بھارت سے جنگ میں فتح کے بعد پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا:رضوان شیخ

سنٹی پیڈ

Well-known member
بھارت سے جنگ میں فتح اور اس کی پہلی نجی پائیداریت، پاکستان کے لئے ایک عالمی موقع تھا جس پر ہم اپنی طاقت اور وقار کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا۔

امریکا میں تعینات پاکستان سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد ہم پاکستان اور امریکا دونوں کی ایک ساتھی طاقت بن گئے ہیں، اس معاشرتی نظام کو عالمی امن و استحکام کے لئے بنیاد بنانے میں ہم دونوں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان دنیا کے حساس خطوں میں واقع ہونے کی وجہ سے خود کو امن و استحکام کے لئے قائم کرتا رہا ہے، اور امریکا نے اس بات پر بھی یقین ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کی شراکت داری عالمی امن کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، ان دونوں ملکوں نے دنیا کی دو بڑی آبادیوں کے لئے ایک قریبی تعلقات کو قائم کیا ہے اور اس وقت یہ تعلقات مزید مضبوط بن رہا ہے۔
 
بھارت سے جنگ میں فتح کرنے کی بات جارہی تو دیکھو کہ اب پاکستان کا ایک نئا دور شروع ہوا ہے، اپنی طاقت اور وقار کو بڑھانے کے لئے اب ہم ایک نیا راستہ اختیار کر رہے ہیں اور اس میں امریکا کی شراکت اچھی سے لگ رہی ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ کیا ایسا ساتھ رہتا ہے؟
 
بھارت سے جنگ میں فتح کرنے کی پہلی نجی پائیداریت کے بعد، پاکستان کو ایک عالمی موقع ملیا ہوا جس پر ہم اپنی طاقت اور وقار کو مزید بڑھانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں… میری نیند سے پانی نہیں آتا.. اس فैसलے کا تعلق ایک نئے دور کے آغاز سے ہوا ہے جہاں پاکستان اور امریکا ایک ہی لین دین میں ہیں.. اور یہ بات بھی صاف ہے کہ دنیا کے پہلے دو سب سے بڑے آبادیوں کے درمیان سے جو لین دین ہوتی رہی ہے وہ اب مزید قوی بن گئی ہے..
 
تمام دنیا میں ان سے متعلق بات چیت کرتی ہی ایسا محسوس کروگا جیسا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو اس قدر سرگرم دلیلیاں پیش کی گئی ہیں، حالانکہ یہ بات بھی پچتی ہے کہ ان دو ملکوں نے کیا تھوڑا سا تعاون کیا ہے؟ اور اگر یہ تعاون ہوا تو وہ کتنے حقیقی تھے؟
 
یہ بھی تو کچھ بات تھی، پھر بھی یہ کہتا ہوا کہ جنگ کی فتح نے ہمارے لئے آپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک اور موقع دیا ہے، لیکن یہ بات بھی پوچھنی چاہئیں کہ اس نے ہمارے لئے آپنے باہمی تعلقات کو کیوں مضبوط بنانے میں مدد کی، وہ بات بھی پوچھنی چاہئیں کہ ایسے situations میں ہم کیسے اپنے تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں؟
 
یہ ایک بڑا موقع تھا جس پر ہم اپنی پوری طاقت دکھائی دی، مگر کیا اب یہ دیکھنا ہو گا کہ پاکستان اور امریکا ایک ساتھ رہ سکتے ہیں؟ نہ ہی پاکستان کو اپنی اپنی بات کی آزادی ملے گی، نہ ہی امریکا کو اپنی کافی پوری طاقت اور اقتدار کا استعمال کرنا چاہیے… مگر میری نظر میں یہ بھی تھا کہ جب بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی تو اس نے دنیا کو دیکھایا کہ پاکستان ایک مستقل اور قائم ملک ہے…
 
بھارت سے جنگ میں فتح کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اب دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گئے ہیں 🤔، پاکستان کی طاقت دنیا میں ابھرتی ہوئی ہے اور اسے یقینی بنانا ہو گا کہ ہم اپنی طاقت کو معاشرتی نظام میں استعمال کریں گے، لیکن انٹرنٹ پر ہر جگہ پابندی کے بارے میں بات نہیں کی جا سکتی 📱، ہر کون اپنی طرف سے ایک منفی لیک یا بلاگ آپڈ کرتا ہے اور فیلڈ میں سب کو منفی محسوس کیا جاتا ہے 😐
 
