انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید اضافہ | Express News

محقق

Well-known member
زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں پھیلتی ڈالر کی قدر کا سلسلہ ختم نہیں ہوا، اس کا جسماناً پثھا برقرار رہا۔

ذرمیں پھیلتے معاہدوں کے باعث یہ رکاوٹ 46ویں دن بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا جس سے آج تک اس معاملے میں کسی بھی ایک روزہ توسیع کا امکان کمزور ہو گیا ہے۔

انٹربینک مارکیٹ نے دوسرے دن بھی ڈالر کی قدر کے مقابلے میں روپیہ تگڑا رکھا جس سے اس عرصے کی پہلی بار 46 روز ڈالر کی قدر روپیہ کی نسبت میں اضافے رہنے کا سلسلہ ختم نہیں ہو سکا۔

اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی اس کی طرح ڈالر کی قدر روپیہ کی نسبت تگڑا رکھی جس کے بعد آج تک کوئی توسیع کا موقع نہیں ملی۔
 
meri baat hai ki zarmbadalaho ke liye yeh ek achha samay hai 🤔 46 din pehle bhi dollar ka maqbul ropya mehng tha, toh ab bhi wo hain. main sochta hu ki agar koi tarah se dollar ka maqbul ropya kam hota to sab kaafi problem ho gaye.

mein jaanta hu ki interbank market mein bhi dollar ka maqbul ropya mehng tha, isliye wajah yeh hai ki koi bhi tosiif na mila. main sochta hu ki agar open kransi market mein bhi dollar ka maqbul ropya mehng tha toh zarmbadalaho ke liye bahut achcha hoga 🤑
 
मैं تھوڑا سا متاثر ہوا 😐، یہ پتا ہوا کہ ڈالر کی قدر روپیہ سے اب بھی ایک توسیع کا موقع نہیں مل رہا 🤔. انٹربینک مارکیٹ میں دوسرا دن بھی یہی رہا، پہلے 46 روز سے نہیں توسیع ہو سکتی ہے؟ جب تک اس معاملے میں کسی ایسے موقع کا امکان نہیں رہتا تو یہ رکاوٹ قائم رہیگی 🚫.
 
بصیرت سے دیکھو، ڈالر کی قدر روپیہ سے تگڑی رہنے کی صورت واضح نہیں ہوسکتی. اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہforeign investors روپیہ میں انwest کر رہے ہیں. جس سے مارکیٹ میں ڈالر کی قدر کم رہنے کی صورت میں ہو سکتی ہے. اور ابھی تک کوئی توسیع کا موقع نہیں ملا ہے تو یہ ایک بڑا مشاہدہ ہے.

انٹرنیٹ پر یہ بات کبھی نہیں رہ سکتی کیوں کے لوگ بے کار ڈالروں میں انwest کر رہے ہیں؟ اس سے مارکیٹ میں توسیع کا کوئی موقع نہیں ملا ہو گا.
 
اس خبر سے میری سوچا یہ کہ میرا پیسہ بھی اپنی کمرے میں ہی رہتا ہے اور اس کی مارکیٹ میں تبدیلی کی کوئی بات نہیں ہو سکتی، لیکن اب یہ بات سچ میں آ گئی ہے کہ دالر کی مارکیٹ میں رکاوٹ 46ویں دن بھی برقرار ہے، میری خواہشات کو آج تک نہیں پورا کر سکے گا، میرے پیسے کے لیے یہ بات سچے میں آ گئی ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ اس سلسلے میں کسی بھی تیزی کا امکان ختم ہو گیا ہے... 💸😐 ...اب تک روپیہ کی قیمتوں پر ڈالر کا اثر بھی کمزور ہو گیا ہے... 😒 ...بے شک آج کل اسے چیلنج کرنے والی چیزوں کے لیے بچت کے مارکیٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے... 🤑
 
