بھارت میں ’’سائیکو کلر‘‘ کو عمر قید کی سزا

پب جی ماسٹر

Well-known member
فرید آباد کی عدالت نے 54 سالہ سنگھ راج کو عمر قید کی سزا سنا دی، جو "سائیکو کلر" کے نام سے مشہور ہے جس کے جال میں لگتے 20 سالہ بھانجی کی گمشدگی کی رپورٹ پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس عدالت نے ملزم کو ایک خاتون کی 20 سالہ بھانجی کی گمشدگی کا الزام لگایا اور اس کی لاش آگرہ کینال کے کنارے پھینکنے پر گرفتار کر لیا تھا۔

سیکtor میں 54 سالہ سنگھ راج نے اپنی بھانجی کو قتل کرنے اور لاش کو آگرہ کینال میں پھینकनے کا اعتراف کیا تھا، جس کی وجہ سے عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

اس ملزم کے خلاف ملزم کے جرمنے میں دو لاکھ پانچ thousand روپے سے زائد شامل تھا۔
 
یہ بہت گھمندہ صورتحال ہے، ایک مظلوم جس کے خلاف مقدمہ لگایا گیا اور اب ان کو عمر قید کی سزا سنی دی گئی ہے، یہ تو عاجزہگی ہے۔

ابھی دو روز قبل تک میں بھی سائیکو کلر کے نام سے ملتے تھے، اور اب اس نے ایک خاتون کی بھانجی کو قتل کرنے اور لاش کو پھینकनے کا اعتراف کیا ہے، یہاں تک کہ سزا بھی سنی گئی ہے تو یہ ایسا لگتا ہے جیسے کہ ان کی مراد نہ تھی۔
 
یہ اعلان سننے پر میرا خیال ہے کہ یہ دوسرے لوگوں کی ایسی پھیلداری کا نتیجہ ہے جو پوری زندگی میں آپ کے جال میں لگاتار اٹھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

جس کی وجہ سے کسی بھی شخص اپنی حقیقت کو پہچاننا مشکل ہو جاتی ہے، ان کا سامنا آپ کا واضح شکار بن جاتا ہے جو آپ نہیں چاہن گے۔

اس ملزم کی سزا کو منظر عام پر لانے سے اس بات کے خلاف بات کرنی پڑتی ہے کہ وہ شخص کیسے اپنی حقیقت سے نکلنے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟
 
یہ بے چینی کیا ہو رہی ہے! پہلی بار سنے ہوں گے کہ ملزم نے اپنی بھانجی کو قتل کر دیا ہے اور لاش کو آگرہ کینال میں پھینک دیا ہے، تو اب یہ سب کچھ سنا ہو گیا ہے! عمر قید کی سزا سنی جاتی ہے؟ اس پر انکار کرنے سے بھی وہ سزا نہ مل سکتی! ایسے میں کیا لوگ کھلڑی اور گریفیٹ بنتے ہیں؟
 
یہ بھی عجیب ہے کہ ایسا کیا ہوتا ہے جب فوری میڈیا میں وائرل ہو کر نکلتا ہے، پھر ملزم کی زندگی ٹپٹی پڑتی ہے۔ اگر یہ کیسے سائیکل کو ایک 20 سالہ لڑکی کی گمشدگی سے جڑنے میں کامیاب ہوا، وہ بتنا بہت مشکل ہوگا۔ لیکن یہ بات پھر سے چلتی ہے کہ ہمارے ملک کیLegal System پر یہ عجیب روایت پڑی ہوئی ہے۔
 
یہ بہت غریب واقعہ ہے! یہ طالبین جس نے اپنی بھانجی کو قتل کیا، اب عمر قید پر خوف زدہ ہو گئے ہیں? ان کی سوچوں اور کیا پھر کر رہے ہیں؟

یہ معاملہ بہت ہی سوجھا لگتا ہے، اس کی وجہ سے انھوں نے بھانجی کو قتل کیا تاکہ وہ شہرت اور منشات پانے میں کامیاب ہو سکے!

لاکھو روپے تک کی جرمنے سے اس ملزم کے معاملے میں یہ بات بھی کوئی بات نہیں ہو گئی کہ وہ اپنی بھانجی کو قتل کرنا چاہتا تھا اور لاش کو پھینकनے سے پہلے اس پر یہی محکوم نہیں ہوتا؟
 
یہ یقینی طور پر ایک گहरا ماجہ ہے جس نے اکیلے ایک 20 سالہ بھانجی کی جان کو لے کر جا رہا تھا اور اس کے بعد ان کی لاش آگرہ کینال میں پھیلا دی گئی ہے! یہ ایک خوفناک واقعہ ہے جو ہمارے معاصر دنیا کو بھیڑا رہا ہے، اور اس کی وہ جڑیں جن سے یہ متعلقہ حادثہ جڑا ہوا وہ ابھی تک پورا نہیں جانے کی بات کر رہی ہیں!

کسی بھی ملزم کو اگر اس طرح کی سزا Mills ki di jaye toh وہ کتنی مایوس اور دھوکہا جاتا ہوگا؟ یہ تو دھوکہ دیا جا رہا تھا!

