اسلام آباد میں بڑی کارروائی، ویزا فراڈ نیٹ ورک بے نقاب - Daily Qudrat

ہنس

Well-known member
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ایک ویزا فراڈ ایجنٹ کو Islamabad میں گرفتار کر لیا ہے جو انسانی اسمگلنگ اور بیرونِ ملک روزگار فراڑ کے جھوٹے وعدوں سے شہریوں کو پرت کیا رہتا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق وہ ایک غیر قانونی ایجنسی چلا رہا تھا جس نے بیرونِ ملک ملازمت کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے شہریوں کو لوٹ رکھتا تھا اور ان سے 19 لاکھ روپے تک کھینچتے تھے۔

ملزم کی شناخت آصف ندیم تھی جو برطانیہ میں ملازمت دلوانے کا جھانسہ دیتے ہوئے ایک شہری سے 19 لاکھ روپے ہتھیا لیے تھے، لہذا وہ کوئی قانونی سفری دستاویزات فراہم نہیں کر سکتے اور ان ملازمتوں کے بارے میں کوئی مستند ثبوت نہیں دیتے۔

متاثرہ شہری کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر ایف آئی اے نے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے بعد چھاپہ مار کارروائی کے دوران ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا نتیجہ حاصل ہونے سے قبل وہ ایک منظم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھا، جو بیرونِ ملک ویزا اور ملازمت دلوانے کے جعلی دعوؤں کے ذریعے سادہ لوح شہریوں کو نشانہ بناتا تھا۔

ایف آئی اے نے ہدایت کی ہے کہ شہریوں کو بیرونِ ملک روزگار کے کسی بھی انتظام سے قبل متعلقہ ایجنٹ کی تصدیق ایف آئی اے کے سرکاری پروٹیکٹر آف امیگریشن سے لازمی کریں، تاکہ کسی بھی جھوٹے وعدے سے بچا جا سکے۔
 
یہ ٹپک سے بھر پور! کون سا ایسا معاملہ اٹھا رہا ہے جس میں لوگ اپنی جانب دیکھ کر اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں? شہریوں کو اچھے ملازمت سے پھنسایا جاسکتا ہے اور انہیں اپنے پیسے توٹتے ہیں! ایسے لوگ بہت اچھے ہوتے ہیں? 😂
 
نظریہ ہے کہ یہ بہت ایسے لوگوں کی جانب سے شکایت ہوتی رہتی ہے جو بیرون ملک ملازمت دلوانے کا جھانس لیتے ہیں اور شہریوں کو پرت کر دیتی ہیں، یہ تو بے حرمت ہے لیکن کیا کچھ کامیاب منظر نامے موجود نہیں ہوتے؟ ہمارے پاس ایسا ساتھ ہونا چاہئے جس سے ہم ان جھوٹوں کو روکن۔
 
تجزیہ سے یہ بات صاف ہوتی ہے کہ جو لوگ بیرون ملک ملازمت دلوانے کے جھوٹے وعدوں میں شامل ہوتے ہیں انہیں بڑا خطرہ ہے। اس لیے، شہریوں کو ایسے انتظامات سے دوری رکھنی چاہئے جو کہ جھوٹے وعدوں کی پیداوار میں مصروف ہوتے ہیں اور ان کی تصدیق ایف آئی اے سے کرائی جا سکتی ہے۔
 
اس نئی جانب سے بھی اچھا ہوا ہے کہ ایسے جھوٹے لوگوں کو Islamabad میں گرفتار کر لیا گیا ہے جنہوں نے اپنے شہری بھائیوں سے پرت کیا تھا۔ آصف ندیم کی شناخت اور ان جھوٹی ملازمتوں میں 19 لاکھ روپے ہتھیے تھے تو یہ تو بہुत زیادہ تھا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے شہریوں کو بدترین جھوٹ پھوڑتے رہے ہیں۔

اس کی طرف سے ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ یہ معاملات ان لوجک لوگوں کے اور نہیں، جو اپنے شہری بھائیوں کو بدترین جھوٹ پھوڑتے ہیں تو وہی معذور ہوتے ہیں، لیکن آصف ندیم کی شناخت کے باوجود انہیں بھی انکہیں نہیں کیا گیا ہوگا، اس پر نظر رکھنی چاہئے کہ وہ شہریوں کو کیسے پرت کرتے تھے اور انہیں یہ کس طرح جھوٹے وعدے کیا کر رہے تھے۔
 
