غزہ کی پہلی سب سے بڑی خوش خبری یہ ہے کہ مصر اور غزہ کے درمیان سرحد کا راستہ کھول دیا گیا، جس پر اسرائیل نے دو سال کی بندش کے بعد کامیابی حاصل کی ہے۔ اس نئے راستے کو REFHA گزرگاہ کہا جاتا ہے جو فح گزرگاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اسrael نے اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی وعدہ دی تھی اور اب انہوں نے اس پر عمل درآمد کیا ہے۔ یہ عمل امریکی ثالثی میں طے پایا گیا ہے، جس کے لیے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو حیل وحجت سے کام لے رہے تھے۔
غزہ اور مصر کے درمیان یہ واحد زمینی راستہ 2 برس سے بند تھا، جس کی واپسی ایک بڑی خوش خبری ہو گی۔ اس راستے کو دوبارہ کھولنے سے فلسطینیوں کو اپنی آبادیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جس کی واجبیت انہیں دو سال سے محسوس ہوئی ہے۔
آخری رپورٹ کے مطابق ایک بین الاقوامی خبر رساں نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان رفح گزرگاہ کو یکم فروری سے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس گزرگاہ پر صرف محدود پیمانے پر لوگوں کی آمد و رفت کی اجازت دی گئی ہے، جیسے فلسطینی جو پہلے غزہ سے نکل چکے تھے یا خاص اجازت کے حامل ہیں۔
اسOperation Refa'im کے تحت اسرائیل اور مصر کے درمیان ایک مشترکہ سیکیورٹی جانچ لازمی ہوگی، جس میں یورپی یونین کی بھی مانیٹرنگ ہوگی۔
غزہ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ کچھ سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے رفح گزرگاہ کے افتتاحی تقریب میں مزید تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔
غزہ اور فلسطینیوں کے لیے یہ راستہ بہت اہم ہے، کیونکہ وہ خوراک، دوائیں اور طبی امداد کی شدید کمی سے مقبض ہیں۔
اسrael کے اس فریڈم لائن کو کھولنا ایک بڑا کامیاب اقدامہ ہے، جس سے فلسطینیوں کو اپنی آبادیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، اور یہ ان کے لیے ایک اہم اقدامہ ہے۔
اسrael نے اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اپنے ساتھیوں کی مدد سے کیا ہے، جس میں امریکی ثالثی کی بھی حصہ ہے، اور اب انہوں نے اس پر عمل درآمد کیا ہے، جس سے سیکیورٹی جانچ لازمی ہوگی۔
غزہ اور فلسطینیوں کو یہ راستہ بہت اہم ہے، کیونکہ وہ خوراک، دوائیں اور طبی امداد کی شدید کمی سے مقبض ہیں، لیکن اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ایک بڑی خوش خبری ہوگی۔
اب یہ سکیورٹی جانچ لازمی ہوگی، اور اس پر توجہ دی جائے گی، جس سے فلسطینیوں کو ان کی ضروریات پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
ہمارے نئے ایسے سال کے شروع میں بھی غزہ کو دیر سے کامیابوں کا شکار ہونے کی واقعت کھل پہنچ رہی ہے، مصر اور غزہ کے درمیان ریلوے راستہ دوبارہ قائم کیا گیا ہے ، اس سے فلسطینیوں کو اپنی آبادی تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، یہ سب ایک بڑی خوش خبری ہے، لیکن یہ بات تھی کہ اسرائیل نے اس راستے پر عمل درآمد کیا ہے اور امریکی ثالثی میں طے پایا گیا ہے ،