اس کے لینے والے لوگ ڈالر کی قدر روپیہ سے تلاصلہ کر رہے ہیں۔ اور یہ وہی حال ہے جس پر ٹیکسٹائل ایکسپریس کا بھی کیا نتیجہ نکالتا ہے۔ لگتایا اس لیے کیوں تو انھیں بھی ایک بار پھر سے آزاد کرنا پڑ رہا ہے۔ میرے خیال میں ایسا نہیں کیا جائے گا، ڈالر کی قدر روپیہ تو اس حالت میں ہو گی۔
 
🤔 مینے سوچا ہے اس معاملے میں ایک سلسلہ ختم ہونا مشکل ہو گا، آج تک دوسرے مارکیٹس کی طرح روپیہ کے مقابلے میں تگڑا رکھا گیا ہے۔ مینے اور بھی یہ سوچا ہے کہ اس سے معیشتوں کی ایک دوسری طرف بھی نتیجہ آگئے گا، پھر کیا 46 روزوں میں ڈالر کی قدر روپیہ کے مقابلے میں بہت تھی؟
 
سفید پیسے کی بات کر رہے ہوں تو یہاں تو پھر 46 روز تک اس میں تبدیلی نہیں ہوئی، ایک جیسا برقرار رہا ہے۔

پہلے بھی یہی رہا تھا اور اب وہی رہا ہے، سچمباں کے باوجود اس کے پہلو نہیں بدلے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ ایک دن یہ بدلتا ہو گا، لیکن آج تک کچھ کیا دیکھنا ہے۔
 
بھی ہر چیز میں سست لینا آسان ہوتا ہے؟ اس معاملے میں 46 روز تک روپیہ کی قیمت ڈالر کی قیمت سے تھوڑی ہی زیادہ رہی، اب یہ معاملہ توسیع کے لئے نہیں ملتا تو سست لگنا بھی نہیں ہوتا؟

اس معاملے میڰیں ہر روز ٹیکسٹ اور ٹwit کو لینے کے لئے وقت ڈالتے ہیں، لیکن توسیع کے ساتھ ان کی تلافی کیسے ہو گی؟

اب اگر وہ معاہدوں کو چیلنج کرنے والے لڑکے اپنا نقطۂ نظر دیکھائیڈے تو یہ اس معاملے میں توسیع کا موقع بن سکتا تھا، لیکن اب وہ لڑکے ہر وقت آؤٹ سے بنے رہتے ہیں!
 
اس معاملے میں 46 روز بھی گزر چukaے ہیں اور ابھی تک ڈالر کی قدر روپیہ سے ٹکروں نہیں رہی، یہاں تک کہ ایک روزہ توسیع کی امکانات بھی ختم کر دی گئی ہیں। لگتا ہے کہ یہ معاملہ ٹھیک ہونے کے لئے بھی 46 دنز بھر گزارنا پڑے گا! 😂
 
🤣 بھائی، یہ بڑی بات ہے! پہلے تو ڈالر کی قدر روپیہ سے زیادہ تھی، اب وہ روپیہ سے کم ہے اور ابھی تو 46 روز ہو گئے ہیں! یہ کہانی آم سے لگ رہی ہے کہ پکڑا ہوا کوئی بھی نہیں جاتا! 🤦‍♂️
 
واضح طور پر یہ بات چلتے ہیں کہ اس معاملے میں کسی بھی طرف سے توسیع کے امکانات کمزور ہو گئے ہیں... روپیہ کی قدر کو یقینی طور پر اس بات کا prova بنانے کے لیے آج تک دوسرے معاملات ہی رکاوٹ بن گئے ہیں...
 
