بھارت میں دوسری شادی پر پابندی کا بل منظور؛ 10 سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگا | Express News

بھارت میں دوسری شادی پر پابندی کا ایک حاد قانون منظور ہوگئا جس کے تحت کسی بھی شخص کو جہاں بھی دوسری شادی کرنے اور اس میں معاونت دینے سے روکا جاega. اس قانون کے مطابق، پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شadia کرنے پر 10 سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگی.

اس قانون کے تحت، پہلی بیوی سے اجازت نہیں لی تو اس شخص کو سزا میں اضافہ ہوسکتا ہے. دوسری شادی کرنے اور کروانے والوں کو سرکاری نوکری یا مقامی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں ہوگی.

اس سے علاوہ دوسری شادی کروانے یا اس میں معاونت دینے والوں مثلاً گاؤں کے سرپنچ، مذہبی پیشوا، والدین یا سرپرست کو 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے سے ڈیڑھ لاکھ تک جرمانہ ہوگا.

اس قانون میں غیر قانونی شادی کی شکار خواتین کو معاوضہ اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کے بھی لیے ذریعے شامل ہے. اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ یہ قانون اسلام مخالف نہیں بلکہ پورے معاشرے میں ازدواجی ذمہ داری اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے.

اس قانون کو ذاتی آزادی اور مذہبی روایات پر قدغن سمجھا جارہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں یا کمیونٹیز میں جہاں دوسری شadia کی مذہباً یا روایتاً اجازت ہے. اس قانون سے جزوی استثنا دیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے قبائل، نسل اور خود مختار علاقوں میں جہاں دوسری شadia کی مذہبی روایت ہے.
 
اس قانون سے خواتین کو محفوظ رکھنے کے لیے اچھا لگ رہا ہے، خاص طور پر ان حالات میں جہاں دوسری شادی کی اجازت نہیں ہوتی تو وہ خود کو پکڑنے کے لیے مجبور ہوجاتی ہیں۔ پھر بھی یہ بات سچ ہے کہ اس قانون میں کافی تر ذیلی زونز میں دوسری شادی پر روک نہ رہنے کی ایسی صورتوں کو بھی شامل کرنا چاہئے جن جہاں معاشرے میں دوسری شادی کے لیے سمجھ ہوئی وہی روایت ہو ۔
 
یہ قانون تو لگتا ہے کہ پہلی بیوی کو اس سے بھی محفوظ رکھنا چاہیے؟ لگتا ہے پہلی شادی نہیں کرنے والوں کو دوسری شادی کرنے والوں کے ساتھ بے تعلق رہنا چاہیے? مینے اپنی بھائی کی دوسری شادی سے پہلے بہت ڈرائی تھا اور اب اس نے کہا کہ میرے خاندان میں یہ قانون نہیں چلا گیا اور ہم ابھی اسی کی شادی کر رہے ہیں। لگتا ہے اس کے بعد یہ معیشت بھی تباہ ہو جائے گی؟
 
اس قانون کی وہی نوعیت ہے جو ہمیشہ بھارت میں رہی ہے کہ وہ اپنے معاشرے کو ایک ایسا محسوس کرائیں جیسا کہ وہی سب سے زیادہ معقول اور مقبول سمجھتے ہیں.

دوسری شادی کی بہت سی حدوں پر پابندی لگا دیتا ہے، جس سے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی خواتین کی آزادی کو بھی چھپاتے رہتے ہیں. اس قانون کے ساتھ ساتھ ان ماحولوں میں بھی پابندی لگا دی گئی جہاں دوسری شادی کی روایت ہے، جو خود کو ایک مختلف درجہ بندی دینے کے لیے کوشت رہے ہیں.

اس قانون نے بھارتی معاشرے میںmarried women کے حقوق کی وضاحت کی ہے، اور اس نے ان خواتین کے تحفظ کو اہمیت دی ہے جو دوسری شادی کرنے سے متاثر ہوئی ہیں.
 
اس قانون کا مطلب یہ ہی گھنٹا کہ وہ لوگ جو نہیں چاہتے، ان کو بھی پکڑ لیں گے اور اس سے ایک نئے طبقے بنایا جا رہا ہے جس کے لئے کوئی بھی شادی ہونے کی اجازت نہیں ہوگی. اور اب یہ کیسے کہے گے کہ یہ قانون خواتین کی آزادی کے لئے ہے؟ یہ صرف اس وقت تک یہ قانون نافذ ہونے والا ہے جب تک وہ لوگ جو پچیس روپے سے زیادہ ملتی ہیں، ان پر قید اور جرمانہ لگایا جا رہا ہے.
 
یہ قانون بھارت میں لگتا ہے کہ پہلی بیوی سے اجازت نہیں لی تو اس شخص کو زیادہ سزا ملے گی, جس سے خواتین پر مزید دباؤ اچھا ہوگا.
 
