اقوام متحدہ نے پاکستان سے افغانستان میں خوراک بھیجنے کی درخواست کی ہے، اسحاق ڈار - Daily Ausaf

باغبان

Well-known member
وزیراعظم سے مطالبہ: افغانستان میں خوراک بھجگنے کی نئی درخواست

دولت کے چانلوں کو انکشاف کرتے ہوئے، اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے Pakistan سے Afghanistan میں خوراک بھیجنے کی ایک اہم درخواست کی ہے جس میں افغان عوام کو غذائی ترسیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

افغانستان میں خوراک بھیجنا: ایک نئی اہم پہلو

اجنوں سے پوچھتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ Pakistan افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے غذائی ترسیل کے لیے مثبت جواب دے گا، ان کی قیادت سے پورے افغانستان کو خوراک بھیجنے کی ترغیب ملتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک نئی تعلقات میں یہ غذائی ترسیل ایک اہم قدم سمجھی جاسکتا ہے، اس کی وجہ سے پوری فامیلوں کو خوراک مل سکتی ہے، اس طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات تیز ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی سرکاری سطح پر غذا بھججنے کا ایک نئا منصوبہ تیار کرنے میں اسحاق ڈار اپنی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے انسانی ہمدردی کے تحت غذائی ترسیل کھولنے کی کوشش کریں گے تاکہ افغانستان میں اس کے منصوبوں کو یقینی بنایا جا سکے اور اس سے دہشت گردوں کے ہاتھ میں نہیں چڑھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
 
افغانستان میں خوراک بھجنے کا یہ منصوبہ پاکستان کو ایسے لوگوں پر افادیت فراہم کرنے کا ایک اچھا موقع ہوگا جو اس وقت بھوک سے دوڑ رہے ہیں، لیکن یہ منصوبہ اس بات پر انہیں یقین دिलانے کے لئے بھی ہوگا کہ پاکستان کی سرکاری سطح پر افغان لوگوں کو خوراک مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں کافی تبدیلی اور ترقی بھی دیکھنا پڑ سکتی ہے، جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بھی تیز کر سکتی ہے 💪
 
😊 افغانستان میں خوراک بھججنے کی نئی درخواست، یہ ایک ایسا کام ہے جو پوری فامیلوں کو خوراک مل سکتی ہے اورPakistan اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بھی تیز ہو سکتے ہیں۔

دولت کی جانب سے اس کے منصوبوں کو یقینی بنانا ایک اہم کام ہے، لے کر کہنے کا بھی کوئی کام نہیں کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ہاتھ میں نہیں چڑھنا ہو گا، یہاں سے یقینی بنائی جا سکتی ہے کہ غذا بھججنے والے تمام لوگ انسانیت کی وجہ سے کام کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، یہ ایک ایسا قدم ہے جو ان اقوام متحدہ کے منصوبوں کو پورا کرنا ہے جو افغانستان میں خوراک بھججنے کی درخواست کی ہیں، تو یہ ریکارڈ بن گا کہ پاکستان نے ایسا قدم پیش کیا ہے جو دنیا بھر سے ان لوگوں کو متاثر کرے جو افغانستان میں محنت کر رہے ہیں۔
 
افغانستان میں خوراک بھجنا ایک اچھا فیک ہوگا، پاکستان کو اس نئے منصوبے میں اپنی مدد دینا چاہیے تاکہ افغان عوام کو ان کے لئے فائدہ ہو سکے
 
افغانستان میں خوراک بھججنے سے اس وقت تک نا ہو گا جتنا پوری فامیلیاں اس سے لازمی طور پر فائدہ اٹھائیں گی.

میری رائے یہ ہے کہ اس کے لیے نہ صرف افغانستان کو بلکہ پاکستان کو بھی ایسے ماحول میں ہلکیوں سے لے کر گھبراہٹ تک کی صورتات کا سامنا کرنا پڑے گا جس پر انہیں یقینی طور پر اس سے بچنے کے لیے کوئی واضح رہنما نہیں ہوگا۔

کیوں نہیں دیکھتے کہ یہ غذائی ترسیل صرف افغان عوام کی جانب سے پاکستان کے لیے فائدہ اٹھانے کا ایک ذریعہ بن گئے گی؟
 
مگر افغانستان میں خوراک بھجگنے کا منصوبہ تو پاکستان کے لئے ایک خطرہ ہو گا؟ انہوں نے اچھی طرح سے وہاں کیSituation ko samajh لیا ہو گا، افغانستان میں بھیجے جانے والی غذا کا یہ منصوبہ تو Pakistan کو ایک بدترین معاملہ میں پہنچا سکتا ہے…
 
