بھارت میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کی تجویز سامنے آگئی

ساز نواز

Well-known member
بھارت میں سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز سامنے آئی
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک اتحادی رکن پارلیمنٹ دیورایالو نے نو عمر بچوں پر سوشل میڈیا کو ساتھ نہیں دینے کی تجویز پیش کی ہے
بھارت میں سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز سامنے آئی جس کے مطابق 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کو ساتھ نہ دینا چاہئیے، اس بل میں موجودہ اکاؤنٹس کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا اور صارفین کی عمر کی تصدیق کی تمام تر ذمہ داری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہوگی۔

دورایالو نے بتایا کہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر یہ سوشل میڈیا کمپنیاں جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کر رہی ہیں جو بھارتی صارفین کو عملاً مفت ڈیٹا فراہم کرنے والے بناتے ہیں اور اس کے تزویراتی اور معاشی فوائد کسی جگہ سے حاصل کیے جا رہے ہیں۔

دورایالو نے مزید بتایا کہ بھارت غیر ملکی پلیٹ فارمز کیلیے ڈیٹا فراہم کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں سے ایک بن چکا ہے اور نہ صرف ہمارے بچے سوشل میڈیا کے عادی ہو رہے ہیں بلکہ اب وہ دنیا کے بڑے ممالک کیلیے ڈیٹا فراہم کرنے والے بن چکے ہیں۔
 
میں یہ سोचتا ہوں کہ یہ تجویز بہت اچھی ہے، نوجوانوں کو فوری طور پر معطل کرنا چاہئیے اور ان کی عمر کی تصدیق کرکے اسے ایک معتبر پلیٹ فارم بنایا جائے। اس طرح سوشل میڈیا پر کچھ سہارہ ہو گا اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی دیکھ بھال کروانے والے صارف بننے دی جائے گی
 
تمین لوگ یہ نئی پابندی سے بہت چپکچا ہیں۔ 16 سال سے کم عمر کی bachchas ko social media se alag nahi rakhna chahiye? Yeh toh kaisa ho sakta hai? Meri khass bole ki Bachchon ko social media par takneekon ki zarurat nahi hai, pehchanna aur share karana hi woh tariqa hai.
 
اس سوشل میڈیا پر پابندی کا خیال تو ضرور اچھا ہو گا، حالانکہ یہ تجویز میرے لیے تھوڑا حد تک آسان نہیں، کیونکہ اس میں ایسی شرائط کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ بچے اپنے والدین یا قائم کردہ اداروں سے معاونت لین، حالانکہ کچھ دوسری جانب اگر اسے واجبیت بنایا جائے تو بھی یہ پابندی زیادہ کامیاب نہ ہو گی، کیونکہ اس سے بڑے ماحولیاتی نقصان اور معاشی تنگاتنگ کا خطرہ بھی پڑ سکta ہے 🤔
 
ایسا سمجھنا ماحول میں ایسی پابندی لگائی جائے گی کہ ایسے بچوں کو اور لوگوں کو اس کے علاوہ بھی سوشل میڈیا پر جانا پڑے گا اور یہ ہمارے ملک کی ایسی معاشرتی سٹیجسٹکس سے باہر جا رہا ہے جو اس وقت ہمارے نوجوانوں کو ایک دوسرے سے بھت جاتی ہے
 
اس پابندی کے بارے میں تھوڑا سوچتے ہیں تو یہ بات سाफ ہوتی ہے کہ بھارت کی پوری پلیٹ فارمز کیلیے ڈیٹا فراہم کرنا ایک خطرہ بن گیا ہے اور اس پر پابندی لگائی جائے تاکہ وہ بھارتیوں کو اپنے دوسرے ممالک کے لئے بھی ڈیٹا فراہم نہیں کر سکے۔
 
سوشل میڈیا پر پابندی کی یہ تجویز مندرجہ ذیل سوالوں کو حل کرتی ہے کہ اس سوسائٹی میں بچے اس میں ڈیٹا فراہم کرنے والے کیونر اور پلیٹ فارمز کی طرف سے ہدایت کی جاتی ہے؟ ایک بار یہ ڈیٹا بھارت میں دیکھ لیا جائے تو وہاں کے صارفین کو اس سے باہر رکھ دیا جائے گا؟
 
