وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کی طرف سے دعوت پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بھی ملائی گئی، جس میں دونوں فریقین نے پاک چین دوطرفہ تعلقات کو مستحکم اور مستقبل کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مشترکہ صدارت میں ایک نئی سطح پر تعاون کی طرف قدم بڑھایا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 7 ویں دور کا اعلان چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایک نئی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے لیے پیش کیا ہے۔
سپیکر پارلیمنٹ پاکستان ممتاز عثمان خلاصہ ان کے دورے میں اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں جو نئے تعاون کو فروغ دینے پر پابند تھیں، جس میں سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی طرف قدم بڑھایا گیا ہے۔
دونوں فریقین نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس میں پاک چین دوستی کو خطے کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے، جو ایک نئی سطح پر تعاون کی طرف بڑھنے کا اشتراک کرتا ہے۔
اس کے بعد اور اس کے قبل ہونے والی کچھ باتوں سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاک چین دوطرفہ تعلقات کی جس نئی سطح پر تعاون ہوئی وہ ایک بڑی بات ہے، اس کی وجہ سے اہم معاملات میں ترجیحات بھی تبدیل ہو گئی ہیں، اب پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو ایک نئی سطح پر دیکھنا قابل یقین ہے اور یہ دو ٹھیس کی چھاڑ سے باہر ہوا ہے
چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا اس دورے کا فیصلہ تو ہمیشہ نافذ ہو رہا تھا۔ اب ایک بار پھر انہوں نے نائب وزیراعظم سے مل کر دوسری طرف سے بھی ایسی ایsi دعوت کی ہے جو ہمیشہ ہمیں اچھا لگتی رہی ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے میں تازہ کھانا کھانے والوں کی طرح ہم کھیلتے رہے تھے، اب وہ معاہدہ ہمیں ایک نئی سطح پر تعاون کرنے کا موقع دیتا ہے۔
اس معاہدے سے پتا چلتا ہے کہ پاک چین دوستی کو ہر طرح سے مستحکم کیا جا رہا ہے اور مستقبل کی طرف بڑھنے کے لیے ایک نئی سطح پر تعاون ہو گا... پھر یہ بات بھی اچھی ہے کہ سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون ہوا ہے جو مستقبل کے لیے ایک اچھا سٹار بن سکتا ہے... لگتا ہے کہ اس معاہدے نے پچاس سالوں کی تاریخ میں دوستانہ تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے کر گئا ہے...
اس دuniya ki sazaa mein hum aaj bhi china ke saath doosra din rahe hain, bas is baar woh humein ek nayi saanp nahi laana chahti thi to ya phir ek nayi dosti banane ka mauka diya tha . lekin fir bhi woh humein apne dar ki cheezon par zikr karte rahin, aur humein apni khud ki madad karne ke liye nahi balki apni dosti ko majboot banana chahti thi. yeh toha ek shandaar gyaan diya hai, lekin mera soolna hai ki hum is cheez ko kaise leverage karenge .