اس سے ان کے لیے خوراک، دوائیں اور طبی امداد کی شدید کمی سے محفوظ رہنے کی واجبیت ہی کیا ہوگی , لیکن یہ بھی بات سچ ہے کہ غزہ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ کچھ سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے افتتاحی تقریب میں مزید تاخیر بھی ہوسکتی ہے،
اس لیے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ غزہ کے لوگوں کو اچھا سچ چاہیے اور انہیں اس راستے پر عمل درآمد کرتے وقت کے دوران بھی کسی طرح کی تاخیر کی صورت ہونے پر انہیں اپنے حقوق کو حاصل کرنے میں مدد ملے اور انہوں نے اچھا سچ چا کے اس راستے کو دوبارہ قائم کیا ہے
یہ کہیں بن جائے? پہلی بار ایسا کروڈ کیا گیا تھا، اور اب بھی کچھ نہیں تبدیل ہوا۔ رفح گزرگاہ کھولنے کی خوش خبری ہو رہی ہے لیکن اس پر فوری طور پر پابندیاں لگائی جانے کی کوئی چاقلہ لگایا گیا، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اسرائیل نے ایسا کیا ہے یا غزہ کی حکومت نے اس پر زور دیا ہے؟
اسOperation Refa'im کے تحت اور بھی یہ انفرادیں لگائیں جائیں گے! کوئی نہ کोई ایسٹیبلشمنٹ اپنی پالیسیوں کی پیروی کرنے کا الزام لگائے گا اور فوری طور پر ان کے خلاف مزید وادھا ہوسکتا ہے!
جب تک انڈیا میں سے نکل کر مصر یا غزہ جاتا ہو تو اس گزرگاہ کو کھولنے کی کوئی بات غلط نہیں ہے لیکن یہ بھی اچھا کہ پہلے سے زیادہ لوگ نہیں آ سکیں گے، صرف وہ تاکہ وہ فلسطینیوں کو اپنی آبادیات تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ ان کے لئے ایک بڑا نجات گاہ ہے لیکن یہ بات ہی چھپا رہی ہے کہ یہ راستہ تو ابھی جاری ہو گیا ہے لیکن کیا اس کو نجات گاہ بھی بن سکتا ہے یا صرف ایک دھنچکا ہو گیا ہے ؟
یہ راز تو آگے بڑھتا جائے گا کہ انسانوں کی حقیقت کیا ہوتا ہے، جس پر ماحول ایسی طرح سے توجہ دی جاتی ہے جو لوگ اس پر چل پاتے ہیں وہ کبھی بھی نہیں دیکھتے کہ ان کی زندگی کیسے آگے بڑھتی ہے، فلسطینیوں کو اپنی زمین تک پہنچانے سے یہ وعدہ تو پورا ہو گا یا دوسرا اور نا پورا کہیں کس کی ذمہ داری ہے؟
اسrael نے غزہ کے لیے ایک بڑا قدم قدمی کر دی ہے۔ REFHA گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا یہ ایک اہم خطع ہے جو فلسطینیوں کو اپنی آبادیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ اب غزہ کی صورت حال بہت کم شدت میں آئی ہے، لیکن اس راستے کھولنا کافی اہم ہے۔
جس نئے راستے کو REFHA گزرگاہ کہا جاتا ہے اس پر اسرائیل نے دوبارہ کام کرنا دیا تو یہ بہت اچھی خبر ہے! غزہ کی آبادیوں کو اپنی گاڑیاں اتانے اور نئے ساتھ اپنے لوگوں تک رسائی حاصل کرنے میں یہ راستہ بہت فائدہ مند ہے!
جب کہ غزہ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اس راستے پر تاخیر ہوسکتی ہے تو یہ بھی ایک حقیقی بات ہے! لیکن اسOperation Refa'im کے تحت اسرائیل اور مصر کی مشترکہ سیکیورٹی جانچ لازمی ہوگی، جس میں یورپی یونین کی بھی مانیٹرنگ ہوگی تو ایک بار پھر خوشیوں کا خیر میں!
