پاکستان کے علاوہ کہیں بھی طالبان کی حکومت نہیں، ان لوگوں کو مجرم قرار دیا جاسکتا ہے جو افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں
طالiban کے قبضے کے بعد ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہوا ہے، جس میں سے کئی واقعات ملک کے تمام حصوں میں پیش آئے ہیں۔
شام کو ناقدین نے اس پر غور کرنے کا موقع دیا جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ طالبان کے قبضے کے بعد ملک میں دوسرے مظالم بھی سامنے آئے ہیں۔
شام پر غور کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں 29 صوبوں میں سے 123 سابق فوجی اہلکاروں کو قتل کیا ہے جس کے بعد ملک کی صورتحال بھی بدل گئی ہے۔
شام پر غور کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں 20 سے زائد صوبوں میں 131 سابق اہلکار کو گرفتار کر کے شدید جسمانی تشدد کی سہمہ دی ہے۔
شام پر غور کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں سابق فوجی اہلکاروں پر تشدد کیا ہے، جس کے بعد ان کی شہادت ہوئی ہے۔
شام پر غور کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں سابق فوجی اہلکاروں کو تشدد کی سہمہ دی ہے اور انہیں مجرم قرار دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے خلاف جرائم نے ملک کو ایسا ہی لے گئے ہیں جیسا کہ شام کو ہوا تھی، اس کے لیے طالبان حکومت کو مجرم قرار دیا گیا ہے اور ان کی حکومت کو قائم کرنے والوں کو بھی مجرم قرار دیا جاتا ہے۔
طالiban کے قبضے کے بعد ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہوا ہے، جس میں سے کئی واقعات ملک کے تمام حصوں میں پیش آئے ہیں۔
شام کو ناقدین نے اس پر غور کرنے کا موقع دیا جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ طالبان کے قبضے کے بعد ملک میں دوسرے مظالم بھی سامنے آئے ہیں۔
شام پر غور کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں 29 صوبوں میں سے 123 سابق فوجی اہلکاروں کو قتل کیا ہے جس کے بعد ملک کی صورتحال بھی بدل گئی ہے۔
شام پر غور کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں 20 سے زائد صوبوں میں 131 سابق اہلکار کو گرفتار کر کے شدید جسمانی تشدد کی سہمہ دی ہے۔
شام پر غور کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں سابق فوجی اہلکاروں پر تشدد کیا ہے، جس کے بعد ان کی شہادت ہوئی ہے۔
شام پر غور کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں سابق فوجی اہلکاروں کو تشدد کی سہمہ دی ہے اور انہیں مجرم قرار دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے خلاف جرائم نے ملک کو ایسا ہی لے گئے ہیں جیسا کہ شام کو ہوا تھی، اس کے لیے طالبان حکومت کو مجرم قرار دیا گیا ہے اور ان کی حکومت کو قائم کرنے والوں کو بھی مجرم قرار دیا جاتا ہے۔