بھارت: بائیک رائیڈر کے اکاؤنٹ سے 331 کروڑ کی ٹرانزیکشنز، شادی پر کتنا خرچہ کیا؟ - Daily Qudrat

ریاضی دان

Well-known member
بھارت میں ایک حیران کن واقعہ نکلتا ہے جس سے بھارتی عوام کو ایماندار بننے کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بائیڈر رائیڈر کے بینک اکاؤنٹ سے 331.36 کروں کی ایک مظلوم ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے، جس میں سے ایک کروڑ سے زیادہ رقم اودھ پور کی ایک پرتعیش شادی پر خرچ کی گئی ہے۔

شادی میں 1 کروڑ سے زائد رقم کا صرف 1 فیصد صرف شادی کے اخراجات پر استعمال کیا گیا ہے، دوسرا حصہ بیٹنگ آپریشن سے منسلک اکاؤنٹ تک چلا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ رقم بیٹنگ نیٹ ورک سے نکالی گئی اور یوں مختلف تقاریب اور اخراجات پر استعمال ہوئی۔

اس بات پر علاج خواہاں بھارتی عوام کی ہے کہ ایک معمولی آمدنی والا رائیڈر اتنی بڑی ٹرانزیکشنز کے باوجود بینک، ٹیکس حکام یا خود پولیس کی نظر سے کیسے بچ گیا؟ کس نے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی اور کس نے رقم استعمال کی؟

شادی گزشتہ سال نومبر میں منعقد ہوئی تھی اور اس کا تعلق گجرات کے نوجوان سیاسی رہنما آدتیہ زولا سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ شادی ایک پرتعیش شادی تھی اور اس میں کئی دلچسپ باتوں کی پیداوار ہوئی، لیکن شادی میں خرچ کرنے والی رقم کی ناکافی معلومات فراہم کی گئیں تھیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ رائیڈر کے اکاؤنٹ میں اگست 2024 سے اپریل 2025 کے دوران بے نامی ذرائع سے اربوں روپے جمع ہوئے اور تقریباً اسی رفتار سے مختلف مشکوک اکاؤنٹس میں منتقل بھی کر دیے گئے۔

اس بات پر علاج خواہاں نہیں ہوگا کہ یہ اکاؤنٹ ’میول‘ کے طور پر استعمال ہوا، یعنی ایسا تھرڈ پارٹی اکاؤنٹ جسے اصلی رقم کے ذرائع کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس واقعے سے بات کرنے والے افسران یہ بات پر حیران ہیں کہ ایک معمولی آمدنی والا رائیڈر اتنی بڑی ٹرانزیکشنز کے باوجود بینک، ٹیکس حکام یا خود پولیس کی نظر سے کیسے بچ گیا؟
 
ایسا تو بھارتی عوام کو دوسروں پر یقین نہ کرنے کی ہمیشہ پریشانی ہوتी رہی ہے، لیکن اچھا کہ ان لوگوں کو ایماندار بننے کی اس پریشانی سے بچایا جا سکا ہے جو ابھی تک ان کے سامنے آ رہا ہے، شادی میں خرچ کرنے والی رقم کو ناکافی معلومات فراہم کی گئی ہے، اس سے یہ بات چلانی ہوگی کس نے ایسی بڑی ٹرانزیکشنز میں حصہ لیا اور کس نے اسے چھپایا?
 