اس نئی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے میں اس کی توسیع کے بارے میں سوچتا ہوں کہ یہ ایک اہم بات ہے جو ناکام لوگوں کو روکنے کے لئے کرنے پڑی، مگر یہ بھی دیکھنا بہت اچھا ہے کہ ایسے جھوٹے وعدوں سے نمٹنے کی پوری سے پوری معلومات مل رہی ہیں جو شہری کو ان سے بچانے میں مدد کر سکتی ہیں۔
 
اس وقت ہونے والے دھंध کو دیکھتے ہوئے یہ سبک کہنا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ بہت زیادہ جھاد کر رہے ہیں جو اپنے پیروں میں سے لوگوں کو پرت کرتی ہیں تاکہ وہ اپنی ملازمت کا فلم ڈکھو سکین اور وہ اپنے پیروں میں سے لوگ ٹیکس ایکٹ کر رہے ہیں لیکن یہ سبک 19 لاکھ روپے تک ملازمت دلوانے کا جھانسہ دیتے ہوئے جو بھی شہری اس کو سن سکتا ہے وہ ایسا کرنے کا لازمی نہیں ہوتا۔
 
یہ دکھائی دے رہا ہے کہ نوجوانوں پر ایسے تئرانے اور جھوٹے وعدے ہوتے ہیں جو ان کی زندگی کو ختم کر سکتے ہیں... 💔

میں سوچتا ہوں کہ ملزم ایک منظم بھلائی ادارے جیسا ہونا چاہیے نہیں کہ وہ لوگوں کو جھوٹے وعدے سے پرت کر رہتے ہیں... 🙅‍♂️

ایسے جھوٹے وعدے سے بچنے کا ایک واحد طریقہ ہے کہ شہری اپنی جانب سے فوری کارروائی کرنا شروع کریں، سبسکرائیڈ ایف آئی اے کے نیوز چینل پر رہنے کی کوئی ضرورت نہیں... 📰
 
ایسے لوگ کبھی نہیں ڈھونڈتے کہ ان کے پیروکاروں کی جان پہنا رہتا ہے۔ ایسا ملزم ایسا ہی تھا جو اپنے پیروکاروں کو لاکھوں روپے میں پرت کر رہتا تھا اور یہ نتیجہ ایف آئی اے کے تحقیقات سے ملتا ہے جو نہ صرف ان کے جھوٹے وعدوں کو لکھ دیتی ہے بلکہ ان ملازمتوں کی مستند ثبوت بھی کہتی ہے تاکہ وہ لوح شہریوں کو نشانہ بناتا رہے۔
 
عثمانی ادارے نے ایک ویزا فراڈ کو ہار کر دیا ہے، چاہے اس نے کیوں کیا اور کیسے کیا، یہ بات تھی تو 19 لاکھ روپے لینے کے بعد بھی وہ شہری اپنی جانت پر چلے گئے، مچھلی پھنڈ کا پہلو اور دوسرے لوح شہریوں کو ایسے ہی رکھنا ہی نہیں ہوتا تاکہ وہ اپنی جائیداد کھو کر ہمیشہ ٹرول ہو کے رہتے ہیں، پورا معاملہ نہ سٹاپ ہوتا لگتا ہے اس لیے یہ ادارے ایسے ویزا فراڈوں کو کیسے پھانسی دیتے ہیں، یہ کیا معاملات سے جود ہوتے ہیں؟
 
اس ویزا فراڈ ایجنٹ کو گرفتار کرنے پر تو یقینا ہی خوشی ہے، لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ اس طرح کی جھوٹے وعدوں سے شہریوں کو پرت کرنا جاری نہ رہے
 
یہ تو اچھا ہے کہ انسپکشن آف انٹرنیشنل ایجنسی نے اس چور کو پھنڈرا کیا ہے، لاکھوں روپے کی جھوٹی ملازمت کے وعدوں سے لوگوں کو بچا لیا جا رہا ہے۔ اب تو یہ شہری اپنی جانب سے ایسے چوروں کی لاشوں پر چڑھ کر دھمکاوٹ کر رہے ہیں اور ان کا سر جھلک رہا ہے۔
 
ایسا ہونا کبھی نہیں پینا چاہیے اور اب یہ ملزم کی گرفتاری کی بات آ رہی ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو پھٹانے سے نہیں بچایا جا سکta. ملازمت دلوانے اور ویزا فراڈ میں شہریوں کی بھوک پر رکنا تو ایسا ہی کیسا ہوتا جہاں سے نہیں ملتا. لیکن ایسا محض پینے والے کی بات نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھلے کچھ چھپنے والے بھی دیکھے جاتے ہیں.
 
واپس
Top