بھارتی قید سے بچنے والی پانچ دلوں کی ایک نئی نسل پاکستان میں واپس پہنچی ہے، جہاں انہوں نے بھارت کے بارے میں سوشل میڈیا پر پابندی لگائی ہوئی ہے، جو کہ انہیں اسی دیر کی واپس پہنچانے میں اہم مدد فراہم کر رہا ہے۔
اب تک بھارت نے اپنی جیلوں سے 15 سال کی مدت کے بعد بھی رہائی نہیں دی تھی، لیکن اچھی راتوں میں ان 3 پاکستانی شہریوں کو رہا کیا گیا، جنہیں متعلقہ الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان میں سے ایک محمد ادریس کی کہانی بھی ایسی ہے جیسے آپ کو چھپوں پگھل کر بتائے گے، ان پر بھارت نے 1995 میں منشیات اسمگلنگ کا الزام لگایا تھا اور انہیں 30 سال تک جیل میں رکھا گیا تھا۔ لیکن اس وقت انہیں بھی رہا کیا گیا۔
ان کے بعد محمد رمضان کی کہانی بھی ایسی ہے جو آپ کو دلے گئی ہوگی، ان پر بھارت نے 2010 میں اسی نوعیت کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور انہیں 15 سال کی مدت کے بعد رہا کیا گیا تھا۔
ان تیسری شہری اصغر علی کو غیر قانونی طور پر بھارت داخلے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں بھی رہا کیا گیا، جس سے ان کی زندگی کی ایک نئی لمحہ لگ گئی ہوگی۔
اب تک جو تحریک ابھری تھی وہ اچھی راتوں میں چل پڑی، پاکستان ہائی کمیشن نیودہلی نے بھارت کی جیلوں سے اپنے تمام پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا منصوبہ پیش کیا اور ان کو وطن واپس پہنچانے کی کوشش کرنے پر انہیں بھی ہم آہنگی دی گئی ہوگی، جو اب تک کسی بھی تحریک میں نہیں رہی تھی۔
بھارتی قید سے واپس آنے والی 5 دلوں کو رہا کیا گیا تو اچھا ہے، لیکن یہ بھی اچھا ہے؟ کئی سالوں سے ان کی قید میں رہائش ویت ہوئی، اب تیسری شہر کی زندگی سے ملنے والا ان کا پہلا تجربہ تو اچھا ہوسکتا ہے، لیکن یہ بھی اچھا ہے کہ وہ اپنی حقیقت سے ملاقات کریں؟
پاکستان ہائی کمیشن کی جانب سے ان قیدیوں کی رہائی کا منصوبہ پیش کرنا تو ایک بھرپور کارروائی ہے، لیکن یہ بھی سوال ہے کہ وہ کس طرح اپنی زندگی کو برقرار کرنے کی کوشش کریں گے؟
اس سے پتہ چلتا ہۈ کہ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا پر پابندی لگائی گئی ہے، تو یہ بھی اچھا ہے؟ یا یہ وہ بات ہے جو وہ اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے کرتے ہیں؟
یہ بھی ایک سیاسی تحریر ہے، اچھا یہ کہ پاکستان نے اپنے شہریوں کو بحال کرنا شروع کیا ہے لیکن پھر کوئی بات اس پر لگی نہیں رہ سکتی کہ ان شہریوں کی جگہ پہلی بار سے ملازمت پر چلنے میں کیسے تنگ آئیں گے، انھیں اپنی زندگی کو اچھی طرح سے سامنا کرنا ہوگا۔
اب یہ بھی ایک سوال ہے کہ اگر ان شہریوں کو واپس پہنچانے میں کامیابی ملی تو اب کیا یہ سچ ہے کہ پاکستان کی حکومت نے بھارت سے معاف کر لیا ہے یا صرف ان شہریوں کو بحال کر دیا ہے اور واضح یہ بھی ہے کہ وہ ابھی بھی اپنے ملک میں پہنچتے ہیں تو کیا ان کی زندگی کو ایسی طرح سے بنایا جائے گا کہ وہ پوری طرح سے بحال ہو کر اپنی زندگی کو شروع کر سکین، یہ بھی کوئی بات نہیں رہ سکتی کہ ان شہریوں کی جگہ ملک میں کیسے آئے گا، یہ سچ ہے کہ پیداوار میں کمی اور پاکستان کو بھارت کی طرف زیادہ تر فوری انعامات دیے جانے سے ملک میں واپس آنے والوں کو ناکافی رہائش گاہیں ملیں گے،
