بھارتی حکومت کی نااہلی سے مُہلک

صحتِ عامہ کا بحران

بھارتی حکومت کی نااہلی سے ملک کو مہلک ہو کر دیکھنا پڑ رہا ہے۔ نیپاہ وائرس کی وبا نے ایشیائی ممالک کو سرحدوں پر نگرانی کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈوں پر Rangers کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی جریدہ واشنگٹن پوسٹ نے بھارت کو فیر ایک بار عالمی صحت کی خوفیں میں چھونے والا قرار دیا ہے۔ تھائی لینڈ نے بھارتی مسافروں کے لیے سکریننگ چیک پوائنٹس قائم کر دیے ہیں جبکہ تائیوان کا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے نیپاہ وائرس کو खतरہ کی درجہ 5 میں رکھ دیا ہے۔

سارے ممالک نے بھارت کے مسافروں کی جانچ کرتے ہوئے ایسے اڈوں پر Rangers کا مطالبہ کیا ہے جو ابھی تک سہولیات میں کمی تھی۔ بین الاقوامی صحت کے ایڈرے نے بھی نیپاہ وائرس کو ترجیحی خطرناک وائرس قرار دیا ہے اور فوری تحقیق پر زور دیا ہے۔

یہ پچاس لاکھ کے قریب لوگوں کو یہ جانچ ساتھیوں نے دیکھا ہے جس سے صحت مند لوگ بھی اس معاملے میں تنگ آ گئے ہیں۔

تکریبات نے واضح کیا ہے کہ ہمارے ممالک میں یہ نظام غیر مؤثر، غیر مربوط اور سیکولر علاقوں میں بالکل ناکارہ ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہی رہنما جس کی ترجیحات میں سیاسی تشہیر ہے مگر عوامی صحت نہیں۔
 
یہ بھی دیکھنا پڑا ہے کہ جو لوگ وائراس سے لڑنے کی ہمت کرتے ہیں، ان میں سے نصف بھی اچھی طرح جانتے ہوں گے کیونکہ وہ لوگ یہاں تک پہنچتے ہیں کہ وہ ملک میں کیا دیکھ رہے ہیں اور وہ ایسے معاملات سے مہرا بھی نہیں لیتے جو عام لوگوں کی زندگی کا ہوتے ہیں۔
 
اس دھچکے سے بھارت کو چٹنا پڑ رہا ہے اور یہ تو بھارتی حکومت کی نااہلی کا حشر تھا، اب وہ اس کو جھپکتا ہے؟ نیپاہ وائرس نے ایسے ہی سے ٹکرایا ہو گا جیسا 2003 میں سندھ میں اور 2015 میں پاکستان میں، ابھی تک کی کمزوریوں کو سامنے لائے ہیں۔

سارے ملک بھارت کے مسافروں کی جانچ کر رہے ہیں اور ابھی تک اےئی نے سہولتوں میں کمی تھی، اب یہ چاہتے ہیں کہ Rangers ہوائی اڈوں پر موجود ہوں؟ یہ بھی ایک بات ہے کہ بین الاقوامی صحت کے ایڈرے نے نیپاہ وائرس کو ترجیحی خطرناک قرار دیا ہے، ابھی تک وہ انساف کی کوششوں میں تھے اور اب وہ فوری تحقیق پر زور دے رہے ہیں۔
 
بھارتی حکومت کو یہ سب بہت سا دکھلا دیا ہے، اب وہ کہے کہ ان کی نااہلی میں ملک کا ہلچل تو آ گئا ہے۔ نیپاہ وائرس کی وبا سے انہوں نے ساتھیوں کو چیلنج کرنا شروع کیا ہے، لیکن اس کو ایک بڑا موقع سمجھنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی مسافروں کے لیے سکریننگ چیک پوائنٹس قائم کرنا اور Rangers کا مطالبہ کرتے ہوئے تھائی لینڈ نے اپنی صحت پر ایک نئی سطح دی ہے، لیکن ابھی تک بھارتی ہوائی اڈوں کو بھی اس طرح کی سہولیات ملنی چاہیے۔

سارے ممالک کے ایک ہی سوچ نہیں ہوتی، وہ سب اپنے اڈوں کو Rangers کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی صحت کے ایڈرے نے بھی نیپاہ وائرس کو ترجیحی خطرناک قرار دیا ہے۔

لگتا ہے کہ یہ معاملہ ساتھیوں کے لیے ایک مواقع کی کہانی ہے جو اس وقت بھرپور طور پر پٹی کی گئی ہے۔
 
