"بھارت میں بھی نیپال اور بنگلہ دیش جیسے - Latest News | Breaking

شیر

Well-known member
بھارتیہ نیشنل لوک دل (این ایل ڈی) کے قومی صدر ابھے سنگھ چوٹالا نے ایک متنازع بیان دے کر سیاسی ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے ملک میں بھی Sri Lanka, Bangladesh اور Nepal کی طرح نوجوانوں کی قیادت میں عوامی تحریریں چلنی چاہئیں، تاکہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے ہٹایا جا سکے۔

چوٹالا کا بیان اس بات پر مبنی ہے کہ جس طرح Sri Lanka میں ہوا، جس طرح Bangladesh کے نوجوانوں نے حکومت کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا، اور جس طرح Nepal میں نوجوانوں نے حکومت کو اقتدار سے باہر کیا، وہی طریقہ ہندوستانی عوام میں بھی اپنانے ہوں گے تاکہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے باہر کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ حکمرانوں کو گدی سے کھینچ کر سڑکوں پر دوڑا کر پیٹنے کا کام کرنا پڑے گا، انہیں دیش چھوڑنے پر مجبور کرنا ہوگا۔

بیجेपی کی جانب سے شہزاد پوناوالا نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور اس بیان کو آئینی نظام اور جمہوری اقدار کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انہیں ملک اور آئین مخالف ذہنیت اپنا رہی ہے، جو صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں اور جمہوریت اور ڈاکٹر امبیڈکر کے آئین کے خلاف جانے کو تیار ہیں۔

ان بیانات نے عوام کی اعزاز میں کام کیا ہے، اور جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔
 
ਇس بیانات سے ہر کچھ آگے چل رہا ہے، لیکن بہت سے لوگ اس پر اٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں… نہ صرف بھارتیہ نیشنل لوک دل (این ایل ڈی) کے قومی صدر ابھے سنگھ چوٹالا، بلکہ عوام بھی اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

ایسا تو چالاکانہ ہونا بھی ضروری نہیں تھا… جب سے وہ یہ کہنے لگے کہ عوام کو حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے تحریریں چلنی چاہئیں، تو میرے خیال میں انہوں نے ایک بڑا خطرات پہلی لہر دی ہوگئی۔

بیجेपی کی جانب سے شہزاد پوناوالا کو اس پر تنقید کروانے میں میرا بھی توجہ ہے… لیکن اس بات پر میرا خیال ہے کہ عوام نے اپنی وکالت کرتے ہوئے یہ بیانات سہیجہ دیکھے ہوں گے۔
 
چوٹالا کا یہ بیان سچمے توPolitical situation thoda critical ho gaya hai, lekin yeh koi new thing nahi hai ki desh mein aage badhne ke liye kuch log bina rules ko follow karte hain. yeh toh Bharat ki politics ki baat hai, jahan logon ko apni galtiyon se seekhna padta hai.
 
بھارتیہ نیشنل لوک دل کا یہ بیان توجہ کے لیے ایک پٹا ہے، مگر اس سے تو وہ عوام کو اپنے ماحول میں بیداری حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے یہ بات سمجھنی بھی ہو سکی ہے کہ جس وقت عوام کو تیزاب لگایا جائے تو وہ بھی پھٹ جاتے ہیں، اور اس طرح یہ مضمون صرف توجہ کی ہمہ گھلچتی بنتا ہے۔
 
ابھے سنگھ چوٹالا کا بیان دیکھتے ہی میں سوچتا ہوا کہ جس سائنسی تجربے سے انسان ایک نئے سماج کو بناتا ہے وہی طاقت سے اس معاشرے کو بدلنا چاہتی ہے جو اب ماحول میں ہوا ہے، وہ سیکھتا ہو کہ کس طرح ہنسی، کھلے دل، اور سمجھڑ کا توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے، اور اس میں سچائی بھی اہم ہے، لہذا ابھے سنگھ چوٹالا کی باتوں پر غور کرتے ہوئے میں سوچتا ہوا کہ انسان کو خود پر قابو پانے اور اپنے معاشرے کو تبدیل کرنے کے لیے ذاتی اور سماجی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے وہ ایک نئا سامع اور سمجھدار ہو سکتا ہے جو معاشرے کو تبدیل کرنے کے لیے طاقت لائے رکھتا ہو
 