اس کھولی ہوئی سرحد کی خوش خبری نے ایسے لوگوں کو دل لگایا ہوگا جو دو سال سے غزہ سے دور رہے تھے، اب وہ اپنی آبادیوں تک رسائی حاصل کرنے کی possibility mil rahi hai. یہ سفر ایک بڑی achievement ہے، حالانکہ کسی بھی journey ki shuruat mein challenges aati hain, lekin Rafha ghergaah ka khulne se فلسطینیوں کے لیے hope mil rahi hai.
اس Operation Refa'im ne is operation ko successful bana diya hai, jismein yeh sab kuch America ki madad se ho gaya tha. Israel aur Egypt ke beech ek strong bond ban gaya hai, jisse future bhi aage badhegi. Rafha ghergaah ka khulna isko dikhata hai ki kisi bhi problem ko solve karna sambhav hai jab hum ek dusre ke saath mehnat karte hain.
Lekin abhi toh Rafha ghergaah ka pehla opening shuru hua hai, jismein limited capacity par people milenge, isliye Ghaza ki administration ko zyada time lagna padega.
یہ سب ایسا ہو گیا ہے کہ اب بھی پہلے 2 سال میں بھی اسی راستے پر کیا جا رہا تھا... مگر اب یہ راستہ دوبارہ کھول دیا جاتا ہے تو اس پر لوگ کوئی بات نہیں کرنے دیتے... کچھ لोग اس کے لیے خوش ہو گے، کچھ لوگ بھاگ رہے ہوں گے، اور کچھ لوگ بھی کبھار کبھر کی گاہ میں آ کر دیکھتے ہیں...
اس Operation Refa'im سے پہلے یہ راستہ ابھی سے ابھی لاکھوں لوگوں کے لیے محفوظ نہیں تھا... اور اب بھی یہ راستہ ایسا ہے کہ جس پر بھی سیکٹریٹ بننے کو میں مجبور ہوں گا...
ایک نئی رات، ایک نئی خوشی... لیکن یہی بات ہے کہ دیر تھی... اور اب بھی یہ راستہ بننے میں ایک سال بھی لگتا ہے...
غزہ کی پوری رہنمائی کرتے ہوئے ان لوگوں کو کبھار فوری سے بھی زیادہ کچھ نہیں ملتا... اور اب وہاں جانیں، دوائیں اور کھانے کی کمی سے لڑنا پڑ رہے ہیں...
ارے کو تو یہ بات کہRFHA گزرگاہ دوبارہ کھلنا ایک بڑا فخر ہے لیکن کیوں نہ تھا اس پر کام کیا جائے؟ 2 سال تک وہ راستہ بند تھا اور اب یہ کہ انہوں نے اس پر عمل درآمد کیا ہے تو ایک طرف سے خوشی ہے لیکن دوسری طرف سے اس پر فوری پیمانے پر سرحد لگا کر کسی کی بھی آمد و رفت پر پابندی لگانے میں کچھ غلطی ہوئی ہے؟ فلسطینیوں کو اپنی آبادیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی؟ لیکن یہ بات بھی تو ہے کہ اب وہ راستہ دوبارہ کھلنا ایک بڑا کامیاب نتیجہ ہو گا، اور ایسے میں کسی کو مزید تاخیر کی ضرورت نہیں ہے، یہ صرف ایک بدلی ہوئی صورت حال ہے، مگر اب وہ راستہ دوبارہ کھلنا تو بے شک ایک گھنٹی میں نہیں تھام سکتا ہے۔
مگر یہ جس کا جواب نہیں دیتا کہ اس پر اسرائیل کی توقع کیا گیا تھی؟ آج رات سے ان کے وعدے پوری ہو گئیں، اب تو دیکھنی چاہتے ہیں کہ فح گزرگاہ بھی کھول دی جائے گی یا نہیں؟ مگر یہ تو بھی خوش خبری ہے کہ غزہ کی لوگوں کو اپنی آبادیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، ابھی دو سال کی وبا سے لچکھا ہوا ہوتا تو ان کے لیے یہ بہت اہم ہوگا
