انٹرنیشنل سیکیورٹی کونسل میں آئے وقت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر ایک معاہدہ کھینچ دیا جائے تو اس کے نتیجے میں کیا حاصل ہوتا ہے؟ انٹرنیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک ایریا فارمولہ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے آنے والے مستقل مندوب عاصم افتخار نے آبی معاہدے کو محفوظ قرار دینے کی بات چھوڑی ہے اور اس پر ایک خطرناک مثال کے طور پر اشارہ کیا ہے جو کسی بھی معاہدے کو محفوظ نہیں بنा سکتا۔
اس نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی دنیا بھر میں عالمی معاہدوں کے نظام کا امتحان ہے اور یہ معاہدہ ایک دوطرفہ معاہدہ ہی نہیں بلکہ عالمی نوعیت کا معاملہ ہے جس پر دنیا بھر کے ممالک کا اعتماد کچل سکتا ہے۔
عاصم افتخار کے مطابق، اگرPolitics کا ایک ہاتھ سندھ طاس معاہدے کو کھینچ دیا جائے تو ان کا اثر ہر معاہدے پر پڑتا ہے اور دنیا بھر میں اعتماد کی گنجائیس میں کمی آتی ہے۔
ਪچاسویں صدی کے اوائل میں، جب سندھ طاس معاہدے کا لانچ ہوا تھا، تو یہ سارے ساتھیوں نے اس کو ایک بے مثال معاملہ سمجھا تھا... اب وہیں، جب آئے وقت کونسل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر اس معاہدے کو ختم کر دیا جائے تو دوسرے معاہدوں پر بھی اس طرح کی اثریں ڈالتے ہیں، تو یہ سچ ہے... پھر وہ پچاسویں صدی کے اوائل میں تھا، اور اب ہم 2025 ہیں۔
پاکستان میں سندھ طاس معاہدے کا پچھلا چھٹکا ہو گیا اور اب اس پر فیصلہ لینے کا وقت आ گیا ہے۔ یہ معاہدہ ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے، جس کی وجہ پھیلے ہوئے ماحول اور سیاسی متغیرات کو دیکھتے ہیں۔ معاہدے کو کھینچنے سے دنیا بھر میں اعتماد کی گنجائش میں کمی آتی ہے۔ یہ ایک خطرناک بات ہے اور اس پر توجہ دی جانی چاہیے۔
wow aquatic maahol ko safe rakhne ki baat hai? international council main aayta samay yeh bat karte hain ki agar ek agreement kheenche diya jaye to kya hasil hota hai? interesting sindh taas maahol ki matlib dunia bhar mein world agreements ka test hai aur yeh maahol ek doosre taraf se na hai balki international level ka mudda hai jo dono taraf ke deshon ki trust ko kam kar sakta hai.Politics ka ek hand sindh taas maahol ko kheenche dena to har agreement par affect padta hai aur world bhar mein trust ki ganchais mein kami aati hai!
جی بلکہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کو محفوظ قرار دیا جائے تو اس کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ بھی حاصل ہوگا، لیکن یہ بات یقینی نہیں ہے اور اس پر واضح رہنما ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر Politics کی ایک پوری لہر سے سندھ طاس معاہدے کو محفوظ قرار دیا جائے تو یہ معاہدے کا اثر ہر معاہدے پر پڑتا ہو گا اور دنیا بھر میں اعتماد کی گنجائیس میں کمی آئے گی، لیکن اس کے علاوہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو محفوظ قرار دیا جائے تو اس کی گرانیٹک اور چھتکال کے ساتھ کیا کیا ہوگا؟
اس کے لئے سندھ طاس معاہدے کو محفوظ قرار دینا ایک چیلنج ہوگا. یہ بات بھی نہیں توڑی جاسکی کہ اگرPolitics میں کسی اور سیاسی حاقق کے لئے سندھ طاس معاہدے کو ختم کر دیا جائے تو یہ دنیا بھر میں اعتماد کی گنجائیس کو برقرار رکھنے میں مشکل ہوگا.
جی بلکہ یہ بات تو نہیوں سنی ہوئی تھی کہ ایسا کھینچنا بھی یوگندہ ہے؟ انٹرنیشنل سیکیورٹی کونسل کی باتوں پر زور دیتے ہوئے اس نے بھی بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کو محفوظ قرار دینا مشکل ہے کیونکہ یہ معاہدے ہر ملک کے لئے خطرناک ہو جاتے ہیں اور دنیا بھر میں اعتماد کی گنجائیس میں کمی آتی ہے۔
جی بلکہ پہلی بار یہ بات سنی ہوئی کہPolitics نے ایسا کام کیا ہو وہ بھی ان کے بچنے کو انتہائی خطرناک سمجھتا ہو
ابھی سے ہو گیا ہے کہ یہ معاہدے کی صورت حال ایسی ہے جس پر دنیا بھر کے ممالک کا اعتماد ہارنا چاہیے نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کو محفوظ قرار دینے کی بات صرف کسی معاملے کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اعتماد کا ایک اہم نظام ہے جو ابھی بھی ٹوٹنا چاہیے۔ @AsimIftikhar ko kuchh galat nahi batna chahiye, yeh ek gambhir mudda hai jis par sabko dhyan dena chahiye
اس سندھ طاس معاہدے کو محفوظ قرار دینے کی بات چھوڑنے کے بعد، میرے لئے یہ بات نہیں ہوسکتی کہ یہ معاہدہ ایسا ہی رہے گا کہ اس کی واضح شرائط کو جھوٹے لوگ اپنی فائدہ اور منافع کے لئے سونپ سکیں گے...