ایسا مظلوم واقعہ ہوتا تو سارے لوگ حیران ہو جاتے #مظلوم_دولت #شادی_کی_ٹرانزیکشن #رائیڈر_کے_بیان
 
ایسا کیا ہوا، ایک چھوٹے معاملے میں پوری دنیا پر رکاوٹ پڑی اور لوگ سوچنے لگے کہ یہ وہی معاملہ ہے جو سب نے دیکھا ہے، ایسے میں بھی یہ بات کوئی نہ کوئی شخص سمجھ پاتا ہے کہ بینک، ٹیکس حکام اور پولیس کی نظر سے اس معاملے میں کسی نے کوئی انصاف نہیں کیا اور یوں بچ گیا؟
 
ایسا تو کیا ہوا کہ یہ ممکن ہو سکتا تھا کہ ایک معمولی آمدنی والا رائیڈر بینک یا پولیس کی نظر سے نہیں چلتا بلکہ اس طرح اپنی حیرت کیا ہوتا! یہ ایسا کہنا کہ بھارتی عوام کے لیے ایماندار بننے کی پریشانی نکل رہی ہے، بہت زیادہ عجیب ہیں!
 
یہ تو بھارتی عوام کے لیے ایک عجیب سوال ہے، مگر یہ سوال رائیڈر بننے والوں کو پوچھنا چاہئے جس کی اقدامات سے انہیں کیسے نجات مل گئی? اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ شادی میں خرچ کی گئی رقم کے نکلنے کے پीछے کیا سلسلہ ہو رہا ہے؟
 
یہ کیا دھندلے ہوئے شادی کی باتوں ہیں؟ یہ بات تو جانتے ہیں کہ اکاؤنٹ سے نکلنے والی رقم کو چھپانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں اور یہ رائڈر اتنی بڑی مظلوم ٹرانزیکشنز سے بچ گیا تو پھر اس نے چھپانے کے لیے کیوں مختلف طریقے استعمال کیے؟
 
یہ واضح طور پر ایک معذور مظلوم ہے جس کے بارے میں بھارتی عوام کو غلط فہمی یا نہائی ماحول میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس حقیقت سے بات کرنا چاہئے کہ اتنی بڑی ٹرانزیکشن بھی یوں ممکن نہیں ہوتی کیونکہ یہ ایک معذور رائیڈر ہے، اور اس کی معذوری کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ اسے بھی سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے کہ یہ رائڈر کس حد تک معذور ہے اور اس کی معذوری کے بارے میں کیسے نہائی بات چیت کی جاتی ہے؟
 
بھارتی شادیوں میں ایماندار بننے کی پریشانی کو یہ واقعہ مزید تباہ کر رہا ہے، اس سے یہ بات مل چکی ہے کہ ایسے بڑے اخراجات میں بھی معاملہ منظم کیا جا sakتا ہے۔

اس شادی کی ناکافی معلومات ان حالات کی وجہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک معمولی آمدنی والا رائیڈر اتنا بھلے بیٹھ کر بینک یا پولیس سے امانت رکھ سکتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات پر ناکامی کی صورت میں وہ بھی اپنی امانت چوری کر لیتا ہے یا ایسے معاملات میں شامل ہو جاتا ہے جو اس سے زیادہ گہرا ہوتے ہیں۔
 
اس بات پر منکر ہوں گے یہ کہ کسی مظلوم شخص کو اس طرح کی بڑی پیسہ کی اچھلی اور معقول شادی میں خرچ کرنے دئیں گے؟ یہ تو ایک ہی نوجوان سیاسی رہنما کے ساتھ شادی منعقد کرنے کی بات ہے اور اس نوجوان کو اتنی پیسہ خرچ کرنا چاہئیں گے؟

اس بات پر غور کروں گے کہ ایک معمولی آمدنی والا رائیڈر اتنی بڑی پیسہ کی ٹرانزیکشنز کے باوجود بینک، ٹیکس حکام یا خود پولیس کی نظر سے کیسے بچ گیا؟ اس پر منکر ہوں گے یہ کہ کون سی نے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی اور کون نے رقم استعمال کی?