یہ بات تو پتہ چل جاتا ہے کہ بھارت کو ابھی بھی سوشل میڈیا پر پابندی کے لئے فیکس کی پوری ضرورت ہو رہی ہے! 16 سال سے کم عمر کی bachچھوں کو سوشل میڈیا سے الگ کرنا، یہ تو ایک اچھا قدم ہے۔ لیکن یہ سوالات ہیں کہ 16 سال سے کم عمر کی bachچھوں کو فوری طور پر معطل کرنے کی پابندی کیسے ہوگی؟ اور صارفین کی عمر کی تصدیق کی تمام تر ذمہ داری کس کے ہاتھ میں آئیگی? یہ تو ایک بڑا مسئلہ ہے، نہ کہ یہ بات تو چل جائے گی کہ سوشل میڈیا پر پابندی کے لئے کیسے کی جائے؟
 
اس تجویز پر غور کر رہا ہوں تو کچھ شکساتھی اور پابندی کا بھی نہیں ہے؟ سوشل میڈیا پر پابندی یہی نہیں ہے کہ بچوں کو کتنے گھنٹوں تک فون نہ کرنا چاہئیے بلکہ اس سے سوشل میڈیا کمپنیاں اپنی معاشی اور تزویراتی فوائد حاصل کر رہی ہیں۔ پہلی بار کہتے ہیں، ابھارے بچوں کو سوشل میڈیا پر لگا دیتے رہنے سے ان کی مینٹل ہیلث پر پریشانیاں ہوسکتی ہیں اور ابھرتی ہوئی تینagers کو سوشل میڈیا کے ناخوشگوار اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 
اس وقت سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز سامنے آئی تو یہ بھی بات کہنی پڑتی اور جس بچے کو یہ ووجوں نہیں دیتی انہیں 16 سال کی عمر سے سوشل میڈیا کا بھی بھانپنہ کر دی جائےगا تو واضح ہوتا ہے کہ یہ ووجوں پر پابندی اس وقت ضروری ہے جب سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بچے ہیں نہتوا نہ کرتے ہیں اور یہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایسی مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہیں جو اس کی عمر بھر کے لئے واضح ہوتا ہے
 
اس سچائی کو نہیں سمجھتے کے بعد بھارتی وزیر اعظم کا ایک اتحادی رکن پارلیمنٹ دیورایالو کی یہ تجویز کیا گیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا کے ساتھ نہیں دینا چاہئیے؟ یہ تو ایسا ہی سچا ہے کہ لوگ فیکٹچر بن رہے ہیں اور اس میں ان کی عمر کو کم کرنا بھی ضروری نہیں، بلکہ اس کو سمجھنے کا موقع نہیں ہو سکتا؟
 
جی لڑکا یہوں تو سوشل میڈیا پر پابندی کے لئے تو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اہلیت کو کس کا خوف ہو گا؟ اس کے بعد ابھی بچے سوشل میڈیا پر 24/7 کھیل رہے ہیں اور یہ تجویز کیوٹ نہیں چلو گیا، اس سے کوئی معقول نتیجہ نکلتا ہے؟
 
یہ بات تو پتہ چل رہی ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرنے پر روکنا مشکل نہیں ہوگا... سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ہر چیز میں ایک معقول مظاہرہ ہوتا ہے، لہٰذا اس بل کو دیکھتے ہی مجھے یہ بات اچھی نہ لگ رہی کہ اگر 16 سال سے کم عمر کی بچیاں اس پر روک کر دیجائیں تو وہ ابھی جول میں نہیں بے دردی سوشل میڈیا اور فیکس بک کو استعمال کر رہے ہوں... پچیس سال قبل ایسا کئی بات چیت پر ہوا تھی، اب کچھ نہ کچھ بدلتا جارہا ہے...
 
وہ تجویز ایک بڑا خطرہ ہے। اس کے تحت سوشل میڈیا کو 16 سال کی عمر سے کم بچوں کو ساتھ نہ دینے کی ضرورت ہوگی، لیکن یہ بات واضح ہے کہ نوجوان اس سے ہر وقت منسلک رہتے ہیں اور ان کے پالتوں کو بھی وہ ہمیشہ ساتھ دیکھتے ہیں 🤔
 
واپس
Top