بھارت سےسورج ناراض مواصلاتی نظام متاثر ہونے کا خدشہ

بیک پیکر

Well-known member
بھارت میں سورج پر شدید سرگرمیوں کی وجہ سے ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس کے بارے میں بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور شمسی شعلوں کے باعث مواصلاتی نظام متاثر ہوسکتا ہے، جس سے سب سیٹلائٹس اور ٹی وی سگنلز متاثر ہوجائیں گے۔

بھارت کی اس situation میں انیل کمار کے مطابق واضح ہیں کہ ریڈیو بلیک آؤٹ کے امکانات اچھی طرح سے ہیں، جس سے کبھی بھی مواصلاتی خلل پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام گراؤنڈ سٹیشنز کو رٹ کر دیا گیا ہے اور ہنگامی منصوبے پہلے ہی فعال ہیں، اس لیے یہ خطرہ بھرے وقت سمجھنے کے قابل ہے۔

تحرک خطے ایکٹو ریجن 14366 کی وجہ سے ایسا ہوا۔ اس میں پچاس دن میں چار انتہائی طاقتور شمسی شعلے خارج ہوئیں، جن میں X8.1 درجہ کا شعلہ اب تک کی سب سے طاقور شعلہ قرار دیا گیا ہے۔ اس مقناطیسی خطے سورج اور زمین کے درمیان لائن کے قریب ہونے کی وجہ سے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
 
مرہوم انیل کمار کے کہنے پر اس کے بارے میں ہر کسی کی فکر ہو جاتی ہے؟ یہ تو بھی واضح ہے کہ سورج پر شدید سرگرمیوں کی وجہ سے مواصلاتی نظام متاثر ہوسکتا ہے، لیکن اس کے خطرے کو ایسا لینا چاہیے جیسا یہ ختم کرنے کی حد تک نہیں ہو سکتا? میرا خیال ہے کہ ریڈیو بلیک آؤٹ کے امکانات کو بالکل انکیشنل بنایا جائے۔ اگر توجہ دی جا سکتی ہے تو کچھ نہ کچھ بن سکتا ہے، اور یہ بھی ضروری ہو گا کہ تمام گراؤنڈ سٹیشنز کو رٹ کر دیا جائے اور ہنگامی منصوبے پہلے ہی فعال کیے ہوں۔
 
🌟 اس situation میں انیل کمار کی بات تو چھت پر ہوئی ہے، ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی بھرپور سرگرمی سے ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ محسوس کرے گا, بلکہ یہ ایک اچھی طرح سے منصوبہبانی ہے, تمام گراؤنڈ سٹیشنز پر نظر رکھی گئی ہیں, اور ہنگامی مواقع پر ہمیشہ تیار رہتے ہیں, یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا, بلکہ یہ ایک اچھی طرح سے منظم موقف ہے, جس میں ہمیشہ ایک نیٹ ورک تھا، اور اب بھی یہ ہے, اس لیے ہم ایسے ہی موڑ لگائیں گے, جس سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا! 💪
 
اس قدر بھارپور سورج پر سرگرمیوں کے بعد میں ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ بھارت کیSide پر ایسا کچھ نہیں ہوتا جو ٹھیک نہیں رہتا اور اس طرح بھارتی خلائی تحقیقاتی اداروں کو ہمیشہ پہلے سے اپنے منصوبوں پر بھرپور توجہ دی جاتी ہے، یہ تو خطرا ہے لیکن وہی صورت حال جس میں ان کی مدد کی پوری ہوگی اور اچھی طرح سے منصوبہ بندی کیا گیا ہوگا تو اس سے کچھ نہیں ہوتا، مگر یہ ایک بار پھر بھارت کیSide پر بھی ہوتا ہے اور وہی فائدہ اٹھاتا ہے جو اس صورت حال میں ہوتا ہے **.**
 
سرکھو! یہ بات تو پورا اچھی طرح سمجھ لیا جائے گا کہ بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے نے ایسا کبھی کیا ہے? پہلے بھی اس کی واضح بات ہو چکی ہے کہ یہ خطرات ہیں، ابھی یہ کہ انہوں نے ایسا کیسے منصوبہ بنایا اور یہ چاروں طرف سے پچاس دن کی دیر کا بھرپور استعمال کیا ۔ اس خطے میں ان کا یہ ریکॉरڈ بھی لگتا ہے، یہ کیسے چاروں طرف سے پچاس دن کا بھرپور کام کر سکے گا؟ اور ہنگامی منصوبے تازہ نہیں تھے اس لیے واضح یہ بات ہوچکی ہے? پورا اچھی طرح سمجھ لیا جائے گا
 
