نیپاہ وائرس کے تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد، بھارت میں سرحدوں پر نگرانی بڑھ گئی ہے۔ ایشیائی ممالک نے بھارتی اڈوں پر رٹ جاری کر دی ہے، جس سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ نیپاہ وائرس کا خطرہ بھارت میں بڑھا ہوا ہے۔
امریکی واشنگٹن پوسٹ نے یہ اہلقائہ دی ہے کہ بھارتی حکومت کی نااہلی سے ملک مملک ہو رہا ہے، اور اس پر عالمی صحت کے خدشات کا مرکز بن چuka ہے۔ تھائی لینڈ نے بھارتی مسافروں کیلئے اسکریننگ چیک پوائنٹس قائم کر دئیے ہیں، جبکہ تائیوان کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے نیپاہ وائرس کو کیٹیگری 5 خطرہ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بین الاقوامی ادارے بھی بھارت میں صحتِ عامہ کے بحران کو عالمی خطرہ قرار دے چکے ہیں، اور عالمی ادارہ صحت (WHO) نے نیپاہ کو ترجیحی خطرناک وائرس قرار دیا ہے اور فوری تحقیق پر زور دیا ہے۔
برطانیہ ، نیپال، تھائی لینڈ، تائیوان اور سری لنکا نے بھارتی مسافروں کیلئے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ برطانیہ نے چین، میانمار، انڈونیشیا اور ویتنام کے بھارتی سفر پر تحفظات بیان کر چکا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق نیپاہ وائرس کی موجودگی میں ٹی 20 ورلڈ کپ کا آغاز مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں نیپاہ وائرس کی نگرانی کا نظام غیر مؤثر، غیر مربوط اور دیہی و سرحدی علاقوں میں بالکل ناکارہ ہے۔
نیپاہ وائرس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مودی کی ترجیحات میں سیاسی تشہیر تو شامل ہے، مگر عوامی صحت نہیں۔
اس وقت یہ دیکھنا بےہدہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنی نااہلیوں سے ملک کو مملک دے رہی ہے، جبکہ عالمی ادارے صحت کی نگرانی میں ناکام ہو رہا ہے۔
لیکن یہ بھی کہنا ہوا ہے کہ اس وقت تک کہ ہمیں یہ بات پتہ چل جائے کہ نیپاہ وائرس نے کیا خطرہ دھماکہا ہے، ایسا کبھی بھی دیکھا نہیں گیا، اور اس پر بھارتی حکومت کو اسے کم کرنے میں کتنے کوشش کی پڑے گی۔
اس سے زیادہ ہمیں یہ بات دیکھنی چاہیے کہ سرحدوں پر نگرانی بڑھانے سے کچھ نتیجہ نہیں اٹھے گا، اور ہمیں یہ بات پتہ چلنے ڈلتے ہیں کہ ہمیں ملک کی سلامتی کے لئے مزید سارے کوشش کرنی ہو گی، کیونکہ ایسا کرنا بھی چاہیڈا۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی دیکھنے کو پڑے گی کہ ہمیں اس معاملے میں اچھی طرح سوچنا پڑے گا، اور ہم۔
اس وقت بھارتی حکومت کے ساتھ لگتا ہے کہ وہ ہر چीज میں آٹھ گولیاں کھیل رہا ہے، اس کی نااہلی کی وجہ سے ملک مملک ہو رہا ہے... اور یہ بات تو واضح ہی ہے کہ وہ عوامی صحت کو بھرپور توجہ نہیں دے رہا ہے، اس سے ملک کا نقصان بہت زیادہ ہوگا... مگر یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی سطح پر لوگوں کی توجہ اور تنقید کا نتیجہ بھی یہی ہو سکتا ہے...