سپشن میں یہ بھی اچھی بات ہوگی کہ ان لوگوں کو ایک سaza mil sakti hai, jo unko iske jawaab mein saza dena chahiye.
 
وہ یہی کیا کرتا ہے؟ 54 سالہ سنگھ راج کو عمر قید کی سزا مل گئی اور اس کے برتن میں 20 سالہ بھانجی کی گمشدگی کی رپورٹ پر مقدمہ درج کیا گیا تھا? یہ تو ہوا نہیں! اس کو پوری زندگی وہی مظالم مل گئے جو اس نے اپنے حرمقدور کی بھانجی کو قتل کرنے کے لیے ایسا کیا تھا... اور اب وہ عمر قید پر چل رہا ہے؟ یہ عاجزى ہے! 🤯
 
میں بھی اس پر دھینک رہنا ہے جو نہیں، ان کے جرمنے میں پانچ لاکھ روپے سے زائد شامل تھا اور انہوں نے ایسا بھی کیا جس کی وجہ سے 20 سالہ مہلک زندگی گزری ہے، یہ بھی توڑنا پڑا ہے کہ ان کے جرمنے میں کیا شامل تھا اور انہوں نے کیا کیا کر دئے تھے؟
 
یہ بات بھی ایک بدترین بات ہے کہ وہ شخص جس نے اپنی بھانجی کو قتل کر دیا تھا اور لاش کو پھینکا تھا اب عمر قید کی سزا پاتی ہے 😱 میں کچھ نہیں کہ سکتا مگر یہ بات اس پر مشتمل ہے کہ جس شہر میں وہ رہتا ہے، یہ شہر ایک گڑبڑ کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ عدالت ایسا کر رہی ہے جو لوگوں کو آگاہ نہیں کرتا ہے، مگر ابھی تو اس کی جگہ انہیں ملزمیوں اور عدالتوں میں سیکھنا پڑتا ہے، کیونکہ ان سے زیادہ کسی کو اپنے معاملات کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہئیے۔
 
عجیب و غریب، اس شخص کو 54 سال تک بھی کوئی سزا نہیں ملا رہی تھی؟ اور اب انہیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی تو کیا اس پر کوئی عجیب نہیں ہوگا? میرے خیال میں یہ ایک لمحہ بھی نہیں ہوا جس میں انہیں اس سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
 
جب تک یہ بات سامنے نہیں آئی کہ وہ خاتون کی بھانجی کس جگہ پر 20 سال تک لپیٹی گئی، میں یہ سزا سنا گیا، اگرچہ اس کے بعد تو میں یہ چاہتا کہ ملزم کو ہمارے عدالت میں بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے جرمنے کی پابندی کر سکے۔
 
یہ خبر سنیٹرے ہوئی، ان لوگوں کی بات بھی چھپنے دی جائے گی جو اس عدالت میں موجود تھے اور نہیں تو ان کا خیال تھا کہ یہ ملزم کو ہٹانے کا وقت آئے گا، اور نہیں تو ان کی بات پچلی دھوئیں سننے لگ کر ہار جائیں گی...

لیکن یہ سزا کیسے دی گئی؟ اس ملزم کو پہلے بھی تین بار چور کے مामलے میں قید رکھا گیا تھا، اور اب ان پر نوجوان کی لاش کو پھینकनے کا الزام لگایا گیا ہے؟ یہ تو ایک بدترین جال ہیں جو اس ملزم نے بنا دیا ہے...

اس سزا پر بھی توجہ دیتے ہوئے، ایسے مामलوں میں کیا ایک 54 سالہ خوفناک رازہ کیسے بنتا ہے؟ اس ملزم کو انہوں نے بھیڑ کی گئی اور اسے پریشانیوں میں डالیا گیا، اور اب وہ پوری زندگی اپنی نئی جال سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے...
 
یہ بھی دیکھو کیے ہار انہیں اور ان کی ووٹز پر نہیں توجہ دیا جاسکتی؟ یہ علاج کیا گیا 54 سالہ سنگھ راج کی عمر قید کی سزا تو ایسی ہی ہوتی جو اس وقت شہر میں رہنے والوں کا معاشرہ ہوتا ہے جس پر انہیں ناجائز فائدہ اٹھانے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور اس وقت کتنا ایسا ملزوم ہوا کہ وہ اپنی بھانجی کو قتل کرنے کا اعتراف کر گیا اور فوری طور پر عمر قید کی سزا دی گئی۔ یہ رہا شہر میں 54 سالہ سنگھ راج کی عمر قید کی سزا، جس نے ابھی تک اپنی ووٹز پر کیا تو یہ تو کمزوروں کو بھگتا ہے۔
 
یہ ایک بہت دُracہنہ واقعہ ہے، جس کا کہنا ہے کہ انسان کے ذہن میں پہلے سے ہی گمراہی کی پہچانی ہوتی ہے اور وہ ناجائز فائدہ اٹھانے پر مائل ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آتا ہے، یہ بھی سوچنا ضروری ہے کہ انسان کی ذہانت اور انساف کی قوت کیسے کمزور ہو سکتی ہے؟
 
واپس
Top