بھارتیہ حکومت کے سیاسی اثر رسوخ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی ساکھ کو خطرے میں ڈالا ہے اور اس کا مالی استحکام بھی تباہ ہوا ہے۔ آئی سی سی نے بھارت میں کھیلنے سے انکار کر لیا اور اسے ٹورنامنٹ سے باہر کردیا ہے، اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا ہے۔
بنگلادیش نے بھارت میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا لیکن آئی سی سی نے اسے ٹورنامنٹ سے باہر کردیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کے خلاف 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے میچ سے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
اس کے مالی اثرات بھی سنگین ہیں کیونکہ پاک بھارت میچ کرکٹ کا سب سے قیمتی مقابلہ سمجھا جاتا ہے، جو تقریباً 250 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع تھی۔ اگر میچ نہ ہو تو آئی سی سی کو شدید مالی نقصان ہوسکتا ہے۔
بھارت کی میڈیا رائٹس ہولڈر جیو اسٹار بھی تین ارب ڈالر کے براڈکاسٹ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کررہی ہے۔
بھارت اور پاکستان نے 2013 سے دوطرفہ سیریز نہیں کھیلے ہیں اور 2024 میں بھارت نے بنگلادیش کے ساتھ تعلقات خراب کر دیے ہیں۔
بھارتیہ حکومت کا یہ سیاسی اثر رسوخ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کو ایک خطرے کی سائے بناتا ہے اور اس کی آئندہavenدین نئی صورتحال پر قائم کرانے میں ناکام رہتا ہے۔
بھارتیہ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین بین الاقوامی تنازعات سے ان کے کھلاڑیوں کا ساتھ نہ چوٹ لگے۔ اگر وہ ایسا کرنے والے ہیں تو اسے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والے اعلان کو پہلے سے ہی جاننا چاہیے اور ان کھلاڑیوں کو اپنی مہمیتوں میں مصروف رکھنا چاہیے
بھارتیہ حکومت کا یہ فیصلہ بہت ہی خطرناک ہے، آپ نے اپنا کھانا اور کھیل کھلوانے کی آڑ کو خطرے میں لگایا ہے، تو اس سے پوچھو آپ نے کس طرح اپنے عوام کے لیے یہ استحکام سائے بنایا تھا؟
بھارتیہ حکومت کو اپنے سیاسی اثر رسوخ کی وہی پوزیشن نہیں لینا چاہیے جس سے آئے ڈیرے میں آ رہے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے معاملے میں ان کا یہ فیصلہ بالکل ناکام رہا ہے، اور اب اس کو آئندہVENدین صورتحال پر قائم ہونا ہی کچھ چیلنجز کے ساتھ ہو گا۔
بھارت کی حکومت نے اپنے وزیر اعظم شہباز شریف کو ایک اچھی پوزیشن پر لینے کے بجائے اس نے اپنا سیاسی اثر رسوخ ضائع کر دیا ہے، جو اب اس کی ٹورنامنٹ میں شرکت کی صورتحال کا باعث بن گیا ہے۔
بھارت نے آج ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے باہر ہونے پر پریشانی نہیں کی ہی بے فائدہ کہی ہوں گی بلکہ اس کی غیر ملکی مہمات کا انصاف یہ رہا کہ انہوں نے ایسے اسٹیڈیم میں کھیلنے سے انکار کر دیا جو پاکستان کے حرم اور بھارت کی جائیداد کو کمزور کر رہے ہیں۔
بھارتیہ حکومت کی یہ سیاسی اثر رسوخ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کو ایک خطرے کی سائے بناتا ہے اور اس کی آئندہavenدین نئی صورتحال پر قائم کرانے میں ناکام رہتا ہے، یہ بھی دیکھنا تھوڑا عجیب ہے کہ انھوں نے اس میچ سے باہر کر دیا تو پاکستان کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت نے بنگلادیش سے بھی انکار کر دیا تھا لیکن آئی سی سی نے اسے ٹورنامنٹ سے باہر کردیا۔
مگر یہ بات سب کے لیے واضح ہے کہ پاک بھارت میچ کرکٹ کی سب سے قیمتی مقابلہ سمجھا جاتا ہے اور اس میں ناکام رہنا بہت خطرناک ہے، آئی سی سی کے لیے یہ شدید مالی نقصان کا باعث بن سکتا ہے اور انھوں نے ایسا کرنا چاہیے کہ ٹورنامنٹ کی پوری صورتحال کو سامنے لاتے رہیں، یہ بھی دیکھنا تھوڑا عجیب ہے کہ جیو اسٹار نے تین ارب ڈالر کے براڈکاسٹ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرنے کو یقینی کیا ہے۔
بھارت کی governments۔ government ki ye decision ka kya faayda hai? bina kisi baat ke team ko baahar kar diya hai. yeh to ICC ko bhi problem pahi chuka hai.
