اسٹیٹ بینک نے اس وقت ہونے والی معاشی سسٹم میں واضح تبدیلیوں کو کبھی بھی نقصان نہ پہنچنے پر ادراک کیا ہے، اس لیے انھوں نے ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی جو اگست 2025ء کے بعد جاری زری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں اچھی معاشی سسٹم کی وضاحت کی گئی ہے جو محتاط زری پالیسی اور جاری مالیاتی یکجائی کے باعث حاصل ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں مجموعی میکرو اکنامک حالات میں بہتری آئی ہے۔
مگر یہ رپورٹ ان کھیلوں سے بھی جودتی ہے جس کی وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ ملک میں مہنگائی کو کنٹرول کرنا، بیرونی کھاتے کو پورا کرنا اور معاشی نمو کو بڑھانا یہ سب ایک ہی رینج میں آتا ہے اور اس لیے انھوں نے بھی اس میں کوئی فرق نہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس رپورٹ سے لگایا گیا تخمینہ یہ ہے کہ مالی سال 2026ء اور 2027ء میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہی گئی، جو اس وقت تک بھی نا لگنے والی ہو سکتی ہے، اس لیے انھوں نے پوری ترس کو کم کرنا نہیں چاہیے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اس کھیل میں بلند تجارتی خسارے کو ڈھیلے جانے کی صلاحیت ہو گئی ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ عام قریبي زر کی مضبوط ترسیلاتِ زر کے باعث ایسے بلند تجارتی خسارے کو پورا کر لیا جا سکتا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ منصوبہ بند سرکاری آمدنی نے جزوی طور پر پورا کیا ہے، اس لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو ایک فیصد سے کم رکھا جا سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری اسی کھیل میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور انھوں نے یہ رپورٹ جاری کرنے پر یقین کیا ہے اور اس کا پورا فائدہ اس لیے لے سکتا ہے کہ انھیں یہ واضح رکھنا تھا کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری کو بڑھایا ہے اور اس کے پرانے سسٹم کی کوشش کرنے والے لوگوں سے بھی ایک واضح رپورٹ جاری کرنی تھی۔
اسٹیٹ بینک نے آئندہ منظر ناموں کو بھی واضح کیا ہے اور انھوں نے اس سسٹم میں کیے گئے تمام تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے اور انھوں نے یہ رپورٹ جاری کرنے پر یقین کیا ہے اور اس کا پورا فائدہ اس لیے لے سکتا ہے کہ انھیں یہ واضح رکھنا تھا کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری کو بڑھایا ہے اور اس کے پرانے سسٹم کی کوشش کرنے والے لوگوں سے بھی ایک واضح رپورٹ جاری کرنی تھی۔
عالمی ٹیرف اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو ابھرتے ہوئے خطرات کا بھی انھوں نے ایک واضح جائزہ لیا ہے اور انھوں نے یہ رپورٹ جاری کرنے پر یقین کیا ہے اور اس کا پورا فائدہ اس لیے لے سکتا ہے کہ انھیں یہ واضح رکھنا تھا کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری کو بڑھایا ہے اور اس کے پرانے سسٹم کی کوشش کرنے والے لوگوں سے بھی ایک واضح رپورٹ جاری کرنی تھی۔
میں کبھی اچھی معاشی سسٹم کا تصور نہیں کرتا، یہ صرف ایک گیم ہے جو کہیں بھی ختم ہو سکتی ہے۔
میں اپنے پاپ لائیٹ کو چڑھاتے رہتے ہوئے سوتا تھا اور میں ان کھیلوں کی سوچ رہتا تھا جس پر اسٹیٹ بینک نے اپنی واضح رپورٹ بنائی ہے، مگر تو یہ سب ایک دوسرے سے مل کر اچھی معاشی سسٹم کا تصور بنا سکتا ہے اور پھر بھی میں اسے جیتنا نہیں چاہتا، اُس کی جگہ یہ کہ میں ان کھیلوں کا فری لانچ دے سکا ہوں۔
اسٹیٹ بینک کو پوری ترس کم کرنے کی کوئی जरورت نہیں، مگر تو اس کی جگہ میں یہ ہو کہ وہ ایسی رپورٹ جاری کریں جو انھیں اپنی ذمہ داری بڑھانے اور پرانے سسٹم کی کوشش کرنے والوں سے ایک واضح رپورٹ جاری کرنے کی اجازت دیں۔
اس کھیل میں میں ان کھیلوں کو لاتے رہنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میں جانتا تھا اُس سسٹم کی کوشش کرنے والی لوگوں کو اس رپورٹ سے پہلے کیسا محسوس کرتا۔
میں یہ دیکھا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے جو معاشی سسٹم میں تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے لائی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہی گئی ہے لیکن واضح طور پر اس نے بتایا ہے کہ یہ تخمینہ ابھی بھی نا لگنے والا ہو سکتا ہے اور اس لیے کسی کو بھی ان کی ترس پوری نہیں ہونے دی جائے گی...