سورج پر شدید سرگرمیوں کے بعد ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ ہو سکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ ہر شہری کو یہ جاننا چاہئے کہ کیوں اور کیسےProtect our communication systems? 📡🔥

اس بات پر انیل کمار کا مشاہدہ کرنے کے بعد، میں سوچتا ہے کہ یہ خطرہ بھی واقع ہو سکتا ہے۔ ریڈیو بلیک آؤٹ کے امکانات بہت ہیں اور یہ صرف ایک ٹیسٹ نہیں ہو سکتا ہے۔

اس لیے، ضروری ہے کہ ہم اپنے communication systems کو بھرپور طور پر سیکھ لین اور اسے Protect کریں۔ ایسا کیا جائے گا، یہ بات دوسری ہے۔ 🤔
 
بھارت میں یہ situación بہت خطرناک ہو گی، مواصلاتی نظام پر توجہ دی جانا ضروری ہو گا۔ اس صورتحال کی وجہ سے ہر قسم کے ٹی وی سگنلز اور سیٹلائٹس متاثر ہوسکتی ہیں، یہ تو بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے نے خطرہ کا انکشاف کر دیا ہے اور اب تک کسی بھی قسم کی واضح توجہ دی جا سکتی ہے کہ حالات گंभیر ہیں۔
ایک دیکھتے ہیں، مینو نے 2023 میں انٹرنیٹ سے متعلق یہ بات پڑھی تھی کہ وہ بھی مچھلی ہوا کی وجہ سے مواصلاتی نظام پر اثر پڑتا ہے، لگتے ہیں اور یہ بات تو ہر ایک جانتا ہو گا کہ بھارت میں سورج کی شدید سرگرمیوں کے باعث ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
ایسا تو واضح ہے کہ بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے نے یہ خطرہ خطرے کی صورت میں ابلاغ کیا ہے، جبکہ انیل کمار نے ہمہ تر گریاؤنڈ سٹیشنز کو روکنے اور ہنگامی منصوبوں کو فعال کر دیا ہے، یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ خطہ ایکٹو ریجن 14366 سے متعلق ہے اور پچاس دن میں چار انتہائی طاقور شمسی شعلوں کی خارج ہوئی ہے، مگر ایسا کیسے ہوا؟
میں یہ جاننے میں مصروف ہو رہا ہوں کہ یہ چار شمسی شعلے کیسے نکل آئیں، ان کے تابع موازنہ میں بھی یہ بات سچ ہو گی کہ ایسا تو پورے خطے میں توجہ دی جائے گی اور ان کے ساتھ ایک نیا موازنہ بنایا جائے گا۔
ایسا تو ہو رہا ہے کہ بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے نے یہ خطرہ ابلاغ کیا ہے، لیکن اب اس میں سہی تراجعیت اور موازنہ کی کوشش کے ذریعے سمجھنا ضروری ہو گا۔
اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں، یہ تو واضح ہے اور اب اس میں سہی تراجعیت کی کوشش کرنا ضروری ہو گا کہ یہ خطرہ سمجھا جا سکے اور موازنہ کرنے والے ہیں۔
اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں، اور یہ پوری دنیا میں سہی تراجعیت کے ذریعے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں، یہ تو واضح ہے اور اب اس میں سہی تراجعیت کے ذریعے سمجھنا ضروری ہو گا کہ یہ خطرہ سمجھا جا سکے اور موازنہ کرنے والے ہیں۔
اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں،
امرکہ میں ایسا بھی کیا ہو رہا ہے جو اس صورتحال کو ٹھہرایا جا سکے، جیسا کہ یہ بات سچ ہے کہ ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ بھی پورے امریکہ میں سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں،
اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں،
امرکہ میں یہ بھی کیا ہو رہا ہے جو اس صورتحال کو ٹھہرایا جا سکے، اور یہ بات سچ ہے کہ ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ پورے امریکہ میں سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں،
اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں،
امرکہ میں یہ بھی کیا ہو رہا ہے جو اس صورتحال کو ٹھہرایا جا سکے، اور یہ بات سچ ہے کہ ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ پورے امریکہ میں سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں،
اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں،
امرکہ میں یہ بھی کیا ہو رہا ہے جو اس صورتحال کو ٹھہرایا جا سکے، اور یہ بات سچ ہے کہ ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ پورے امریکہ میں سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں،
اس صورتحال کو منظر عام پر لانے والے ہیں،
امرکہ میں یہ بھی کیا ہو رہا ہے جو اس صورتحال کو ٹھہرایا جا سکے، اور یہ بات سچ ہے
 
"جب لوگ اپنی زندگیوں پر کنٹرول پानے کی کوشش کرتی ہیں تو وہ اس بات کو انکار نہیں کر سکتے کہ دنیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔"
 
