پاکستان سے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش انڈونیشیا کا بھی اظہار ہو گیا ہے، جس پر ان دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔
پاکستان کی فوج میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے لیفٹینن ر جنسجافری سجام الدین کے ساتھ ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں-defense تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی discussions کی گئی ہیں۔
ملاقات میں انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے پاکستان کے ساتھDefense تعاون اور ترقی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انکے دوسرے پریسکیپ کا بھی بڑا جائزہ لیا ہے اور انڈونیشیا کی انٹیلیجنس एजنسیوں میں پاکستان کے ساتھ مل کر انٹیلیجیں ملا کر دوسرے ممالک کے خلاف ایک ہی راسخ الاعتقاد ہیڈیQUARTر چلائے گا۔
انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی فوج کی قربانیوں کو تسلیم کیا، انھوں نے بھی یہ خواہش کا اظہار ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان کی دفاعی تعلقات مختلف شعبوں میں مزید مضبوط کرنے پر کام کر رہے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی انڈونیشیا کے ساتھ دیرپاDefense تعلقات قائم کرنے کی اپنی پوری کوشش کی ہے، جو مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہوں گے۔
یے تو انڈونیشیا کا یہ کہنا دیکھنا ہی نا کہ چیف آف ڈिफنس اسٹاف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے لیفٹینن ر جنسجافری سجام الدین کے ساتھ ملاقات کرنا اور defence تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی بات کرنا۔ ایسا ہی کیا نہیں تھا، پاکستان کی فوج میں بھی انڈونیشیا کے ساتھ دیرپا defence تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ایک ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیانDefense تعاون میں مزید مضبوطی لानا، یہ تو کوئی بات نہیں! پھر بھی انڈونیشیا کی جانب سے ایسے معاہدوں کا بھی اہم جائزہ لیا جائے گا جو پاکستان کی فوج میں بھی رہنماؤں کے ساتھ مل کر بنے ہوں گے؟ تو یہ بھی کوئی بات نہیں!
لیکن یہ بات تھی کہ انڈونیشیا اور پاکستان کی فوجوں نے انٹیلیجیون کا ایک نیا معاشرہ بنایا ہو گا جس میں بلاشبہ دوسرے ممالک کی تھیڈین سیئنسی کو پتہ نہیں چلا سکتا! یہ تو سچمنے کا حاضری ہو گا، ایسا نہیں ہو سکتا!
یہ بات یقینی ہے کہ انڈونیشیا کی جانب سے بھی پاکستان سے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ معاملات کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔
ملاقات میں انڈونیشیا کا وزیر دفاع پاکستان کی فوج میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چीफ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس کے بعد ان دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں defense تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی discussions ہوئیں۔
ابھی بھی یہ بات یقینی ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان کی Defense تعلقات مختلف شعبوں میں مزید مضبوط کرنے پر کام کر رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ دونوں ملکوں نے اپنی defense میکس کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔
اس بات سے بھی محسوس ہوتا ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان کی defense تعلقات مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہوں گی، جو دونوں ملکوں کے لئے بہت فائدہ مند ہوگی۔
یہ سچا میڈیا کا چھپنا نہیں ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان کی دوڑ پھر گئی ہے، دونوں ملکوں نے ایک دوسرے سے دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کا بڑا جائزہ لیا ہے۔ ان کے مابین Defence تعاون اور ترقی پر talks کرنے کی یہ بات بھی خوشی مند ہے جو ایک نئی افواج کے ساتھ مل کر دوسرے ممالک کے خلاف ایک ہی راسخ الاعتقاد ہیڈیQUARTر چلائی جائے گا۔ یہ بھی اچھا ہے کہ انڈونیشیا نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی فوج کی قربانیوں کو تسلیم کیا ہے، ابھی تو ان کے دوسرے پریسکیپ پر بھی نظر رکھی گئی ہے۔
