فری فائر کنگ
Well-known member
بہار میں ناکام ہونے والی کانگریس کی چھ ممبران ہر رات اپنی پرتوں پر ڈھلی رہی ہیں، جتنی وہ بھی کوشش کر رہی ہے کہ انہیں ناکام رہنے کی یہ نتیجہ ہو۔
مگر یہ بات چہٹنے لگ رہی ہے کہ جیسے جیسے بہار اسمبلی کے انتخابات سے وہ اپنی طاقت سے آگے تھم رہے ہیں، اسی طرح یہ بات بھی چلتی رہی ہے کہ کانگریس کی جانب سے جو ناکام ہونے والے ایم ایل اے تمام اپنی پارٹی کا نام لیں گے، ان میں سب سے پہلے منوہر پرساد سنگھ، سریندر پرساد اور ابھیشیک رنجن ہوگئے ہیں۔
اس طرح کے ناکام ہونے والے ایم ایل اے نے اپنی پرتوں پر ڈھلی رکھی ہے کہ یہ بات چہٹنے لگ رہی ہے کہ اس وقت کی بہار اسمبلی میں جس ساتھ ہو جائے وہ بھی ایک ناکام ہو گا۔
جی ہां، ابھی تک اس بات کو کوئی کامیابی نہیں دیکھایا تھا کہ آٹھ سال سے حکومت کی رائے میں بدلتے ہوئے ملوثیوں نے اب بھی وہی رائے دیکھنی تھی جس کے نتیجے میں انہیں گاڑی کی چڑیہ پر سٹار ڈاؤن اور پھر پچاس لاکھ سے زیادہ رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
لیکن جس بات کو یہ دیکھایا گیا ہے وہی آج نئی ہے۔ اس صورتحال کی سب سے بڑی طاقت ریاست میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے والیBJP نے اپنی طاقت بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
اس طرح جس ساتھ بھی وہ آئے گا اس کا ایک نہیں دو نتیجے نکل سکتے ہیں۔ یہ بات چہٹنے لگ رہی ہے کہ جیسے جیسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی طاقت پہچان رہی ہے وہی ڈھیلی ہونے لگی ہے۔
اس صورتحال کا ایک ایسا نتیجہ بھی نکل سکتا ہے جس سے انڈیا اتحاد میں خوف و ہراس کی صورت پیدا ہو جائے اور اس پر یہ بات چہٹنے لگ رہی ہے کہ آگے بھی یہ توہین پھیل کر دکھائی دینا ہو گا۔
مگر یہ بات چہٹنے لگ رہی ہے کہ جیسے جیسے بہار اسمبلی کے انتخابات سے وہ اپنی طاقت سے آگے تھم رہے ہیں، اسی طرح یہ بات بھی چلتی رہی ہے کہ کانگریس کی جانب سے جو ناکام ہونے والے ایم ایل اے تمام اپنی پارٹی کا نام لیں گے، ان میں سب سے پہلے منوہر پرساد سنگھ، سریندر پرساد اور ابھیشیک رنجن ہوگئے ہیں۔
اس طرح کے ناکام ہونے والے ایم ایل اے نے اپنی پرتوں پر ڈھلی رکھی ہے کہ یہ بات چہٹنے لگ رہی ہے کہ اس وقت کی بہار اسمبلی میں جس ساتھ ہو جائے وہ بھی ایک ناکام ہو گا۔
جی ہां، ابھی تک اس بات کو کوئی کامیابی نہیں دیکھایا تھا کہ آٹھ سال سے حکومت کی رائے میں بدلتے ہوئے ملوثیوں نے اب بھی وہی رائے دیکھنی تھی جس کے نتیجے میں انہیں گاڑی کی چڑیہ پر سٹار ڈاؤن اور پھر پچاس لاکھ سے زیادہ رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
لیکن جس بات کو یہ دیکھایا گیا ہے وہی آج نئی ہے۔ اس صورتحال کی سب سے بڑی طاقت ریاست میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے والیBJP نے اپنی طاقت بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
اس طرح جس ساتھ بھی وہ آئے گا اس کا ایک نہیں دو نتیجے نکل سکتے ہیں۔ یہ بات چہٹنے لگ رہی ہے کہ جیسے جیسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی طاقت پہچان رہی ہے وہی ڈھیلی ہونے لگی ہے۔
اس صورتحال کا ایک ایسا نتیجہ بھی نکل سکتا ہے جس سے انڈیا اتحاد میں خوف و ہراس کی صورت پیدا ہو جائے اور اس پر یہ بات چہٹنے لگ رہی ہے کہ آگے بھی یہ توہین پھیل کر دکھائی دینا ہو گا۔