بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی غیرقانونی قرار - Daily Ausaf

پی سی گیمر

Well-known member
بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی غیرقانونی قرار دی گئی:

وفاقی محتسب انسداد ہراسیت نے ایک اہم فیصلے سے صاف کیا ہے کہmarried اور unmarried دونوں بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دی گئی ہے۔

انحطاط کے بعد، وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے ایک خاتون کی درخواست پر فیصلہ سنایا، جس میں بیچلر ہونے کی بنیاد پر گھر کرایہ پر دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

کرایہ دار خاتوم کو رہائش کے حصول میں رکاوٹی کی وجہ سے ہراسانہ کرنے کے لیے بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات بھی زبردستی منقطع کر دی گئیں۔

وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ایسے اقدامات کا کوئی قانونی اثر نہیں ہو سکتا جو married ہونے یا unmarried ہونے کی بنیاد پر رہائش سے محروم کرتی ہیں۔ یہ اقدامات انسانی حقوق، مساوات اور رہائش کے بنیادی آئین کے خلاف ناکامی ہیں۔

فوسپا نے اپنے فیصلے کی وضاحت میں یہ بھی بات کی ہے کہ وہ وزیراعظم کو اس حوالے سے خط تحریر کرنے والے خاتوم کو رہائش سہولت فراہم کرنا چاہتا ہے اور ہاؤسنگ سیکٹر کی تمام متعلقہ فریقین کو اس حوالے سے ایک مشورے کی بھی وضاحت کروائی ہے۔

اس فیصلے نے بیچلرز اور ان کی رہائشی سہولت کے حصول پر ایک نئا دور کھیل دیا ہے، جس میں قانونی اقدامات کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
 
یہ سب کو دیکھتے ہی ایک بات واضح ہوتی ہے کہ رہائش سہولت اس شخص تک پہنچ جاتی ہے جو اس کا حق کرتا ہے اور نہیں اس سے محروم کرنا. یہ صرف ایک سماجی و معاشی ضرورت نہیں بلکہ ایک انسانی حقوق کی بات ہے, ابھی تک کیا جارہا تھا اور اب بھی بھیج رہا تھا. لیکن یہ سب دیکھتے ہی بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سچائی اور ن्याय ہر وقت کھل کر آتا ہے, اور اس طرح کی پالیسیوں کو ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکتا تھا.
 
اس فیصلے سے نکلتے ہوئے چاروں طرف سے یہ بات صاف کھلی ہے کہ ایسے معاملات میں قانون کی تعینات نہیں ہونے کا مطلب واضح ہوتا ہے۔ بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی کھل کر غیرقانونی قرار دی گئی ہے اور اب وہ خواتین بھی اپنی ترجیحات پر رہائش سہولت کا اہداف بن سکتی ہیں، یہ بات ہٹانے کی ضرورت ہے تاکہ نئے معاملات میں ایسے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
 
بچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی توہین پہنتی ہے۔ ان کے غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دیا جانا صحیح نہیں تھا، کیونکہ اس سے ان کے حصول میں کسی بھی رکاوٹ کو کم کرنے کا عزم ہوتا ہے اور وہ ایسی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں جو انھیں ایسے پالیسیوں سے محروم کر سکتی ہیں۔
 
بھلے اس فیصلے کو بنایا گیا ہے تاکہ کھوتے ہوئے بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم نہیں کرایا جاسکے... خاتم کی باتوں پر یقین کرتے ہیں، لیکن اس بات کا منہ نہیں کھل پے گا کہ یہ فیصلہ تو ایک بڑا قدم ہے... رہائش سہولت میں مساوات اور انسانی حقوق کو دیکھو، اب تک اس بات پر غور نہیں کیا گیا تھا کہ جو بیچلر ہوتا ہے وہ رہائش سہولت میں کیوں محروم ہوتا ہے... اب تو ایک نئی رہنمائی ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ یہ فیصلہ کچھ دیر تک نافذ ہوتا ہے یا اچھا سے نافذ ہوتا ہے? 🤔
 
اس پالیسی کو غیرقانونی قرار دینے سے بہت فایدة ہوئی گی. اب یہاں بھی نہیں رہائشی سہولت سے محروم کرنا پڑے گا۔ مگر یہ سچ ہے کہ ان حالات میں گھر کے دار کی کافی مدد ملنے کی ضرورت ہے.
 