لگتا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے معاشی نظام میں تبدیلیوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے، اگرچہ انھوں نے جاری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں پر بھی اس رپورٹ بنائی ہے۔
اس رپورٹ سے لگایا گیا تخمینہ مہنگائی میں اضافے کی پیشگوئی کرتا ہے، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری کو بڑھایا ہے اور پرانے سسٹم کی کوشش کرنے والوں سے بھی ایک واضح رپورٹ جاری کرنی تھی۔
انھوں نے عالمی ٹیرف اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو بھی دیکھا ہے، لیکن انھوں نے اپنی پالیسی کی صلاحیت سے یہ واضح رکھنا تھا کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری کو بڑھایا ہے اور اس کے پرانے سسٹم کی کوشش کرنے والوں سے بھی ایک واضح رپورٹ جاری کرنی تھی۔
اس میں نہایت انقیلاب کی ضرورت نہیں ہے، اگرچہ انھوں نے اپنی پالیسی کو بڑھایا ہے اور اس کے لیے ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی نئی رپورٹ میں یہ بات دکھائی دی گئی ہے کہ انھوں نے اپنے پرانے سسٹم میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی ہے، بلکہ وہ اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور اب انھوں نے ایسی رپورٹ جاری کر دی ہے جو اس سسٹم میں کی گئی تبدیلیوں پر مشتمل ہے۔
اس سسٹم کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ یہ معاشی سسٹم محتاط زری پالیسی اور جاری مالیاتی یکجائی کے باعث حاصل ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی میکرو اکنامک حالات میں بہتری آئی ہے۔ لیکن یہ رپورٹ ایسی ہے جو اس سسٹم کو ایک واضھ نہیں دیتی، بلکہ اسے ایک چلائی گئی رہنما کی جگہ پر رکھتی ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بات بھی دکھائی دی گئی ہے کہ انھوں نے اس سسٹم کو ایک ایسی چیلنج بنایا ہے جو انھیں ایک جیدہ منصوبہ بنانے کی اجازت دیتا ہے، لیکن یہ رپورٹ اس سے بے ریزوں ہے اور اس میں کوئی ایسی جائزہ نہیں ہے کہ انھوں نے اپنے سسٹم میں کوئی تبدیلی کی ہے یا نہیں۔
اس رپورٹ کا ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے اس سسٹم میں اتار چڑھاؤ کو ایک خطرات کی جگہ پر رکھ دیا ہے اور انھوں نے یہ بات کبھی بھی تسلیم نہیں کی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی یہ رپورٹ ایسی ہے جو اس سسٹم کو ایک واضھ نہیں دیتی، بلکہ اسے ایک چلائی گئی رہنما کی جگہ پر رکھتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کو یہ واضح ہے کہ انھوں نے ہمیں ایسا دیکھنے سے بھگتایا ہے کہ اس معاشی سسٹم میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں وہ اچھی ہیں اور ان کی وجہ سے مہنگائی 5 سے 7 فیصد رہی گئی ہے! یہ تو واضح ہے کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری کو بڑھایا ہے اور اس سسٹم کی کوشش کرنے والی ایسی رپورٹ جاری کی ہے جو انھیں واضح رکھتی ہے کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری کو بڑھایا ہے!
اسٹیٹ بینک نے ششماہی زری پالیسی کی یہ رپورٹ اس لیے بنائی ہے کہ ملک میں مہنگائی کو کنٹرول کرنا، بیرونی کھاتے کو پورا کرنا اور معاشی نمو کو بڑھانا یہ سب ایک ہی رینج میں آتا ہے۔ لگا کہ اگست 2025ء سے بعد اس سسٹم میں کیے گئے تمام تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور انھوں نے یہ رپورٹ جاری کرنے پر یقین کیا ہے... ڈیٹا کے ساتھ نہیں چل رہا، اس ٹیکنالوجی میں 2025ء کی اچھی ترقی نہیں دیکھی گئی...
