برطانوی حکومت نے جب ہندوستان کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا تو انڈپینڈنٹ ایکٹ کے تحت دو ممالک بھارت اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آئے، جو قوانین برطانوی ہند میں نافذ تھے، وہی نئے آزاد ملکوں میں نافذ ہوئے۔
ان قوانین میں سیکیورٹی ایکٹ، سیفٹی ڈیفنس انڈیا رولز، دفعہ 144، امن و امان کا قانون، پریس ایکٹ اور سیکریٹ ایکٹ شامل تھے۔
اگرچہ پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے انسانی حقوق کی پاسداری کا درس دیا تھا اور اس طرح ایسے قوانین کو منسوخ کرنے کی جدوجہد کی تھی مگر 15 اگست 1947ء کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی، ان قوانین کو منسوخ نہیں کیا گیا، مگر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور وکلاء نے بے تحاشا قربانی دیں۔
اس میں سے ایک حسین شہید سہروردی تھے جو مسلم لیگ کے رہنما اور آل انڈیا مسلم لیگ کے پریمیئر رہے، وہ ایسے مقدمات میں سب کوشش کرچکے تھے جہاں انسانی حقوق پر زور دیا جائے۔
علاوہ ازیں محمود علی قصوری تھے جو سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والوں کو آزاد کرنے میں سب کوشش کرتے رہے، وہ نیشنل عوامی پارٹی کے صدر بھی تھے اور انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی سیاسی کارکنوں کو آزاد کرنے کی کوشش کی، وہ ایسے مقدمات میں سب کوشش کرتے رہے جہاں انسانی حقوق پر زور دیا جائے۔
لاہور میں عابد حسین منٹو اور اعتزاز احسن نے انسانی حقوق کی کوششوں میں سب کوشش کی، وہ ایسے مقدمات میں سب کوشش کرتے رہے جہاں مزدوروں اور صحافیوں کے حقوق پر زور دیا جائے۔
80ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق حکومت نے خواتین کے حقوق کو غضب کرنے کے لیے بیہمانہ قوانین نافذ کیے تو عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی نے ایسے مقدمات میں سب کوشش کی، وہ خواتین کے اپنی مرضی سے شادی کرنے جیسے اہم مسئلے پر زور دیا۔
بھارتی فلمی انڈسٹری میں سب سے بڑا ناکام ہونے والا شخص کیا ہوگا؟ اس کی ایسی بھرپور گاڑی ہوگی جو پاکستان میں دیکھنی پڑیگی اور اس پر بھارتی فلمی انڈسٹری نے لاکھ رو피ے خرچ کیے ہوں گے...
مگر وہاں تک کہ یہ بات حقیقت میں نہیں تھی کہ پاکستان اور بھارت کی فلمی انڈسٹریوں کو جو کرامات ملیں گئیں۔
موسوم فلموں میں کیا ہوتا ہے؟ کیا ہندوستانی اور پاکستانی اداکاروں کے درمیان ایسے مواصلات ہوتے جس کی دنیا بھر نہیں دیکھی۔
جی وہاں تک کہ یہ بات حقیقت میڰ تھی مگر مجھے ایک فلم کا خیال ہوگا جو پاکستان اور بھارت دونوں کی فلمی انڈسٹریوں کو مل کر بنائی جائے گئی۔
علاوہ ازیں یہ بات کوئی نظر نہاۓ، جو 1947ء میں پاکستان بنانے والوں کے ذمہ دار افراد تھے انہوں نے بھارت کی طرف سے ایسے قوانین کو پکڑنے کی کوشش کی جس سے ان کو اپنا ہی نظام کا بدلنا پڑ جائے، لیکن وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہے توڈر نہیں، اُنہوں نے ایک دوسرے کی طرح ہی کامیابی حاصل کی تھی اس لیے بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں میں انسانی حقوق کا تحفظ لگا کر رہتا ہے، لیکن اس میں کوئی بھی ایسا عہد نہیں ہوا جو یہ کہ دونوں ملکوں نے خود ہی ایک دوسرے سے حقوق حاصل کر لیے، یہ دوسری جانب دیکھا جائے تو بھارت اور پاکستان میں انسانی حقوق کی کوشش میں سب کوشش کرنے والوں کی فہرست پر ہمارے ملک کے صحافیوں، وکلاء اور سیاسی رہنماؤں کا نام بھی شامل ہے، نہیں تو یہ کہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اُنہوں نے جس کی کوشش کی وہی نہیں ہوئی تھی۔
یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ 1947ء میں آزادی سے بعد ہو کر بھی ان قوانین کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ یہ ایک حقیقت ہے جس پر ہم توجہ دیتے ہیں۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ آزادی کے بعد بھی انسانوں کو اپنے حقوق کی لڑائی کرنی پڑتی رہی، جیسے ان کوششوں میں شہید سہروردی نے اپنا یقین ظاہر کیا۔ اور وہی کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کی پاسداری کو خود ہی چیلنج کرتے رہے، اس میں سے ایک حسین شہید سہروردی۔
اس کے علاوہ محمود علی قصوری اور اعتزاز احسن نے بھی اپنی جدوجہد کی، ان کا یہ کام ہوتا ہے کہ لوگوں کو سمجھائے کہ انسانی حقوق کی پاسداری کرنا ایک اہم کام ہے۔
80ء کی دہائی میں خواتین کے حقوق پر بھی ان قوانین کو لگا کر جس سے ان کی آزادی پڑی، اس میں عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی نے اپنی جدوجہد کی۔
یہ سب کچھ دیکھتے ہیں تو یہی بات چلتी ہے کہ آزادی سے بعد بھی انسانی حقوق کی پاسداری کو خود ہی چیلنج کرتا رہتا ہے۔
یہ بات کو یقینی بنانے کے لئے ایک بار پھر کہتے ہیں کہ وہ قوانین جو برطانوی ہند میں موجود تھے، انہیں نئے آزاد ملکوں میں نافذ کرنے پر کوئی واضح لائہ نہیں تھی اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسانی حقوق کی گئی جدوجہد کے لیے بہت سی قربانیوں کو منکرنے پر مجبور کرنا پڑ گیا ہے۔
جبکہ اگرچہ پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے انسانی حقوق کی پاسداری کا درس دیا تھا، مگر انہوں نے اس کے لیے اپنی جان بھی جانے میں ہمیشہ تیار رہے۔
اس کے علاوہ اورہوئی فخر الدین کی مہر بن انصار، جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے خواتین کے حقوق پر غضب کرنے کے لئے ایسے قوانین نافذ کیے، وہ سے بھی کوئی معاف نہیں ہو سکا۔
بھارتنے اور پاکستان نے آزاد ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ بڑی جنگ لڑائی، دونوں ملکوں میں انسانی حقوق پر کوئی ذریعہ نہیں تھی اور ان قوانین کو منسوخ کرنا بہت مشکل ہوا۔
یہ عالمی تاریخ کا ایک بے حد اہم مقام ہے جس پر پاکستان اور بھارت نے قدم رکھا ہے، لہٰذا یہ واضح ہے کہ دونوں ملکوں کو ان لوگوں کی یاد دلاتا رہے جو انسانی حقوق کے لیے اپنے جینے والے پھانسی پہنچانے کے لئے آئیں تھے۔ مگر ہم ان لوگوں کو بھی یاد دلاتے ہیں جنہوں نے اپنی جینے والی قربانی دی ہے، اور اب وہ سب ان لوگوں کا سر اٹھای رہے ہیں جو انسانی حقوق کے لیے لڑتے ہیں ، یہ تو آمنے سے بھنکے نہیں۔
اس تحریک کو منظم کیا گیا تو نہیں اس میں بھی بہت سے وکیل تھے جنہوں نے اپنی جان ڈال کر ملازمت کی اور انhumani rights کی بات کی۔ لگتا ہے کہ اگر پہلے اس تحریک میں سے کچھ لوگ ہوتے تو حالات مختلف ہو گئے کیا؟
یہ خبر بہت دورپزہ ہے، یہ لوگ جان جوتے تھے، انہوں نے اپنی جانیں قربانیار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی لڑائی میں مدد کی، اب بھی یہ حقیقت سے بچا نہیں جا سکتا کہ انہوں نے کیا تھا وہ اسی قانون کے تحت جس نے انہیں گرفتار کیا تھا، یہ انتہا ہے