بہت تیندور لگ رہا ہے اسحاق ڈار کو ایسا انکشاف کرنا کہ وہ افغانستان میں خوراک بھجنے کی نئی درخواست پوری کرنے کے لئے پاکستان کی سرکاری سطح پر کامیابی حاصل کرنے والے ہیں، اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہ نہ صرف افغان عوام کو غذائی ترسیل میں مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ انhumanitarian ہمدردی کے تحت بھی ان کے منصوبوں کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ تو ہمیشہ کہا جاتا رہا ہے کہ انسانیت میں ہمدردی سب سے اہم بات ہے لیکن اسحاق ڈار کو یہ بھی ہدایت کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں نہیں چڑھ سکیں، اور وہ ان کے لیے غذائی ترسیل بھی نہیں کر سکیں، یہ تو ایک ہزار جملوں میں بات کرنا ہوتا ہے لیکن اسحاق ڈار کی اچھائی کو سمجھنا بھی آسان ہوتا ہے
 
افغانستان میں خوراک بھججنے کی نئی درخواست کو دیکھتے ہی میرا یہ سوچنا ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ آج کل صحت کی صورت کی نیند کھانے سے بھی کم ہو چکی ہے، افغانستان میں خوراک بھجنے کی یہ درخواست تو واضع تھی لیکن پوری دنیا کا یہ جواب اس پر لگایا جاسکتا ہے کہ صحت کو بنانے کے لیے کیا چیٹ کرتے ہیں؟

فAMILY کی خوراک بھجنے سے تیز تعلقات نہیں بنتے، ایسا ہی تو لگتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک نئی غذا بھججنا اس کی سچائی کو بنایے گا؟
 
افغانستان کے حالات بہت تنگ اور بہت گھریلو ہیں, پوری دنیا اس پر دیکھ رہی ہے, لہذا افسوسناک بھی ہے کہ اقوام متحدہ نے Pakistan سے افغانستان میں خوراک بھیجنے کی ایک اہم درخواست کی ہے, اس پر کوئی سہaras نہیں، اسحاق ڈار کا یہ کہنا کہ Pakistan افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے غذائی ترسیل کے لیے مثبت جواب دے گا, سچ ہی کہنا چاہئے, حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ افغانستان میں خوراک بھیجنے سے پوری فامیلوں کو خوراک مل سکتی ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات تیز ہوسکتی ہیں, لیکن اس پر کئی بار کوشش کی گئی ہے تو کیا یہ ناہی پہLU ہوگی ؟
 
اس وقت کیا ہوا تھا افغانستان کو خوراک بھجگنے کی اہم درخواستیں؟ میرا خیال ہے کہ ایسے معاملات میں سست وچول نہیں رہنا چاہئیے، پورے افغانستان کو خوراک ملنی چاہئیے اور وہ لوگ جو یہ کوشش کر رہے ہیں وہ ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔
 
افغانستان کو خوراک بھجگنے کی ایک اہم درخواست دیتا ہو، لیکن پوری دنیا میں یہ سوال ہوتا رہتا ہے کہ اسے کس طرح حاصل کیا جائے؟


دولت کی جانب سے آئندہ دور میں فامیلوں کو خوراک ملنے کا منصوبہ تیار کرنا بھی اچھا ہو گا، لیکن یہ پوری دنیا کی مدد لینے کی ضرورت ہے۔


ایک نئے دور میں تعلقات تیز ہونے کے لیے پورے سوشل میڈیا پر یہ موضوع بھی ہونا چاہیے۔
 
افغانستان میں خوراک بھججنے کی نئی درخواست سے پہلے اس سے متعلق ایسا کیا جاسکتا ہے؟ افغان عوام کی یہ ترسیل کیسے ممکن ہوئے گی، جو لوگ انصاف کے لیے کھانے لینے والوں کو پہچانتے ہیں وہ کس طرح اس سے منحفظ ہون گے؟
 
افغانستان میں خوراک بھججنے کی نئی درخواست پر بات کرنا ایک اچھا قدم ہے، یہ نہ صرف افغان عوام کو غذائی ترسیل ملے گی بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بھی تیز ہو سکیں گی। لگتا ہے کہ اس حوالے سے وزیراعظم نے ایک اچھا منصوبہ تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر فوری نتیجے میں یہ کام سرانجام نہیں پائے گا۔
 