🤔 یہ رائے میرے لیے بہت اچھی ہے کہ بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی غیر قانونی قرار دی گئی ہے۔ یہ ایک بڑا قدم ہے اور وفاقی محتسب انسداد ہراسیت کا اس فیصلے سے صاف کیا ہے کہ انسانی حقوق، مساوات اور رہائش کے بنیادی آئین کے خلاف اقدامات ناکامی ہیں۔ اس پر کسی کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے، بلکہ یہ سچائی ہے جو ہمیں ضروری تھی۔ اب بیچلرز کو بھی رہائش کے حصول میں ایسی اقدامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جس سے ان کی زندگی پر مریض ہو سکتی ہے۔ یہ ایک بڑا فخر ہے۔
 
بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے، یہ ایک بڑا بھی اچھا فैसलہ ہے کیونکہ یہ بیچلرز کو رہائش کے حصول میں رکاوٹی نہیں بنائی جاسکتی ہے۔ مگر اس پر زیادہ سے زیادہ دباؤ لگایا گیا ہے تو یہ بھی ایک problem ہو سکتا ہے اور بیچلرز کو ان کے حقوق کے حوالے سے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
 
ارے یہ بہت اچھی باتیں ہیں انحطاط کے بعد فوزیا قار نے ایسا فیصلہ لیا ہے، بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی تو بلاشبہ غیر قانونی ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ ایک اچھا قدم ہے جس سے کوئی بھی رہائشی سہولت کے حصول میں رکاوٹ پڑنے کی بات نہیں کرسکتا، ان بیچلرز کو نہ رہائش سہولت ملے تو وہ ایسے گھر بھی بنائیں جو اس کے معیار پر ہوں، مگر ابھی تو وہ بیچلرز ایک گھر میں رہ کر دوسرا گھر کی کھرائی کر رہے ہیں اور ابھی ان کو رہائش سہولت ملنے پر یہ کیسا سسٹم بنega؟
 
ابھی یہ بات چار سے پھنسی ہوئی تھی کہ بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنا کیسے؟ اب یہ غیرقانونی قرار دیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خاتوم کو رہائش سہولت بھی فراہم کریں گے، نہیں تو یہ ایک بڑا نقصان تھا۔ اسی طرح ان کے لیے بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات بھی ملنے چاہئیں، نہیں تو وہ کس طرح رہ سکتے ہیں؟
 
بچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی تو بہت غلط ہے، لگتا ہے انہیں پھر واپس رہائش کا مظاہرہ کرنا پیا ہو گا، جیسا کہ سابکھ کی نہیں کیجے تو اب اس سے بچ نکل گئے ہیں۔
 
اس پالیسی کو سندھ سے لے کر پنجاب تک نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ ایک کسان کی پریشانی ہو گئی، اب اس کی کامیابی نہیں ہوسکتی. سدباب کرنے والی سربراہی کی پالیسی کو ایک اچھے انتظامات کا شکار بنایا جائے گا۔
 
اس فیصلے سے پتہ چalta ہے کہ وفاقی محتسبوں کا غور و فکر کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے کتنے گھر کی کرایہ سے کمزور اور مجرم سمجھے جائیں گے؟

یقیناً یہ فیصلہ صرف وفاقی محتسبوں کو ہی نہیں، بلکہ وہ لوگ بھی اس کے خلاف ہونے والی تحریکیں دیکھتے رہن گے جو انھیں ایسے اقدامات سے روکنا چاہتے ہیں جن کے نتیجے میں بیچلرز کو بھی ان کے گھر کو ہونے پر وعدہ کیا گیا تھا۔
 
