اسرائیل نے ظلم و جبر کی نئی تاریخ رقم کردی؛ لکڑیاں جمع کرتے 2 معصوم بچے شہید | Express News

سفر پسند

Well-known member
غزہ میں اسرائیل کی کہانی ہمیشہ ایسی رہی ہے جیسے ایک خوفناک رोमنس اسکرین پر، جہاں انسانیت کی جان نہیں سمیٹی جاتی اور وارننگ کے بغیر حملے ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب ، دو معصوم بچے ، جو اپنی مائیں کی مدد کرنے نکلے تھے، ان سے ایک فوری حملہ ہوا اور ان کا واقف کیا گیا۔ 11 سالہ جمعہ اور 8 سالہ فادی دونوں شہید ہوگئے ، ان کی ایسے ماحول میں پالھی نہیں جانے کے باعث وہ گھر سے نکلے تھے اور پھر لوٹنے کو بھی نہیں دھونے دیا گیا۔

ان کے باپ ، جو انھیں فوری زخمی لگا گئے تھے، ان کی مدد کرنے نکلے تھے اور ایک آگ جلانا چاہتے تھے جس کے لیے لکڑیاں ضروری تھیں۔ لیکن یہ واقف ہوتے ہوئے، انھیں ایک آمران حملے کو سامنا کرنا پڑا جو ان سے اپنی جان لینے کی طرف کھینچ رہا تھا۔

ان جگہ پر اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ وہ دو شخصوں کو آگ جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرنے دیکھ رہے تھے جو کہ ایسے ماحول میں نہیں پالھے جانے والے بچوں کی نہیں تھے۔ لیکن اس جگہ پر یہ رہا تو اس کے خلاف ایک فوری حملے میں وہ دو معصوم بچے شہید ہو گئے۔

یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہے لیکن اسرائیلی فوج نے بھی ایسا کر دیا جو اس جنگ بندی سے دور ہے اور جس سے انسانیت پر لپٹن پڑتی ہے۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ دونوں زمین پر مشکوک سرگرمیوں میں ملوث دکھائی دی جارہی تھی جو وہ فوجی اہلکاروں کے قریب اس انداز میں آرہے تھے جس سے کسی بھی نوجوان کو خطرہ محسوس ہوتا۔

لیکن یہ بات یقینی نہیں ہے کہ وہ دو معصوم بچے ایسی حالات میں تھے جب ان کی جان پہچان لی گئی۔ یہ بھی یقینی نہیں ہے کہ وہ پہلے سے خود ان لوٹنے کو دھونے والوں کا نشانہ تھے اور اس لیے ان پر حملہ کر دیا گیا اور ان کی جان لینی پڑی۔

لیکن یہ بات بھی نہیں ہو سکتی کہ اسرائیل نے ایسے حالات میں معصوم ملازمت کی تیز دھار سے کی جہاں انسانیت کو انتہا پہنچانے کے لیے کسی بھی پریشانی کو بھی نہیں سمجھا گیا اور ایسے ماحول میں بھی رہتے ہوئے لوٹنا، اگ جلانا، اور ان کے گھر سے باہر جانے پر خوف محسوس ہونے کی صورت میں وہ معصوم ملازمت کر دیتا ہے۔

دوسری جانب ، Israel نے فضا میں موجود نگرانی فضائیہ کو کہا تھا کہ وہ دونوں کو خطرہ دور کرنے کے لیے نشانہ بنائے ہیں۔

لیکن اسرائیلی حکومت نے بتایا ہے کہ اس جگہ پر ایک واضح لین دین رہی تھی اور دونوں کی جان لینے سے انسانیت کو بہت کم نقصان ہوا ہو گا۔

لیکن یہ بات کبھی نہیں سمجھی جائے گی کہ Israel نے ایسے معصوم لوٹنے کو نشانہ بنایا ہے جو کہ ان کی جان لینے سے انسانیت کا نقصان کم ہوا ہو گا اور اس طرح ان کے خاندان کو کبھی ایسا نہیں ملے گا کہ وہ اپنے باپ کو دیکھ سکیں، اور ان کی جان لینے سے بھی ہمیں ایک پرانے جیسے خوف ہو گا۔

یہ ایک ناقابل تسخیر تباہ کن واقعہ ہے جس کی وجہ اسرائیلی فوج کے عہدے والوں نے ایسی معصوم ملازمت کو اور بھی تیز دھار دیا ہے جو انسانیت کو انتہا پہنچانے کی طرف لے جاتی ہے۔
 
اس ناکام معائنہ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ بھی کیا خواہش ہے؟ ایک فوری حملہ جس سے دو Innocent لڑکوں کی جان لینی پڑی. اور ان لوٹنے کو دھونے والوں کو بھی کیا خواہش ہے؟
 
اس حادثے سے کبھی نہیں ٹھیک ایسا محسوس ہوتا، اسرائیل کی جانب سے لگایا گیا حملہ ایک غضبانی کارروائی تھی ، جس میں معصوم ملازمت کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کے خاندان کو پریشانی محسوس ہونے دے دی گئی تھی۔