اس پر ایک اور سوال ہے کہ اگر پاکستان کی حکومت ان شہریوں کی بحالیت پر یہ معاف کرنے سے پہلے انھیں ناکافی رہائش گاہ ملا دی جاتی تو وہ ابھی بھی اپنی جگہ ملنے سے پہلے ایک اچھی زندگی کا تجربہ حاصل کر سکتے تھے یا یہ ان کے لیے ایک نئی زندگی کا آغاز تھا، اس پر پاکستان میں کیا ہوا گیا جہاں پیداوار میں کمی کی وجہ سے ملک کو زیادہ تر فوری انعامات دیے جانے سے بھارت کو اپنے معاف کرنے کی پہچان ملا ہوگی،
یہ سب ایک سیاسی تحریر ہے جو پیداوار میں کمی اور معاف کرنے کے عمل سے مل کر پاکستان کو بھارت کا ایک نئا شہزادہ بنانے کی طرف لے جاتی ہے، یہ سب ایک پالیسی تحریر ہے جو پاکستان کی حکومت کو اپنے ملک میں معاف کرنے والوں کے لیے ناکافی رہائش گاہیں ملا دینے سے بھی لڑتی ہے۔
میرا خیال ہے کہ یہ ایک اہم پہلو ہے کہ پاکستان بھر میں لوگ سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں، خاص طور پر جب وہ کوئی نوجوان اور خاتون انٹرنیٹ پر اپنا تجربہ منzione کرتا ہے تو وہ تباہ کن معاملات سے دوچار ہوسکتا ہے۔
اس لیے، جب ان تین پاکستانی شہروں میں رہائے کی نئی نسل پاکستان واپس پھرتی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اس وقت بھی ان لوگوں کی مدد کرنا بھارت کی جانب سے ایک اہم تحریک بن گیا ہے۔
[Diagram: تین چکروں والا ایک بڑا چکور]
اس لیے، میرا خیال ہے کہ یہ ایک ایسا موقع ہے جس پر میں اس وقت پاکستان کی سرگرمی کو دیکھنا اور اس میں ہماری مدد کرنا چاہتا ہوں۔
اس جالدی سے ان لوگوں کو واپس لائے گا؟ اب کہ انہوں نے 15 سال کی پابندی لگا دی ہے تو وہ تو اس میں دلچسپی نہیں رکھتے ہوں گے... اور بھارت کے زبانیں ساتھ ساتھ جیلوں کی بھی کیا ہے؟
اب تک انہیں اس کے لیے 30 سال تک رکھا گیا تھا، اور اب وہ تو ایک لاکھ روپے میں رہتے ہیں... یہ کیوں؟ اور انہیں اس جیل سے بھی نکلنے کا وہ اہم دائرہ تھا جو اب وہ حاصل کر رہے ہیں...
چل پڑی ہے یہ تحریک؟ ایسے نئے لوگ کیا یہ دیکھتے ہیں؟
بھارت کا یہ فیصلہ صرف پاکستانی شہریوں کی حقیقتی جنجال کو آگے لے جانے سے بچنے کے لیے ہوا ہو گا نہیں، یہ ان لوگوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ہوا ہو گا، اور اس سے پاکستان میں بھارت کے خلاف تحریک چلنے والی جماعتیں یہاں تک نہیں پہنچیں گی کہ انہیں بھی رہا کر دیا جائے گا، یوں ایک نئی نسل پاکستان میں واپس پہنچی ہوئی ہے جو اب سے یہ سوچنے لگی ہے کہ وہ اپنی صحت کو بھارت کی جیلوں میں نہیں رکھنا چاہئیں۔
اس سے پہلے کیا اس تحریک کو اچھا سمجھنا ہوتا، اب یہ اس بات کی ایک نشانہ بھی بن گیا ہے کہ پاکستان میں قید کی مہanga دیروں سے نکلنے پر حکومت بھی ہم آہنگی کر سکتی ہے۔
یہ بات جب تک یقین رکھنا مشکل لگتی ہے کہ پاکستان کی حکومت کو اپنے قیدیوں کی رہائی پر فخر ہوسکے گا، لیکن اب وہ اس بات کو تسلیط کر رہی ہے کہ بھارت نے اور بھی اپنے جیلوں سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کی۔ یہ ایک اچھا عمل ہے، لیکن اس پر انھیں کچھ ضروریات فراموش نہیں کرنا چاہئے جیسے کہ ان قیدیوں کو واپس پہنچانے کے بعد انھیں معاوضہ اور فائدہ مند تجدید کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