جس طرح بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی غیرقانونی قرار دی گئی، اس وقت بھی ان کی معیشتوں میں نقصان دہ اقدامات ہو رہے ہیں، جس کا شکار خواتین نہیں بلکہ تمام ذیلی گروہات ہیں۔ یہ فیصلہ صرف ایک ساتھ وہن لینے والوں کو نہیں بلکہ اس پالیسی کا خاتمہ کرتا ہے جو مختلف حالتوں کی خواتین اور ان کی ماں بھائیاں کو زیادہ تنگ کر رہی ہے۔
 
یہ اچھا فیصلہ ہے اور اس پر خوش تھوڑیں کیا 🤩 مگر وہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کرایہ دار خاتوم کو رہائش سہولت کی جگہ اور بنیادی سہولیات بھی منقطع نہیں کر دی گئیں، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انہیں ایک نئی رہائش کی جگہ ملے گی اور وہ اپنی زندگی کو بدلیں گے 🌟
 
جی پھر یہ ریکارڈ شدہ بات ہے کہ کسی بھی نوجوان کو رہائش سہولت سے محروم کرنے کی پالیسی تو غیر معقول ہی ہوگی، لگتا ہے یہ فیصلہ ایک نئی راہ ہے جس سے کوئی نوجوان اپنی رہائش سہولت حاصل کر سکے گا۔
 
fijalے سے صاف ہوئے ہیں کہ married اور unmarried دونوں بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دی گئی ہے۔
ﯽ کراۓ دار خاتوم کیStory finalized ہوئی ہے جس نے بیچلر ہونے کی بنیاد پر گھر کرایہ پر دینے سے انکار کیا گیا تھا اور اس پر کئی حسیں کی گئیں۔
ﭗﭏسپا نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ایسے اقدامات کا کوئی قانونی اثر نہیں ہو سکتا جو married ہونے یا unmarried ہونے کی بنیاد پر رہائش سے محروم کرتی ہیں۔
ﮖﯾی ہے کہ وہ وزیراعظم کو اس حوالے سے خط تحریر کرنے والی خاتوم کو رہائش سہولت فراہم کرنا چاہتا ہے اور ہاؤسنگ سیکٹر کی تمام متعلقہ فریقین کو اس حوالے سے ایک مشورے کی بھی وضاحت کروائی ہے۔
ﯾﮟاس فیصلے نے بیچلرز اور ان کی رہائشی سہولت کے حصول پر ایک نئا دور کھیل دیا ہے، جس میں قانونی اقدامات کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
 
اکثر یہ بات سنی جاتی ہے کہ کرایہ دار انصاف کی جھلکی کے بعد بھی ہر اس شخص کا کفیل بنایا جاتا ہے جو رہائش میں دلچسپی رکھتا ہو لیکن وہاں کے پہلوانوں نے بھی ایسی پالیسی کو تیز کر دیا ہے کہ بیچلرز کو گھر میں رہائش سہولت حاصل کرنے والے مظلومین کی جانب سے یہ کہی جاتا ہے کہ یہ پالیسی ایسے لوگوں پر لگائی گئی ہے جو شادیاں کرنے نہیں کرتے اور ان میں سے زیادہ تر ملازمت کی نیند میں سونے والے ہوتے ہیں۔
 
مریض ہونے کے بعد بھی بیچلرز کو رہائش سہولت ملانی چاہئے، نہ یہ توڑنا پڑے گا؟ یہ واضح اور سمجھنے کی بات ہے کہ بیچلرز کو بھی رہائشی سہولت ملنی چاہئے، ان کی زندگی میں یہ ایک اہم پہلو ہے۔
 
ہمارے ملک میں ریاستی سہولت بہت کم ہے، بیچلرز کو رہائشی سہولت سے محروم کرنا تو واضح ہی نہیں تھا، لیکن اس کی لگن اس قدر تیز تھی کہ لوگوں کو بھرپور پریشانی ہوئی ۔ اب یہ فیصلہ آیا ہے اور یہ بھی نکل آیا ہے کہ اس پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پالیسی رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی نہیں تھی بلکہ اس میں خوف اور دباؤ کا جال چھپایا ہوا تھا۔
 
واپس
Top