بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک ایسی واقعہ سامنے آیا ہے جس سے کسی بھی طرح کی سنسنی خیز کریم تھرلر فلمی کہانی سے کم نہیں ہو سکتی ۔ اس کا مطالعہ کرنے لگے تو 1987 سے شروع ہونے والی اس کہانی کا مقصد پریشان کن اور خوفناک ہوتا دکھایا جاتا ہے۔
ایسے واقعے میں ایک شخص پردیپ سکسینہ (آج کل عبدالرحیم کے نام سے مشہور) پر چل رہا ہے جو اپنے بھائی کو قتل کردیتا ہے اور اس کے بعد ان کی پکڑ لینے میں ایسا لگتا ہے جیسے وہ یقینی ہو جاتا ہے کہ اسے یہ کام نہیں کرنا ہو گا لیکن یہی بات سچ ہوتی ہے۔
ایسی صورت حال میں ٹویسٹ آتے ہیں جب ایک بار پھر ان پر پھینکتا ہے اور وہ اپنی جگہ کھو لیتا ہے لیکن اسے نئی زندگی گزارنے کی بات بنتی ہے اور وہ اپنا مذہب تبدیل کرلیتا ہے اور ایک مسلمان خاتون سے شادی کر کے اپنی پرانی زندگی سے باہر نکلتا ہے۔
اس کیس میںBlood کی دھمی سے Blood ki dhadkan ہی کافی اہمیت رکھتی ہے۔ جس طرح خون کی ایک انمٹ پر ٹپتے ہوئے Blood کی دھمی ہی blood ki dhadkan کو چھوڑ سکتا ہے اور کاتلے ہونے والے کے پیچھے رہ کر اُسے سزا ایسے نہیں دلوا سکتی۔
36 سال بعد اس کیس میں دھول لگنے پر پریشان کیا گیا جب ایک غیر معمولی اور غیر روایتی حکم نے ایسے مقدمات کی ازسر انو جانچ شروع کر دی ہیں جو زردار تھے۔
اس حکم میں خصوصی ٹیم نے اپنے کام کا آغاز کیا اور بعد میں یہ اُسے تلاش کرنا شروع کرتا ہے جس سے یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ اسے پکڑ لیا جائے گا۔
کچھ دیر بعد یہ اُسے تلاش کرنے کے بعد لاکھوں سے انفرادی معطلیات کے باوجود اُسے سراغ لگتا ہے اور اُسے قانون کی گرفت میں لانے میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے۔
جب اسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو یہ اپنی پکڑ کے لیے معذور ہو جاتا ہے اور ایسے میں اُسے یہی بات کہتی ہے کہ وہ ان سے جھانسا کر لینے کے لیے ایک مسلمان کی طرح نئی زندگی گزار رہا تھا۔
اس کیس میں Blood ki dhadkan ek badi maaafi hai yeh kaisi cheez hoti hai jab aapko pata nahi chalta ki aapne kya kiya hai, aur aapka dil bhi yah nahi sunta ki aapne galat kiya hai?
aur yeh toh ek interesting baat hai ki court ne yeh decide kiya ki aisa kaam karte samay aapko police se milna chahiye, toh isliye aapka dil bhi yah nahi sunta ki aapne galat kiya hai?
lekin serious thoda, jo ki blood ki dhadkan hai usse zaroor dhyan rakhna chahiye, aur yeh bhi zaroori hai ki sabhi ko apne galtiyon ka pata laga sakein.
اس کیس میںblood ki dhadkan kaafi ahamit rakhta hai. jo blood ki ek inmut par tapte hue Blood ki dhadkan ko chhod sakta hai aur katalwe hone vale ke peechhe rah kar usey saza nahi dilva sakti.