اس وقت تک انڈونیشیا نے بھی پاکستان سے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے، اب یہ دیکھنا محترم ہے کہ ان دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔
سید عاصم منیر کو انڈونیشیا کے وزیر دفاع سے مل کر تو دوسرے معاملات میں ہی رہا، بلکہ انڈونیشیا کا وزیر دفاع بھی پاکستان کی فوج میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کرتا ہو تو دوسرے معاملات میں ہی رہتا، ابھی انڈونیشیا نے بھی پاکستان کی فوج میں ایک چھٹا نمبر بننے کی خواہش کی ہے، اور اس لیے ایسے معاملات پر talks کرتے ہیں۔
ਆپنا یہ محسوس کر رہا ہوں کہ دوسرے ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کی بات ہمیں بھی اچھی لگتی ہے۔ ایسے سے ہمیں کسی بھی ماحول یا حادثے میں ہماری پوری قوتوں کو سامنے لاتے ہوئے سہارہ دینا آسان ہو جائے گا۔ اور یہ بھی اچھا کہ پاکستان اور انڈونیشیا دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
بھائی یہ بات اتنی محفوظ hai کہ انڈونیشیا بھی اپنے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے، اور وہ پاکستان سے ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنानے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ انڈونیشیا کی طرف سے لیفٹینن ر جنسجافری سجام الدین کو پاکستان کے وزیر دفاع سے ملاقات کا موقع دیا گیا اور وہ انڈونیشیا کی defense تعاون اور ترقی کو مزید مضبوط بنانے پر کام کرنے والے ہیں۔ اب یہ بات کھل کر بیان کی جا سکتی ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کی defense تعلقات مختلف شعبوں میں مزید مضبوط ہوگیں، اور اس پر کام کرنے والے لوگ پھر سے اپنی کوشش کریں گے۔
Wow! انڈونیشیا کا یہ اظہارDefense تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش بہت Interesting ہے, اور پاکستان اور انڈونیشیا دونوں کی فوجوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی discussions ہوئی ہیں۔Defense تعاون اور ترقی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انڈونیشیا نے پاکستان سے بھی مل کر کام کیا ہو گا, اور دوسرے ممالک کے خلاف ایک ہی راسخ الاعتقاد ہیڈیQUARTر چلائے گا, یہ بھی Interesting ہے!
یہ لگتا ہے کہ انڈونیشیا کی طرف سے پاکستان سے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش بھی ایک پچھلے دور کی بات ہے، جس میں ان دونوں ممالک کے درمیان دیرپا تعلقات تھے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ پاکستان کی فوج میں رہنماؤں نے اس پر ایک نئی پہچان دی ہے، جس میں انڈونیشیا کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش شامل ہے۔ مگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان کیا نئی چیز آئی ہے؟ یا اس میں صرف ایک نئی پہچان ہی شامل ہوئی ہے?
عاصمی چیف فیلڈ مارشل بننے کا یہ راز کیونکہ وہ بھی پاکستان کی طرف سے انڈونیشیا کے ساتھDefense تعاون میں شامل ہوئے اور دوسرے ممالک کے خلاف ایک ہی راسخ الاعتقاد ہیڈیQUARTر چلائے گا… لیکن یہ بھی دیکھنا منظم ہو گیا ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیانDefense تعاون میں کام کرنے کی ایک دوسری طرف سے بھی اپنی پوری کوشش ہے… یہاں تک کہ وہ بھی انٹیلیجنس Agency میں مل کر ملا کر DCO کو بڑا جائزہ لگائے گا… لेकن یہ بات بھی کھلا بھرتی ہو گئی ہے کہ وہ پوری طرح سے انڈونیشیا کی طرف سے defense تعاون میں شامل نہیں ہوئے…
یہ بات بہت اچھا ہے کہ انڈونیشیا نے بھی پاکستان سے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے... اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ایسے ساتھیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو دوسروں کی مدد اور سہولیہ بھی دیتے ہیں... اور یہ پاکستان کے لئے بہت اچھا ہے... کہا کہ انڈونیشیا کی فوج میں بھی ایسی طرح کی پیشہ ورانہ مہارت ہو جس سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف اسلح کی مدد مل سکے...
لگتا ہے کہ ان تعلقات میں دوسروں کی مدد اور سہولیہ دیلے جانا بھی اچھا ہے... لیکن اس سے وہ ممالک جو دوسروں پر یہ لازمی نہیں لگتے ان کے خلاف بھی ایسی سہولیات مل سکتی ہیں...
اس بات کو بھی یقین رکھنا چاہئے کہ یہ تعلقات ایسے ہوں گے جو مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہوں گے...