بھارت میں نیپاہ وائرس کے خطرے کو لینے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟ بھارتی حکومت کی اداروں نے ہی تک ایک ناقص پلیٹ فارم تیار کر دیا ہے جو ملک بھر میں ناکافی ہے جس پر مسافروں کا اسکریننگ چیک کیا جا سکتا ہے؟ اور یہ بھی سوال ہے کہ عوامی صحت کی وجہ سے ملک کی ترجیحات کیسے تبدیل ہوئی ہیں؟
یہ کہنا مشکل ہے کہ بھارت میں نیپاہ وائرس کی موجودگی کے ساتھ ملک کی پیداواریں اور معاشیActivity میں کیا نقصان ہوگا؟
According to recent statistics, bharat mein niapah virus ki presence ke liye 12.2% increase ho raha hai in last one year. yeh bhi dikh raha hai ki, bharat se niapah virus infected patients ko international destinations tak le jana mushkil ho raha hai.
WHO ne bhi niapah virus ko high risk category me rakha hai. 2025 mein bharat mein niapah virus infection 2 million ho sakti hai, agar yeh sirf 1% mortality rate ho to 20 lakh deaths ho jayenge.
kuchh experts keh rahe hain ki, modi government ke andar public health ko priority nahi diya gaya hai.
اس وقت بھارتی حکومت کو پوچھنا ہوتا ہے کہ یہ کیسز کی تعداد میں وہاتھ کس طرح ہتھیار ڈال رہے ہیں? اور تھائی لینڈ نے انسپئیشن کیا کہ وہ بھارت میں سکریننگ چیک کی بدولت ایک نئی پوسٹ قائم کر رہا ہے!
ماہرینِ صحت کی بات تو یہ ہے کہ اگر انہیں یہ کہنا پڑتا کہ نیپاہ وائرس کا خطرہ بھیٹ چلا گئا ہوتا ہے تو اسے لگتا ہوگا کہ ان کے اور ماہرینِ صحت کے مابین ایک لڑائی جاری ہے!
ایسے میں بھی یہ بات واضح ہے کہ مودی کی حکومت کو عوامی صحت پر فخر نہ کرنی چاہئے، بلکہ اس پر ہٹنا اور ایک نئی پالیسی تیار کرنا چاہئے!
جب تک ہماری ادارات و صلاحیتوں پر پابند رہیں گے، یہ کہنا چاہئے کہ مملکت بھارت میں کوئی سیاسی یا نااہلی نہیں، بلکہ اس کا ساتھ اس کی عوامی صحت اور زندگی کے لئے ایسے مواقع ہوں جو ان کی ذلت اور قیادت کو کمزور کر دیتے ہیں
اس وقت جب سرحدوں پر نگرانی میں اضافہ رہا ہے، تو یہ ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارتی حکومت کو اس کی سیکورٹی اور صحت نے اپنا اہداف بن لیے ہیں۔ لہٰذا، اگر ان سیکورٹی اہداف کو پورا کرنے میں کچھ معضلات پڑ رہی ہیں تو، اس کاMeans بھی ایسا ہی ہونا چاہئے جس سے ان اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔
تھائی لینڈ نے بھارتی مسافروں کیلئے اسکریننگ چیک پوائنٹس قائم کر دیے ہیں، جبکہ تائیوان کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے نیپاہ وائرس کو کیٹیگری 5 خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ سب ایک بات تعین کر رہا ہے کہ بھارتی حکومت کو اپنی سیکورٹی اور صحت کو اچھا ساتھ نہیں دینے کی لالچ نہیں، بلکہ انہیں بھی ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات میں سیاسی تشہیر تو شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں مگر عوامی صحت نہیں۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیشنل ایئرورٹس نے بھی آدتیس تینوں ممالک کی سروسز بند کر دی ہیں جس پر نیپاہ وائرس کو خطرہ قرار دیا گیا ہے. یہ تو ایک نئی سیریز میں بھارت کے کھلاڑیوں کو دورہ کرنے کی پلیٹ کے جیسا ہی رخات ملاتا ہے.
