پوش علاقے ڈیفنس کی مصروف شاہراہ پر ایک غیر اخلاقی ویڈیو کو ایڈورٹائزمنٹ کے لیے لگایا گیا تھا جس نے شہریوں میں شدید تنقید اور احتجاج کا باعث بنا ہوا ہے۔
اس واقعے میں Abdul Satar Avenue پر ایک بڑی اسکرین پر شانے والی ویڈیو دیکھنے والے لوگ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں، جس کے بعد متحرک ادارے نے فوری طور پر واقعہ اسکرین کو بند کر دیا تاکہ مزید کسی قسم کا مواد نشر نہ ہو سکتا ہے۔
حکام کے مطابق احتیاطی اقدام کے طور پر ڈی ایچ اے کی دیگر اہم شاہراہوں کو بھی عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے، جبکہ سسٹمز کا سیکیورٹی آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ اسک्रینز کی شناخت اور ہیک کرنے والوں کی شناخت کی جا سکے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور سائبر کرائم یونٹ نے مشترکہ طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاکہ ملوث افراد کو قانون کے کٹھرے میں لایا جا سکے۔
بھانے یہ ویڈیو کچھ ناخوشگوار تھا، لیکن یہ ایسا کہنا مشکل ہے کہ اب وائرل ہونے والی چیزوں پر عمل کرنے کی وجہ سے آپ کے وقت بھی گزر جاتا ہے۔ میٹروں کی لپٹ پر ایسے مواقع اور اس طرح کے کامیاب ماحولوں کو دیکھتے ہوئے میں اپنے بیچ کے پالم کھونے والے کو یाद کرتا ہوں، وہ بہت اچھی طرح سے کام کر رہے تھے…
یہ تو بہت دیکھنا پڑتا ہے، ایک وائرل ویڈیو لگایا گیا اور تیزاب کے مواد سے فوری طور پر کسی کو پہنچانے کی ضرورت نہیں تھی، یہ صرف بھارپور ٹرکنگ تھا، اور اب اس کی وجہ سے شہر کے رہائشیوں کو دیکھنا پڑتا ہے جو ان کے موومنٹ کو ٹویٹ کر رہے ہیں اور اس پر ملوث لوگوں کی تلاش بھی کرتے ہیں، یہ ایک ایسی بات نہیں ہو سکی وہ بھی جو ناچ کر دیکھتے تھے وہاں سے ملازمت کھو ڈیتے، اب یہ اسکول کی پڑھائی نہیں پڑھتے ہیں لیکن آٹھ ہاتھ آتے ہیں۔
یہ بات قابل غور ہے کہ آج کی نئی پینٹنگ ٹیکنالوجی سے انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال کرتے ہوئے ایڈورٹائزمنٹ کا مواد لگاینا ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ لوگوں کو اس بات سے آگاہ رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان مصنوعات کو کیسے استعمال کیا جائے اور ان کے اثرات کو سمجھیے جا سکئے۔ اس سے پہلے لوگ اپنے سوسائٹی میں ایسا ہونے کی خواہش کرتے تھے۔
اس واقعے نے مجھے یہ سوچنا پڑا کہ ہمارے سماج کو اچھی طرح سے جانتے ہوئے سیکیورٹی کی ضرورت ہے۔ ہم سوشل میڈیا کا استعمال کرکے اپنیPrivacy بھی محفوظ رکھیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ہمیں اس وقت تک پہچانا جائے جب تک ہم اپنے لیے مناسب نہیں رکھتے۔
یہ ریکارڈ کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کے عوام کو صرف ایک بات ملتی ہے - ان کی دیکھ بھال اور احتساب. ڈیفنس ریزرو اےوینيو پر ایک غیر اخلاقی ویڈیو لگایا گیا تو یہ ڈیری کہیں سے پھیلنے والی غلطی نہیں تھی، حالانکہ اس نے عوام کی زندگی کو بھٹکا دیا اور انہیں بدبخت ہونے پر مجبور کیا.
اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہترین اداروں کے پاس ایسی پالیسی نہیں ہے کیونکہ جب تک عوام کو کچھ ناخوشی ہوتی ہے تو وہ سب سے بہتر ادارے کے سامنے چل پڑتے ہیں.
اس لیے یہی وجہ ہے کہ یہ واقعات تھوڈا ہی نہیں رہتا جب تک عوام کی دیکھ بھال نہ ہوتی اور انہیں کسی بھی صورت میں احتساب نہیں ملتا.
وہ ویڈیو جو شانے والی ریلوں پر دیکھنے کو मلا ہے وہ تو پورے ملک کے لوگوں میں بدتے تھے اور اس کی بنا پر لوگ راجستھان سے لے کر پنجاب تک گاڑیوں پر نہ چلنے کا فیصلہ کرچکے ہیں
اس پر ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی مینجمنٹ نے کامیابی کے ساتھ اپنی پوسٹ کو روکنا ہو گیا تھا اور وائرل ہونے والے موویڈز کو پلاگ کرنے کے بعد اس پر کوئی ایڈورٹائزمنٹ لگی نہیں رہ سکی ہو گی۔
یہ بات بھی پچھتے ہیں کہ جس شخص نے اس ویڈیو کو لگایا تھا اور اس کی بنا پر ایک شانے والی ویڈیو دیکھنا لوگوں کو خوفزدہ کر رہی ہے وہ سوشل میڈیا پر کبھی بھی نہ رہ سکے ہوں گے
یہ تو ایک بڑا حوالہ ہے، جو لوگوں کی بھرپور تنقید پر مظاہرہ کر رہا ہے... میرے خیال میں یہ سارے حالات ایک غیر ملکی دباو کی وجہ سے ہوئے، جو لوگوں کو انٹرنیٹ پر غور کرتے ہیں، اس گھناسٹری کے نتیجے میں یہ سارے حالات پیدا ہوئے... اب ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کی ان پوزیشن کو بھی چیک کرنا پڑیں گی...
یہ وائرل ویڈیو دیکھنے والوں کے لیے ایک بڑا چپچپا تھا... وہ لوگ جو اس سروس کو دیکھ رہے تھے ان لوگوں نے محسوس کیا کہ یہ غیر اخلاقی ہے، اس لیے اس کی شدید تنقید ہوئی ہے اور احتجاج بھی شروع ہو گیا ہے...
ایک چیٹج تھا کہ یہ ایڈورٹائزمنٹ کمپنی نے اس ویڈیو کو لگایا تھا، اور یہ کئی دنوں سے دیکھ رہا ہے، یہ سب کچھ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے...
اب جب شانے والی ویڈیو کو بند کر دیا گیا تو لوگ ٹwitچر اور انسٹागرامیں اس کے بارے میں بات رہے تھے... ان لوگوں نے بتایا تھا کہ یہ ویڈیو دیکھنے والے لوگ بے چینی اور غیر اخلاقی ہیں...
اب اس معاملے میں تحقیقات کی جا رہی ہے... ادارے محفوظ کرنے کا یہ ایک حقدار ہے...
یہ بات بھی تو چیلنجنگ ہے کہ ایسے کیسز جہاں شانے والی ویڈیو کے بعد اسکرین کو بند کر دیا جانا پڑتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے بھی پوری رات لگ سکتی ہے۔
پوری دنیا میں یہ بات کہنے کو پورا عزم ہے کہ انٹرنیٹ پر کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی ویڈیو کو پہلے ہی ٹائیٹل دینا چاہئے اور اسے شائع کرنے سے پہلے ایسی Procedures کا عمل کرنا چاہئے جس سے یہ وائرل نہ ہو سکتا ہو۔
اس کے علاوہ میری Opinion میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر ہفتے کے اوائل میں ایسے موقع پر پابندیاں نہ لگائی جائیں تو ان کو کتنی بڑی ضرورت ہو گی اور پوری طرح اس کی لگن پڑے گی۔
یہ تو ایسے situations نہیں آتے جب لوگ اپنی حریت کی بات کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر آ ker jate hain . وائرل ہونے والا ایسا video jo dekha gaya hai woh toh galat faasiyon se ho sakta hai, lekin kisi bhi tarhai problem ko hal karne ke liye government aur police jaise institutions pe baith rahi hain. ab to sasurakai mat honi chahiye, isliye koi bhi aik sahi way seekhna chahiye .