یہ قانون صرف بھارت کے حالات کو سمجھنا مشکل ہے، نہیں تو یہ سارے ملک میں لگتا کہ دوسری شادی کرنے والوں کو یہاں تک کے بھی رکھا جائے گا… دوسرے ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا، پہلی شادی پر پابندی تو ہوتی ہے لیکن دوسری شادی کرنے والوں کو بھی کچھ اور انفرادی آزادی ملنی چاہئے… یہ قانون پورے معاشرے میں ازدواجی ذمہ داری اور خواتین کے حقوق کو ساتھ لے کر آتا ہے، بھارت میڰ کچھ بھی نہیں ہوتا…
 
بھارت میں اس نئے قانون سے میرے لئے ایک پتہ آ رہا ہے کہ کس طاقت کی بھارتی حکومت اپنی دوسری شادیوں پر پابندی لگائے گی اور اس سے جو لوگ اچھی نئی شادی کرنا چاہتے ہیں وہ روک دیا جائے گا? یہ ایسا بھی دیکھنے کے لئے ہے کہ ان لوگوں کو کیسے تباہ کرنا پڑے گا جو صرف اپنی خواتین کی حفاظت چاہتے ہیں اور اس قانون سے وہ بھی اچھی نئی شادی کرنا چاہتے ہو؟

اس قانون کے تحت ان لوگوں کو جسے 10 سال قید اور 15 لاکھ روپے کی فinedge دی جا سکتی ہے وہ صرف ایک شادی کی چھپائی کرنے پر اس طرح سا دوزخ کھانے پڑتے ہیں جس سے ان کے جسم اور دل کو بہت کچلنا پڑتا ہے!

اس قانون میں معاوضہ اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کی بات ہی نہیں کی گئی، یہ صرف ان لوگوں کو دوزخ بھگنے کی کوشش کر رہا ہے جو ایک بے وعدہ شخص سے شادی کر رہے ہیں۔
 
اس سے پہلے تو ایسے قانون بننے پر بات نہیں کیا گیا تھا، اب یہ بھی قانون بن کر بیوی کو چھپایا جائے گا؟ علاوہ سے خواتین کو بھی ایسا ہی معاوضہ دینے کی پابندی کیا جائیگی?
 
یہ قانون تو پورا ٹھیک ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ اس سے پہلے کس طرح علاج کیاجاتا تھا؟ میرے خیال میں ایسا لوگ جو دوسری شادی کرنے جاتے ہیں وہ فلاں فلاں نوجوان ہوتے ہیں اور ان کی پہلی شادی اس سے قبل ہوتی ہے، تو یہ سزا بہت زیادہ ہوگی 🤔
 
منہوں سے آ رہی یہ بات تو اچھی ہے کہ انشعاب پر پابندی، مگر یہ کتنا چیلنج ہے جس سے عورتیں نمٹنی پیوں. دوسری شادی کرنے والی خواتین کو معاوضہ اور قانونی تحفظ، ان کی پوری ترقی اور سماجی جگہ کے لیے یہ سزا تو ہمیشہ نہیں آئی. حالانکہ یہ واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ قانون اسلام مخالف نہیں بلکھ پورے معاشرے میں عرصے کی شادی اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے.

مگر یہ سؤال رہا ہے کہ ایسے لوگ کتنا آگے چل پائیں گے جو یہ قانون نہیں منٹ سکیں گے اور ان کی قید کے لیے اقدامات کیے جائیں گے.
 
یہ قانون دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے معاشرتی عمل کو بھی متاثر کرے گا... پہلی بیوی کو جانتے ہو یہ تو عجیب ہے... وہ لوگ جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں انھیں سزا ملنے والی صورتحال کیسے محسوس ہوگی... اور یہ بھی یقین نہیں ہے کہ ایسا قانون جس سے خواتین کو معاوضہ اور تحفظ ملا کر وہ اپنے حقوق پر قدم رکھ سکگیں وہ معاوضہ کی وہ صورتحال کیسے پیش آئی...
 
یہ قانون تو ہر کوئی سے پٹہ لگا رہا ہے، ملا کر دوسری شادی کروانا اور اس میں معاونت دینا ایسا ہو گیا جیسے یہ غیر قانونی ہو جانا چاہئیے۔ پہلی بیوی سے اجازت نہیں مانتے تو ان پر بھی سزا کس کی گالے؟ ایسا ہونے سے خواتین کو بھی اچھا نتیجہ نہیں ملتا، صرف جرمانہ اور قید ہو گی تو؟
 
اس قانون سے خواتین کو انہیں دھوکہ دیا گیا ہے، وہ اپنی پہلی شادی میں رکھتی ہیں اور پھر ایسا کر دی جاسکتا ہے کہ اسے پہچان بھی نہیں آ سکتی؟ یہ قانون ان لوگوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو دوسری شادی کروانا چاہتے ہیں لیکن کسی ایسے شخص کے سامنے میزانیہ نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی اور خواہشات پر قبول کر سکیں.
 
اس قانون سے علاوہ بھی کیا گیا ہے؟ دوسری شادی کرنے والوں کو انکوائر ہوتا رہے گا، انہیں یہ بتایا جائے گا کہ ان کی پہلی بیوی کیا کرتے ہیں اور وہ اس سے مہراب نہیں ہیں؟ یا کیا یہ قانون صرف دوسری شادی کرنے والوں کے لئے نہیں بلکہ پہلی بیوی جب اور بھی پہلوؤں کو بھی روکنا چاہتے ہیں؟
 
واپس
Top