اس کی انصاف نہ ہونے پر دنیا بھر میں اعتماد کی کمی آ رہی ہے، اور یہ معاہدہ ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے کہ اگر ہم نہیں ہاتھوں لیتے تو کچھ نہ کچھ ہوتا رہے گا...
سندھ طاس معاہدے کو کھینچنے سے پہلے ہی اس کی خطرناکیت پر بات چीत کرنا بہت ضروری ہے اور یہ واضع ہونا چاہیے کہ اس معاہدے کی پالیسیں دنیا بھر میں متعلقہ ممالک کے لیے قابل اعتماد ہیں نہیں?
ایسے میٹنگز میں یہ بات کو اس وقت تک ٹھیک کرنی چاہئیے جب تک کہ ممالک اپنے معاشرتی اور سیاسی ماحولوں میں اس معاہدے کے بارے میں سنجیدگی برت رہتے ہیں
بچوں کو چینائی جانے والی اس بات کی بھی ناھن ہے کہ انٹرنیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے ایسا کیا جائے گا، لیکن اب پھر یہ بات بھی صاف چلی آئی ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کو محفوظ قرار دیا جائے تو اس کے نتیجے میں دنیا بھر کی امن و صلح کا راز کمزور ہو جائے گا، ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ سندھ طاس معاہدے کو محفوظ قرار دینے کی بات بہت خطرناک ہے اور ہمیشہ سیکورٹی کونسل سے ایسے معاہدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہئے جو دنیا کی امن و صلح کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں
اب سے یہ بات تو صاف کہی جا رہی ہے کہ معاہدوں پر زور دیا جاتا ہے اور اس پر ایک خطرناک مثال دھمکتا رہتا ہے۔ لگتے ہی یہ معاہدے ختم ہوجاتے ہیں، کچھ سے پہلے اور کچھ سے بعد میں، چاہے وہ آئینی گروپ یا ایسی معاملات ہوں جو دوسرے ملکوں کے لیے ایسے نہیں تھیں۔ یہ بات بھی صاف کہی جا رہی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو دنیا بھر میں عالمی معاہدوں کے نظام کا امتحان سمجھنا چاہئے، لہذا اس پر کچھ اور دیکھا جانا چاہیے۔
عاصم افتخار کی بات سے ناخوشی میں محسوس ہوتا ہے، ایک سندھ طاس معاہدے کو کھینچنے سے کیا حاصل ہوگا؟ اس معاہدے پر دنیا بھر کی توجہ ہے اور اسے محفوظ بنانا مشکل ہوگا۔ انٹرنیشنل سیکیورٹی کونسل کی بات سے ملازمتوں میں کچھ تبدیلی آئی سکتी ہے، لیکن کیا اس کے نتیجے میں دنیا بھر کو ایک خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا؟
اس نئی طاقت کے ساتھ آنے والی معاہدوں پر زور دیتے ہوئے، ہم کو پھر سے اسی بات پر فوجحتی توجہ دینی پیوگی جو صدر نے طے کروائی ہیں۔ معاہدوں میں چیلنجز کو حل کرنا چاہئیے، نہ یہ کہ وہ اس کو اپنی جانب سے لے جائے اور اسے ایک خطرناک معاملہ بنادے ۔ دنیا بھر میں عالمی معاہدوں کی قوت کو یقین دلانا چاہئیے، نہ یہ کہ اس پر توجہ دینے سے اسے خوفزدہ بنایا جائے۔
اب سے اس بات پر سایہ نہیں لگ رہا کہ ایک معاہدے کو کھینچ دیا جائے تو کیا؟ اس سے پہلے ہی، سندھ طاس معاہدے کی معطلی دنیا بھر میں عالمی معاہدوں کے نظام کو ایک امتحان بن چکی ہے!
اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر politics کی ایک ہاتھ سے اس معاہدے کو کھینچ دیا جائے تو اس کا اثر ہر معاہدے پر پڑتا ہے اور دنیا بھر میں اعتماد کی گنجائش میں کمی آتی ہے! ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ہم سب اس معاہدے کو محفوظ کہیں اور پھر politics کی باتوں سے دوری پر رہتے!
اس سندھ طاس معاہدے کو محفوظ قرار دینے کی بات کر رہے ہیں تو یہ بات بھی کہنا اچھا ہوگا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ان کے حوالے سے ایک اور معاہدے کو محفوظ قرار دیا جا رہا ہو یا نہیں۔ اس کی توجہ سے ہر طرف پھیلائے جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک معاہدے کو محفوظ بنانے کی بات ایک جانب اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی اثرات پر زور دینا دوسری طرف ہوگا۔