اسلام آباد کو 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کی بڑی تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے، وفاقی حکومت نے بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کا عمل شروع کیا ہے۔ اسلام آباد میں 3 ٹاؤن کارپوریشنز بنانے کا یہ فیصلہ دوسرے شہروں کی طرح اسلام آباد کو بھی ایک نئے نظام میں لے جانے کے لیے ہے، جس سے اس میں نئی ترقی اور ترقی کا موقع حاصل ہوگا۔
نئے بلدیاتی نظام کے تحت اسلام آباد میں 3 میئر اور 6 نائب میئر تعینات کیے جائیں گے، جو کہ الگ الگ ٹاؤنز کو برقرار رکھنے کا ایک ایسا طریقہ ہوگا، جس سے اسلام آباد میں سیاسی اور انتظامی کارروائیوں میں بھی نئی تبدیلی آئے گی۔
اسلام آباد میں بلدیاتی نظام پنجاب ماڈل پر تشکیل دینے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت هر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور 2 نائب میئر تعینات کیے جائیں گے۔ اس طرح کے نظام میں نئی ترقی اور ترقی کا موقع حاصل ہوگا، جو کہ اسلام آباد کی ترقی کو مزید تیز کرے گا۔
میئر اور نائب میئرز کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں کریں گے بلکہ یونین کونسل کے چیئرمین بالواسطہ طور پر میئر اور نائب میئرز کا انتخاب کریں گے، جو کہ ایک نئے نظام کی بھی ایک خصوصیت ہے۔ اس طرح کے نظام میں نئی تبدیلی اور ترقی کو مزید تیز کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔
اسلام آباد میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نظام کو ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو کہ ایک نئے نظام کی بھی ایک خصوصیت ہے۔ اس طرح کے نظام میں نئی تبدیلی اور ترقی کو مزید تیز کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔
وفاقی کابینہ بلدیاتی ترامیم کی منظوری دے چکی ہے، جس کے تحت صدارتی آرڈیننس جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے 3 حلقوں کی بنیاد پر 3 ٹاؤنز میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو کہ ایک نئے نظام کی بھی ایک خصوصیت ہے۔
ٹاؤن کارپوریشنز کو انتظامی اور مالی خودمختاری دینے کی بھی تجویز شامل ہے، جس سے اسلام آباد کے ترقی میں مزید تیزی آئے گی۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے متعدد اختیارات مرحلہ وار ٹاؤن کارپوریشنز کو منتقل کیے جائیں گے، جو کہ ایک نئے نظام کی بھی ایک خصوصیت ہے۔
میئرز کو صفائی، نکاسیٔ آب اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اختیارات حاصل ہوں گے، جب کہ بلدیاتی سطح پر انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے نظام میں نئی تبدیلی اور ترقی کو مزید تیز کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔
نئے بلدیاتی نظام کے تحت اسلام آباد میں 3 میئر اور 6 نائب میئر تعینات کیے جائیں گے، جو کہ الگ الگ ٹاؤنز کو برقرار رکھنے کا ایک ایسا طریقہ ہوگا، جس سے اسلام آباد میں سیاسی اور انتظامی کارروائیوں میں بھی نئی تبدیلی آئے گی۔
اسلام آباد میں بلدیاتی نظام پنجاب ماڈل پر تشکیل دینے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت هر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور 2 نائب میئر تعینات کیے جائیں گے۔ اس طرح کے نظام میں نئی ترقی اور ترقی کا موقع حاصل ہوگا، جو کہ اسلام آباد کی ترقی کو مزید تیز کرے گا۔
میئر اور نائب میئرز کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں کریں گے بلکہ یونین کونسل کے چیئرمین بالواسطہ طور پر میئر اور نائب میئرز کا انتخاب کریں گے، جو کہ ایک نئے نظام کی بھی ایک خصوصیت ہے۔ اس طرح کے نظام میں نئی تبدیلی اور ترقی کو مزید تیز کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔
اسلام آباد میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نظام کو ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو کہ ایک نئے نظام کی بھی ایک خصوصیت ہے۔ اس طرح کے نظام میں نئی تبدیلی اور ترقی کو مزید تیز کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔
وفاقی کابینہ بلدیاتی ترامیم کی منظوری دے چکی ہے، جس کے تحت صدارتی آرڈیننس جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے 3 حلقوں کی بنیاد پر 3 ٹاؤنز میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو کہ ایک نئے نظام کی بھی ایک خصوصیت ہے۔
ٹاؤن کارپوریشنز کو انتظامی اور مالی خودمختاری دینے کی بھی تجویز شامل ہے، جس سے اسلام آباد کے ترقی میں مزید تیزی آئے گی۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے متعدد اختیارات مرحلہ وار ٹاؤن کارپوریشنز کو منتقل کیے جائیں گے، جو کہ ایک نئے نظام کی بھی ایک خصوصیت ہے۔
میئرز کو صفائی، نکاسیٔ آب اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اختیارات حاصل ہوں گے، جب کہ بلدیاتی سطح پر انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے نظام میں نئی تبدیلی اور ترقی کو مزید تیز کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