اسٹیٹ بینک کا شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

ساز نواز

Well-known member
اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ بنیادی شرح سود اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک انہوں نے نہیں کہا کہ 10.5 فیصد ہی، اس میں مختلف اقدامات کی وجہ ہے۔

جون میں مہنگائی اور کیش ریزرو ریکوائرمنٹ دونوں بھی اچھا نتیجہ نہیں دکھانے کی وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آرہی ہے اور افراط زر کی شرح 5 سے 7 فیصد رہنے کا امکان ہے، اس لیے گورنر نے یہ فیصلہ لے کر انہی وجوہات کو نظر انداز کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ درآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور برامدات میں رواں سال 6 فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے، لیکن گورنر نے انہی وجوہات کو بھی نظر انداز کر دیا ہے اور انہیں بھی اس فیصلے سے ملایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے 1 فیصد تک رہے گا، اور معاشی ترقی کے اثرات ڈیڑھ سے دو سال میں نظر آتے ہیں، حالانکہ انہوں نے خود بھی بتایا ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ 8 ماہ سے بڑی صنعتوں کی ترقی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اور رواں مالی سال 5 ماہ میں لارج اسکیل مینیوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) نے 6 فیصد ترقی کی۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنے گزشتہ اجلاس میں مارکیٹ توقعات کے برعکس پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 10.5 فیصد کردیا تھا۔
 
یہ بات واضح ہے کہ ایک بار انہوں نے مانیٹری پالیسی کر دی، اس کے بعد اس کی جگہ نہیں اٹھنی چاہیے! اسے دیکھنا ہی بہت مشقت ہوگی کہ گورنر جمیل احمد نے کیسے ان تمام معاملات کو نظر انداز کیا ہے اور انہیں ان 10.5 فیصد میں لپیٹ کر رکھا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ایک چاتھر تیزاب ہی پھیلانے سے بڑا کامیابی کا راز نہیں ہوتا! یہ بات واضح ہے کہ مانیٹری پالیسی کو لگتے ہوئے معاملات پر عمل کرنا چاہیے، کیونکہ جس سے زیادہ کامیابی ملتی ہے وہی ہوتا ہے۔
 
یہ واضح ہو گیا ہے کہ 10.5 فیصد یہ صرف ایک حد ہے جو اس وقت تک برقرار رہے گی جتنا گورنر جمیل احمد نہیں کہے۔ اس میں کئی اقدامات کی وجہ ہے، جیسا کہ مہنگائی اور کیش ریزرو ریکوائرمنٹ کو دیکھتے ہوئے انہوں نے یہ فیصلہ لے لیا ہے۔ لیکن جب آپ اسے صاف سمجھیں تو یہ صرف ایک حد ہے جو انہوں نے اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ 🤔
 
اس مانیٹری پولیسی کو دیکھتے ہیں تو یہ بہت دلچسپ ہے کہ گورنر نے بنائے गए 10.5 فیصد کی شرح کو صرف اس وقت تک برقرار رکھا جب تک وہ ہی نہیں کہتے کہ یہ فیصلہ سستا نہیں اٹھایا گیا تھا!

جب میں مہنگائی اور کیش ریزرو ریکوائرمنٹ دونوں نہیں دکھاتے تو اس لئے 10.5 فیصد یہی بن جاتا ہے، لیکن اب زرمبادلہ کی وجہ سے اسے اچھی طرح سے نظر انداز کیا گیا ہے۔

ان میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے سہولت پر بہت زیادہ توجہ دی ہو، اور اب وہ کہتے ہیں کہ معاشی ترقی کے بعد انہیں کچھ دیر پھینکتا ہے!

لوگ اس 10.5 فیصد کو دیکھ کر اپنی بینکوں سے بے چینی کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کا بھی خوف نہیں ہوتا، لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس مانیٹری پولیسی سے ان کا معاشرہ کس طرح نقصان ہوا گا!

اب تک یہ 10.5 فیصد کی شرح دیکھتے ہیں تو میرے لئے یہ بہت خطرناک ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ لوگوں کو اچانک میں بینک ریزرو سے نقصان پہنچایا جائے گا!

میری رाय یہ ہے کہ اس مانیٹری پولیسی کو منازلہ نہ دیا جائے، اور اس لئے لوگوں کو سہولت ملنے کی چنگیزی پر دھیائے!
 
میں تو سوچتا تھا کہ یہ مانیٹری پالیسی گورنر جمیل احمد کی بہت سی غلطیوں کو نظر انداز کر رہی ہے، جیسے کہ اس نےImports میں اضافہ اور Exports میں کمی کو نظر انداز کیا ہے اور اسی طرح سے لائسنس پر بھی نظر انکار کر دیا ہے۔ مگر پتہ چلتا ہے اس نے تینوں میں بھی یہی کیا ہے، جیسے لائسنس پر نظربند رہنا، Imports پر نظر انداز رہنا اور Exports میں کمی کو دیکھتے ہوئے اس نے بھی یہی کیا ہے۔

میں تو سوچتا تھا کہ گورنر جمیل احمد ایک ممتاز اور منصفانہ رہنما ہے، لیکن اب جس بات کو دیکھتے ہیں وہ نہیں ہوتی ہے۔ یہ مانیٹری پالیسی اس گورنر کی غلطیوں پر بہت زیادہ اچھا لگ رہی ہے۔
 