اس حادثے سے انسانیت پر لپٹن پڑتی ہے ، جب معصوم لوٹنے کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کے خاندان کو اس وقت کی پریشانی محسوس ہونے دئی گئی تھی جب وہ اپنی میں جانے نکلے تھے۔

یہ ایک ناقابل تسخیر تباہ کن واقعہ ہے، جس کی وجہ اسرائیل کی فوج کے عہدے والوں نے ایسی معصوم ملازمت کو اور بھی تیز دھار دیا ہے جو انسانیت کو انت۰ا پہنچانے کی طرف لے جاتی ہے۔
 
اس کے بارے میں یہ بات تو بہت مشکل ہے کہ Israel کی جانب سے دوسری جانب ایسا ماحول بنایا گیا ہو جس پر وہ حملے کر سکیں۔ لاکھوں لوٹنے اور ان پر حملے کرنے کے بعد بھی وہ اس ماحول کو نہیں بدل سکیں گے۔ یہ ایک نہایت خطرناچہ مقام ہے جہاں انسانیت کی جان کہے بیٹھنے پر راہ نہیں پاتी اور وہ لوٹنا، اگ جلانا، گھر سے باہر جانا، اس طرح کے خوف سے ڈرتے ہوئے بھی معصوم ملازمت کر دیتا ہے۔
 
اس واقعے سے خوفناچپنا محسوس ہوتا ہے، ایک نوجوان جو اپنی ماں کی مدد کرنے نکلے تھے اس کے بعد انہیں واقف ہونے سے پہلے فوری حملے میں شہید ہو گئے ، جس کی وجہ یہ نہیں کہ انھوں نے کسی بات پر غور کر رکھا تھا بلکہ اس کا تو یہی پتہ چلتا ہے کہ وہ ایسے جگہ پر تھے جو کہ انسانی جان کی سب سے اچھی بےDanger Zone میں پڑا تھا۔
 
اس غزہ میں حصلہ انصاف کے بعد اس بات کو بھی یقین نہیں ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی قائم ہوئی ہے یا اس میں بھی بدلاعتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

فلسطینیوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ لڑائی ختم کرنے میں یقین رکھتے ہیں لیکن اسرائیل نے ان کی اور اپنی فوجیوں کی جان بھی لے لی ہے۔
 
اس کے بارے میں کچھ بات کرونا ہو گی۔ یہ انفرادی ملازمت سے نہیں ہوا ہے، اس کی پہلی علامت بھی ابھر رہی ہے۔ Israel کا دھندہ کبھی بھی یہاں نہیں آ سکا ہوتا لیکن اب یہاں اس کی موجودگی پتہ چل رہی ہے۔

اس کے بعد یہ معصوم بچے کون تھے؟ ان کی جان لینے سے انسانیت کو نقصان ہوا ہو گا یا وہ ایسی حالات میں تھے جس سے کسی کو خطرہ محسوس نہیں ہوتا؟
 
اس واقعہ سے منظر گھومتا ہے کہ Israel کی فوج ایسی صورت حالوں میں بھی اپنی جان لینے پر تیز دھار دی جاسکتے ہیں جو انسانی جان کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں پات۔

دوسری جانب، اس واقعے کا انفرادی انداز بھی ظاہر ہوتا ہے جو Israel کی فوج کے لیے ایسی صورت حال میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے جب humans کی جان پہچان لی جائے اور وہ اپنی جان لینے پر تیز دھار دی جائیں۔
 
اس ناقابل تسخیر واقعے پر مینے بھی اس سے ہی کہا تھا کہ یہ ایک خوفناک رومنس اسکرین پر جیسے ہی انسانیت کی جان سمیت نہیں ٹوٹتی، اور وارننگ کے بغیر حملے ہوتے ہیں.
مگر یہ بات تو پتہ چلتا ہے کہ غزہ میں ان لوگوں کو پہچانا نہیں جاسکتا جو اس جنگ بندی پر ملازمت کر رہے ہیں اور وہ بھی ایسے سے کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا، اگ جلانا، گھر سے باہر جانا خوفناک ہے۔
لیکن وہ لوٹنا اور گھر سے باہر جانا ان لوٹنے والوں کو ایسا دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ وہ معصوم ملازمت کی تیز دھار دی جائے تو انسانیت کو انتہا پہنچانے کے لیے کسی بھی پریشانی کو نہیں سمجھا جاتا۔
 
اس واقعے سے ہمیں یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ Israel نے ایک اور معصوم نوجوان کو بھی اس طرح ایسے ماحول میں نشانہ بنایا ہو گا جیسا غزہ واقعے میں ہوا تھا۔ وہ نوجوان بھی اپنے باپ کی مدد کرنے نکلے تھے اور پھر ایک فوری حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ Israel کی حکومت نے ان دونوں نوجوانوں کو معصوم ملازمت دی اور پھر ان پر حملہ کر دیا جس سے انہیں جان لینی پڑی۔
 
واپس
Top