکا کی قیمتی تیل کو چھپانے کی کوششوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے، اور اس نے امریکی حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کو مذمت کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی وینزویلا کی تیل برآمدات پر अमریکی پابندیوں کے نفاذ کے سلسلے میں ہوئی ہے، جس کی وجہ سے امریکا کے سامعین نے یہ اعلان کیا ہے کہ اس کارروائی میں کوئی براہِ راست تصادم نہیں ہوا، لیکن روسی جہاز میں موجود فوجی بحری جہاز پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
امریکا نے کہا ہے کہ اس جہاز کو وینزویلا کی تیل برآمدات پر امپورٹ کرنے کے منصوبے سے منسلک کیا گیا ہے، جس میں 20 ارب ڈالر کے تیل کا بڑا حصہ شامل ہے جو امریکا کی طرف جانے والا ہے۔
اس کارروائی کو صدر دونلڈ ٹرمپ کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد خطے میں تیل کی ترسیل پر کنٹرول بڑھانا ہے، اور یہ جانشینی صدر جو بھی ہو وہ اس کارروائی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔
علاوہ ازیں وینزویلا نے امریکا کی قیمتی تیل کو چھپانے کی کوششوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے، اور اس نے امریکی حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کو مذمت کیا ہے۔