اس واقعے میں ڈیپریشن کا محسوس ہوتا ہے کہ ایک معمولی لوگو کو اتنی پیسہ کی ٹرانزیکشن سے بچایا گیا ہے، جیسا کہ اس شخص کے پاس کافی پیسہ نہیں تھا اور اس لیے انہیں یہ پیسہ چوروں سے حاصل کرنا پڑا ہے، جس کی ایک بڑی شادی میں خرچ کیا گیا ہے۔
 
اس حیران کن واقعہ سے متعلق بتایا جانا چاہیے کہ شادی گزشتہ سال نومبر میں منعقد ہوئی تھی، جو آدتیہ زولا سے جودا جا رہا تھا۔ یہ بات بھی بات ہے کہ اس شادی میں خرچ کرنے والی رقم کی ناکافی معلومات فراہم کی گئیں۔ اگست 2024 سے اپریل 2025 کے دوران رائیڈر کے اکاؤنٹ میں بے نامی ذرائع سے اربوں روپے جمع ہوئے، جو یہ بات کی ایک حیران کنproof ہے کہ یہ رقم شادی میں خرچ کرنے والے کے پاس نہیں تھی یا اسے اس سے منسلک اکاؤنٹس سے چلا گیا تھا۔
 
بھارت میں ایسے واقعات کو لینے کے لیے کہیں کا کوئی ذمہ نہیں اور وہ لوگ صرف کہتے ہیں کہ ’اسے بھی کیسے جانتا‘۔ اس صورتحال میں اگر بینک، ٹیکس حکام یا پولیس سے بات کرنا مشکل نہیں تو اسی طرح شادی کے منصوبوں کی کامیابی کے لیے کہیں کا کوئی ذمہ نہیں ہوتا؟ یہی واضح نہیں ہوتا کہ بھارتی عوام کی ایماندار بننے کی پریشانی اس سے زیادہ جتنی زیادہ ہے، کہ شادی میں خرچ کرنے والی رقم پر ٹیکس نہیں چھوڑا گیا تھا؟
 
یہ واقعہ ہمیں ایسا ہٹایا ہے کہ ہم اپنے معیشت میں ایسی غلطیاں دیکھ رہے ہیں جو ہمیں آگہ کرتی ہیں. یہ رائہر کی Geschichte ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح ایک بڑا معاملہ ہوا اور کس طرح ہم اس میں ہمت ہار گئے. اس سے ہمیں پوچھنا چاہیے کہ ہم ایسی حالات میں کیسے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کر سکتے ہیں اور کیسے ہمت کی جگہ عزم کو چھوڑنا بھula دیتے ہیں.
 
اس شادی میں خرچ کرنے والی رقم کھوننے کا یہ واقعہ بھارت کی معیشت کو ایک گہری تاریک پائی کی طرف لے جاتا ہے. یہ رائے ہے کہ ڈیروں سے کم آمدنی والوں کی اس طرح کی ٹرانزیکشنز کو ہم سب جانتے ہیں، لیکن ان کا انصاف کس نہیں کرتا. یہ بھی بات غنیمت میں ہو سکتی ہے کہ پولیس اور بینک کچھ نہ کچھ تیزاب دیوں کی طرح ہیں جو کسی بھی معاملے میں انصاف کا پاتا نہیں ہوتا.
 
ایسے میں سمجھ نہیں آ رہا کے اس شادی میں اِس قدر بڑی ٹرانزیکشنس ہون لئے کیوں کر دی گئیں؟ ہر ایک کا پیٹا چلنا چاہیے، نہ کے؟ اور یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا کے بینک کی توسیع کے لیے اس طرح کے مظلوم ٹرانزیکشنز کرنے سے اس کا فائدہ کس نے لے رہا ہو؟
 
اس واقعے نے مجھے ایک بات یقینی بنانے پر مجبور کیا ہے کہ ایسے معاملات میں حقیقی راز کو پہنچانے کی کوشش کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن اس واقعے سے نکلنے والی تعلیم اور تجربہ یوں ہے کہ چاہے وہ کسی بھی معاملے میں رہے ہوں یا نہ رہے، سچائی کو اپنایا جائے تو ہر چیز آسانی سے سلامی کے دروازے پر جا سکتی ہے اور یہی واقعے کی حقیقت ہے۔
 
واپس
Top