بھارتی حکومت کو ایک بار پھر دیکھنا پڑ رہا ہے کہ وہ یہاں تک کہ بھی پہلے سے بھی ناکام ہوئی ہے، نیپاہ وائرس کی وبا اس وقت آچ رہی ہے جب اس پر انٹرنیشنل کو بھی پڑھانے کی ضرورت تھی اور اب یہاں تک کہ ایسے اڈوں کی بھی ضرورت ہے جہاں Rangers کا مطالبہ ہو۔ سارے ممالک نے اس پر اپنی جانچ کر رکھی ہے، ایسے اڈوں پر Rangers کو ضرور لگنا پڑے گا جو ابھی تک توڑنے کی موازنہ میں تھے، یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ سارے لوگ جنچ رہے ہیں، آخری جانچ ایسے اڈوں پر کی جائے گی جہاں بھی اس کا معیار نہیں ہوتا۔
 
اس 뉴ز پر، یہ بہت دیکھنا پڑا ہے کہ بھارت کی حکومت ایسے سٹیٹس آف انڈپینڈنس میں ہی رہی ہے جس سے عوامی صحت پر کوئی اہم اثرانداز نہیں ہوا ہے۔ نیپاہ وائرس کی وبا میں کیا یہ معاملہ اس لیہ خاص تھا یا صرف بھارت کے ساتھ مروادب کی بات ہو رہی تھی؟ میرا خیال ہے کہ ہم سب کو اپنی جانچ اور صحت مند پالیسیوں پر توجہ دینی چاہئے نہ کہ ایسے واضح طور پر معاملات کی جھگڑے کریں جو کہ ہر سال دیکھنے میں آتے ہیں۔ فوری تحقیق اور بھیپ بھاپ سے معاملات کو حل نہیں کرنا پڑتا جس سے واضح طور پر بھارتی عوام کو نقصان پہنچتا ہے۔
 
بھارتی حکومت کا انصاف نہ کرنا ایک بد عمل ہے 🤦‍♂️ وہ کیسے سارے ممالک کو یہ بھی دیکھتے ہیں جو اس معاملے میں تنگ آ گئے ہیں؟ 🤔 اور وہیں عوام کی جانچ پڑ-taki لے رہے ہیں! 😡 یہ بھی نا کرتبہ ہے جس سے انھوں نے معاشرے میں کوئی آگہائی لائی ہو سکتی ہے؟ 🚨
 
یہ بھی تو بڑا عجیب تھا، جب سے نیپاہ وائرس کی وبا شروع ہوگئی تو یہ سب کام کتنا چل پڑے گا اور اس وقت تک کہ کوئی اچھا نظام نہ بن جائے گا، یہ بھی دیکھو گا کہ کس طرح انسداد مرض کی صورت حال کو محفوظ بنا سکتے ہیں؟
 
اس بھارتی governments ki nahi hai, bas yeh toh sabke khayalon mein ek aur disaster ko badhava dene ki koshish kar rahi hai. Yeh tophar ki tarah chal rahi hai, jahan logon ko pata nahi, aik aur badi crisis ko bhi badhava dene ka mauka mil gaya hai
 
ایسے سائنسی بحران کو نہیں لگتا کہ اس پر پوری دنیا ایک ہی جانیت کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ یہاں تک کہ ایسے ممالک جو سب سے زیادہ صحت مند سمجھے جاتے ہیں، ان کے بھی لوگ ایسے اڈوں پر رینجرز کی مہم چلائی جا رہی ہے جو ہر سال نکلنے والی ٹھیک کی طرح نکلتے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کو یہ چیک کرنا پڑتا ہے، ایک چیٹ کے بعد دو چیٹ، پچیس چیٹ… ابھی اور نہیں! یہ صرف ایک چھوٹا سا اڈا تھا جس پر کسی کو یہ چیک کرنا پڑتا ہے؟ لگتا ہے کہ ہر ایک ایک چیٹ سے نکل آتا ہے، اور وہ بھی دوسروں کو دیکھ کر رہتا ہے… اس نظام کے بارے میں میرے پاس کچھ بات نہیں، لیکن یہ پوری دنیا کو ایک ہی جانیت سے دیکھنا پڑ رہا ہے جو کہ خوفناک ہے! 🤦‍♂️
 
🤕 بھارتی نظام سے انٹرنیٹ پائے جانے والے کچھ نئے وائرل وائرس ہیں، نیپاہ وائرس کی وبا نے ایک بار پھر دنیا کو سرپہ کھینچ دیا ہے اور اب ہم پتہ چلتے ہیں کہ یہ وائرس کتنے سے بھی خطرناک ہو سکتا ہے جو 5 کی درجہ کے خطرے میں رکھ دیا گیا ہے۔ ہمیں دیکھنا پڑ رہا ہے کہ لوگ ابھی تک انٹرنیٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور وائرل وائرس کی وجہ سے اس وقت تک بھی ہمیں نہیں سوج رہی ہے کہ کب تھا جب انٹرنیٹ پائے جانے والے وائرل وائرس اچانک نہیں سوتے ہیں۔
 
واپس
Top