یہ پہلے ڈھونڈو کہ پاکستان میں بھی انسانی حقوق کی کوئی قیمتیات نہیں تھیں، یہ سچ ہے کہ 15 اگست 1947ء کے بعد انسانوں پر نافذ کردہ قوانین میں ایک بھی حقوق کی کوئی پابندی نہیں تھی، یہ سچ ہے کہ ان قانونوں کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو ملازمت سے باہر کر دیا گیا اور انھیں اپنی مرضی سے شادی نہ کرنے پر مجبور کیا گیا، یہ سچ ہے کہ 80ء کی دہائی میں خواتین کے حقوق کو غضب کرنے کے لیے بیہمانہ قوانین نافذ کیے گئے، اور وہ لوگوں کو جو نہیں مانتے تھے انہیں بھی اس سے بچنے کی کوشش کرنا پڑا۔
یہ بات کوئی بھول نہیں سکتا کہ 1947ء میں آزاد ہونے والے دوسرے ملک پاکستان نے اپنے حقوق کو لڑنا شروع کر دیا تھا، ان لوگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے بغیر پاکستان کے موجودہ حال بھی نہیں ہوتے ۔
ان لوگوں کی کوشش کرنے والے بچھوں سے لے کر اچھے اور براہمنندوں تک سب کو اپنی جان دی جائے گی، یہ صرف ایک lesson ہے کہ کسی بھی فتوح کی پوری گنجائش میں اس لئے لوگ شامل ہوتے ہیں جو اسی فتوح میں اپنی جان دیتے ہیں، اس کا مطلب ہے بھائیوں ان لوگوں سے سीखنا چاہئے جن نے اپنی زندگی کو اپنے ملک کی آزادی اور حقوق کی لڑائوں میں وقف کیا، یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کا نام ہم اور تاریخ میں نہیں چھپای گا .
یوں تو 1947ء میں برطانوی حکومت نے ہندوستان کو آزاد کیا، لیکن انسانوں کے حقوق کی بات کرنا انہی قانونوں کے تحت نہیں ہوسکتی تھی۔ جسے بھارتی اور پاکستانی قومی رہنماؤں نے لڑا، وہ ایک نئے نئے سہارا دیتے چلے گئے، جن میں انسانی حقوق کے تحفظ کی بات ہوئی۔
حسین شہید سہروردی اور محمود علی قصوری جیسے نام بھی ہوتے ہیں جو اپنے جانوں کا قربانی دیتے ہوئے انسانوں کو حقوق کی جدوجہد میں اگے بڑھانے میں شامل ہوئے، وہ ایک سہارا بن گئے، جو پوری تباہی کے بعد بھی انسانوں کو hope دیا۔
لاہور میں عابد حسین منٹو اور اعتزاز احسن نے بھی انسانی حقوق کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا، وہ بھی اپنے جانوں کے قربانی ہوئے لیکن یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انہوں نے مزدوروں اور صحافیوں کے حقوق پر زور دیا، جس سے انسانیت کی ایک نئی روشنی پیدا ہوئی।
ہمیشہ یہ سوچتے رہتا ہے کہ 1947ء میں آزاد ہونے کا عرصہ بھی سہولت دے گا، لیکن پچیس سال بعد ان laws کو نافذ کرنے پر governments نے انسانوں کی مرضی سے نہیں کام کیا، وہ اپنی اپنی ذمہ داریوں سے بھگت گئے۔
اچانک یہ بات کو اٹھایا جائے کہ 1947ء میں ہندوستان کو آزاد کیا گیا، لیکن اس سے انسانوں کو وہ سہارا نہیں مل سکا جس پر وہHope کر رہے تھے، ان laws کو منسوخ کرنے کی جدوجہد میں کتنا بہادری اور زبانیں خرچ ہوئی، وہ ایک نئا سہارا دیتے چلے گئے۔
یہ بات بہت غلط ہے کہ ان لودائیاں انسانی حقوق کو متاثر نہیں کیں، یہ سب ایک سیاسی کارروائی تھی جس میں سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں نے اپنی جان پر کھیلے ۔
ایک بار پھر، اگرچہ اس وقت بھارت اور پاکستان آزاد ہوئے تھے مگر ان Laws کو منسوخ نہیں کیا گیا تھا کیونکہ یہ لوگوں کی زندگی پر مبنی تھے اور اسے بھرا کر ان کو اپنی مرضی سے رہنا چاہتے تھے ۔
اس کے علاوہ، اگرچہ ان لوگوں نے انسانی حقوق پر زور دیا تھا مگر وہ بھی ایسی سیاسی کارروائی تھیں جو اس وقت کی حکومت سے زیادہ غضب کرنے کے لیے کی گئی تھی ۔