یہ تو ایسے چیلنجز ہیں جو ہمیں ملک بھر میں ملا کر بناتے ہیں کہ پہلے اہم شانے والی ویڈیو سے لے کر اب ایڈورٹائزمنٹ کی ویڈیوز تک۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ عوام کو انچاہتے مواد دیکھنا پڑے، اس لیے یہ حاقد کہیں سے بھی ضروری ہے کہ لوگ آگاہ رہو اور ان چیلنجز کو سمجھ کر اپنے جائزے دیں۔
یہ دیکھنا ہی سے ٹھکان نہیں آتا کہ وہ لوگ کیسے اپنی اچھائی کو دوسروں کی ذلت میں بدل کر لگاتار پریشانیوں پیدا کرتے ہیں! ایک غیر اخلاقی ویڈیو کو ایک شانے والی جگہ پر لگانا تو اچھا نہیں، اس سے بڑے پیمانے پر تنقید اور احتجاج ہوئے، اب یہ وائرل ہوا ہے!
ایسے ایسنا تو ہوتا رہتا ہے، لوگ اس قدر اچھی طرح سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے کہ یہ کیسے پہلے سے جاری ہوا تھا! اور اب وہ لوگ جو اس میں ملوث تھے، اب کتنی بڑی کوشش کرنے پر اہم مقامات پر پھنسنا نہیں دیتے، ایسا تو ہوتا رہتا ہے!
اس سے نکلنے والی واحد چیز یہ ہے کہ لوگ اس جھنک کی پیداوار میں اٹھتے ہیں، ایسا ہمیشہ دیکھتا آتا ہے اور آتا رہega!
یہ ایسا سا واقعہ ہو گیا ہے جیسا کہ اسے نہیں منظرعامے پر لانا چاہیے، ایک غیر اخلاقی ویڈیو کو ایڈورٹائزمنٹ کے لیے دکھایا جانا ہے اور اس کی وجہ سے شہر میں غضب ہو گیا ہے، لوگ اپنے خاندان کو لاپتہ رکھنے کا بھی خیال کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے فٹو شے کو دیکھتے ہیں اور اسے پوسٹ کرنے کا بھی عزم کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے آپ کا فٹو ہر روز تین چار ہزار وائرز پاتا ہے
یہ تو بہت غضبت اور ناانصاف کا سبب بنا ہوا ہے! ابھی تو پچھلے دنوں میں جس وائرل ویڈیو نے شہر کی رہنماؤں پر ڈٹ بھر دیا تھا، اب یہ ایک اور ماحول کی تباہی کر رہا ہوا ہے! اس نئی ویڈیو میں کیا ہوتا ہے جو انہیں اس قدر تھوس کر دیتا ہے؟ یہ صرف ایک ماحولیاتی نقطہ نظر پر مبنی مواد نہیں ہے، لہٰذا انکار نہیں کیا جا سکتا...
یہ دیکھنا بھی مشکل ہو گیا ہے کہ پوسٹل شہر میں لوگوں کی ایک سے زیادہ تر نفسیات ڈیفنس کارپوریشن کے مواد کو انشورڈ کر رہی ہے! آج کوئی غیر اخلاقی ویڈیو لگایا گیا اور اس نے سب کچھ خراب کر دیا ہے۔ اب یہ سوسائٹی ڈیفنس کارپوریشن کی طرف دیکھنا شروع کر رہی ہے، جس کے لئے ضرور پوا لیے جانا چاہیے کہ اس نے ایسا کیسے کر دیا اور اب یہ بھی ڈی ایچ اے کو ایک سے زیاد۹ سب کچھ پر قابو پانے میں مدد دے رہی ہے۔