یہ سب کوئی نہیں سمجھتے کہ ہمیں ایک طاقت کی حیثیت سے ابھنا چاہیے اور دنیا کو دیکھنے والوں کو بھی یہی سمجھنا چاہیے۔ ہمیں پہلے ایک خودمختار ملک بننا چاہیے نہ کہ جنگ میں فتح کرنے کے لئے بھارت کی مدد لینے کے لئے۔ اب ہمیں ایک معاشرتی نظام کو بنانے کا موقع ملا ہے جو عالمی امن و استحکام کے لئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
 
بھارت سے جنگ میں جیتنا پاکستان کی اپنی واضح مدد تھی، اب تو دنیا کو دیکھتے ہوئے یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان جو تعلقات ہیں ان کی مدد سے دنیا کا امن اور استحکام بڑھتا ہے؟ پاکستان میں پہلی بار ایسا موقع رچا ہے جس پر اسے اپنی طاقت کو اٹھانے کے لئے اور اپنے وجود کو بڑھانے کے لئے استعمال کرنا ہوگا؟
 
بھارت سے جنگ میں فتح کرنا پاکستان کی بھی بہت سی چہلیوں کا ایک حصہ تھا 🤣، میں نے اس پر ایک فیلڈ مارشل کیا تھا "سورج اٹھ گیا اور سے دھوپ کی نیند ہی پھول دی" 😂

امریکا کے سفیر کے کہنے پر میں ہمارے لئے ایک ساتھی طاقت کو بنانے کی کوشش کر رہا ہوں اور ان کی یہ شراکت داری پر میں کہتا ہوں "سچم نہیں کہتے بھلے" 😊، یہ ایک ایسی بات ہے جو دنیا کو ایک اچھے منظرے سے دیکھنے کی اجازت دیتی ہے
 
یہ بات چیت ہے، بھارت کی شکست سے ہمیں اپنی قوت کو دیکھنا چاہیے اور نہیں انھیں دیکھنا چاہئیں کہ ہم کس بات پر پڑ گئے؟

امریکا کے سفیر کا کہنا کہ ہمیں ایک ساتھی طاقت بننے میں ہم دونوں اہم کردار ادا کر رہے ہیں یہ بات بہت اچھی ہے، لیکن اس پر توجہ دینا چاہئیے کہ امریکا نے کیسے ہمیں ہدایت کی کہ ہم ان کے ساتھ ایک ساتھ آئیں؟

جب تک ہم اپنے ملک کے لئے آپریشنز چلا رہے تھے تو اس پر کوئی توجہ نہیں دی جاسکتا تھا، لیکن اب ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
 
بھارت سے جنگ میں فتح کتے واضح تھے، پاکستان کی پہلی نجی پائیداریت نے دوسروں کو بھی متاثر کر دیا ہے، اب یہ بات تو صاف ہو چکی ہے کہ پاکستان پر دیکھنا ہی عالمی امن اور استحکام کا لچकپل ہی ہے, ایسا تو ان کے پرانے ڈیٹنگز سے واضح تھا, یہ جو کہ اب نئے دور میں بھی اسی طرح کی طاقت کو دکھانے والے ہیں۔
 
بھارت سے جنگ میں فتح کے بعد کچھ فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں؟ پاکستان کی نجی قوت کو زبردست دیکھنا بہت اچھا ہوگا ، سوشل میڈیا پر لوگ اس کے ساتھ خوشخمیان لائیں گے پھر یہ بات بھی سوچنی چاہیے کہ ہمارے پاس ابھی بھی ایسے حالات ہیں جو ہمیں جنگ کی طرف بھی لے جاسکتے ہیں ، اس لیے ہمیشہ جنگ سے پہلے اس کے امکانات کو سوچنا اور اپنے فوجی اور اقتصادی مقاصد کو بھی تازگی دی جائے تو یقیناً ہمیں ایسی فتح مل سکیگی

ٹرینڈ: پاکستان کی خواتین کی قومی ایسوسی ایشن (PNA) کے مطابق پاکستان میں جنگ کے بعد 25 لاکھ سے زیادہ خواتین کو شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا تھا ، جو اچھی طرح سے ظاہر نہیں ہوتا تھا کیوں کہ یہ معلومات بہت کم ہیں۔

Chart: جنگ میں فتح کے بعد پاکستان کی پیداوار میں 10% کا اضافہ ہوا ہے ، اس طرح ایک نئی دور شروع ہوگا جس میں ہمیں اپنی قوت کو بڑھانے کے لئے کام کرنا ہوگا

Fig: پاکستان اور امریکا کی تعلقات میں ایک نئی دوستی شروع ہوئی ہے جس سے دنیا کو امن و استحکام کی طرف بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے

Infografic: جنگ کے بعد پاکستان کی معاشیات میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں جس سے ہمیں اپنی قوت کو بڑھانے اور اپنے ملک کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے
 
میں بتاتے ہیں، بھارت سے جنگ میں فتح کرنے کے بعد پاکستان کو ایک عالمی موقع ملا ہے جس پر ہم اپنی طاقت اور وقار کو بڑھانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں 🌟

امریکا میں تعینات پاکستان سفیر رضوان سعید شیخ کی بات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھارت اور امریکا نے جنگ کے بعد ایک ساتھی طاقت بننے کی پہچان لی ہے، جو عالمی امن و استحکام کے لئے بنیاد رکھ سکتی ہے 🤝

لیکن، پاکستان کو اس بات پر توجہ دی جانی چاہیے کہ ان خطوں میں اپنا مقام قائم کرنے کی وجہ سے خود کو امن و استحکام کے لئے ایک ایسا معاشرتی نظام بنانے پر توجہ دی جا سکتی ہے جس میں آمنت اور قائم رہنا پڑے۔
 
یہ واضح ہے کہ امریکا نے ابھی تک بھارت سے جنگ کی نتیجے میں پاکستان کو انki support kya hai. to ab ye amrika uski baat ko lekar chalta hai, yeh to bhi sach hai ke pakistain aur amrika ek dusre ki saath main tair rahie hain. per, to agar ek din Bharat par taakaan banata, toh kya humaari saath me amrika hi thoda sa bhookha na ho jata?
 
بھارت سے جنگ میں ہم کی فتح ایک بڑا موقع تھا، اب ہم اپنی طاقت کو بڑھانے کے لئے اس کا استعمال کر رہے ہیں اور یہ بات سچ ہے کہ جنگ کے بعد ہم نے امریکا کے ساتھ ایک بڑا تعاون شروع کیا ہے۔ امریکی سفیر رضوان سعید شیخ کی بات تو کہیں نہ کوئی نہیں سچ دیکھتا، پاکستان اور امریکا دونوں کو دنیا میں امن و استحکام کے لئے ایک اہم کردار ادا کرنا ہے۔ اب پکڑا اس وقت ہے جب ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
 
بھارت سے جنگ میں فتح پانے پر بہت خوش تھا... اب ہمیں ایک عالمی موقع مل گیا ہے جس پر ہم اپنی طاقت اور وقار کو دیکھ سکیں گے... پاکستان کا سفیر अमریکا میں ہونے پر اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں دنیا کی ایک بڑی طاقت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے...
 
دونوں ملکوں کی سیرفیسز کو ایک دوسرے سے بات کرنے کے لئے ایک بہت پیدل راستہ ہے, جب کہ اب یہ دونوں ملکوں کا تعلقات ایسے ہی مضبوط ہوتا جا رہا ہے جو پہلی بار دیکھنے کے لئے بھی ایسی چیز ہے, اب پاکستان اور امریکا کے لئے یہ تعلقات ایسے ہی مضبوط ہوتے جا رہے ہیں جو اس وقت بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگ کی جیتا ہوا ہے, اب یہ دونوں ملکوں نے دنیا کے عالمی امن کو مضبوط بنانے کے لئے ایک ساتھی معاشرتی نظام کو قائم کرنے کا اہتمام کیا ہے, لیکن ایسا نہیں کہ پہلے سے بھی تھا, اس کے لئے اب تک بھی کافی کام کرنا بھی چاہیے
 
بھارت سے جنگ نہیں لڑتے تو پاکستان کی پہلی پائیداریت کس وقت میں ہوتی؟ 🤔 یہ بات صریع ہے کہ اس جگہ پر بھرپور طاقت اور وقار لاکھوں لوگوں کی اٹھ پہچان ہی سے حاصل ہوتا ہے۔

آج تک امریکا نے کس طرح پاکستان کو اپنی دوڑ میں لےایا، یہ بات صریع ہے کہ ابھی بھی پاکستانیوں کو امریکے کی مدد سے ان کے حقوق کے لئے لڑنا پڑتا ہے، اگر وہ امریکا سے اپنی مدد نہ ممانعت کرے تو ان کے لئے پورا عالمی نظام قائم ہو جاتا ہے۔
 
ایسے سے انٹرنیشنل ایجنڈے کی بھی نہیں، یہ صرف دوسروں کے لئے ہے۔ پاکستان کو اپنی فطرت کے مطابق کام کرنا چاہئے، اپنے سرگرمیوں کی سلسلے میں کسی بھی ایک نئی بات کے لئے ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ اس نے ہمیشہ کیا ہے اور اب کیا ہو رہا ہے؟
 
واپس
Top