بھارت نے واضع طور پر بتایا ہے کہ اس نے پاکستانی سرحد کے قریب گجرات کی سرزمین میں انڈین ایئر فورس کے لئے فضائی مشقوں کا اعلان کر دیا ہے، جس میں پاکستان کے ساتھ بھارت کی جنوبی سرحد کے علاقوں پر محیط محدود فضائی زون شامل ہیں۔
بھارتی ایئر فورس نے تین دن تک ان مشقوں کو منظم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس دوران پاکستانی سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر پرواز کی جا رہی ہے، جس میں تیز رفتار پروaziں اور ایکشن ریپارٹ شامل ہوگیں گے۔
ان مشقوں کے دوران بھارتی ایئر فورس کے لئے مختلف طبالوں کو استعمال کیا جاے گا، جس میں رافیل، سخوئی 30 اے آئی، جیگوار اور دیگر فرنٹ لائن لڑاکا طیارے شامل ہوں گے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے ان مشقوں کے لیے کوئی ایسی بھرپور رداعمل نہیں سامنے آیا، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ان مشقوں سے منع نہیں کرن گے۔
امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات میں پچاس سال کی بدولت یہ طاقتیں ایک دوسرے پر انحصار کرداریوں میں لپیٹی ہوئی ہیں، اور پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اسے ان مشقوں سے منع نہیں کیا جا سکتا۔
اس میں کچھ غلطیوں کی لپٹ ہوگئی ہے۔ ایسے میٹھے وارنوں سے بھارت کے لئے فضائی مشق کر رہا ہے جو بھی اس کی ذیلی سرزمینوں پر لگے تو یہ ایک بڑی مسابقت بن جائے گا۔
اس ماجے کی پوری بات تو یہ ہے کہ بھارت کس طرح اپنے خلاف پناہ لینے کے لیے دوسرے ملکوں سے فوری مدد طلب کر رہا ہے، اور اس نے ایسے ہی گجرات میں انڈین ایئر فورس کے لئے ایک ہتھیارہaziلا چلایا ہے جس کا مقصد دوسروں ملکوں سے مدد طلب کرنا ہی نہیں بلکہ ان کی فوری مدد حاصل کرنا ہوگا۔
امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات اس وقت تو کافی بدلی ہوئی ہیں، اور اب وہ دونوں طاقتوں کے دوسرے ممالک سے مدد طلب کرنے لگ رہے ہیں، جو اس بات کو واضح کرتا ہے کہ پچاس سال سے ہو کر ان تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ اب یہ دونوں طاقتیں ایک دوسرے پر انحصار کرداریوں میں لپیٹی ہوئی ہیں۔
مگر یہ بھی ایک چیلنج ہے کہ پاکستانی حکام کو اپنے خطرات کو سمجھنا چاہئے اور ان مشقوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی نئی صورتحال کو بھی ایک ساتھ لینا پڑega. کچھ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ بھارت ان مشقوں کو پاکستان کی سرحد سے قریب کر رہا ہے، اور یہ واضح طور پر اس بات کو ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ ایسے منظر بننے کا جیسا کہ پاکستانی سرحد پر ان مشقوں کی تین دن تک قیادت ہوتی رہے گی، تو اس کے بعد نہیں بھی کچھ ہوگا.
یہ بھرپور بات ہے کہ بھارتی ایئر فورس نے انڈین ایئر فورس کے لئے گجرات کی سرزمین میں فضائی مشقوں کا اعلان کر دیا ہے، جس سے پاکستان کو اس پر منع کرنے کی صلاحیت نہیں ہے। یہ بات حقیقی طور پر خوفناک ہے کہ بھارتی اور پاکستانی ایئر فورسوں کے درمیان دائرہ اختیار میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، جس سے یہ پتا چalta ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرداریوں میں لپیٹے ہوئے ہیں۔
ان مشقوں میں بھارت کی جانب سے مختلف طبالوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جو ان کے لئے ایک بڑا امکان دلاتا ہے۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی حکام نے اس سلسلے میں کوئی ایسی بھرپور رداعمل نہیں کی، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ان مشقوں سے منع نہیں کر پائenge۔
یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی سرحد پر کتنے اچھے اور بھالے لوگ ہیں، یوں ہی ان کے درمیان فوجی مشق ہوتے رہتے ہیں لاکھوں لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈال کر دیکھتے ہیں اور بھی یہاں کے عوام کو چلنے کا کام آتا ہے۔
لوگ کیسے ہو سکتے ہیں کہ ان پانچ سالوں کی جنگ کے بعد ہمیشہ فوجی مشق کے ماحول میں ہی رہتے ہیں؟ یہ ایسا نہیں کہ جو لوگ بھارت اور پاکستان کی سرحد پر آتے ہیں ان لوگوں کو محبت کرنا چاہیے اور ان سے ملنا چاہیے لیکن اب یہاں کے فوجی ایسے نہیں ہوتے۔
اس لئے میں کہتا ہوں کہ اس سے نکلنا چاہیے، دوسرے شعبے سے اور تھیٹر سے بھی کچھ انور نہیں کرنا چاہیں۔
میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک بھارت اور پاکستان میں کچھ بھی نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کسی نے دوسرے پر حقدار نہیں ہوگا، اور انہیں ایک دوسرے سے بات کرنا چاہیے تو اسے تو موافقت کے ساتھ کیا جائے گا… بھارت کی جانب سے ان مشقوں میں شامل ہونے والی مختلف طبالوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں نہیں لے رہنا چاہیے، اور پاکستان کی جانب سے بھی اس بات کو قبول کرنا چاہیے…
بھارتی ایئر فورس کی یہ فضائی مشق بہت عجیب ہے، وہاں تک کہ انہوں نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں لگاتار پرواز شروع کر دی ہے اور ایک دوسرے سے منسلک فضا کی چھت پر بھی پرواز کی جا رہی ہے، یہ کہتا ہے کہ اب وہ 50 سالوں سے امریکہ کے ساتھ تائیار ہیں اور اب وہ اسے ایسا محسوس کر رہے ہیں؟
ایسے میں یہ بھارتی ایئر فورس کے لئے فضائی مشق اور ان کی فلاں فون فوجی طاقت کو دکھانے کی بات ہوگی، لیکن اگر یہ محض تیز رفتار پروازیں ہیں تو نا ہی یہ بھارتی ایئر فورس کے لئے ایک سچا فائدہ ہوگا یا نا۔
بھارت کی یہ فضاء مشق آپ کو جھیلتی ہوئی آنکھوں بھری ہوئی دیکھنا ہو گی، لگتا ہے کہ وہ پاکستان پر ایسا عینیت سے کہ رہے ہیں کہ یہ ان کی سرحد کے قریب ہی ٹکرائیں گی، میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کرنا پڑا ہوگا، لگتا ہے کہ وہ اپنے فوج کی تیز گریٹھ پر بھی چل رہے ہیں، میں نہیں سمجھ سکا ہوگا کہ یہ انڈین ایئر فورس کے لئے کیے گئے مشق کے دوران کیے جا رہے تھے یا نہیں؟
بھارت کی جانب سے انڈین ایئر فورس کے لئے یہ فضائی مشقوں کا اعلان کرنا تو تھوڑا سا چیلنج ہے، پھر بھی یہ بات سچ ہے کہ پاکستان نے بھارتی ایئر فورس کو سرحد پر آنے کی اجازت دی ہے، جس کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے پر انحصار کرنے والی باتوں ہیں۔
اس سلسلے میں بھارت کی جانب سے ان مشقوں کو منظم کرنے کا اعلان کرنا ایک واضح سائنال ہے، پھر اور اس پر پاکستان نے کوئی رداعمل نہیں کیا ہے، جو یہ بات بتاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی اور انصاف کی باتوں ہیں۔
لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ پاکستان میں لوگ ان مشقوں سے خوفزدہ ہیں، اور اس پر وہ ایک واضح رداعمل نہیں کرے گا، جو کوئی ایسا سائنال ہے کہ دونوں ملکوں کی جانب سے ہمیں کسی بھی صورت میں لڑائی کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔
یہ بات کہلیں تو بھارتی ایئر فورس کے لئے ان مشقوں کی ضرورت کیا ہے؟ وہ یہاں تک کہ انڈین ایئر فورس کے لیے فضائی مشق دوسری جگہ پر نہیں کر سکتے، پھر کیا پاکستان کے لئے؟ یہ ناقص تحریک ہوگئی ہے!