حال ہی میں اسرائیل نے مصر اور غزہ کے درمیان سرحد کا راستہ کھول دیا ہے، جو ایک بڑی خوش خبری ہے فلسطینیوں کو اپنی آبادیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے سے وہ خوراک، دوائیں اور طبی امداد کی شدید کمی سے محفوظ ہو سکتے ہیں۔ مجھے یہ بات خوشใจ لگتی ہے کہ ایسا وقت آ گیا ہے جب فلسطینی لوگوں کو اپنی زندگی میں اس کی وکالت کرنے کی سہولت مل سکے۔
آر ایف ایچ گزرگاہ کو کھولنا بہت خوش خویں کا میزبان ہوا ہے اور فلسطینیوں کی زندگی میں کام آئی ہے۔ مگر یہ بات یقین کے ساتھ کہتی ہو، ان لوگوں کو نئی hope مل گئی ہے جو دو سال سے بے گھر تھے اور ان کی زندگی میں رہائش گاہ کھونے والا معاملہ ہوتا رہا ہے۔ آج یہ گزرگاہ فح گزرگاہ سے بھی مل گئی ہے اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔
عرب دنیا میں رشتی پالیسی کا منظر دیکھنا عجیب نہیں ہے، تاہم یہ بات کہ اسرائیل نے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کیا ہے، ایک بڑی برکت ہے! REFHA گزرگاہ کھولنے سے فلسطینیوں کو اپنی آبادیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، اس نئے راستے کی واپسی کے لیے منظر دیکھنا خوشی کا باعث ہوا ہے!
میری خوفناک یادوں سے آگاہ ہو کر مینے بھی سوچا تھا کہ یہ راستہ ہمیں بالکل چھोड دیا جائے گا، لیکن اب وہ راستہ ایک بار دوبارہ کھل گیا ہے، جو ہم کو اپنے آبادیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے گی، میری بیوی نے بھی مجھے بتایا تھا کہ وہ ابھی بھی یہی غزہ میں رہتی ہیں اور انھوں نے مجھے اپنی بیٹی کی پچھلی تصاویر بھی دیں ہیں، اب وہ اسی سرحد کے ساتھ واپس آئیں گی تو ایک بار پھر اس رشتے کو مجھے مل گیاہو گا...
ہا انہیں لگتا ہے کہ REFHA گزرگاہ کھولنے سے فلسطینیوں کو یقین ہو گیا ہے کہ وہ اپنی آبادیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس گزرگاہ کی ایسی تلافی اور معیاری نمائش کے بعد پہلی بار Israel Egypt Rafah Border Crossing کھول دیا گیا ہے۔
یہ بہت اچھی خبر ہے لیکن واضح رکھو کہ اس گزرگاہ پر صرف محدود پیمانے پر لوگوں کی آمد و رفت کی اجازت دی گئی ہے، جیسے فلسطینی جو پہلے غزہ سے نکل چکے تھے یا خاص اجازت کے حامل ہیں۔
اس Operation Refa'im کے تحت اسرائیل اور مصر کے درمیان ایک مشترکہ سیکیورٹی جانچ لازمی ہوگی، جس میں یورپی یونین کی بھی مانیٹرنگ ہوگی۔
اس نئے راستے پر فلسطینیوں کو خوراک، دوائیں اور طبی امداد فراہم کرنے کا موقع مل گیا ہے جو وہ دو سال سے محسوس کر رہے تھے۔ اس نئے راستے پر بہت زیادہ یقین رکھنا چاہیے کہ یہ سہولت اور معاشرتی ترقی میں مدد دے گا۔
اس کا رخ ہو گیا ہے، یہ صرف ایک راستہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک امید کی کامیابی ہے. غزہ والوں کو اپنی آبادیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، یہ صرف انسانی علاج کا نہیں بلکہ انسانی سمجھ کی بات ہے. سول سیکیورٹی کی یہ وعدہ اب تینوں سرکاروں میں طے پائی گئی ہے، اور یہ ایک اچھا عمل ہے.