اس معاملے پر پھیلنے والی نظر میں ہو سکتا ہے کہ جب زرمبادلہ کی مارکیٹ میں دالر کی قدر کا اس سلسلہ کہ اسے ختم نہیں ہونا چاہیے وہاں آج تک کیا حاصل ہوا، یہ سوال اس بات کی ایک پہلی مرتفعیت ہے جو اس معاملے میں آئی بھی کہا جا سکتا ہے جس سے وہی نتیجہ نکالنے کی کوئی چانس نہیں رہتی، پھر یہ سوال اس طرح آتا ہے کہ اگر انٹربینک مارکیٹ میں بھی دالر کی قدر روپیہ کی نسبت تگڑا رکھ دیا جائے تو اس سے آج تک کیا حاصل ہو گا، یہ ایک نتیجہ ہے جو اس معاملے میں بھی نظر آتا ہے۔
 
اس معاملے میں ایک بات واضح ہے، یہ دیکھنا ہی پورا مہان اور سچا چہرہ ہوا ہے کہ اس سال تک ہمیں نہ صرف ایک بار توسیع کا موقع مل گيا بلکہ دو بھی! تاہم، یہ بات یقینی طور پر بتائی جا سکتی ہے کہ آگے چل کر کیا ہوا گیا ہے یہ پتا نہیں لگیا ہو گا، لیکن اس بات پر یقین رکھنا ہو گا کہ اس معاملے میڰ بھی توسیع کا موقع ملے گا... لیکن جس وقت تک کیپٹل مارکیٹ میں ایک روپے سے دو ڈالر رکھنا مشکل نہیں ہو گا، اس وقت تک یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا معاشی اقدامات کی ضرورت ہے؟
 
امرکہ کی مارکیٹز میں ڈالری کا قدر کمزور تھا؟ یہ تو صاف ایک حقیقت ہے اور اس پر پورے دنیا کو بھی پھیپھڑا ہوا اور معاشیات کا ایسا ہی سیراب ہوا جیسا ہم نے 20 سال قبل دیکھا تھا 😅

اس سلسلے میں بھی یوں ہی رہا، ابھی تک کوئی ایسا توسیع کا موقع نہیں ملیا اور ابھی اس معاملے پر پابندی بھی لگ گئی تو اس سے اس کے خاتمے کا امکان زیادہ ہو گیا ہے 🤔
 
اس معاملے میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے لوگ ایک پالیسی کو اپنے ساتھ لے رہتے ہیں اور اس کا خاتمہ نہیں ہوتا۔
اس وقت یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ کس حد تک معاشی مارکیٹ میں ایسا ہوا ہے جس سے کسی کی توسیع کا موقع ختم ہو رہا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ لوگ ایسا ہی آرام سے کام کر رہتے ہیں۔
 
یہ بات پتہ چلنا ہی نہیں تھا کہ زر مابادلہ کا یہ سلسلہ جسمیلاً پہلے ہی ٹوٹ گیا تھا، لیکن پھر بھی آج تک اس میں کسی طرح کی توسیع نہیں ہوئی! یہ سلسلہ ابھی ایک روزہ 46 دن کے بھی عرصہ تک چلا رہا ہے اور اس کی وجوہات کو پتہ نہ کرنے کی وہی مدد معاہدوں میں پھیلتے ہوئے ذرمیں آ رہی ہے۔

اس کے بعد بھی یہ رکاوٹ آج تک کچھ اور زیادہ نہ ہو سکتی، کیونکہ معاہدوں کی وجہ سے ایسا لگتا ہے جیسے زر مابادلہ میں کسی بھی طرح کا توسیع کا موقع نہیں دیکھنا پڑ سکتا!
 
اس معاملے پر سچائیوں کی کمی ہے، پوری دنیا میں پیٹرڈونز آ رہے ہیں اور اب تک کیا ہوا، روپیہ کا اضافہ صرف 46 دن سے ہو سکا ہے؟ اس کا پچھلا کیس تو کب نہیں رہا تھا اور اب بھی اس کا پچھلا ماحول رہا جارہا ہے، اس میں سچائی کی ضرورت ہے۔
 
اس معاملے میں ایک بات بھی قابل ذکر ہے کہ 46 روز پہلے روپیہ کی قیمتیں اس سے زائد تھیں، اور اب یہ کہیں تک منفی ہونے والی ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ میرے سامنے ہر دن روپیہ کی قیمتیں پھیلتی ہیں، لیکن ناہیں ہوئی توسیع! اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مارکیٹ میں کسی طرح کی نہیں تیزی.
 
واپس
Top