ہارمونیم والا
Well-known member
بھارت میں جوBJT کہتے ہیں وہ دوسرے ممالک کی طرح بھی ایک اہم پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ملک کی معاشیات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی تک اس میں کچھ نئی باتوں کی تصدیقی ہوئی ہے جو عام پاکستانی جانتے نہیں۔
پہلے یہ کہ بھارتی حکومت اپنے BJT کا انشا ایک خفیہ بنکر میں تیار کرتی ہے، جو کوئی عام جگہ شائع نہیں ہوتا بلکہ یہ چھپائی نارتھ بلاک کے تہہ خانے میں کی جاتی ہے اور بجٹ ٹیم کے 100 کے لگ بھگ اراکین کو 8 سے 10 روز قبل بند کردئیے جاتے ہیں، جن کے پاس موبائل فون یا انٹرنیٹ نہیں ہوتا۔ اس سب کی ایک ایسی وجہ ہے جو 1950 سے پہلے ہی بجٹ لیک ہو گیا تھا اور ان کے پاس اسے نئے طور پر پیش کرنے کے لیے کوئی یقینی رکاوٹ نہیں ہے۔
دوسرا یہ راز ہے کہ بھارت میں شام کو 5 بجے بجٹ پیش کیا جاتا تھا، لیکن ایک خاص واقعہ کے بعد اسے بدل کر صبح کے 11 بجے کردیا گیا تھا۔ یہ واقعہ ان کا تھا کہ شام کو 5 بجے کے وقت میں جس گزری ہوئی ایک ماحول میں لندن میں صبح کے ساڑھے 11 بجے ہوتے تھے، جس کی وجہ اس کی لٹرن ٹائم زون تھی اور اس کی وجہ سے اب شام کو 5 بجے کے وقت میں لندن میں صبح کے ساڑھے 11 بجے ہوتے ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ بھارت میں شام کو 5 بجے کے وقت میں اس گزری ہوئی ایک روایت تھی جس سے لینے پر بھی ہار کرے گی۔ اور یہ بات صاف ہے کہ وزیر خزانہ خود حلوے کی تیاری میں پیش پیش رہتے اور پوری ٹیم کو کھلاتے بھی ہیں، جس سے اس کی حفاظت بھی اچھی طرح کر لی گئی ہے۔
چوتھا یہ راز ہے کہ بھارت میں 1977 میں جو BJT تھا اسے عبوری وزیر خزانہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے پیش کیا تھا، جبکہ سب سے طویلBJT نرملا سیتارامن نے 2020 میں پیش کیا تھا جو اپنی پوری مدت میں جاری رہا۔
پانچواں یہ راز ہے کہ آزادی کے بعد 10 سال تک بھارت میں شہری ایسے ٹیکز کا شکار رہے تھے جیسے کراس ورڈ پزل یا مقابلوں میں جیتے جانے والے انعامات پر ٹیکس، تحائف پر ٹیکس اور اخراجات پر بھی ٹیکس جبکہ تحافت اور اہم اخراجات پر یہ ٹیکز باقی ہیں۔
چھٹا راز ہے کہ جوBJT بھارت کی تاریخ میں پیش کیا گیا وہ پاکستان کے ایک وزیر اعظم بھی شامل تھے، جسے لیاقت علی خان نے 1946 میں غریب آدمی کاBJT پیش کیا تھا جس میں امیروں پر بھاری ٹیکس لگایا گیا تھا۔ حالانکہ موجودہ بھارت تو 1947 میں وجود میں آیا، لیکن اس کی وجہ سے وہ BJT پاکستان کا نہیں بلکہ برصغیر کا موجودگی کا ہے۔
آخری راز یہ ہے کہ بھارت میں جوBJT پیش کیا جاتا ہے وہ صرف 3 بار ہی وزیر اعظم نے پیش کیا ہوتا ہے، ایک بار جواہر لال نہرو نے، ایک بار مرار جی ڈیسائی اور ایک بار اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے کیا تھا۔
پہلے یہ کہ بھارتی حکومت اپنے BJT کا انشا ایک خفیہ بنکر میں تیار کرتی ہے، جو کوئی عام جگہ شائع نہیں ہوتا بلکہ یہ چھپائی نارتھ بلاک کے تہہ خانے میں کی جاتی ہے اور بجٹ ٹیم کے 100 کے لگ بھگ اراکین کو 8 سے 10 روز قبل بند کردئیے جاتے ہیں، جن کے پاس موبائل فون یا انٹرنیٹ نہیں ہوتا۔ اس سب کی ایک ایسی وجہ ہے جو 1950 سے پہلے ہی بجٹ لیک ہو گیا تھا اور ان کے پاس اسے نئے طور پر پیش کرنے کے لیے کوئی یقینی رکاوٹ نہیں ہے۔
دوسرا یہ راز ہے کہ بھارت میں شام کو 5 بجے بجٹ پیش کیا جاتا تھا، لیکن ایک خاص واقعہ کے بعد اسے بدل کر صبح کے 11 بجے کردیا گیا تھا۔ یہ واقعہ ان کا تھا کہ شام کو 5 بجے کے وقت میں جس گزری ہوئی ایک ماحول میں لندن میں صبح کے ساڑھے 11 بجے ہوتے تھے، جس کی وجہ اس کی لٹرن ٹائم زون تھی اور اس کی وجہ سے اب شام کو 5 بجے کے وقت میں لندن میں صبح کے ساڑھے 11 بجے ہوتے ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ بھارت میں شام کو 5 بجے کے وقت میں اس گزری ہوئی ایک روایت تھی جس سے لینے پر بھی ہار کرے گی۔ اور یہ بات صاف ہے کہ وزیر خزانہ خود حلوے کی تیاری میں پیش پیش رہتے اور پوری ٹیم کو کھلاتے بھی ہیں، جس سے اس کی حفاظت بھی اچھی طرح کر لی گئی ہے۔
چوتھا یہ راز ہے کہ بھارت میں 1977 میں جو BJT تھا اسے عبوری وزیر خزانہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے پیش کیا تھا، جبکہ سب سے طویلBJT نرملا سیتارامن نے 2020 میں پیش کیا تھا جو اپنی پوری مدت میں جاری رہا۔
پانچواں یہ راز ہے کہ آزادی کے بعد 10 سال تک بھارت میں شہری ایسے ٹیکز کا شکار رہے تھے جیسے کراس ورڈ پزل یا مقابلوں میں جیتے جانے والے انعامات پر ٹیکس، تحائف پر ٹیکس اور اخراجات پر بھی ٹیکس جبکہ تحافت اور اہم اخراجات پر یہ ٹیکز باقی ہیں۔
چھٹا راز ہے کہ جوBJT بھارت کی تاریخ میں پیش کیا گیا وہ پاکستان کے ایک وزیر اعظم بھی شامل تھے، جسے لیاقت علی خان نے 1946 میں غریب آدمی کاBJT پیش کیا تھا جس میں امیروں پر بھاری ٹیکس لگایا گیا تھا۔ حالانکہ موجودہ بھارت تو 1947 میں وجود میں آیا، لیکن اس کی وجہ سے وہ BJT پاکستان کا نہیں بلکہ برصغیر کا موجودگی کا ہے۔
آخری راز یہ ہے کہ بھارت میں جوBJT پیش کیا جاتا ہے وہ صرف 3 بار ہی وزیر اعظم نے پیش کیا ہوتا ہے، ایک بار جواہر لال نہرو نے، ایک بار مرار جی ڈیسائی اور ایک بار اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے کیا تھا۔