اصلاحات کے مثبت ثمرات ہیں کہاں؟ | Express News

پاکستان میں reforms کی جانب سے ملازمت کی جائے تو اس نے وزیر اعظم شہباز شریف کی صلاحیتوں کو بھی کچل دیا ہے اور وہ اپنی حکومت میں وہی لوگ تھے جو پہلی حکومت میں تھے جس نے 12 سال تک حکومت کی۔ پاکستان میں reforms کے مثبت ثمرات سامنے آئے ہیں اور انھوں نے معاشی اصلاحات کا اعتراف کرتے ہوئے پہلی مرتبہ بجٹ ڈسپلن کو بھی سراہا تھا جس کے باوجود بھی عوام کی زندگی میں تبدیلی نہیں آئی۔

صدر ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پاکستان میں اقتصادی اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جس کے بعد وزیر خزانہ سے ملاقات میں مارکیٹ اعتماد کو سراہا تھا لیکن انھوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے پہلی ششماہی میں 1254 ارب روپے کے مزید قرضے لیے ہیں جو بیرونی تھے اور جن میں آئی ایم ایف کا قرض شامل نہیں ہے۔

ادارہ شماریات نے تو عوام کو یہ بتایا کہ سالانہ بنیادوں پر ملک میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 4.18 فیصد پر برقرار ہے اور 12 ضرورت کی اشیا ضرور مہنگی ہوئی ہیں جو عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی جس کے جواب میں حکومت کی طرف سے ملکی موجودہ صورت حال کا ذمے دار پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت کو قرار دیا تھا۔

جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت (ق) لیگ کی حکومت میں معیشت اتنی ابتر نہیں تھی جتنی بعد میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں ہوئی اور تینوں نے ہی ایک دوسرے کو اس کا ذمے دار قرار دیا اور یہ سلسلہ اب بھی چل رہا ہے اور عوام ان سب حکومتوں کی کارکردگی کی سزا بھگت رہے ہیں۔

وزیر خزانہ کے لئے ایک غیر سیاسی شخص لاایا گیا تھا جن کے بعد اسحاق ڈار کو لایا گیا تھا لیکن وہ اسی جگہ پر رہے اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے سینیٹروں کو حکومت پر تنقید کے جواب میں بتایا گیا کہ انھوں نے معیشت کی تباہی کی ذمے دار تھی جسے شہباز شریف حکومت بہترکرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومتوں کو عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے کی پابندی نہیں ہونی چاہئیے اور وہ عوام سے ووٹ لینے والوں کے لیے ایسے اقدامات کو بھی کر رہے ہیں جن سے ان پر ووٹ دینے والوں کو متاثر کیا جا سکے۔ عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے معاشی اقدامات کی ضرورت ہے جو شہباز شریف کی حکومت نے ہی اس وقت شروع کی جس کے بعد انھوں نے سولہ ماہ ووٹ دیکھتے رہے تھے اور نئی حکومت میں بھی وہی لیا ہوا۔

وزیر خزانہ کے لئے غیر سیاسی شخص ہیلا چکا ہے جو ایسے معاملات پر کام کرتا ہے جس پر انھیں کوئی اچھا علم نہیں ہوتا لیکن وہ ان معاملات میں بہت زیادہ مظالم جو چکے تو سے زیادہ کھینچ رہے ہیں اور وہ عوام کی زندگی کو نہیں بھالتیں بلکہ وہ ان کا خون خلیج میں ڈالتے رہتے ہیں۔
 
بھیڑوں میں سے ایک چلا گیا ہے جس نے شہباز شریف کو ذمے دار قرار دیا ہے لیکن وہ عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے کچھ نہیں کیا ہے۔ اور انھوں نے عوامی مہنگائی کو دور کرنے کا ایک اور اقدامہ بھی شہزادہ کی طرح پیش کیا ہے جو عوام کا خون خلیج میں ڈالنے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے ہوا ہے۔
 
اس وقت کی حکومت کو توحید و استحکام سے لے کر معیشتوں کی تباہی تک بھرے موقف میں دیکھنا مشکل ہوگا ، اس کے باوجود بھی انھوں نے عوام کے حصول کی ایسی لڑائی جاری رکھی ہوئی ہے کہ لوگ شہباز شریف کی حکومت کو اتنا اچھا سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ووٹ دینے والوں کو بھی نئی حکومت میں ووٹ دکھانا مشکل ہوگا ~
 
ان reforms کے بارے میں اچھا کیا ہوتا ہے؟ اس نے صرف عوام کی زندگی کو بھی کچل دیا ہے، معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بجٹ ڈسپلن کو بھی سراہا تھا لیکن یہی نہیں، عوام کی زندگی میں تبدیلی نہیں آئی۔ اور پھر وہ اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنایا ہے جو معاشی اقدامات پر یقین رکھتا ہے، لیکن وہ عوام کی زندگی کو بھالنے کے بجائے ان کا خون خلیج میں ڈالتے رہتے ہیں.
 