میری رाय میں بھارت کی حکومت کی نااہلی سے ملک مملک ہو رہا ہے، یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ عوام کی صحت کو priorit nahi kar raha hai, انہیں پورے ملک میں فوری اقدامات پر زور دینا چاہیے, نہتو، تھائی لینڈ اور تائیوان جیسے ممالک نے بھارتی مسافروں کیلئے اسکریننگ کا آغاز کر دیا ہے، یہ کچھ حقیقی مظالم ہیں, مگر وہ ان پر اقدامات نہیں کر رہا ہے, نیپاہ وائرس کا خطرہ بھارت میں تو پتہ چلا ہے لیکن انہوں نے کسی کی بات پر مبنی نہیں، مگر یہ عالمی صحت کے خدشات کا مرکز بن چuka ہے, فوری اقدامات پر زور دیا جائے، مگر مودی کی ترجیحات میں عوامی صحت نہیں, وہ سیاسی تشہیر کر رہا ہے، مگر عوام کو یہ بات پتہ چلی ہے، میری رाय میں ان کے اقدامات سے ملک مملک ہو رہا ہے, ناکارہ نظام تھا، لیکن اب اسے سچائی سے سامنا کرنا پڑا ہے.
ایسے سارے اقدامات کرکے کہ بھارت ایک خطرناک وائرس کا مرکز بن گیا ہے تو یہ بھی سوال تھا کہ یہ کیسز پہ پھیلتے ہوئے کیس؟ مودی کے لئے پبلک ہیلتھ ہوتا ہے یا عوام کی جان ہوتی ہے یہ صرف ایک ہی طرح کا چکر ہے۔
اسپیکٹ ایٹر اور لوگ جو ناکاموں پر فخر کرتے ہیں ان سے بھارت کے لیے شائقین کو کچھ بھی نہیں چاہئیے۔
ارے دھونٹے ہو! نیپاہ وائرس کے بارے میں بات کر رہے ہوتو، لگتا ہے کہ لوگ ایسا ہی کھیل رہتے ہیں جیسے یہ ٹی 20 ورلڈ کپ کا میچ ہو۔ سب کوشش کر رہتے ہیں، بلکہ تھوڑا بھراز بھی کرتے ہیں، مگر واضح نہیں ہوتا کہ وہ اس میچ کو کب جیتنے کے لیے کھیل رہتے ہیں یا چھوڑ کر گئے ہیں؟
جنوبی ایشیا میں یہ پھیلنے والی نیپاہ وائرس کے بارے میں بات کی جاسکتी ہے تو حکومت مودی کی نااہلی سے ملک مملک ہونے والا حال کچھ بھی اچھا نہیں ہے… اور یہاں تک کہ تھائی لینڈ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کی جانب سے بھی نیپاہ وائرس کو کیٹیگری 5 خطرہ قرار دیا گیا ہے تو یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارت کی حکومت کی نااہلی کو ملک کو خطرے میں پھنساتا ہوا دیکھنا بے صبر کنہی ہے…
وادئی بھارتی مودی کو ایسا کرنا پچٹا ہے کہ جیسے وہ اپنے ملک کی ساتھیوں کو ایک خطرے میں ڈالتا رہا ہو، ایسی حالات میں انہیں کچھ بھی کرنا پچٹا ہوتا ہے۔ وادئی لگتा ہے کہ اس کے ذمہ دار اداروں نے حال ہی میں یہ بات بھی چھپائی تھی کہ مودی کی حکومت کا دہشت گردی سے نا ٹلنا ہوتا رہا۔ اب وادئی یہ بات کو لاتھے ہوں گے کہ اس کے ذمہ دار اداروں نے کچھ نہ کچھ سے ان پر تعلق رکھنے والے لوگوں کی جان سے بچانے میں ناکام ہوئے۔ وادئی مانیٹرنگ دیکھتے ہوں گے کہ یہ سب اس کی بدحالی کی وجہ سے ہونے والا ایک انساف ہو رہا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ ساری باتا ہو چکی ہے کہ بھارتی حکومت کا معاملہ ان کی نااہلی پر مبنی ہے۔ وہ ایسا کیا جا رہا ہے کہ عوامی صحت کو ترجیح نہیں دیا جاسکta۔ نیپاہ وائرس کی صورت حال کے بارے میں ملکی اداروں پر ٹھوس تاکید کی ضرورت ہے، لیکن وہ انھیں بھی نہیں سونپ رہا ہے। یہ دیکھنا ہی کافی ہے اور اس پر کچھ اور کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد تو بھارت کی سلوک کی جانب سے کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلا ہے… یہاں تک کہ نیپاہ وائرس کے آنے لگنے پر بھی ان سے کوئی ممانعت کبھی نہیں ہوئی۔ اس کی واضح علامت یہ ہے کہ عوامی صحت پر آسمان میں اچھا فائدہ پہنچانے کی بجائے، بھارت نے اپنی ترجیحات مڈی کرلی ہیں… لاک ڈاؤن کے دوران سے جو لگتے تھے اور انٹرنیشنل ایئرولائینز کو چیک کرنا پڑتا تھا، وہ ابھی تو واپس آ گیا ہے…
بھارتی حکومت کو یہ واقف رکھنا چاہیے کہ نیپال وائرس سے لڑنے کی صلاحیت ہے، لیکن انہوں نے اس کا خاتمہ کروانے میں دیر کش کر رہی ہے۔ سرحدی علاقوں میں ٹریننگ دی جانے کی ضرورت ہے اور انھیں نیپاہ وائرس کے متعلق واضح تعلیمی مواد پیش کرنا چاہیے تاکہ عوام کو اس سے نمٹنے کے لئے تیار رکھا جا سکے۔ سرحدوں پر ایک کاربکس کے نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ لوگ جو ملک سے باہر نکلتے ہیں اس سے آئندہ بھی رک جائیں اور ملک کو یہ وائرس پھیلنے کی سہولت نہ ہو سکے۔
یہ بات تو ابھی پتہ چل رہی ہے کہ بھارتی حکومت کو اپنی آخری سے لے کر یہ واقعتا مشق کی جارہی ہے۔ نیپال وائرس کی موجودگی پر دکھا دیا جا رہا ہے کہ بھارت میں اسے چھوٹی سی بات سمجھنا نہیں آ رہا۔ لیکن یہ بات تو حقیقت ہے کہ تھائی لینڈ اور تائیوان نے بھارتی مسافروں کیلئے اسکریننگ چیک پوائنٹس قائم کر دئیے ہیں، جو ایک بڑا کامیاب قدم ہے۔ اور عالمی ادارہ صحت (WHO) نے نیپاہ کو ترجیخی خطرناک وائرس قرار دیا ہے، جس سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارت میں یہ وائرس کا سامنا کرنا کے لئے تیار نہیں ہے۔
بھارتی حکومت کی یہ نااہلی ایسی بھی ہو رہی ہے جو ملک کے لئے اور اس کی عوام کے لئے کوئی فائدہ نہیں دیتی ہے… اور اب تک کی ناکامیوں کا بھار اٹھانے والی نہیں ہے … سچایں کہا کہ ایشیائی ممالک بھر میں نیپاہ وائرس کی نگرانی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارت میں یہ خطرہ بڑھا رہا ہے
ایسے وقت بھی رہتا ہے جب ایک سارے ممالک اور عالمی اداروں نے بھارت کو اس کے کاروباری اقدامات پر توجہ دی، لیکن یہ بات تاہم پتہ چلی ہے کہ ایسے مملکت کی طرح ہی ہو رہا ہے جس میں عوامی صحت کوPriority نہیں دیا گیا۔
تمام یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ نیپاہ وائرس کی پھیلاؤ پر بھارت کا مقابلہ چیلنجنگ ہوا ہے، مگر ایسے وقت کے لیے کہیں بیٹھنا نہیں، جو دوسرے ممالک نے اپنی جانب سے اس معاملے پر فوری و اقدامات کئے ہیں، انہیں بھارتیوں کو سمجھنا چاہئے کہ اب بھی ہم اپنے ملک میں صحت کی حفاظت کے لیے بہتر سے بہतर اقدامات کرنا چاہئیں، ایسے مملکت کو دور نہیں ہو سکا جاسکتا۔