یہ کیس کچھ دیر سے ہو رہا ہے اور اب تک اسے سمجھنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کی وجہ پوری ٹیم نے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو بھرپور طور پر سامنا کیا ہو گا۔ اس کیس میں ایسی صورتحال آئی جس سے اگر کسی کی آنکھیں پھینکتی ہیں تو پریشان ہوجاتے ہیں۔ پوٹھے پکڑتے تھے اور نئی زندگی گزاریں۔
اس کیس میڰ اس طرح کی سانسنی خیز کہانیوں کو بنائی رکھنا چاہئیے۔ پریشان کن دکھیں اور خون کی دھمی کی وجہ سےBlood ki dhadkan ہمیشہ یاد رکھی جائے گے۔
یہ تو ایسا ہی لگتا ہے جو پوری دنیا کو اس پر چیلنج کرتا ہے کہ انسان کس حد تک اپنی گaltiyon کو سونپ سکتا ہے؟ یہ شخص کیسے ایک ماحول میں بھیگتا ہے، پھر نئے ماحول میں اٹھتا ہے اور نئی زندگی شروع کر لیتا ہے؟ اس کی دوسری جان اس کے ساتھ چلتی ہے۔ یہ ایک جتنا معقول کیس ہے، اس پر اچانک بھیڑ اٹھنے والوں کی موجودگی کا امکان بھی ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں ان کے جیسے لوگ ہیں۔
اس دیرپہلی دوسری دوسری دوسرے چکر میں پڑتال ہونے والے کیس کو ایک پریشان کن واقعہ کہیڈے تو بھی یہ تین سال سے چل رہا ہے اور کچھ نئی چٹانوں کی آگے بھاگتے ہوئے ان کو کیس میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس سے پوچھا جاسکتا ہے کہ یہ دوسرے چکر کی وکالت کس طرح کی جارہی ہے۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ ایسی صورت حال میں لاکھوں سے معطلیات دینے والی پुलیس نے اُنہیں کیس میں شامل کر لیا ہے تو اس کی وکالت کیسے تھی؟ ہم کو یہ بات بھی پوچھنی چاہئیے کہ ایسے واقعات میں قانون کی وکालतنے والی ٹیمز پر کیا اثر पडتا ہے؟
ہمیشہ سے یہ بات غلبہ ہے کہ جب بھی ایک شخص اپنی جگہ کھو دیتا ہے تو وہی نئی زندگی کی کوشش کرنا پڑتا ہے لیکن ایسے میں اس کو یقینی طور پر اپنی جان لینے کے لیے جھانسنا پڑتا ہے اور وہاں تک جب تک وہ اپنی پرانی زندگی سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہو وہ اپنی پکڑ میں نہیں آ سکتا۔ اُن کیس میں بھی یہی بات सतھی ہوتی ہے جب تک وہ اپنے مذہب کو تبدیل کر لیا ہو اور ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہو۔
یہ کیس بہت ہی حیران کن ہے۔ مجھے یہ سوچنے میں پریشان کر دیتا ہے کہ ایسے معاملات کی جب تک جارحیت اور خوف ناکاری سے بھرپور فلمی کہانیوں کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں تو پریشان کن واقعات کو سمجھنے میں آدھر آنا مشکل ہوتا ہے۔
کسی بھی معاملے میں خون کی دھمی اور خون کی دھड़क کی وضاحت کی جاتی ہے لیکن واضح طور پر یہ کہا نہیں جاتا کہ اسے اپنی زندگی گزارنے میں کس طرح ملوث رہا۔ ایسے معاملات میں پریشان کن واقعات کی پڑھائی کرنا ایک انتہائی چیلنج ہوتا ہے جو دوسرے سے بھی مختلف ہو سکتا ہے۔
جب کیس کے فائلز لگتے ہیں تو یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ کسی بھی معاملے میں خون کی دھمی اور خون کی دھڑک کو سمجھنا ایک انتہائی ضروری ہے۔