عاشق پکوانz 🍴 - یہ بہت اچھا واضح ہے کہ اقوام متحدہ نے افغانستان میں خوراک بھیجنا پاکستان کی طرف سے منسلک کیا ہے، یہ ایک اچھی بات ہے، پوری فامیلوں کو خوراک مل سکتی ہے تو تعلقات تیز ہو جائیں گے اس لیے Pak-aafghan food fest 🍔👏 اور humanitarian aid کھلنا بہت اچھا ہے، یہی نہیں پوری دنیا کے سامنے اچھائی کی چالز کرنی چاہئے 🌎
 
فریڈمی یہ ایک اچھا نiyat ہوگا کہ افغانستان میں خوراک بھیجنے کا منصوبہ بنایا جائے، ابھی تک پورے ملک کو گریجویٹ کی لچکی سے فوری اور مؤثر رہائی کا موقع ہوگیا ہے، یہ ایک سب سے بڑا نیک قدم ہوگا جو افغان عوام کو انki اہتیاط و چنجیوں سے بچائے گا۔
 
افغانستان میں خوراک بھججنے کا منصوبہ تو ایک اچھا کام ہوگا، لیکن یہ کہیں تک ہے پورے عالمی نظام پر توجہ نہیں دی گئی؟ میرے خیال میں پوری دنیا میں فقر کو حل کرنے کا واحد طریقہ یہ ہوگا کہ تمام ملکوں کی سرکاری سطح پر ایک وحدانی منصوبہ تیار کرلیں اور یہ سب ملکی معاشروں میں پھیلایا جائے 🤔

اور افغانستان کے لیے یہ بہت اچھا ہوگا، لیکن وہ اس کے علاوہ جو چل رہی ہے ایسے کچھ نہیں کرتا ہے؟ پاکستان کو بھی افغانستان سے گھریلو معاشرے کی مدد کرنی چاہئیے، اس لیے انڈیا اور پاکستان میں ایک وحدانی منصوبہ لانے کے بارے میں سوچنا چاہئیے 📈
 
مگر افغانستان میں خوراک بھجگنے کی نئی درخواست پر غور کریں تو یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ اس کے پیچھے کیا انصاف ہے؟ پہلے تو افغانستان میں خوراک بھیجنے کی توقع تھی، اب یہ نئی رہنمائی ہے کہ Pakistan اس پر کیا جائے گا? مگر یہ بات ایک طرف رکھ دی جا رہی ہے کہ افغانستان کی وہ پوری زمین جو ابھی سیکڑوں سال سے کوئی نہ کوئی جنگ کے بعد اس پر چھوٹ گئی ہے، اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ Pakistan اس زمین پر کیا بنائے گا؟ مگر افغانستان کی زمین بھی پوری نہیں ہو سکتی!
 
افغانستان میں خوراک بھججنے کی یہ نئیREQUEST، تو کچھ قابل غور باتوں کا مظاہر ہے। لیکن وہ اس کی پوری قیمتیں لے کر آگے بڑھ سکتا ہے؟ وہی سوال ہے جو میں ہمارے forum کے نئے منظر نامے پر بھی پوچھ رہا تھا... یہاں تک کہ کہیں یہ ایک اور حقیقت بن گیا ہے۔ forum کی قیمتیں لینے سے قبل اس کا استعمال ہمارے لیے کیا مفید ہو سکتا ہے؟
 
افغانستان میں خوراک بھجگنے کی ایسی پہلی درخواست ہو سکتا ہے جو کہ افغان عوام کو غذائی ترسیل کرنے کی ایک اہمChance mil سکتی ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ افغانی سرکار بھی اپنی طرف سے کوئی خاص اقدام نہ کرے تاکہ پاکستان کی جانب سے پیش کردے ہوئے اس منصوبے کو یقینی بنایا جا سکے، لیکن یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ غذا بھججنے والے پاکستانی اداروں کی ساتھ ایک نئی پلیٹ فارم بنائی جائے تاھر ان کے کام کو اس پر ڈال کر افغان عوام کو اس منصوبے میں شامل کرایا جا سکے،

اس منصوبے کو اچھی طرح سے تیار کیا جائے تو یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہت زیادہ قریب لانا پڑسکتا ہے، اس سے پوری فامیلوں کو خوراک مل سکتی ہے تاکہ وہ بھی کمرشل اور معاشرتی منفرد بن سکیں،
 
واپس
Top