چاہے یہ خطرناک حالات ہوں یا نہ ہو، لیکن میرے خیال میں یہ بھی ایک جھجک کی پوری فرصہ ہے! انیل کمار کے مطابق ریڈیو بلیک آؤٹ کی possibilitاں بڑی ہیں اور میرا خیال ہے یہ خطرہ ٹھیک استعمال کیا جاسکتا ہے۔ واضح ہے تمام گراؤنڈ سٹیشنز کو رٹ کر دیا گیا ہے اور ہنگامی منصوبے پہلے ہی فعال ہیں، یہ بھرپور وقت میں سمجھنے کے قابل ہے۔ میرا خیال ہے یہ خطرناک حالات ایک نئی جگہ کی طرف لے گا۔
 
یہ بھی یقیناً حقیقی بات ہو گی ، یہ سورج پر شدید سرگرمیوں کی وجہ سے ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ ہے... لہذا چاہے وہ طاقتور شمسی شعلوں کے باعث مواصلاتی نظام متاثر ہو جائے یا نہیں ، میں یہاں سے بھاگ جاؤں... اور اس situation کے بارے میں انیل کمار کے کہنے پر یقین نہیں کروں گا... وہ کہتے ہیں کہ امکانات بہت زیادہ ہیں اور میں اسے نہیں محسوس کرسکتا... حالانکہ یہ بھی یقیناً حقیقت ہو گی...
 
میری opinion hai ki yeh situation bhi toh zinda karega, toh kuch log bhi unki cheezon ko dhyan mein rakhein. meri raay ho ki humein yeh bilkul sunishchit karna chahiye ki hamari communication system safe aur strong hon.

aur yeh bhi ek bahut bada issue hai ki pata nahi lagta hai ki aapki signal kahan tak phailti hai? ab meri raay ho ki humein apni signals ko aur bhi strong banane ki zaroorat hai, taaki wo bhi sunishchit ho sakein.

aur jis tareeke se log yeh situation handle kar rahe hain, woh toh bahut saaf hai. meri raay ho ki humein apne communication system ko aur bhi modern banane ki zaroorat hai, taaki wo bhi sunishchit ho sakein.

🌞💻
 
عزیزو! ابھی تو ہی بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے نے ریڈیو بلیک آؤٹ کے خطرے کی خبردار کرتے ہوئے یہ بات کہ دی۔ سورج پر شدید سرگرمیوں کی وجہ سے مواصلاتی نظام متاثر ہوسکتا ہے؟ یہ تو ایک بڑا خطرہ ہے، اس لئے کہ یہ نہ صرف ریڈیو بلکے ٹی وی سگنلز کی ساتھ ساتھ سب سیٹلائٹس کو متاثر کر سکتی ہے۔

انیل کمار کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ بھی، لیکن اس کے لئے تمام گراؤنڈ سٹیشنز کو رٹ کر دیا گیا ہے اور ہنگامی منصوبے پہلے ہی فعال ہیں؟ تو یہ بھی کچھ Relief ہے، لیکن اس بات کو یقین نہیں چاہیے کہ ابھی ان چار انتہائی طاقور شمسی شعلوں کی وجہ سے ان تمام منصوبوں کو متاثر کرنا پڑے گا؟

انہی خطے میں 45 دن میں انہی شیلوں کا ایسا جھنکنا پڑا ہے، اس لیے یہ خطرہ بھرے وقت سمجھنے کے قابل ہے۔ اور جب تک ان خطوں میں یہ شدید سرگرمیاں ہوتے رہیں گے تو اچھی طرح سے واضح ہے کہ یہ خطرہ کیوں ہے؟
 
یہیں ایک بات ہے، بھارت میں سورج پر شدید سرگرمیوں کی وجہ سے ریڈیو بلیک آؤٹ کی صورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، انیل کمار کی باتوں کو بھی ضرور مدنظر رکھنا چاہئے۔ اس صورت حال میں ہنگامی منصوبے پہلے ہی جاری ہیں، اور تمام گراؤنڈ سٹیشنز کو رٹ کر دیا گیا ہے۔

لیکن یہ بات بھی ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خطہ ایک اچھی طرح سے مینو لینڈنگ میں ہے، اور اس کی وجہ سے ان شعلوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، پچاس دن میں چار انتہائی طاقتور شمسی شعلے خارج ہوئی ہیں، اور اب تک کی سب سے طاقور شیلہ قرار دیا گیا ہے، X8.1 درجہ کا شیلہ۔ اس خطے کی وجہ سے یہ خطرہ بھی اس وقت سمجھنے کے قابل ہے جب بھرپور وارز ہو۔
 
واپس
Top