یہ واضح اور نہیں پاتا کہ 15 سال کی مدت کے بعد بھی ان لوگوں کو جیل سے رہا نہیں دیا گیا اور اب تک کتنی تحریک ہوئی، پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہم آہنگی ہونے سے مایوس ہو گئے اور اب ان کی کوشش ان لوگوں کو اپنے ملک واپس لانے میں توجہ مرکوز کر رہی ہے، اس کی وجہ سے یہ منصوبہ اچھی طرح پیداوار نہیں کر رہا، کیا اب کوئی ہم آہنگی کی پوزیشن بننا چاہتا ہے؟
یہ ایک اچھا سلسلہ ہے جس کے بعد پاکستان کے تمام شہری ان کو واپس پہنچانے کی امید رکھ سکتے ہیں، مگر یہ بات بھی محض نئی نسل ہی نہیں، آپ کو دیکھنا چاہئے کہ پاکستان اس تحریک کو وہی طاقت سے چلائیڈیا گیا ہے جس سے پانچ دلوں کو بھارت سے بچایا گیا، اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب تک پاکستان نے کیوں ان کو واپس پہنچایا؟
جون 2008 میں انہیں بھارت سے واپس پہنچانے میں 15 سال لگ گئے، اور اب یہ بات ایسی نہیں ہے کہ پھر اس وقت تک اس نسل کو واپس نہیں پہنچایا جائے گا؟
جب تک پانچ دلوں کو رہا کیا گیا تو یہ ان کی ایک ساتھی نسل ہو گئی، اور اب ابھرتی تحریک سے اس بات کو واضح کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ یہ نئی نسل کی کس طاقت پر ہے؟
یے لوگ اچھا کیا کر رہے ہیں? بھارتی قید سے بچنے والوں کو 15 سال کی مدت میں رہا کیا گیا، جب تک ان کی کوششوں پر اچھی راتوں میں یقینی طور پر فائدہ پہنچنا ہوگا! اس سے وہ جو قید میں تھے اب بھی رہتے ہیں اور ان کی جینز کھل گئی ہیں। یہ لاجیت نہیں!
بھارت کی جیلوں سے رہائی کرنے والی یہ 3 پاکستانی نسل ابھی تو واپس پہنچی ہیں، لیکن اس دیر کے بعد بھی ان کو رہا کیا گیا ہے، یوں جیسے اس پر توجہ دینے سے ہدایت نہیں ہوتی ہے کہ ان کی زندگی کی ایک 15 سال کی مدت کے بعد بھی رہائی نہیں ہوئی تھی۔
اس پر ایک بات یقینی ہے کہ پاکستان ہائی کمیشن نیودہلی کو ان کی رہائی کا منصوبہ پیش کرنے میں بھارت کی جانب سے کوئی پابندی نہیں تھی، اگرچہ یہ بات بھی دوسری طرف ہو سکتی ہے کہ اس منصوبے پر انہیں رہائی میں مدد ملنے کی وضاحت دے کر وہ ایک نئی تحریک کو چلا سکیں گے۔
بھارت کی جیلوں سے رہائی کی یہ تحریک کیا ہو رہی ہے؟ وہ بھی ایسی نسلوں کو لے کر چلتی ہے جو انہیں جیل میں ہی رکھتے تھے۔ یہ تحریک کیا ایک نئی نسل پاکستان میں واپس پہنچائی جائے گی یا انہیں وطن سے باہر ہی رکھا جائے گا؟
یہ بہت اچھا Nachricht ہے کہ پاکستانی شہریوں کو اپنی جیلوں سے رہا دیا گیا ہے، یہ ان کی جان پر نہیں لیے گئے، وہ بھی آپ کے پاس پگھل کر آئیں گے اور اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کریں گی۔ یہ تحریک اب تک نہیں رہی تھی، لेकिन اب ہمara Pakistan پاکستان میں واپس پہنچ گئی ہے اور پوری نسل کی شہریاں اپنی جائیدادوں پر واپس پہنچی ہیں، مگر یہ بھی دیکھنا توجہ दیتا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں کی جان پر نہیں لیے گئے، ان کو رہا دیا گیا۔
اس بات کا یہ مشاہدہ حیرت انگیز ہے کہ بھارت نے اس قدر جلدی ایک اور نسل قیدیوں کو رہا کر دیا ہے؟ پہلے سے بھی ان پر زبانی الزامات لگائے گئے تھے، اب یہ واضح ہوا کہ ان کو نئی جانب سے بھی زبردست معافیت مل گئی ہے۔ تاہم، یہ ایک بات کوڈی ہے کہ انہوں نے اچھی راتوں میں انہیں اپنے ملک واپس لانے کی کوشش کرنے پر بھی اپنی جانب سے ہم آہنگی دی گئی ہوگی۔