بھارتی ریاست مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ کے طیارے کو حادثے سے قبل پائلٹ کی گفتگو سامنے آگئی

جگنو

Well-known member
مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ اجیت پوار کے طیارے میں حادثے سے قبل کیا ہوا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ اس پر بات کرنے والے پائلٹ کو رن وے نظر نہیں آ رہا، ایسے میں انہوں نے آگے بڑھتے ہوئے ساتھ پھر جو پہلی بار ہوا تھی جو جو پہلے تو ان کا مشاہدہ نہیں تھا، اس کی وجہ سے اس نے جاری رکاوٹ سے نکلنے کی کوشش کی لیکن اب وہ حادثے میں شامل ہوگئے جو انہیں ایسا نہیں دیکھنا تھا اور اس جگہ پہنچتے ہوئے بھی حادثے کا شکار ہو گئے۔

اس حادثے میں اجیت پوار سمیت چار دیگر افراد ہلاک ہوئے اور تمام حادثات اس صورتحال سے ملنے لگے جو ایوی ایشن وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے۔
 
یہ بھی محض نئے سال کے آغاز میں ہوا تھا اس پر بھی بات کرنے والے ایک پائلٹ سے پہلے تو انہیں کسی حادثے کا مشاہدہ نہیں ہوا تھا اور وہ جاری رکاوٹ سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ حادثے میں شامل ہو گئے جو انہیں ایسا نہیں دیکھنا تھا اور اس جگہ پہنچتے ہوئے بھی وہ حادثے کا شکار ہو گئے … اور اس سے ان کے ساتھ چار افراد بھی جو کہ ایک ہی جگہ تھے اور ان پر حادثے کی وجہ سے ان کی جان لے لی گئی … یہ دیکھنا نچستہ ہے …
 
یہ کتنے بہت پریشان کن ہیں! ایک نائب وزیر اعلیٰ کو اچانک ہی ایک حادثے میں شاملا ہو جانا، یہ کیا کرنا پڑا? اس سے پہلے انہوں نے کیا تھا وہ دیکھنا نہیں تھا اور اب وہ اس حادثے میں شامل ہو گئے ہیں، یہ تو بے پریشانی ہی نہیں ہے! میرے خیال میں ان کا یہ حادثہ ان کے کام سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہے جو اس وقت تک اچھی طرح نہیں تھا، پریشانی تو ہے مگر یہ ایک دوسرے کے لیے ایسی بھی بہت عام بات ہے جو ہر وقت ہوتी ہے۔
 
کیوں نہیں سوچتا کہ ان تمام افراد کو یہ حادثہ ہونا تھا؟ اب اس صورتحال میں کس کی ذمہ داری ہے اور اس کے پیچھے کیا ماحولل جواب دے گا؟ ایوی ایشن وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہیے گی کہ پائلٹ کو رن وے نظر نہیں آ رہا تھا، لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ کچھ چیزوں کی کوشش سے ہی ان کو اس حادثے میں شامل ہونا پڑا۔
 
اس حادثے کی پچھلی خبر کا یہ ایک بے حد خطرناک مظاہرہ ہے ... ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ پائلٹ کیا ساتھ دیکھ رہا تھا؟ کیونکہ اس پر بات کرنے والے کو ران وے نہیں دیکھ رہا، تو انہوں نے آگے بڑھتے ہوئے ساتھ پھر جو پہلے تو ان کا مشاہدہ نہیں تھا ... وہ ہمیں بھی اسی طرح دیکھنا ہو گا...
 
یہ بات کچھ تو چپکتی ہے کہ نائب وزیرِ اعلیٰ اجیت پوار کے طیارے میں حادثہ ہو کر ان سے پہلے کیا تھا؟ لگتا ہے کہ وہی بات جو ہوا تو ایک بار پہچانی جائے گی۔ اس حادثے میں جان گئے لوگوں کی یاد ایسے ہی رہنی چاہئے جیسے ان کو آج کہوں، ابھی کہوں اور کبھی نہ کہوں۔ یہ بات بھی سوچنی چاہئے کہ حادثات کی اس صورت میں ہوتے ہیں تو پھر سے کوئی ایسی اقدار کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہئے جو ان لوگوں کو ایسے ہی جانتا ہو۔
 
منے سوچا تھا یہ دنیا بھی نہیں چلتی تو آج انہیں نئے حادثات کا شکار ہو رہا ہۈں۔ اگست پوار کو یہ سچ بات بتانے میں بھی کوئی وقت نہیں تھا کہ وہ اس صورتحال کی پیشگوئی کر سکے اور واپس ہٹ جائیں، لیکن پائلٹ کا یہ فैसलہ تو ناکام ہوا جو ان کو حادثے میں ڈال دیتا تھا۔ اب اس سے نکلنے کی کوئی رہنمائی نہیں ہے۔
 
یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ایک پائلٹ کو ران وے نظر نہیں آ رہا اور اس کا جواب ایسے میں دیتا ہے جو پہلے تو اس کا مشاہدہ نہیں تھا، یہ ہمیں بھگتنا چاہتا ہے۔ آج کا ایوی ایشن سسٹم کیسے کام کر رہا ہے اس پر ان کا جواب ہی نہیں دیتا، یہ ہمیں تو ڈر کا مہیا کرتا ہے لیکن ان کی کوئی ذمہ داری ہی نہیں ہوتی۔
 
بھی، وہ پائلٹ کیا یہ رن وے نظر نہیں آتا تھا؟ یا اس پر بات کرنے والے نے کوئی آزما کارروائی کی تھی? یہ کس لیے ہوا، کیا پائلٹ کچھ نہ سایا گیا تھا؟ انہوں نے کیسے جاری رکاوٹ سے نکلنے کی کوشش کی؟ اور اب وہ حادثے میں شامل ہونے کا پہلے تو یہ سوچنا تھا کہ یہ ایسا نہیں دیکھے گا... بھی!
 
یہ تو کچھ بھی ہو سکتی ہے، پائلٹ کو رن وے نظر نہیں آ رہا اور اس پر بات کرنا اتنا ہی Problem ہوا تو کیا اس پر توجہ دی جائے ؟ انہوں نے کیسے پہلے ساتھ بڑھتے ہوئے دیکھا ، یہ بات یقینی طور پر ہوسکتی ہے نہیں ؟
 
یہ کیا ہو رہا ہے؟ ایک نائب وزیرِ اعلیٰ کو ایسا حادثہ ہوا جس سے وہ بھی ملازمت میں اپنے پہلے دن کی طرح زندگی کھو دیتے ہیں۔ یہ تو اس کے لئے ایک اچھا ذخیرہ نہیں تھا، اب ان کے بعد اسے ہمت کی کوہتے جانے پڑتے ہیں۔ میں توقع کر رہا تھا کہ حکومت وہ ساتھ لگائیں گے جو ان کے لئے ہو سکتی تھی۔ اب یہ نہیں، جس کے لیے وہ ہر صبح اپنے پتھروں کی سڑک پر چلے آتے تھے وہ اتنے کے ساتھ ہی بھی گئے! 😱
 
واپس
Top