اس سے پہلے کے معاملات میں پاک چین دوستی کو دیکھتے ہیں تو اسے ایک نئی سطح پر پیش کیا گیا ہے جو بہت اچھی نئی بات ہے ،چینی وزیر خارجہ سے لے کر پاکستان کے سب کچھ میں ان کی ایسی دیکھ بھال کرنے کا یہ خواہش مملکت ہے،پاک چین دوستی کو مستحکم رکھنا اور اس کو مستقبل کے لیے پیش رکھنا چینی اور پاکستان کی نئی دوسری صدارت کا ایک اہم خطاب ہوگا
چین اور پاکستان کے مابین ساتواں دور کے چیک ان میں اسحاق ڈار نے اپنی طرف سے ایک بڑا قدم رکھا ہے. وانگ یی کی دعوت پر جب انھوںنے کہا تھا کہ ابھی بھی کیا چیلنج دیکھتے ہوں؟
اس چین میں چلائی گئی ملاقات سے پورے ملک کا لالچمہ اٹھ گیا ہے، مگر اس میں جس کہ نوبت دیر کی گئی تھی وہ ایک بڑی بھاگدودھ سے باہر ہی چلی گئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، جب ایسہ معاہدہ نہیں تھا تو اس پر دستخط کرنے سے پہلے کیسے بات کی گئی؟ ابھی کوئی چین کے ڈرامے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے، مگر یہ سب اس حقیقت سے واقف ہونا چاہیے کہ نوبت دیر کی گئی ہوئی باتوں پر دستخط کرنا ایسا ہوتا ہے جیسا کہ اس میں کچھ فائدہ اور کچھ نقص ہی سکتے ہیں۔
اس سے پہلے پاکچین دوطرفہ تعلقات میں یوں اہم تبدیلی آئی تھی کہ اب وہ ایک نئی سطح پر تعاون کر رہے ہیں ، اس سے بھوتا پاکستان کے لیے بھی اہمیت ہوگے کہ یہ تعلقات مستقبل میں ایک اچھی طرح بنے
سچ ماجا یہ اعلان جاری ہونے پر تو چینی سرکار کی جانب سے ہی نہیں بلکہ پاکستان کی جانب سے ہونے والے اس حوالے سے بھی ہر جگہ یوں ہی بات کرتا ہے...اسحاق کو ان کی جانب سے دعوت دی گئی اور وہ ملائی ہوئی...کیا اس کا معنی یہ نہیں کہ چینی سرکار پاکستان کی جانب سے ایسا کھیل رہی ہے، تو ان کے ساتھ تعاون کرنا ہوتا ہے، جیسا کہ نبی عظمیٰ کے دور میں بھی یہی بات کرتے تھے...اس حوالے سے کچھ یقین رکھنا چاہئے کہ پاکستان کی جانب سے ان سے کیا لگتا ہے؟
یہ بہت اچھا کہ اسحاق ڈار نے چین کی طرف سے دعوت کو قبول کر لیا ہے، یہ ایک اچھی بات ہے کیوں کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات مضبوط بننے کا یہ دور بہت اہم ہے، مگر دیکھنا ہی پڑا کہ ان دونوں نے ایک نیا معاہدہ جس میں پاک چین دوستی کو خطے کے امن اور خوشحالی کی طرف لازمی قرار دیا گیا ہے، یہ بھی اچھا ہے کہ انھوں نے سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے قدم بڑھایا ہے جو کہ مستقبل کے لیے ایک اچھی رہنمائی ہے
اس چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو جاننا اچھا ہو گا۔ وہ پچیس لاکھ دوسرے معاہدے سے زیادہ مفید ہیں، لیکن ابھی تک پاکستان کی ایسی صورتحال نہیں رہی جس پر کہ اس پر عمل کرنا ایک بدقسمتی بن گئے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایمرونٹ اور پی ٹی آئی کی بڑی مہنگی نے فنانس کو اس قدر کم کر دیا ہے کہ ابھی تک یہ معاہدے کیا جانے کی صورتحال نہیں تھی، لیکن اچانک اس نے بڑی ہٹ لگنے کے بعد واپس آ کر اپنے معاہدوں سے انکار کر دیا ہے۔
میں اس معاہدے پر یقین نہیں کرتا، کیونکہ یہ پچیس لاکھ روپے میں اسٹریٹجک ٹرسٹس کو فروغ دینے کا معاہدہ ہے جو ابھی تک نہیں تھا اور اس پر عمل کرنا بھی مشکل ہو گا۔
