آمور کی ایک گہرائی ‘ کچھ لوگ محسوس کر لیتے ہیں۔ مظہر شاہ کی آواز کی بڑھکی ‘ وہ سیلاب تھی جو پنجابی فلموں پر پڑا۔ اس نے ایک گروپ کو اپنے زور کے سامنے کیا جس نے انہیں ہر جگہ سنانے کی کوشش کی۔ مظہر شاہ کا آواز میں گنجنے کا ایک زبردست جادو تھا۔ وہ اس کے بعد‘ بڑھکیں نہیں سننے والے کوئی نہیں رہ سکا۔
انھوں نے ایک صاف ستھری زندگی گزارا تھا جس کے بعد‘ اس کے بعد‘ وہ بڑے لین دین کی تاریکیوں میں گھر گئے۔ مظہر شاہ ‘ ایک صاف ستھری زندگی گزراتے دیکھ کر اور انہیں وہی فلمیں بنانے کی عادت سے ہٹتے رہے۔ لیکن‘ ان کے بعد‘ ایک نئا جادو طے ہوا۔
مظہر شاہ کو اپنی آواز ‘ کے زور پر‘ یہاں تک پوزیشن ملا تھی کہ وہ اپنے ملک کی بڑھکیں‘ بھرتی ہوئی فلموں میں اٹھتے دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اس نے ایک جادوی ‘ کو اپنے ساتھ ساتھ لایا‘ جو بڑھکیں سننے والوں کے دل میں اچانک رونق لگاتی۔
اس جادوئی آواز کو پھر ایک مظہر شاہ نے‘ میرت سے لایا جو اب وہ ‘ بڑھکوں‘ کے بادشاہ ہونے کی وجہ سے جانے پڑتے ہیں۔ اس نے اپنے تھانہ میں ایک جملہ لکھ دیا‘ جس کے بعد انھوں نے اپنی آواز کو بھر دالا۔
اس جادوئی آواز نے‘ پنجابی فلموں کو ایک سیلاب دے دیا جس کی وجہ سے وہیں سے‘ کامیاب نہیں رہ سکے ‘ انھیں‘ بھرپور تناسب ملا تھا۔ اچانک اس کے بعد‘ ایک نئی وجہ طے ہوئی۔
جب‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ فلمی دنیا کی طرف اپنا رخ کیا تو انھوں نے مظہر شاہ ‘ بھرتے دیکھے۔ جس کے بعد‘ وہ اچانک گھوٹ پئے۔ اس واقعہ سے‘ مظہر شاہ‘ اپنے آواز میں ایک نئی اچانک رونق لگائی تھی ‘ جو انھیں‘ فلمی دنیا کی طرف بھی پہنچا دی۔
اس جادوئی آواز‘ کے بعد‘ پاکستانی فلموں میں ایک نئی نوجوانی آئی تھی۔ مظہر شاہ کو‘ اب‘ بڑھکر ‘ اس کی آواز‘ کو اپنے ہاتھ میں سنجیدگی سے لینے کا موقع مل گیا تھا۔ وہیں سے‘ ایک نئی وجہ بھی طے ہوئی۔
اس وقت‘ پاکستان کی فلم انڈسٹری‘ جتنے بھی لاکھ پانچہ ہزار کروڑ دلا رہی تھی، وہیں سے‘ مظہر شاہ ‘ اور ایک فلمی نوجوان ‘ اکمل ‘ جس کی ایسی جڑی‘ انہوں نے ‘ فلمی دنیا میں‘ ایک نئا دور شروع کیا تھا۔
مظہر شاہ کو‘ اب‘ ایک ہیں۔ وہ بڑھک کے بادشاہ تھے اور وہیں سے‘ اس کی آواز‘ نے‘ فلموں میں‘ ایک نیا زماں لگایا تھا جس سے‘ انھیں‘ کامیابی ملنی پڑتی ہے اور وہیں سے‘ اس کی آواز‘ نے‘ فلموں کو‘ ایک نئی زندگی دی ہے۔
انھوں نے ایک صاف ستھری زندگی گزارا تھا جس کے بعد‘ اس کے بعد‘ وہ بڑے لین دین کی تاریکیوں میں گھر گئے۔ مظہر شاہ ‘ ایک صاف ستھری زندگی گزراتے دیکھ کر اور انہیں وہی فلمیں بنانے کی عادت سے ہٹتے رہے۔ لیکن‘ ان کے بعد‘ ایک نئا جادو طے ہوا۔
مظہر شاہ کو اپنی آواز ‘ کے زور پر‘ یہاں تک پوزیشن ملا تھی کہ وہ اپنے ملک کی بڑھکیں‘ بھرتی ہوئی فلموں میں اٹھتے دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اس نے ایک جادوی ‘ کو اپنے ساتھ ساتھ لایا‘ جو بڑھکیں سننے والوں کے دل میں اچانک رونق لگاتی۔
اس جادوئی آواز کو پھر ایک مظہر شاہ نے‘ میرت سے لایا جو اب وہ ‘ بڑھکوں‘ کے بادشاہ ہونے کی وجہ سے جانے پڑتے ہیں۔ اس نے اپنے تھانہ میں ایک جملہ لکھ دیا‘ جس کے بعد انھوں نے اپنی آواز کو بھر دالا۔
اس جادوئی آواز نے‘ پنجابی فلموں کو ایک سیلاب دے دیا جس کی وجہ سے وہیں سے‘ کامیاب نہیں رہ سکے ‘ انھیں‘ بھرپور تناسب ملا تھا۔ اچانک اس کے بعد‘ ایک نئی وجہ طے ہوئی۔
جب‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ فلمی دنیا کی طرف اپنا رخ کیا تو انھوں نے مظہر شاہ ‘ بھرتے دیکھے۔ جس کے بعد‘ وہ اچانک گھوٹ پئے۔ اس واقعہ سے‘ مظہر شاہ‘ اپنے آواز میں ایک نئی اچانک رونق لگائی تھی ‘ جو انھیں‘ فلمی دنیا کی طرف بھی پہنچا دی۔
اس جادوئی آواز‘ کے بعد‘ پاکستانی فلموں میں ایک نئی نوجوانی آئی تھی۔ مظہر شاہ کو‘ اب‘ بڑھکر ‘ اس کی آواز‘ کو اپنے ہاتھ میں سنجیدگی سے لینے کا موقع مل گیا تھا۔ وہیں سے‘ ایک نئی وجہ بھی طے ہوئی۔
اس وقت‘ پاکستان کی فلم انڈسٹری‘ جتنے بھی لاکھ پانچہ ہزار کروڑ دلا رہی تھی، وہیں سے‘ مظہر شاہ ‘ اور ایک فلمی نوجوان ‘ اکمل ‘ جس کی ایسی جڑی‘ انہوں نے ‘ فلمی دنیا میں‘ ایک نئا دور شروع کیا تھا۔
مظہر شاہ کو‘ اب‘ ایک ہیں۔ وہ بڑھک کے بادشاہ تھے اور وہیں سے‘ اس کی آواز‘ نے‘ فلموں میں‘ ایک نیا زماں لگایا تھا جس سے‘ انھیں‘ کامیابی ملنی پڑتی ہے اور وہیں سے‘ اس کی آواز‘ نے‘ فلموں کو‘ ایک نئی زندگی دی ہے۔