اس وقت جب پاکستان میں اچھی سے اچھی reforms کی جانے کی کوشش کے لیے بہت زیادہ طاقت کی تلافی ہو رہی ہے تو یہ بات بھی حقیقت ہے کہ عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے کوئی اچھا معاشی اقدام نہیں ہوتا •

جب اسی حکومت نے پہلی مرتبہ بجٹ ڈسپلن کو سراہا تھا تو عوام کی زندگی میں تبدیلی نہ ہونے کا ایک اور اہم کारण یہ بھی ہو گیا •

جب سینیٹ میں پی ٹی آئی کے سینیٹروں نے ملکی موجودہ صورتحال کا ذمے دار شہباز شریف کی حکومت کو قرار دیا تو یہ ایک اچھا بات ہے •

لیکن جب انھوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے پہلی ششماہی میں 1254 ارب روپے کے مزید قرضے لیے ہیں جو بیرونی تھے اور جن میں آئی ایم ایف کا قرض شامل نہیں ہے تو یہ ایک بڑا معاملہ ہے •

جبادہ عالمی معیشت میں سے باقیات کی طرف سے مل کر ایک اچھا معاشی اقدام نہیں کیا جائے تو ایسا معاملہ بھی ہوتا •
 
اس وقت ایسے معاملات تو آ رہے ہیں جو لوگ ان کو سمجھنے میں ناکام ہوتے ہیں کہ کس طرح اس لیے ہو رہا ہے اور اس سے عوام کی زندگی میں تبدیلی کی گئی ہے یا نہیں۔ ایسے معاملات میں جب بھی وزیر اعظم شہباز شریف نے کوئی اقدامات لگا دیں تو انھوں نے 12 سال پुरے کیGovernments نے اس لیے سولہ ماہ دیکھتے رہے کہ وہ کچھ تبدیلی کر گئے ہیں یا نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی بھی نہیں ہوئی۔
 
😕 Pakistan mein reforms ki taraf se malazmat karne ka yeh darwaza toh khola hai, lekin yahaan kuch sahi nahin hai. Pehli baar bijet dispatcha ko bharosa kar liya tha jissey public ke jeevan me changes na aaye. Aur abhi bhi 1254 arba rupeye ki adra kee karz laae gayi hai jo beirooni thi, yeh to khaibaaki hai.

Public ke jeevan mein badleee lanaa chahiye aur shahbaz sharif ki governmen nahi tu to dusre governments bhi pehle hi kaha hua tha. Genral پرویز مشرف ki zamaan me maashoat tahri nahin thi jaise ab tak peepal party, PTI aor Muslim league (N) ki governments mein ho gaya hai aur har ek ne dusre ko samajha kiya hai.

Aur yeh bhi sach hai ke sainet mein opposition members ne shahbaz sharif ki governmen par tanqeed ki thi jahaan unhone PTI ko samajha diya tha. Yeh siraala ab bhi chal raha hai aur public yeh sab governments ki karrkidagi ki saza bhget rahe hain.

🤔 Aur ek baat yeh hai ke sarkar ne public se vot lane wale logon ko aakarshit karne ka tareeka banana shuru kiya hai, jissey un par prabhav pasand nahi karega. Maashoat badalane ke liye zarurat hai aur shahbaz sharif ki governmen nahi tu to dusre governments bhi pehle hi kaam kar chuki hain.

Lekin sabse yeh bataanaa chahiye ke sarkar ko public ki jeevan me badlaav laane ki zarurat hai, na ki kisi bhi saamaan ke liye. Aur isliye shahbaz sharif ki governmen mein sahee cheezen karne ke bajay in sab cheezon ke baad rahein.
 
اس سے ہٹ کر، میرا خیال ہے کہ اس وقت شہباز شریف کی حکومت کو معاشی اقدامات پر توجہ دی جانے کی ضرورت ہے جو عوام کی زندگی میں تبدیلی لائیں۔ انہوں نے پہلی مرتبہ بجٹ ڈسپلن کو بھی سراہا تھا لیکن عوام کی زندگی میں تبدیلی نہیں آئی۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تنقید پر بات ہونی چاہئیے۔ اور شہباز شریف کو ایسی معیشت کی توجہ دی جانی چاہئی جس سے عوام کی زندگی میں تبدیلی ہو سکے۔ ان کے پاس 1254 ارب روپے کا قرض بھی ہے جو بیرونی تھا۔
 
ایسے مظالم جس پر یہ لوگ کام کرتے ہیں تو اچھا علم نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی بے معافی کی حالت میں رہتے ہیں جس سے ان کا خون خلیج میں ڈالتے رہتے ہیں।
 
واپس
Top