یہ واضح ہے کہ اسٹیٹ بینک نے ایسا فیصلہ لیا ہے جس کی وجوہات کو گورنر جمیل احمد نے سے سترہ کی جھالنے کی ہے۔ اگرچہ انہوں نے کہا ہے کہ بنیادی شرح سود برقرار رہے گی، لیکن یہ بات پتہ چلگئی ہے کہ اس سے کیا مقصد ہوگا؟ مانیٹری پالیسی کی وجہ سے 10.5 فیصد ہی نہیں لیا گیا، بلکہ گورنر جمیل احمد کے اپنے حوالے سے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ اور اس میں کیا انچارج بھی شامل ہے؟
 
اسٹیٹ بینک نے گورنر جمیل احمد کا یہ فیصلہ کیسے لایا؟ مگر یہ بتاتے ہوئے بھی پتا چلا کہ ایسا تو انھوں نے نہیں کیا کہیں مہنگائی اور کیش ریزرو ریکوائرمنٹ پر دباو اچھی نتیجہ نہیں دکھایا؟ 🤔
 
اسٹیٹ بینک نے ایک اور ریکارڈ بنایا ہے، اس سے آپ کو یہ سوچنے کا موقع ملا ہے کہ معاشی پالیسیوں کی پہلی 10.5 فیصد رکاوٹ کی کوئی حد نہیں ہوتی، اس لیے پھر بھی آپ سے سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ اگر اچھا معاشرہ کس کی ضرورت ہے اور کیا معاشی ترقی کو دیکھتے ہوئے اس طرح کی پالیسیوں سے بھاگنا چاہیے؟
 
بilkul یہ گھور سے دیکھا جاسکتا ہے کہ گورنر جمیل احمد کی نیت کس چیز پر مبنی ہے؟ مانیٹری پالیسی میں ایسے اضافے بلا کر انہوں نے کیا معاشی ترقی کو دیکھا ہے? اس میں اسٹیٹ بینک کی موثر گشائی و ترقی پر بھی توجہ نہیں دی گئی... 🤑
 
ایسے تو، مانیٹری پالیسی میں زیادہ اچھائی نہیں دیکھنے کے بعد، گورنر جمیل احمد نے بنیادی شرح سود کو 10.5 فیصد رکھا ہوا یہ بات کا فائدہ لے لیا ہے کہ اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک انہوں نے اسے نہیں کہا!

یہ پوری کھینچ دھاتی ہوئی پالیسی کی وجہ سے، تو یہ بات بھی سامنے آئی کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مارکیٹ توقعات سے پالیسی ریٹ کو 50 بیسس پوائنٹ्स کم کر کے 10.5 فیصد کردیا تھا... اور اب وہیں رہے!

میڈیا کے لوگ اس پر بھی سوجھنے والے نہیں دکھتے! انھوں نے یہ پالیسی کو بنایا ہوا 10.5 فیصد کی شرح سود کو برقرار رکھنے کا فائدہ اٹھایا ہے۔

اب تو یہ دیکھنا بھی انوکھا ہوگا کہ کیا اس پالیسی سے معاشی ترقی ہوئے گی یا نہیں? کیا اچھائی اور خرابی کی بات اس پلیسٹک سے چلا آئے گی؟
 
یہ تو بہت چالاکانہ! گورنر جمیل احمد کو یہ بات نہیں آئی کہ ان کی پالیسی میں دھول ڈالتے رہنا ہے? انہوں نے جن لوح پینوں پر لکھا ہے وہ پوری نہیں چلے گئیں! کیا یہ صرف مہنگائی اور کیش ریزرو ریکوائرمنٹ کی وجہ سے ہی نہیں تھا؟ ان کے پالیسی میں اس بات کو نظر انداز کرنا بھی بھرپور ہے کہ درآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور برامدات میں گھٹنے کی وجہ سے یہ فیصلہ لینا کتنے عقلانہ تھا?
 
بہت اچھی نیت ہے اسٹیٹ بینک کی، گورنر جمیل احمد کی بھی واضح بات ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ صرف ایسا کیا ہے جس سے معاشی ترقی میں اضافہ ہوا ہوگا، ابھی تک بھی اچھی نتیجہات دکھانے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے 10.5 فیصد کی شرح سود برقرار رہیگی۔
 
یہ بات ایک بار پھر سامنے آئی ہے کہ مانیٹری پالیسی میں بھی تقریباً یوں ہی معاملے ہوتے رہتے ہیں جیسا کہ اساتذہ کی مینجمنٹ میں دیکھنے کو پڑتا ہے۔ اور یہ نہیں ہے کہ ایسے فیصلوں سے معاشی ترقی ہوتی ہی، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ پالیسی مینجمنٹ میں کیے جانے والے اقدامات اور معاشی صورتحال کو کیسے ملایا جاتا ہے؟
 
یہ تو واضح ہے کہ گورنر کو اپنی بہادری سے ہمت ہار گئی ہے 🤦‍♂️. اس نے مانیٹری پالیسی میں ایک بار فिर 10.5 فیصد لگایا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی پالisiس میں کچھ نئی چییز نہیں ہے، بس وہ اسی جگہ پر دوپہر کے مشق کر رہے ہیں 😂. اور اس کا فائدہ بھی ان کو ملتا ہے کہ وہ اپنے نتیجوں کو پچتاو کرنے سے بچ جاتے ہیں...
 
واپس
Top