اس کیس میں دھول لگنے پر پریشان ہونے کے باوجود ان پر پھینکنے سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا اور یہ جاننا اس کا بھی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بدلنا چاہتا تھا اور ایک نئی زندگی گزारनے کے لیے وہ کسی بھی چیز سے نہیں منحرف ہوتا تھا۔ اس کی STORY ایسی ہے جس میں Blood ki dhadkan سےBlood ki dhumki تک پہنچنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے اور ان کیسوں کی تلاش ہمیں دوسروں سے تعلقات پیدا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
بہت سچ ہو گیا ہے کہ یہ کیس حقیقی ہے اور ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا جس پر اس طرح کی بات کرتے ہوئے رہ سکتے ہیں۔ یہ رائے رکھنے سے پہلے کچھ یہ نہیں کہتی ہوں کہ اس شخص کی ذمہ داری کیسے ہوتی ہے اور وہ اپنی زندگی کس طرح بدلتا ہو گیا ہو۔
ایسا تو ہوتا ہے کہ ہم اپنی دھول میں دھو دھو کر کچھ نہیں سمجھتے۔ اس کیس کا مطالعہ کرنے سے پata چلتا ہے کہ خون کی ایک انمٹ پر ٹپتے ہوئے خون کی دھمی کی وہی اہمیت ہے جو ہماری زندگی کو نئی طرح سے متاثر کرتی ہے۔
جب شہید کی پریشان کن کہانی کا مطالعہ کرنا ہوتا ہے تو دھول میں پھنسنے والے کو بھی سزا دلوانی چاہیے اور خون کی انمٹ پر ٹپتے ہوئے کوBlood ki dhadkan ہی نہ لگ سکتی۔
اس کیس میں دھول لگنے پر پریشان کیا گیا تھا تو اس کی وجہ یہ کہ دھول لگانے والوں کو سزا دلوانے کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ انفرادی معطلیات میں نتیجہ نہیں پاتے۔
اس حکم نے خصوصی ٹیم کو اپنے کام کا آغاز کرنا تھا اور لاکھوں سے چل کر اُسے تلاش کرکے قانون کی گرفت میں لانے میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے۔
اس کیس نے یہ بات سمجھا دی کہ خون کی دھمی تو ایسے نہیں چھوڑ سکتی جوکہ خون کی انمٹ پر ٹپتے ہوئے کوBlood ki dhadkan رکھ سکتا ہے اور کاتلے ہونے والے کو یقینی نہیں چاہتا کہ وہ سزا دلوا دی جائے گا۔
یہ کیس کچھ عجیب ہے، ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنی پکڑ لینے کی بجائے نئی زندگی گزار رہا تھا؟
جب میں سوچتا ہوں کہ اس کیس میں خون کی دھمی سے کیا معنوی اہمیت رکھتی ہے تو میں اپنی جگہ کھونے کے بعد یہی بات کرنا شروع کرتا ہوں گا کہ خون کی دھمی کو چھوڑنا بھی ایک معنوی اہمیت رکھتا ہے۔
لیکن یہ بات بھی نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنی پکڑ لینے کی بجائے اس گرانے کو اپنے لیے ایک نئی زندگی بناتا رہا تھا؟
اس کیس میں جو غلطی ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنی پکڑ لینے کی بجائے اس کو ایک معنوی اہمیت دیتی ہے۔
پھر یہ سوال آتا ہے کہ کیا ایسا ہونا چاہیے؟ کیا وہ اپنی پکڑ لینے کی بجائے اس کو ایک معنوی اہمیت دیتا رہا تھا؟
جب میں یہ سوچتا ہوں گا تو میں ان لوگوں کے لیے غور کرنگا جو ان سے جھانسا کر لینے کی بجائے اس کو ایک معنوی اہمیت دیتے رہے ہیں۔
ایسا نہیں ہو سکتا کہ پریشان کن واقعات پر فلمی کہانی بنائی جائے। یہ صرف ایک واقعہ ہے جس کی وضاحت اورDetails اُن لوگوں کو بتانا چاہئے جو اسے نہیں دیکھ رہے ۔ لاکھوں سے معطلیات حاصل کر کے ایک پria کو قانون کی گرفت میں لانے میں کامیابی حاصل کرنے کا یہ طریقہ صحيح نہیں ہو سکتا۔ اس پر سوریلرز کی کھوبیاں بھی نظر آتی ہیں۔