یہ بات پتہ چلی گئی ہے کہ بھارت کی فوج میں تو یہ ایسے تیز رفتار پرواز کر رہی ہے جو انسان کے دماغ کو اچانک ٹھوس پھینکتا ہے ، ابھی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان مشقوں میں کیسے ایک دوسرے کے سامنے لٹی رہی ہے وہ بھی اس حد تک کہ پاکستان کو ان کے خلاف کوئی رد عمل پیش کرنا نہیں آ سکتا ، پچاس سالوں کی تعلقات میں یہ دو طاقتیں ایک دوسرے پر بہت اچھی طرح سے لپیٹی ہوئی ہیں اور اب ان کے درمیان کوئی نئی بات ہے نہیں، وہ تو دوسرے ایسے ہی پرواز کر رہے ہیں جو انسان کے دماغ کو اچانک ٹھوس پھینکتا ہے
اس وقت کھل کر کہنا ہے کہ یہ بھارتی ایئر فورس کا اس صورتحال میں کیا مقصد ہے؟ پاکستان کو ان مشقوں سے منع نہیں کرنا چاہیے، لیکن وہ کیسے جواب دیتے ہیں? اس پر غور کریں اور صحت مند ذہانت سے موقف بنائیں
اس موضوع پر بات کرنے والے لوگوں کو یہ سوال آتا ہے کہ اگر ایک دوسرے کی سرحد پر پرواز کرنا جہلاتی ہو تو ایسا کیا کرتے ہیں؟ اور جو کچھ بھارت کر رہا ہے وہ سچمایا گیا ہوا ہے یا نہیں؟
میں سمجھتا ہوں کہ ایسے حالات میں بہترین اقدامات کو اس لئے کہنے والا ہوتا ہے کہ وہ سچمایا گیا ہوا ہو۔ اگر کوئی دوسرا ملک سچمائے تو وہ اس پر تنقید نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنی سرحد کے بارے میں ایسی پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہوگی جس سے دونوں ملکوں کی تیندھی رہے اور کوئی بھی کھلے چہرے سے تنقید نہ کری۔
یہ بات بہت اچھی ہے کہ بھارتی ایئر فورس نے گجرات کی سرزمین میں انڈین ایئر فورس کے لئے مشقوں کا اعلان کیا ہے، ابھی یہ بات تو ٹھیک نہیں تھی کہ یہ کون سے مقامات پر مشق کر رہی ہیں اور ایسے کیسے کر رہی ہیں۔ اب جب یہ بات سامنے آگئی تو اس کی توقع کا مظاہر ہے کہ بھارتی ایئر فورس نے کیا، اور ابھی یہ بات بھی نہیں تھی کہ ان مشقوں میں پاکستان کی سرحد پر فاصلہ ہوتا ہے یا نہیں۔
ایک چیٹ دیکھتے ہیں کہ ایسے میچز کون سے کھیلتے ہیں جیسے انڈین ایئر فورس نے سوشل مीडیا پر ظاہر کیا تھا، اور اب یہ بات بھی صاف ہو چکی ہے کہ وہاں اس کی پورتی ہوئی کوشش کر رہی ہے۔
ہر صاف بھارت نے ابھارٹ میں اپنے فوج کی ایک نئی ٹیم کو تیار کرنا ہوا ہے اور یہ نئی ٹیم انڈین ایئر فورس کے لئے فضائی مشقوں کا اعلان کر دیا ہے اور اس میں گجرات کی سرزمین پر پاکستان کی جنوبی سرحد کے علاقوں پر محیط محدود فضائی زون شامل ہیں۔
بھارتی ایئر فورس نے ان مشقوں کو تین دن تک منظم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس دوران پاکستانی سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر پرواز کی جا رہی ہے، جس میں تیز رفتار پروازیں اور ایکشن ریپارٹ شامل ہوگئیں گے۔
ان مشقوں کے دوران بھارتی ایئر فورس کے لئے مختلف طبالوں کو استعمال کیا جاے گا، جس میں رافیل اور سخوئی 30 اے آئی شامل ہوگئے گے۔
پاکستانی حکام نے ان مشقوں سے منع نہیں کیا اور یہ بات بھی صاف ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات میں پچاس سال کی بدولت یہ طاقتیں ایک دوسرے پر انحصار کرداریوں میں لپیٹی ہوئی ہیں اور پاکستان نے بھی اس بات کو قبول کیا ہے۔
یہ تو بھارتی ایئر فورس کی جانب سے ہندوستانی سرحد پر مہمتی لڑائی شروع کرنے کے بعد، پاکستان نے اپنی سرحد پر ایک مشق دکھائی دی ہیں، جیسا کہ انڈیا نے بھی کیا ہے... پچاس سال سے یہ دو ممالک ایک دوسرے کی طرف اپنی افواج لگاتے رہتے ہیں... اور اب بھی یہاں تک کہ وہ ایسے مشق ہو سکیں جس پر دوسرے کا جواب نہیں آتا۔
بھارت نے ایسا announcment karta hai tu Pakistan ko darna padiya hai , woh kaisi bhi serhadd par aer shikayon ka announce karte hain to Pakistan ko khud kee dekhna padiya hai. Yeh taqat ki ladaai peh lag gayi hai, lekin main socha hai yeh koi khel nahi hai .
امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات میں ایک دوسرے پر انحصار کرداری پائی جانے سے دوسری طرف سے بھی یہی بات ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ دونوں طاقتوں نے اپنے علاقے کی安全ت کو ضروری سمجھا ہے اور اس لیے انہوں نے یہ ایئر استریٹیج واک کیا ہے، لہذا یہ مشق صرف دو طرف پر ہونے والی تناؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی، پھر بھی اس بات کو نہ ملچ کرنا چاہیے کہ یہ مشق پاکستان کی سرحد پر ہو رہی ہے اور کیا انہوں نے اپنی خودی کی بھی سیکیورٹی کو کم کرنے کی پوری کوشش کی ہے؟