اس دوطرفہ تعلقات میں پہلے سے بھی بہت کچھ تھا، اور اب وہاں ایک نئی سطح پر کام کرنا ہو گیا ہے۔ میرے خیال میں وہ معاہدہ جو دونوں جانب دستخط کیا گیا ہے، پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو بہت مضبوط بنائے گا۔ اس نئی سطح پر تعاون سے پاکستان کی ٹیکسٹائلIndustry کو بھی لाभ ہوگا، اور چین سے پہلی بار انفراسٹریکچر کے لئے بڑی جہاز نہیں آئی گئی تو اب وہ یہاں آئی ہوگی، اور پاکستان کی ایکسپورٹ میں بھی اضافہ ہوگا۔
اس چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی گئی ملائی تھی تو میں تو خوشی ہونے والا ہوں، لیکن یہ سوال ہے کہ کیا اچھائی یہ ہو گی یا صرف ایک طویل معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اس کی کوئی فائدہ نکلے گا؟ میں جانتا ہوں کہ چینی سرکار پاکستان سے بھی انحصار کر رہی ہے، یہ تو ایک معیار ہے، لیکن اس کے بعد کیا ہو گا؟
چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں یہ بات بہت عجیب ہے کہ دونوں دوسروں کی طرف سے اسحاق ڈار کو انعام دیا جا رہا ہے اور انہیں اپنی مشترکہ صدارت میں ایسا سے تعاون کرنا پڑ رہا ہے جو کہ ابھی بھی اس وقت ہوا تھا جب دوستان کی بات کی جاتی تھی۔ اور اب یہ بات کیسے منقسم ہوگئی ہے کہ ایک صدر کو دوسرے صدر کی بھی دعوت مل گئی ہے؟ جس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں ساتھ میں ہیں بلکہ یہ بات چھپائی رہی ہے کہ اسحاق ڈار کو ان کے لئے ایسا توازن بنانے کی ضرورت ہے جو وہ اپنی فوج کی مدد سے حاصل کر رہے ہیں۔
بھول گئی ملاقات! اور اب تک کچھ کو دیکھنے کی کوئی عادت نہیں رہی! اس پالیسی سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا، اور وانگ یی کی طرف سے دی گئی دعوت پر ایسحاق ڈار نے کھل کر کچھ کہا ہے، اور اب تک کی پوری تاریخ میں کسی نے اس طرح کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں، یہ تو کچھ لائق تجزیہ کرنے کا کام ہے!
اس خطے میں بھی یوں ہی رہتا چلا گیا... پھر کس بات سے انھیں چین کی طرف سے دعوت مل گئی تھی... ابھی تو وہی فریقین ہیں جو اس دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں... وہ ایک نئی سطح پر تعاون پیش کر رہے ہیں، لیکن یہ سلسلہ کیسے جاری رہے گا؟
اس دوسرے پاک چین دوطرفہ تعلقات کی توازن میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں جو کوئی نہ کوئی شخص کا دل لگائیں گی۔ اسحاق ڈار کی بھی ملائی گئی، اور اب وہ فوری ایکٹیو پلیٹ فارم بن چکی ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ ان دو دوسرے ممالک کے درمیان کوئی نئی چیز نہیں ہے، لیکن اس کی وضاحت ہمیں دے کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ تعلقات تازہ ہیں اور ابھر رہے ہیں۔ ایک بات بھی سچ ہے کہ اس دوطرفہ تعلقات کی کوئی نئی چیز نہیں ہے، لیکن اس کی وضاحت ہمیں دے کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ تعلقات تازہ ہیں اور ابھر رہے ہیں۔
اس دعوت پر اسحاق ڈار جانے کا یہ بھی بات ہے جو کہ چین سے، وانگ یی کو ایسے معاملات میں مداخلت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جو کہ ہندوستان کے لیے خطرہ بنتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی کوشش میں، ہندوستان کو بھی اپنی جانب سے مداخلت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے؟ یہ بات غلط نہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی میں معاشی تعاون پر ایک بڑا توجہ دئیے جائے، لیکن اس سے یہ بھی بات چیت کرنی چاہئے کہ ہندوستان بھی ان معاملات میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے؟