sare match hum logon ki matra se dekh rahe hain aur wo bhi tension meh. ye series ka financial impact bhi bahut jyada hai.
bharat aur pakistan ke beech ki relation ab bhi achhi nahi hai kyunki 2013 mein doosron ne sira series nahi khela tha. to aaj bhi ye problem hai.
ICC ko yeh decision lene ka koi sense nahi hai. T20 world cup ki yeh situation toh ICC ke liye bhi bahut mushkil hai.
ایسا تو خبروں کی بات ہو گی۔ جبکہ بھارت اور پاکستان کے مابین کرکٹ کے درمیان ایسی وجہ دیکھنا مشکل ہے، پھر بھی یہ بات غلط نہیں کہ Politics aik bahut badi baat hai , cricket toh ek alag cheez hai jis par har party ka apna darna hota hai.
Lekin yeh to achi baat hai ki ICC ne usmein koi achha rule nahi banaya tha. Yeh tournament toh ہلچल mein ho raha hai aur financial issues bhi zyada ho gayi hain.
Paki cricket board ko apne national pride ke liye kuch karana padega, aur Bharatiya Cricket Board ko bhi apni majabooti dikhani padegi. Yeh tournament toh ہر team ke liye achi baat nahi hai, jo financial issues se lada raha hai.
Aur agar yeh tournaments kisi bhi country ke liye kharaab ho jaata hai to ICC ko apne rules mein thoda badlav karna padega. Kuch changes karke tournament ko zyada majboot banaya ja sakta hai
ਇس سے پوچھنا چاہیے کہ ڈرامہ کی جگہ ہمیں ایک ڈائالوج میں آنا چاہئیے۔ یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیل کا نتیجہ ہے، لیکن اس نے بھارت اور پاکستان کی تعلقات کو کیسے پ्रभावित کیا؟
جب کھلاڑی اپنے ملک کے لئے لڑتے ہیں تو ان میں ایسا احساس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی قوم کی اہمیت پر لڑ رہے ہیں، لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ ان کے ماحول میں ایسی پہللیں بھی ہوتی ہیں جو انہیں ناامید اور قیاس آرائیوں پر چلتے دیکھتی ہیں۔
بھارت اور پاکستان کی یہ تاریخ و تعلقات کے بارے میں ایک گہرا سوال ہے۔ ان دو ملکوں نے کیوں دوطرفہ سیریز نہیں کھیلی اور اس کی وجہ کیا؟
جب بھارت نے 2013 میں پہلے بار دوطرفہ سیریز سے انکار کر دیا تو اس کے بعد کیا ہوا؟ اور اب جب بھی اس سے انکار کرنے والی ٹیم پاکستان ہو، تو کیا اسے اس بات کا ایک اچھا استعمال کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی پوری قوم کو اس سیریز کی طرف متوجہ کر رہی ہے؟
یہ بھارتیہ حکومت کا ایک بڑا گمراہ ہے، آج ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی ساکھ کو خطرے میں ڈال دیا ہے تو فردوں پر یہ کس قدر لگتا ہے؟ پھر نکلتے ہیں، اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا جاتا ہے اور ایسی صورتحال میں آؤٹ فلم کیا جاتا ہے