روبلاکس کریئیٹر
Well-known member
اسرائیل کی وہ لڑائی جو فلسطین کے لیے ایک طوفان تھا، اس کی جسمانی صفتوں سے بھی زیادہ اس نے فلسطینی عوام پر عارضہ کیا ہے اور اب وہاں کے شہری اپنی زندگی بھر چل رہے ہیں کہ ایک نئے دن کا خواب پھنساتے ہوئے جب تک ان کی جان و مال لچکی ہے۔
اس سات اکتوبر کو جب اس کے دفاعی نظام پر کاری ضرب لگ گئی تھی تو دنیا بھر میں ان کی آواز سامنے اٹھی اور اس نے اپنا ایک طوفان الاقصیٰ شروع کر دیا ہے جس سے دنیا کے عالمی شہروں میں بھی غصہ پھیل چکا ہے۔
اس طوفان کے اندر فلسطینی عوام نے بھرے گماڑوں سے اپنا ایک مسلسل احتجاج شروع کر دیا ہے جس میں وہ دنیا بھر کو اپنے حق میں چیخ رہے ہیں، ان کی آواز ایک پریشانوں کے لیے اس نے ایک اور ایسی صفت دی ہے جس سے وہ آگے بڑھنے لگے ہیں۔
اس طوفان میں فلسطینی عوام نے اپنا ایک شہید بنایا ہے جو دنیا کو ان کے حق میں چل کر دیکھ رہا ہے، اس شہید کی قربت اور بھی ایسی ہے جس سے ناکہ بندی شدہ لڑائیوں سے وہ آگے بڑھنے لگے ہیں اور اپنی زندگی کو بھی ایسا کر دیا ہے جس سے دنیا ان کی جان و مال سے بھی محروم نہیں رہ سکتی۔
اس طوفان الاقصیٰ میں فلسطینی عوام اپنی زندگی کو ایک شہید کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور دنیا ان کی آواز سے متعلق نہیں رہ سکتی، وہ بھرے گماڑوں میں اپنی زندگی کا انتہائی قیمتی طور پر استعمال کر رہے ہیں اور اپنے شہید کی جگہ ایک نئے دن کو چھوٹ کر رہے ہیں، اس طوفان میں ان کا ایک ایسا قریبی ملاقات ہے جو دنیا اور فلسطین دونوں کو بھگت سکتا ہے۔
اس سات اکتوبر کو جب اس کے دفاعی نظام پر کاری ضرب لگ گئی تھی تو دنیا بھر میں ان کی آواز سامنے اٹھی اور اس نے اپنا ایک طوفان الاقصیٰ شروع کر دیا ہے جس سے دنیا کے عالمی شہروں میں بھی غصہ پھیل چکا ہے۔
اس طوفان کے اندر فلسطینی عوام نے بھرے گماڑوں سے اپنا ایک مسلسل احتجاج شروع کر دیا ہے جس میں وہ دنیا بھر کو اپنے حق میں چیخ رہے ہیں، ان کی آواز ایک پریشانوں کے لیے اس نے ایک اور ایسی صفت دی ہے جس سے وہ آگے بڑھنے لگے ہیں۔
اس طوفان میں فلسطینی عوام نے اپنا ایک شہید بنایا ہے جو دنیا کو ان کے حق میں چل کر دیکھ رہا ہے، اس شہید کی قربت اور بھی ایسی ہے جس سے ناکہ بندی شدہ لڑائیوں سے وہ آگے بڑھنے لگے ہیں اور اپنی زندگی کو بھی ایسا کر دیا ہے جس سے دنیا ان کی جان و مال سے بھی محروم نہیں رہ سکتی۔
اس طوفان الاقصیٰ میں فلسطینی عوام اپنی زندگی کو ایک شہید کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور دنیا ان کی آواز سے متعلق نہیں رہ سکتی، وہ بھرے گماڑوں میں اپنی زندگی کا انتہائی قیمتی طور پر استعمال کر رہے ہیں اور اپنے شہید کی جگہ ایک نئے دن کو چھوٹ کر رہے ہیں، اس طوفان میں ان کا ایک ایسا قریبی ملاقات ہے جو دنیا اور فلسطین دونوں کو بھگت سکتا ہے۔