اسحاق ڈار کی سعودی عرب اور امارات کے وزرا خارجہ سے اہم گفتگو

طوطا

Well-known member
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عوامی جمہوریہ چین کے سرکاری دورہ پر پہنچتے ہوئے بیجنگ میں اپنے ساتھیوں کو تلاش کی تھی۔ انہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور شیخ عبداللہ بن زاید سے اپنے فون پر رابطے قائم کیے تھے۔

اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کے دونوں رہنماؤں سے خطے کی حالیہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور انہوں نے یمن سے متعلق سعودی وزارت خارجہ کے بیان کو خیرمقدم کیا۔ انہوں نے خطے میں صورتحال کے پرامن حل کے لیے تمام فریقوں کی کوششوں کو سراہا۔

دونوں وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور شہزادہ فیصل بن فرحان نے بیجنگ سے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید سے ٹیلیفون پر اہم رابطہ قائم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور حالیہ مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ مکالمہ اور سفارتکاری کے نتیجے میں زمینی حقائق میں بہتری آئی ہے، اور اس کی وجہ سے رشتوں میں ترمیم اور تعاون میں واضح تر اضافہ ہوا ہے۔
 
اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ ایک ایسا موقع ہے جہاں مختلف ملکوں کی رہنماؤں نے اپنے آپ کو آپس میں ملا کر مشرقی وسطیٰ کے حالات پر بات چیت کی۔ لیکن یہ सवाल ہے کہ کیا انچھٹی تبادلہ خیال سے سراہی جانے والی صورتحال میں اچانک تبدیلی آئے گی یا اس پر ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جس کی وجہ سے کوئی نتیجہ نہیں نکalta?
 
اسحاق ڈار کو ہٹا کھیلا تو یہ بھی چل پڑا ہو گا کہ وہ کس کی باضابطہ رکاوٹ کا سامنا کر رہا تھا۔ اب یہ سوچنے لگا کہ شہزادہ فیصل اور اسحاق ڈار دوسرے ممالک کی طرح جو کہیں بھی ایک دوسرے سے بات چیت کرنا شروع کرتے ہیں وہاں اور نہیں بلے دیتے. لیکن اس حقیقت پر زور دیں تو یہ کہ شہزادہ فیصل اور اسحاق ڈار کس کی باضابطہ رکاوٹ سے نمکZY تھے وہی کہہ کر نہیں پائوگا. :D
 
اسحاق ڈار اور شہزادہ فیصل بن فرحان کی بیجنگ جاپنے کی خبر سے کچھ فیکس بھی ہوئیں تھیں۔ لوگ سوچ رہے تھے کہ یہ دو ہی برادریوں کے درمیان میں ساتھ دلوائی گئی کیونکہ ایسا لگتا تھا کہ دونوں نے اپنے ملکوں کو متحد کرنا ہی اپنی priorities بنائی ہیں

لیکن اب جب اسحاق ڈار اور شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ساتھیوں سے رابطے قائم کر لیے تو یہ کہلا کہ یہ دو ہی برادریاں پچیس کیوں نہ رہیں؟ اور کیا ان دونوں کیGovernment وضاحت کی ضرورت ہوئی کہ وہ اپنے ملکوں سے مل کر آئے ہیں?
 
اسحاق ڈار کی یہ فوری گھروں میں بھیگنہ کھیل تھا ہمیشہ یہ سوچتے رہتے تھے کہ پاکستان کو انفرادی طور پر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہیے، لیکن اب اسحاق ڈار نے ایک اور منظر پیش کیا ہے۔ وہ دوسرے ممالک سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہتے ہیں، لہٰذا ہمیں ان کا جواب بھی دیکھنا چاہیے
 
اسحاق ڈار نے چینیوں کو بیٹھائا ہے... نہیں! وہ ان سب سے بات کر رہے ہیں جن سے وہ بات کرسکتے ہیں جیسے یمن اور سعودی عرب کی رکنشپ کی طرف... اسحاق ڈار نے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے یمن سے متعلق صحافت کو روک دیا ہے... وہ اپنے ملنے والے دور میں سب کی بات سنانے پر مہارت رکھتے ہیں اور اس وقت بھی یہی کررہے ہیں... یہ کہا جاتا ہے کہ اسحاق ڈار ایک مہارت ور شخص ہیں... ہم نے بھی اس سے بات کی ہے...
 
چین کا سرکاری دورہ تو چالاک ہوتا ہے، اسحاق ڈار نے پہلے سے ہی ملک کی جانب سے بہت سے منصوبوں کو واضع کیا ہوگا اور اب انہوں نے عوام کو ایک نئی دھندلے گیلے دورہ کی پیشکش کی ہوگی تو یہ بھی چالاکی کی پیمائش ہی ہوگا 🤑
 
👀 لگتا ہے کہ اسحاق ڈار کی مہم پر بات کرنے سے کچھ نئی رشمیں لائی گئی ہیں، خاص طور پر وہ خطوں میں صورتحال کو حل کرنے کی بات کرتے ہوئے... یہاں تک کہ اب سے یمن کو چھوڑا نہیں گیا! 🤔

ایسے میزائل سے رشمیوں اور بات چیت کی تازگی کو ملنے میں اچھا لگتا ہے، لیکن یقیناً یہ سب کچھ ایک نئی پالیسی کی طرف کی وہیں ہو گا! 💡
 
اسحاق ڈار کی یہ سفر بہت دلچسپ ہے، لگتا ہے وہ کتنے اہم رشتوں میں چل رہے ہیں... بیجنگ جاتے ہوئے انھوں نے ساتھیوں کو تلاش کر لیا اور سعودی عرب اور UAE کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ قائم کیا... وہ کیسے یہ سب کر رہے ہیں؟
 
بیجنگ کا یہ دورہ اس وقت بھی ناجائز ہو رہا ہے جس کی پہلی بار ذریعہ تھی… اسحاق ڈار کو ایک اور عالمی معاملے میں مداخلت کرنے کا یہ موقع مل گیا ہے جو پاکستان کی اپنی خاص صورتحال کے لیے بھی نہیں ہے… انہوں نے یمن سے متعلق سعودی وزارت خارجہ کے بیان کو خیرمقدم کیا؟ یہ تو ایک نئی صورتحال ہے جو ابھی ابھی بدل رہی ہے…
 
اسحاق ڈار کا سفر چین کے ساتھ بہت interessant hai 🤔 ان کے ساتھیوں کو تلاش کرنا ہر ایک کے لئے ایک چیلنج تھا، لیکن انھوں نے اسے اپنے ساتھی ساتھ کیا اور منظم کیا تھا. Saudi arab اور UAE کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو اپنی فون پر رابطہ کرنا ان کے لئے بھی ایک اچھا کارنٹ۔

مگر یہ بات ضرور ہوگی کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہر ایک کے لئے ایک چیلنج تھا. اسحاق ڈار نے یمن سے متعلق سعودی وزارت خارجہ کے بیان کو خیرمقدم کیا، لیکن میں سوچتا ہوں گا کہ انھوں نے ایسا کیسے کیا? اس صورتحال پر حل کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے.
 
واپس
Top