اس بات پر تو یہ دھارنا ہیڈ سٹاپر تھا کہ اب بھی ہم اپنے حکومت کی ذمہ دار نہیں ہوں گے، نہ ہی اس کو ہدایات دینے میں مدد کریں گے۔ ابھے سنگھ چوٹالا کا یہ بیان پوری تھرنی نہیں لگتا، بلکہ اس نے صرف اپنے ساتھ ہی ایک سیاسی ماحول تیار کر لیا ہے۔ اس بات پر فخر کیا جا سکتی ہے کہ وہ بھارت میں کتنا ہی ہمیشہ آگے बढتے رہے ہیں، لیکن اب یہ بات ہیں کہ ہمیں اچھے نتیجے کو حاصل کرنا پڑے گا تو! :s
 
ابھے سنگھ چوٹالا نے بھارتیہ نیشنل لوک دل سے جتنا واضح بیان کیا ہے وہ کچھ غلط ہے... ان کی یہ بات اس بات سے ایک جیسی نہیں کہ ہندوستان میں تحریریں چلنی چاہئیں یا نہیں... بھیگے تیزاب اور دہشت گردی سے لڑنا ضروری ہے لیکن عوام کو حکومت پر دباو دینا؟ یہ کیسے کرنی ہوگی?
 
ایسا لگتا ہے کہ ابھے سنگھ چوٹالا نے ایک بدلتے دنیا میں اپنی آواز اٹھائی ہے، لیکن یہ بات سچ میں ہے کہ وہیں ابھی ان کی فہمت بھی پہنچ گئی ہے۔ یہ تو دیکھنا ایک دل چسپ موڑ ہے کہ کیسے نوجوانوں کو قیادت کا کام کرنا، کیسے سڑکوں پر دوڑا جائے اور حکومت کو اقتدار سے کھینچا جا سکے؟

ایسے میڈیا پلیٹ فارمز پر شہزاد پوناوالا کی جانب سے رد عمل دیکھنے کو یوں بھی اچھا لگ رہا ہے کہ وہ نہ تو یہ بات ماننے کی ہمت کر رہے ہیں، اور نہ ہی انہوں نے ابھے سنگھ چوٹالا کو کچھ بھی اپنی طرف سے موازنہ کیا ہے۔
 
چوٹالا کا یہ بیان اس بات پر مبنی ہے کہ انڈیا میں بھی قیادت کی صورت میں حکومت چھوڑنا اور سڑکوں پر دوڑنا ضروری ہے، یہ کہتا ہے کہ جمہوریت میں ہٹنا اور انڈیا چھوڑنا بہت آسان ہوگا 🤦‍♂️
 
تھوڑا تو ہدایت کرو دے جس بات سے ان لوگوں نے متعلقہ تحریریں چلنی چاہیں، جن لوگ نہیں چکے ہوں گے اس طرح کی کھینچنا۔
اس بات پر غور کرو کہ اگر وہ اس طرح کے تحریریں چلائیں تو ان میں بھی کیا نہیں پگھل گئے ہوں گے؟
میں سمجھتا ہوں کہ جب تک یہ لوگ اپنی حکومت کو دھمار لگا رہتے ہیں تو وہ عوام کے سامنے ہمت کے ساتھ نہیں آئیں گے۔
بیجेपی کی جانب سے بھی ان بیانات پر شدید رد عمل ظاہر ہوتا ہے، جو کہ جانتے ہوں کہ وہ کیسے بات کر رہے ہیں۔
 
چوٹالا کا یہ بیان سچمنے والا ہے، عوام کے سامنے اس کی فوری پیروی نہیں چاہئیے بلکہ اس کو سمجھنا ہوگا۔ بیجेपی کی جانب سے شہزاد پوناوالا کا ردعمل لگتا ہے۔

انھوں نے اپنی پالیسیوں کے لیے بھارتی عوام کی اعزاز کیا ہے۔
 
ابھے سنگھ چوٹالا نے وہی بات کہا ہے جو بھارتیہ جنتا پارت کی بھی تریمتے پر بات کر رہی تھی 🤦‍♂️۔ یہ ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ اس وقت کپتان ہوں گے اور ان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا ہی پائے گا! 🙄 سب کچھ سے قبل، ڈاکٹر امبیڈکر کے آئین کی بات کرتی ہیں تو میں اس پر توجہ دیتا ہوں... ہمیشہ یہی بات کرتے رہتے ہیں! 🤓
 
چوٹالا کا بیان تو ہمیشہ سے ایسا ہی نہیں رہا، یہ بھی کچھ لیکن اس کی کوئی دیر نہیں اور اس میں جمہوریت پر ہمراجی کی بات نہیں ہوسکتی ۔ بیجेपی کی جانب سے ردعمل کھینچنا ایسا تو ضروری ہے لیکن اُس بیان کو آئینی نظام کے حوالے سے بھی ڈھونڈنا پڑگا ۔ اور اس سے عوام کی اعزاز نہیں مل سکتی، بلکہ یہ صرف اپنے سیاسی فائدے کے لیے کیا گیا ہوگا ۔
 
واپس
Top