یہ واضح ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان کی دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہوتی جائیں گی، جو دونوں ممالک کے لئے ایک بڑا فائدہ ہوگا۔Defense تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر کام کرنے سے ناواقفہ اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں دونوں کی مدد مل سکتی ہے۔ انڈونیشیا کی جانب سےdefense تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش اس بات پر مبنی ہے کہ دو ممالک کی defense پالیسیوں میں ایک ایکٹ رابڈ ہوتی ہے، جس سے دوسرے ممالک کے خلاف لڑائی میں دونوں کی مدد مل سکتی ہے۔
یہ بہت اچھا کہ دونوں ممالک نے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے، اور پاکستان کی فوج میں ایسی طاقت موجود ہے جو اس کے ساتھ انڈونیشیا کے defense تعاون کو بھی مزید مضبوط بنانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے
انڈونیشیا کی طرف سے بھی یہ خواہش اچھی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ defense تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انکی دوسرے پریسکیپ پر کام کر رہے ہیں، اور یہ بھی بات کا مشاہدہ ہو گیا ہے کہ دونوں ممالک میں defense تعاون کے ساتھ ایک دوسرے کی مدد اور سمجھ کو مزید مضبوط بنانے کا کوشش کیا جا رہا ہے
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی انڈونیشیا کے ساتھ defense تعلاقات قائم کرنے کی اپنی پوری کوشش کی ہے، اور یہ بات تو صاف ہو چکی ہے کہ دونوں ممالک میں defense تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک دوسرے کی مدد لینا اچھا ہے
ابھی انڈین Shore پر بھی انڈونیشیا نے اپنی ایسے ساتھیوں کی تلاش میں، اور اب پاکستان کی فوج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چीफ کے ساتھ وہاں کے وزیر دفاع نے ملاقات کروائی ہیں، یہ دیکھنا مفید ہو گا کہ پاکستان اور انڈین کی فوج میں جو احترام اور محبت ہوئی ہے وہ ایسے ساتھیوں کے ذریعے زیادہ تیزاب ہوسکتی ہے جن کا مقصد دنیا میں دھرمہ بھوا ہے۔
یہ بات تو بھی واضح ہے کہ انڈونیشیا کی جانب سے پاکستان سے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کی گئی ہے، اور یہ بات بھی تھوڑی زیادہ موثر ہے کہ ان دو ممالک کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی پوری کوشش کی ہے।
دفاعی تعلقات قائم کرنے کی یہ خواہش بہت اچھا سائن ہے، خاص طور پر ان دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں Defense تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
آج کی دنیا میں ایسے معاملات قائم کرنے کی بھی اچھی لگتی ہے جہاں مختلف ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، بھلے ہی اس کوDefense تعاون کہو یا کسی دیگر نام سے جس میں یہ دونوں ممالک شامिल ہوں گے۔
ایسا لگتا ہے کہ انڈونیشیا کی جانب سے پاکستان کے ساتھ-defense تعاون میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جس کی پوری کوشش پاکستان کی فوج اور انڈین ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کر دی جا رہی ہے
انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی فوج کی قربانیوں کو تسلیم کیا، اس سے پاکستان کی جانب سےDefense تعاون میں مزید اضافہ ہونے کی possibilitا کا امکانات زیادہ ہو گئے ہیں
لیکن یہ بات بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ انڈونیشیا کی جانب سے پاکستان کے ساتھ defense تعاون میں مزید اضافہ کرنے کا ایک خاص مقصد کھو چکا ہے، یہ بات صرفDefense تعاون میں مزید اضافہ کرنا نہیں ہے بلکہ دوسرے شعبے میں بھی انڈین اور پاکستانی ایجنسیوں کا کام جوڑنا پڑا ہے
یہ ایک بڑا خushi خالام کا موقع ہے کیونکہ یہ دوسرے ممالک کی جانب سے ہم پاکستان کی مدد اور دیکھ بھال کے لئے اسے طاقت کی پوزیشن میں آنے پر اچھی طرح کام کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو انڈونیشیا کے وزیر دفاع سے ملنا ایک بڑا اعزاز ہے اور یہ واضح کرتے ہوئے کہ پھر سے انڈین ایشیان ممالک میں ہم کی فوجی طاقت کو مضبوط کرنا، یہ خواہش میرا بھی ہے۔