ایسا لگتا ہے جیسے اس رپورٹ میں یہ بات بھی شامل کی گئی ہو گی کہ اس سسٹم کو 10 سالوں بعد بھی استعمال نہیں کرنا چاہیں گے۔ یہ رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ اچھی معاشی سسٹم کی فیکٹریا کیس میں مہنگائی کو کنٹرول کرنا، بیرونی کھاتے کو پورا کرنا اور معاشی نمو کو بڑھانا ایک ہی رینج میں آتا ہے۔
اس سسٹم کو نافذ کرنے والے لڑکوں کو ان چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے پچتایا جانا چاہیے جو اس سسٹم کی وجہ سے جاری رہتے ہیں۔ میرے لئے یہ رپورٹ ایک ایسی تجزیہ ہے جو پوری ترس کو کم کرنے کے بجائے اچھی معاشی سسٹم کی وضاحت پر توجہ دیتا ہے۔
اس ٹرینو پر یہ بات ہے کہ اسٹیٹ بینک نے اپنے پرانے سسٹم کو تبدیل کرنے کی کوشش میں اس رپورٹ جاری کر دی ہے، لیکن یہ واضح رہتا ہے کہ انھوں نے اس کے لیے ایک نئی زری پالیسی کی ضرورت کی ہے جو اس سسٹم میں تبدیلیاں کر سکے۔
اس رپورٹ سے لگایا گیا تخمینہ مہنگائی کو کنٹرول کرنا، بیرونی کھاتے کو پورا کرنا اور معاشی نمو کو بڑھانا ہے، لیکن یہ واضح رہتا ہے کہ انھوں نے اسے ایک لچکدار فریم ورک میں رکھا ہے جو اس سسٹم کی تھروٹ کو کم کر سکے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق بلند تجارتی خساروں کو پورا کرنے کی صلاحیت ہو گئی ہے، لیکن یہ واضح رہتا ہے کہ انھوں نے اسے ایک اچھی ترسیلاتِ زر کا مطالبہ بھی رکھا ہے جو اس سسٹم میں تبدیلی کو کم کر سکے۔
یہ رپورٹ جاری کرنے پر اسٹیٹ بینک کا یقین تھا اور انھوں نے اپنی ذمہ داری کو بڑھایا ہے، لیکن یہ واضح رہتا ہے کہ اس سسٹم میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں اور انھوں نے اپنے پرانے سسٹم کی کوشش کرنے والوں سے بھی ایک واضح رپورٹ جاری کی ہے۔
اس ٹرین کی نہ ہوگی، یہ سب کوئی بھولنا چاہتے ہیں اور اس سسٹم کی پوری کوشش کو کم کرنا ہی چاہتے ہیں، مگر انھوں نے یہ سب اپنی ذمہ داری کو بڑھانے کی کوشش کی ہے، اور اس لیے انھوں نے اس رپورٹ جاری کرنی کی تھی، جو انھیں ایک واضح رپورٹ بھی بناتی ہے، مگر یہ سب انھیں پورا نہ کرنا چاہتے ہیں، اور اس لیے انھوں نے ایسے Numbers بھی شامل کیے ہیں جو انھیں پورا کرنے میں مشکل لگے گا. ~
اس ٹیکسن لگتی ہے جو اسٹیٹ بینک نے ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کرنی کی وہنچت کی ہوئی ہے، مگر یہ بات چھپائی نہیں جاسکتی کہ انھوں نے اس کی بنیاد ایسی ہے جو اگلی کے دنوں تک بھی واضح رہ سکتی ہے اور مگر یہ رپورٹ جاری کرنا ہر رینج میں ایک اچھا کھیل سمجھایا جا سکتا ہے جو اس لیے بھی اچھا ہے کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری کو بڑھایا ہے۔
بھارتی اکنامی سسٹم میں اب واضع تبدیلیاں آ رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے!
اس سسٹم کو بھی انھوں نے یہی کہا ہے جو محتاط زری پالیسی اور جاری مالیاتی یکجائی کی وجہ سے حاصل ہوا ہے، جس سے مجموعی میکرو اکنامک حالات میں بھی بہتری آئی ہے.
لیکن یہ رپورٹ ان کھیلوں سے بھی جودتی ہے، جس کی وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ ملک میں مہنگائی کو کنٹرول کرنا، بیرونی کھاتے کو پورا کرنا اور معاشی نمو کو بڑھانا یہ سب ایک ہی رینج میں آتا ہے.
اس سسٹم کا ایک نئا تخمینہ ہے جس کے مطابق مالی سال 2026ء اور 2027ء میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہی گئی.
اسٹیٹ بینک کے مطابق ایسے بلند تجارتی خساروں کو پورا کرنے کی صلاحیت ہو گئی ہے جو اس وقت تک بھی نا لگنے والی ہو سکتی ہے.
مگر یہ رپورٹ انھیں کچھ واضح رکھتی ہے کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری کو بڑھایا ہے اور اس کے پرانے سسٹم کی کوشش کرنے والے لوگوں سے بھی ایک واضح رپورٹ جاری کرنی تھی.
عالم ٹیرف اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو ابھرتے ہوئے خطرات کا بھی انھوں نے ایک واضح جائزہ لیا ہے.
اس سسٹم میں واضع تبدیلیاں آ رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے!
ہمارا معاشی نظام ابھرکے ہوئے ہیں اور اس کی ایک نئی ریکارڈ رپورٹ آج ریلیز ہوئی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مہنگائی معاشی نمو میں اس وقت تک بھی زیادہ نہیں پائی گئی ہے جتنا یہ رپورٹ بتا رہی ہے
اس سسٹم میں ایسی تبدیلیاں کیے گئے ہوتے ہیں کہ لوگ انھیں ایک نئی معاشی دuniya کا تجربہ کر سکتے ہیں اور اس رپورٹ سے لگایا گیا تخمینہ 5 سے 7 فیصد تک مہنگائی کی حد ہے، جو ابھرکے معاشی نظام کے لیے بھی یقینی بات ہے